بہار
آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن سے منسلک ہوں گےپرائیویٹ اسپتال اور کلینک
(پی این این)
چھپرہ :صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کو زیادہ شفاف،محفوظ اور تکنیکی طور پر مضبوط بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے محکمہ صحت نے تمام نجی میڈیکل اداروں کو آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (ABDM) میں لازمی طور پر شامل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔محکمہ کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے نفاذ سے مریضوں کو صحت کی بہتر، آسان اور تیز تر خدمات فراہم ہوں گی۔ABDM کے تحت ہر شہری کو ایک منفرد ڈیجیٹل ہیلتھ آئی ڈی ABHA نمبر فراہم کیا جائے گا۔یہ نمبر مریض کی ٹیسٹ رپورٹس،نسخے،ادویات کی تفصیلات،علاج کی تاریخ اور تمام صحت کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل طور پر محفوظ کرے گا۔اس سے مریضوں کو نسخے،رپورٹس یا فائلوں کے ساتھ اسپتالوں میں جانے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ڈاکٹروں کو ایک کلک کے ساتھ مریض کی مکمل طبی تاریخ تک بھی رسائی حاصل ہوگی۔جس سے علاج زیادہ درست،موثر اور معیاری ہوگا۔
محکمہ صحت کے مطابق اے بی ڈی ایم میں پرائیویٹ اسپتال،نرسنگ ہومز،کلینک،تشخیصی مراکز،پیتھالوجی لیبز،ریڈیولوجی سینٹرز،فارمیسیز،ڈینٹل کلینک اور فزیو تھراپی سینٹرز شامل ہوں گے۔تمام اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رجسٹریشن مکمل کریں۔رجسٹریشن کرنے کے لیے پہلے پیشہ ور افراد ہیلتھ پروفیشنل رجسٹری (HPR) پر رجسٹر ہوں گے اور اپنی منفرد HPR ID بنائیں گے۔اسپتال،کلینک،لیبز اور دیگر ادارے اپنے ادارے کی معلومات،لائسنس اور عملے کی تفصیلات ہیلتھ فیسیلٹی رجسٹری (HFR) پر اپ لوڈ کرکے اس عمل کو مکمل کریں گے۔رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد ادارے ABDM سسٹم پر فعال ہو جائیں گے اور مریضوں کو ڈیجیٹل خدمات فراہم کر سکیں گے۔
آیوشمان بھارت کے ڈی پی سی انچارج ابھینئے کمار نے اے بی ڈی ایم کو صحت کے شعبے میں ایک بڑی اصلاح قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈ سے ادویات کی تقسیم،جانچ،نسخے اور علاج میں شفافیت بڑھے گی۔یہ غلط تشخیص،جعلی رپورٹوں یا بے ضابطگیوں کو مؤثر طریقے سے روکے گا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ نجی اداروں میں مسلسل شعور بیدار کر رہا ہے اور انہیں جلد از جلد رجسٹر کرنے کی تاکید کر رہا ہے۔ABDM ملک میں ایک مضبوط،جدید اور مربوط ڈیجیٹل ہیلتھ انفراسٹرکچر بنائے گا۔جس کے سب سے زیادہ فوائد عام لوگوں کو حاصل ہوں گے۔ABDM کے نفاذ کے ساتھ صحت کا نظام زیادہ منظم،شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہونے کی امید ہے۔
بہار
انڈیا ۔نیپال کوآرڈینیشن کمیٹی کی میٹنگ منعقد،سرحد پر غیر قانونی سرگرمیوں کوروکنے کا عزم
(پی این این)
ارریہ: انڈیا نیپال کوآرڈینیشن کمیٹی کی ایک میٹنگ آئی سی پی جوگبنی میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ کا آغاز ہندوستان اور نیپال کے قومی ترانوں سے ہوا۔ ملاقات میں سرحدی علاقے سے متعلق کئی حساس اور موجودہ مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسٹیک ہولڈرز نے وزیر اعظم کے حالیہ دورے اور کسی بھی متعلقہ معلومات، نیپال کے آئندہ انتخابات کے پیش نظر جنریشن زیڈ کے بعد کی سیاسی صورتحال، نو مینز لینڈ پر تجاوزات کا مسئلہ، حالیہ واقعات کے تناظر میں نیپال کے دھنوشہ علاقے میں فرقہ وارانہ صورتحال، منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ، انٹیلی جنس اکٹھا کرنے، سرحدی مرمت اور پینٹنگ کے واقعات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک خاتون SSB افسر کے ساتھ جھگڑے کے بعد فرار ہونا، اور دوہری شہریت جیسے سنگین مسائل۔
میٹنگ میں نیپال کے مورنگ اور سنسری اضلاع کے چیف ڈیولپمنٹ آفیسرز نے شرکت کی اور سرحدی علاقے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ضلع مجسٹریٹ ونود دوہن نے دونوں ممالک کی انتظامیہ، سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقے میں کسی بھی غیر قانونی سرگرمی بالخصوص منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی کارروائیوں پر سختی سے روک لگائی جائے گی۔
ضلع مجسٹریٹ نے یقین دلایا کہ ایک محفوظ، پرامن اور ہموار ہندوستان-نیپال سرحد کو برقرار رکھنے کے لئے مربوط کوششیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان سرحدی انتظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ میٹنگ میں 56ویں بٹالین ایس ایس بی کے کمانڈنٹ، ایس ایس بی کے سینئر افسران، نیپال کے سنسری اور مورنگ اضلاع کے پولس افسران، انٹیلی جنس افسران، سب ڈویژنل افسران، اور سب ڈویژنل پولس آفیسر، فاربس گنج کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔
