جھارکھنڈ

نسل نوکی دینی تربیت کریں اورایس آئی آر میں ناموں کااندراج ضرورکرائیں: امارت شرعیہ

Published

on

(پی این این)
پاکوڑ : امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی جانب سے پوری ریاست جھارکھنڈ میں ایس آئی آر (SIR) کے موضوع پر بیداری مہم اور عملی تربیتی ورکشاپس کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس تعلق سے امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نہایت فکرمند ہیں ،اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر گذشتہ شب ضلع پاکوڑ کے پاکوڑیا کی جامع مسجد میں اورآج مہیش پور کی جامع مسجد میں صبح دس بجے ایس آئی آر پر ایک جامع بیداری پروگرام منعقد کیا گیا اور عملی تربیتی ورکشاپ عمل میں آیا۔
ان تمام پروگراموں کی صدارت امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈکے معاون ناظم جناب مولانا احمد حسین قاسمی نے فرمائی۔اور آپ ہی کی قیادت میں یہ وفد چل رہاہے آپ نے مذکورہ پروگرام میں اپنے خطاب کے دوران امارتِ شرعیہ کی صد سالہ خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ ہر دور میں ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک مضبوط قلعہ اور ڈھال ثابت ہوئی ہے۔ جب بھی ملت کو دینی، سماجی یا آئینی سطح پر کسی چیلنج کا سامنا ہوا، امارتِ شرعیہ نے بروقت رہنمائی کرتے ہوئے قیادت فراہم کی اور پوری جرأت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان عمل میں آئی۔
مولانا احمدحسین قاسمی مدنی نے اپنے پیغام میں زور دیتے ہوئے کہا کہ ہرحال میں اپنی نسل نو کے تحفظ کے لیے دینی تربیت ناگزیر ہے، کیونکہ مضبوط دینی شعور کے بغیر گمراہی کی آندھیوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں دینی بیداری کے ساتھ ساتھ آئینی و قانونی شعور پیدا کرنا بھی بے حد ضروری ہے، اور ایس آئی آر اسی شعوری جدوجہد کا ایک اہم مرحلہ ہے،اس بیداری مہم اور ورک شاپ کا مقصد یہ ہے کہ ہر آبادی میں نوجوانوں کا ایسا طبقہ وجود میں آئے جو SIR کے موقع پر لوگوں کی رہنمائی کا عملی فریضہ انجام دے سکے۔
بعدازاں ریسرچ ٹیم کے اراکین مفتی قیام الدین قاسمی اور مفتی اکرام الدین صاحب قاسمی نے مشترکہ طور پر پروجیکٹر اور پریزنٹیشن کے ذریعے ایس آئی آر کی عملی تربیت دی۔ انہوں نے نہایت سادہ، عام فہم اور عملی انداز میں ایس آئی آر کے تمام تکنیکی مراحل، دستاویزی تقاضوں اور احتیاطی نکات کو واضح کیا۔ شرکاء نے موقع پر ہی عملی مشق بھی کی، جس سے تربیت نہایت مؤثر ثابت ہوئی اور نوجوانوں میں آئندہ سرگرم کردار ادا کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا۔
اس موقع پر مولانا ڈاکٹر حفظ الرحمٰن حفیظ نے وقف کے تحفظ کے موضوع پر نہایت اہم گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے وقف ایکٹ کے تحت وقف کی زمینوں پر لاء آف لمیٹیشن (Law of Limitation) لاگو ہوگا، اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وقف کی جائیدادوں کو ناجائز قبضوں سے فوری طور پر آزاد کرایا جائے، انہیں مکمل طور پر اپنے قبضے میں رکھا جائے اور صحیح و شرعی مصرف میں استعمال کا باقاعدہ آغاز کیا جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ وقف املاک سے غفلت آئندہ قانونی پیچیدگیوں اور مستقل نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
پروگرام کے دوران شرکاء کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے گئے اور زمینی سطح پر درپیش مسائل کے عملی حل بھی پیش کیے گئے۔ شرکاء نے بھرپور عزم کا اظہار کیا کہ ایس آئی آر کے مرحلے میں وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ عوام کی رہنمائی کریں گے اور گھر گھر پہنچ کر اس قومی و ملی فریضے کو انجام دیں گے۔
قابلِ ذکر ہے کہ جھارکھنڈ میں جاری ایس آئی آر بیداری مہم امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی کی مسلسل نگرانی میں انجام پا رہی ہے، جبکہ ناظمِ امارتِ شرعیہ حضرت مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی اس بات کے لیے ہمہ وقت فکرمند ہیں کہ کوئی بھی غریب، کمزور طبقہ لاعلمی کی بنا پر اپنے شہری حقوق سے محروم نہ رہ جائے۔
اس تربیتی ورکشاپ میں شہر کے معززین، سماجی کارکنان، دانشوران، نوجوانانِ ملت اور مختلف ملی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کی کامیابی میں پاکوڑیا کے ذمہ داران مدرسے کے اساتذہ جامع مسجد مہیش پور کے ذمہ داران، اراکینِ مسجد اور دعوت و اصلاح سے وابستہ احباب نے اہم کردار ادا کیا۔
خوش آئند بات ہے کہ امارتِ شرعیہ کی اس بیداری و تربیتی مہم کے مثبت اثرات پورے جھارکھنڈ میں محسوس کیے جا رہے ہیں اور جہاں جہاں یہ پروگرام منعقد ہو رہے ہیں وہاں عوام میں ایس آئی آر اور وقف کے تحفظ کے تعلق سے شعور اور بیداری نمایاں طور پر بڑھ رہی ہے۔مورخہ 11 اور 12 جنوری کو ضلع گڈا کے مختلف مقامات پر یہ پروگرام منعقد کیا جائے گا،اس حلقے کے تمام لوگوں سے پروگرام میں شرکت کی درخواست ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network