دلی این سی آر
بانسری کو راحت،ستیندر جین نے ہتک عزت کا مقدمہ لیا واپس
(پی این این)
دہلی :عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رہنما ستیندر جین نے حال ہی میں روہنی کورٹ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج کے خلاف دائر اپنا سول ہتک عزت کا مقدمہ واپس لے لیا ہے۔ انہوں نے یہ مقدمہ گزشتہ سال دائر کیا تھا۔ سینئر سول جج گورو نے واپسی کو قبول کیا اور کیس کو واپس لینے کے طور پر خارج کردیا۔
سینئر سول جج گورو شرما نے 6 دسمبر کو حکم دیا، “مدعی مقدمہ کا مالک ہے اور اس لیے اسے واپس لینے کا حقدار ہے۔ مذکورہ بالا کو دیکھتے ہوئے، کیس کو واپس لے لیا جاتا ہے۔”ایڈوکیٹ رجت بھردواج اور کرن شرما نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ستیندر جین کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ مدعی (جین) موجودہ کیس کو واپس لینا چاہتا ہے۔ اس سال جولائی میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بنسوری سوراج نے جین کی طرف سے دائر شہری ہتک عزت کے مقدمے کو خارج کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ جین نے اپنے مقدمے میں الزام لگایا تھا کہ بنسوری سوراج نے اکتوبر 2023 میں ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ہتک آمیز تبصرہ کیا تھا۔
روہنی کورٹ نے دسمبر 2024 میں بنسوری سوراج اور ایک ٹی وی نیوز چینل کو نوٹس جاری کیا۔ جین نے درخواست کی کہ ٹی وی چینل متعلقہ مواد کو ہٹائے اور بنسوری سوراج کو مستقبل میں اس طرح کے بیانات دینے سے روکے۔ اس نے ایک روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا۔ستیندر جین نے بنسوری سوراج کے خلاف راؤس ایونیو کورٹ میں مجرمانہ ہتک عزت کی شکایت بھی دائر کی۔ اس شکایت کو ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (ACJM) نے خارج کر دیا۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل سیشن کورٹ میں زیر التوا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین نے ہتک عزت کی شکایت میں الزام لگایا تھا کہ سوراج نے 5 اکتوبر 2023 کو ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران ان کے خلاف ہتک آمیز تبصرے کیے تھے۔ اس انٹرویو کو لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تبصرے بنسوری سوراج نے انہیں بدنام کرنے اور غیر ضروری سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کیے ہیں۔ دہلی کے ایک سابق وزیر جین نے الزام لگایا کہ بنسوری سوراج نے جھوٹا دعویٰ کیا ہے کہ ان کے گھر سے 3 کروڑ (1.2 ملین امریکی ڈالر) برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بنسوری سوراج نے کہا تھا کہ شکایت کنندہ (جین کے) گھر سے 1.8 کلو سونا اور 133 سونے کے سکے برآمد ہوئے ہیں۔شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بیان انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعہ شکایت کنندہ (جین کے) گھر پر چھاپے کے تناظر میں دیا گیا تھا۔وہ اس معاملے میں ضمانت پر ہیں، اور معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ جین نے الزام لگایا کہ سمیر مہم کو آگے بڑھاتے ہوئے، بنسوری سوراج نے انہیں “بدعنوان” اور دھوکہ دہی” کہہ کر مزید بدنام کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شکایت کنندہ کے خلاف کئی جھوٹے، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز الزامات لگائے گئے ہیں۔ کہا گیا کہ ملزم نے شکایت کنندہ کی ساکھ کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا، اس کے علاوہ اس کی سیاسی ساکھ کو بھی داغدار کیا جو بصورت دیگر بے داغ تھی۔
دلی این سی آر
بھجن پورہ میں ہندوؤں نے آگ میں پھنسے مسلم خاندانوں کو بچا کر نفرت پھیلانے والی طاقتوں کو دیاکرارا جواب :سوربھ بھاردواج
