بہار

ڈاکٹر محمد منظور عالم ایک روشن دماغ ماہر تعلیم تھے، امارت شرعیہ میں تعزیتی نشست منعقد

Published

on

(پی این این)
پٹنہ : ملک کے مشہور ماہر تعلیم ملی و سماجی دانشوراور آئی او ایس و آل انڈیا ملی کونسل کے روح رواں ڈاکٹر محمد منظور عالم عرصہ کی علالت کے دہلی کے میکس(Max) اسپتال میں رب کائنات کے دربار میں حاضر ہوگئے ،انا للہ و انا الیہ راجعون۔ڈاکٹر صاحب مرحوم ملی تحریکات کے سرگرم رکن تھے ،آپ فقہ اکیڈمی انڈیا اور ملی کونسل کے بانیوں میں سے تھے ،انسٹی ٹیوٹ آف انکلیو اسٹڈیز نئی دہلی کے چیرمین تھے انہوں اداروں کو اپنی خدمات اور کارناموں کے باعث ملکی و بین الاقوامی شہرت بنانے میں فعال کردار ادا کیا ،آپ نے فقیہ العصر قاضی القضاۃ حضرت نائب امیر شریعت امارت شرعیہ کا دست و بازو بن کر ان اداروں کو قوت عطا کی ،ڈاکٹر صاحب کا امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ سے بھی گہرا ربط و تعلق تھا،یہاں کے فلاحی و رفاہی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے ،مجلس ارباب حل و عقد ،امارت ایجوکیشنل ویلفیئر ٹرسٹ کے ٹرسٹی و دیگر مجالس امارت شرعیہ کے بھی ممبر تھے اکثر شرکت کرتےاور بہت صائب الرائے دیتے،آپ عرصہ سے مختلف امراض کے شکار تھے ،دوا و علاج کا سلسلہ جاری تھا مگر وقت موعود آ پہونچا،پھر کیا تھا کہ زندگی کے مسافر کو ابدی نیند آگئی ،رحمۃ اللہ واسعہ۔
ان کے وصال پر امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ کے امیر شریعت مولاناسید احمد ولی فیصل رحمانی نے صدمہ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک روشن دماغ ماہر تعلیم تھے ،وہ ملی مسائل سے گہری دلچسپی رکھتے تھے ،اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والی نا انصافیوں پر پر زور آواز بلند کرتے ،اللہ ان پر رحمت کی بارش برسائے ،ناظم ارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب مسلمانوں کے سچے ملی رہنماؤں میں سے ایک تھے ،در حقیقت وہ ایک بڑے مدبر اور مفکر انسان تھے ،اللہ ان کی مغفرت فرمائے ،ڈاکٹر صاحب کے وصال پر امارت شرعیہ پھلواری شریف میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی ۔
جس میں قائم مقام ناظم اور صدر قاضی شریعت و جنرل سکریٹری امارت ایجوکیشنل ویلفیئر ٹرسٹ مولانا مفتی محمدانظار عالم قاسمی نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب بر صغیر کے عظیم اسکالرو دانشور تھے ،مسلم مسائل کو بڑی قوت کے ساتھ اٹھاتے اور اس کے حل کے لئے آخری حد تک جد و جہد کرتے رہے،اکابر امارت کی صحبت اور مشائخ کی تربیت نے انہیں پختہ کار بنا دیا تھا،بلا شبہ وہ ایک باکردار شخصیت کے مالک ہونے کی حیثیت سے اپنے پیچھے بہت سی یادیں چھوڑ گئے ،اللہ ان کے درجات کو بلند کرے۔امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے ہندوستان میں نظریہ سازی کی طرح ڈالی اور پورے ملک میں جغرافیائی طور پر تعلیمی ،سماجی اقتصادی لحاظ سے ڈاٹا جمع کیا تاکہ اس کی روشنی میں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے اصلاح کا خاکہ بنانے میں معاون ہو۔
مولانا ومفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک دوراندیش اسکالر تھے وہ تحقیق او رریسرچ کے ساتھ باتیں کرتے جس سے ان کی گفتگو میں وزن ہوا کرتا تھا ،مولانا سہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک اچھے تجزیہ نگار اور کالم نویس بھی تھے ان کی تحریروں میں ادبی چاشنی بھی ہوتی اور رعنائی بھی ،مولانا مفتی احتکام الحق صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک عظیم دانشور اور دور اندیش اسکالر تھے ،مولانا رضوان احمد ندوی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ نےکہاکہ ڈاکٹر صاحب سے عرصہ تیس سالوں سے دید وشنید رہی ہے یقین مانیے کہ قدرت نے ان کو دین وملت کی خدمت پر ہی مامور کیا تھا ،مولانا ابو الکلام شمسی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ نے ڈاکٹر صاحب اور امارت شرعیہ کے روابط پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ ان کے رگ و ریشے میں فکر امارت پیوست تھی۔
اس تعزیتی نششت میں حاجی احسان الحق ، ڈاکٹر یاسرحبیب سکریٹری مولانا سجاد میموریل اسپتال ،مولانا شمیم اکرم رحمانی معاون قاضی شریعت امارت شرعیہ ،مولانا ارشد رحمانی آفس سکریٹر ی امارت شرعیہ ،مفتی محمد شارق رحمانی ،مولانا اسعداللہ قاسمی مینیجر نقیب امارت شرعیہ ،انجینئر ابو طلحہ ،مولانا ممتاز نے شرکت کی تعزیتی نششت کا آغاز قاری مفتی محمد مجیب الرحمن معاون قاضی شریعت کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا ،آخیر میں مولانا مفتی احتکام الحق نے اجتماعی طور پر دعا مغفرت کرائی ،اس نششت میں مشہور معالج جمشید انور کے والد نور الدین انصاری کے انتقال پر بھی دعا مغفرت کی گئی اور ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network