(پی این این )
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی نے بھجن پورہ کے چاند باغ کالونی میں واقع پانچ منزلہ عمارت میں لگنے والی آگ کے دوران نظر آنے والی ہندو-مسلم یکجہتی کی بھرپور ستائش کی ہے۔ آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بھجن پورہ میں ہندوؤں نے نہ صرف آگ میں پھنسے مسلم خاندانوں کو بچایا بلکہ نفرت پھیلانے والی طاقتوں کو بھی سخت جواب دیا۔ رات تقریباً دو بجے پڑوس میں رہنے والے ایک ہندو خاندان کو آگ لگنے کا علم ہوا، جس کے بعد انہوں نے فوراً لوگوں کو جمع کیا۔ سب نے فائر بریگیڈ کا انتظار کیے بغیر چادر تان کر کھڑے ہو گئے، جس پر کود کر 20 سے 25 افراد نے اپنی جان بچائی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پالَم آتشزدگی کے دوران فائر بریگیڈ گدّے بچھانے دیتی تو وہاں بھی سبھی لوگوں کی جان بچ سکتی تھی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فائر بریگیڈ کے عملے کو بہتر تربیت دی جائے اور اسکولی بچوں کو بھی بچاؤ کے طریقے سکھائے جائیں۔پیر کے روز آپ ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جب پالَم میں آگ لگی تھی، اگر اس وقت فائر بریگیڈ اور دہلی پولیس نیچے گدّے بچھانے دیتی تو شاید تمام 9 لوگوں کی جان بچ سکتی تھی۔
پالَم کے واقعے کا اثر ہفتہ کی رات دہلی کے بھجن پورہ علاقے کے چاند باغ کالونی میں بھی دیکھا گیا، جہاں شدید آگ لگی۔ آگ بیسمنٹ یا گراؤنڈ فلور کی پارکنگ سے شروع ہوئی جہاں گاڑیوں میں آگ لگی، اور پھر اوپر کی منزلوں تک پھیل گئی، جس سے عمارت میں دھواں بھر گیا۔ رات تقریباً دو بجے جب لوگوں کا دم گھٹنے لگا تو انہیں نیچے آگ لگنے کا احساس ہوا۔سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ اس آگ میں تقریباً 20 سے 25 افراد پھنسے ہوئے تھے۔ اس پانچ منزلہ عمارت میں رہنے والے زیادہ تر لوگ مسلم برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ اس واقعے کی سب سے خوبصورت بات یہ رہی کہ جب انہوں نے مدد کے لیے چیخنا شروع کیا تو سب سے پہلے مدد کے لیے ان کے پڑوسی منوج کمار شرما سامنے آئے، جو ایک ہندو برہمن ہیں اور آٹے کی چکی چلاتے ہیں۔ انہوں نے شور مچا کر آس پاس کے لوگوں کو جگایا اور رات دو بجے ہی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ یہ غریبوں کی کالونی ہے، جسے بی جے پی حکومت نفرت کی نظر سے دیکھتی ہے اور غیر مجاز کالونی کہتی ہے، مگر یہاں کے لوگ ایک دوسرے کے لیے جان دینے کو تیار رہتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر صرف اوہ مائی گاڈ لکھ کر ردعمل نہیں دیتے بلکہ زمین پر آ کر مدد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو ان کی بہادری پر حکومت کی طرف سے انعام دیا جانا چاہیے اور وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو خود جا کر انہیں اعزاز دینا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ پڑوسیوں نے بڑی دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے طے کیا کہ فائر بریگیڈ کے آنے تک اپنی طرف سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی جائے۔ ایک شخص پہلی منزل سے کودا، جس کے بعد سب نے نیچے چادر تان لی۔ بتایا جاتا ہے کہ اوپر سے پانچ افراد نے چھلانگ لگائی، جن میں دو چھوٹی بچیاں بھی شامل تھیں۔ خدا کے کرم سے ان سب کو صرف معمولی چوٹیں آئیں اور ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں اسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ بچائے گئے افراد میں 25 سالہ جانب، 11 سالہ فلک، 22 سالہ نکہت، 25 سالہ سونی، 2 سالہ آصف اور ان کی والدہ راشدہ شامل ہیں۔ راشدہ کے بارے میں بتایا گیا کہ جیسے ہی انہیں آگ کا علم ہوا، انہوں نے سب سے پہلے گیس سلنڈروں کو آگ سے دور کیا تاکہ کوئی بڑا دھماکہ نہ ہو۔ اس دوران ان کے ہاتھ جل گئے، لیکن انہوں نے ہمت دکھاتے ہوئے سلنڈروں کو محفوظ جگہ منتقل کر دیا۔ اوپر سے کودنے والے تمام افراد مسلم تھے جبکہ نیچے ہندو پڑوسیوں نے چادر تان کر ان کی جان بچائی۔انہوں نے بتایا کہ عمارت میں موجود دیگر لوگوں کو بچانے کے لیے سیڑھی کا انتظام کیا گیا اور سامنے والی عمارت سے سیڑھی لگا کر ایک ایک کر کے دوسرے، تیسرے اور چوتھے منزل سے لوگوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ یہ ایک بڑی مثال ہے کہ عام لوگ بھی ہمت اور سمجھداری سے کئی جانیں بچا سکتے ہیں۔
سوربھ بھاردواج نے بی جے پی حکومت سے اپیل کی کہ فائر بریگیڈ اور پولیس اہلکاروں کو بہتر تربیت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پالَم کے واقعے کے دوران پولیس موجود تھی اور چاہتی تو سیڑھی لگا کر لوگوں کو بچا سکتی تھی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اسکولوں اور کالجوں کے ذریعے عام لوگوں کو بھی ایسی تربیت دی جانی چاہیے تاکہ ہنگامی حالات میں وہ اپنی اور دوسروں کی جان بچا سکیں۔انہوں نے کہا کہ جب کہیں ہندو-مسلم نفرت کی خبریں آتی ہیں تو اسے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس طرح کی مثبت مثالوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو نفرت پھیلانے والی تنظیموں سے ہوشیار رہنا چاہیے اور اپنے بچوں کو بھی ان سے دور رکھنا چاہیے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں ہمیشہ پڑوسی ہی کام آتا ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ چاند باغ کا یہ واقعہ اس بات کی زندہ مثال ہے کہ اگر لوگ ہمت، سمجھداری اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
دلی این سی آر
اردو اکادمی کے زیراہتمام’سرسنگم‘ پروگرام میں شعرا اور فنکاروں نے سامعین کو کیامسحور
(پی این این)
نئی دہلی:دلی کا دل کہے جانے والے کناٹ پلیس میں واقع سینٹرل پارک میں اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام مشاعروں، غزل گائیکی اور قوالی پر مشتمل تین روزہ ادبی و ثقافتی پروگرام ’’سر سنگم‘‘ کے دوسرے دن شعرا اور فنکاروں نے سامعین کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔ جشن کے دوسرے دن کا آغاز شعری نشست سے ہوا، جس کی صدارت معروف شاعر و ادیب شعیب رضا فاطمی نے کی اور نظامت کے فرائض نوجوان ناظمِ مشاعرہ ہلال بدایونی نے انجام دیے۔ مشاعرے کے آغاز سے قبل محکمۂ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے اسٹیج پر موجود شعرا کے ساتھ شمعِ مشاعرہ روشن کی۔ بعد ازاں لیکھ راج نے تمام شعرا کا استقبال کرتے ہوئے ان کی خدمت میں خوبصورت پودے بطور یادگاری تحفہ پیش کیے۔
صدرِ مشاعرہ شعیب رضا فاطمی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اردو اکادمی، دہلی کی خدمات کا اعتراف کیا اور کہا کہ ملک بھر میں کوئی بھی ادارہ اردو اکادمی، دہلی سے زیادہ فعال نظر نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کہ زبان و ادب، تہذیب و ثقافت اور فنونِ لطیفہ کی تمام اقسام، بشمول شاعری و موسیقی کو فروغ دینے کے لیے اکادمی کی کوششیں نہ صرف لائقِ تحسین بلکہ قابلِ تقلید بھی ہیں۔انھوں نے اس سلسلے میں دہلی حکومت اور محکمۂ فن، ثقافت و السنہ کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کے ماحول میں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب، زبان و ادب اور فنونِ لطیفہ کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی کوششیں بھرپور داد کی مستحق ہیں۔
مشاعرے میں جاوید قمر، سلمیٰ شاہین، احمد علوی، شعیب رضا فاطمی،مجاہد فراز، وارث وارثی، جاوید نیازی، سالم سلیم ، سریتا جین اور ہلال بدایونی نے اپنے کلام سے سامعین کے ذوق کو تسکین بخشی۔مشاعرے کے بعد غزل گلوکار سیف نعیم علی نے ’’غزل کی سرگوشی‘‘ کے تحت شاندار غزل گائیکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سامعین کو مسحور کر دیا۔ سیف نعیم علی کی پرسوز آواز اور بہترین فنکاری سامعین کے دلوں کو چھو گئی۔ اس کے بعد دوسرے دن کے آخری پروگرام میں غفران نظامی اور ان کی ٹیم نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی نمائندگی کرنے والی قوالیوں کی شاندار پیش کش سے سامعین کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔
اس موقع پر سینٹرل پارک میں سامعین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اکادمی کے اس پروگرام کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پروگرام کے آخر تک تمام نشستیں بھری ہوئی تھیں اور لوگ دور تک کھڑے ہو کر شاعری اور موسیقی کے اس حسین سنگم سے محظوظ ہو رہے تھے۔ اردو اکادمی، دہلی کی کوشش یہی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کی خوبصورتی کو پہنچائے، خاص طور پر نئی نسل کو ہندوستانی ثقافت کی شاندار روایت سے روشناس کرائے۔ اس سلسلے میں اکادمی کے دیگر پروگراموں کی طرح ’’سْر سنگم‘‘ بھی نہایت شاندار ثابت ہو رہا ہے اور سامعین کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد اس کا واضح ثبوت ہے۔
’’سْر سنگم‘‘ کے دوسرے دن منعقد ہونے والے تمام پروگراموں کی نظامت کے فرائض ریشماں فاروقی نے بحسن و خوبی انجام دیے اور اپنے دلکش و دلنشیں اندازِ گفتگو اور خوب صورت نظامت سے سامعین کو باندھے رکھا۔
دلی این سی آر
جماعت اسلامی ہند کا عید ملن تقریب میں ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دینے کا پیغام
(پی این این)
نئی دہلی: گزشتہ دنوں جماعتِ اسلامی ہند نے انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر کے مارگوسا و سلک کاٹن لان میں عید گیٹ ٹو گیدر 2026 کا شاندار انعقاد کیا۔ اس پر وقار تقریب میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے معزز مہمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جن میں سفارتکار، مذہبی رہنما، عوامی نمائندگان، میڈیا شخصیات اور سول سوسائٹی کے قابل احترام اراکین شامل تھے۔
یہ اجتماع نہ صرف عید کی خوشیوں کو بانٹنے کا ایک خوشگوار موقع تھا بلکہ امن، انصاف اور معاشرتی ہم آہنگی جیسے اعلیٰ اقدار کو اجاگر کرنے کا بھی سنہری لمحہ ثابت ہوا۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے دل کھول کر بات چیت کی اور معاشرے میں باہمی احترام اور ایک ساتھ رہنے کی اہمیت کو محسوس کیا۔ مختلف ممالک، مذاہب اور اداروں سے آئے ہوئے افراد کی موجودگی نے اس تقریب میں اتحاد، بھائی چارے اور اجتماعی ذمہ داری کے روحانی پیغام کو اور بھی جلا بخشی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی ہند کے امیر، سید سادات اللہ حسینی نے فرمایا کہ ’’ تقاریب اور تہوار لوگوں کو قریب لانے اور معاشرتی رشتوں کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع گفتگو، تفہیم اور تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتے ہیں، نہ کہ تقسیم کے لیے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ عید ملن کا اجتماع شرکاء کے درمیان بامعنی رابطے قائم کرے گا اور ہمیں ایک شمولیتی اور ہم آہنگ معاشرہ بنانے کے لیے اجتماعی کوشش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔‘‘
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار4 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار10 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