بہار
ڈاکٹر محمد منظور عالم ایک روشن دماغ ماہر تعلیم تھے، امارت شرعیہ میں تعزیتی نشست منعقد
(پی این این)
پٹنہ : ملک کے مشہور ماہر تعلیم ملی و سماجی دانشوراور آئی او ایس و آل انڈیا ملی کونسل کے روح رواں ڈاکٹر محمد منظور عالم عرصہ کی علالت کے دہلی کے میکس(Max) اسپتال میں رب کائنات کے دربار میں حاضر ہوگئے ،انا للہ و انا الیہ راجعون۔ڈاکٹر صاحب مرحوم ملی تحریکات کے سرگرم رکن تھے ،آپ فقہ اکیڈمی انڈیا اور ملی کونسل کے بانیوں میں سے تھے ،انسٹی ٹیوٹ آف انکلیو اسٹڈیز نئی دہلی کے چیرمین تھے انہوں اداروں کو اپنی خدمات اور کارناموں کے باعث ملکی و بین الاقوامی شہرت بنانے میں فعال کردار ادا کیا ،آپ نے فقیہ العصر قاضی القضاۃ حضرت نائب امیر شریعت امارت شرعیہ کا دست و بازو بن کر ان اداروں کو قوت عطا کی ،ڈاکٹر صاحب کا امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ سے بھی گہرا ربط و تعلق تھا،یہاں کے فلاحی و رفاہی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے ،مجلس ارباب حل و عقد ،امارت ایجوکیشنل ویلفیئر ٹرسٹ کے ٹرسٹی و دیگر مجالس امارت شرعیہ کے بھی ممبر تھے اکثر شرکت کرتےاور بہت صائب الرائے دیتے،آپ عرصہ سے مختلف امراض کے شکار تھے ،دوا و علاج کا سلسلہ جاری تھا مگر وقت موعود آ پہونچا،پھر کیا تھا کہ زندگی کے مسافر کو ابدی نیند آگئی ،رحمۃ اللہ واسعہ۔
ان کے وصال پر امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ کے امیر شریعت مولاناسید احمد ولی فیصل رحمانی نے صدمہ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک روشن دماغ ماہر تعلیم تھے ،وہ ملی مسائل سے گہری دلچسپی رکھتے تھے ،اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والی نا انصافیوں پر پر زور آواز بلند کرتے ،اللہ ان پر رحمت کی بارش برسائے ،ناظم ارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب مسلمانوں کے سچے ملی رہنماؤں میں سے ایک تھے ،در حقیقت وہ ایک بڑے مدبر اور مفکر انسان تھے ،اللہ ان کی مغفرت فرمائے ،ڈاکٹر صاحب کے وصال پر امارت شرعیہ پھلواری شریف میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی ۔
جس میں قائم مقام ناظم اور صدر قاضی شریعت و جنرل سکریٹری امارت ایجوکیشنل ویلفیئر ٹرسٹ مولانا مفتی محمدانظار عالم قاسمی نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب بر صغیر کے عظیم اسکالرو دانشور تھے ،مسلم مسائل کو بڑی قوت کے ساتھ اٹھاتے اور اس کے حل کے لئے آخری حد تک جد و جہد کرتے رہے،اکابر امارت کی صحبت اور مشائخ کی تربیت نے انہیں پختہ کار بنا دیا تھا،بلا شبہ وہ ایک باکردار شخصیت کے مالک ہونے کی حیثیت سے اپنے پیچھے بہت سی یادیں چھوڑ گئے ،اللہ ان کے درجات کو بلند کرے۔امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے ہندوستان میں نظریہ سازی کی طرح ڈالی اور پورے ملک میں جغرافیائی طور پر تعلیمی ،سماجی اقتصادی لحاظ سے ڈاٹا جمع کیا تاکہ اس کی روشنی میں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے اصلاح کا خاکہ بنانے میں معاون ہو۔
مولانا ومفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک دوراندیش اسکالر تھے وہ تحقیق او رریسرچ کے ساتھ باتیں کرتے جس سے ان کی گفتگو میں وزن ہوا کرتا تھا ،مولانا سہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک اچھے تجزیہ نگار اور کالم نویس بھی تھے ان کی تحریروں میں ادبی چاشنی بھی ہوتی اور رعنائی بھی ،مولانا مفتی احتکام الحق صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک عظیم دانشور اور دور اندیش اسکالر تھے ،مولانا رضوان احمد ندوی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ نےکہاکہ ڈاکٹر صاحب سے عرصہ تیس سالوں سے دید وشنید رہی ہے یقین مانیے کہ قدرت نے ان کو دین وملت کی خدمت پر ہی مامور کیا تھا ،مولانا ابو الکلام شمسی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ نے ڈاکٹر صاحب اور امارت شرعیہ کے روابط پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ ان کے رگ و ریشے میں فکر امارت پیوست تھی۔
اس تعزیتی نششت میں حاجی احسان الحق ، ڈاکٹر یاسرحبیب سکریٹری مولانا سجاد میموریل اسپتال ،مولانا شمیم اکرم رحمانی معاون قاضی شریعت امارت شرعیہ ،مولانا ارشد رحمانی آفس سکریٹر ی امارت شرعیہ ،مفتی محمد شارق رحمانی ،مولانا اسعداللہ قاسمی مینیجر نقیب امارت شرعیہ ،انجینئر ابو طلحہ ،مولانا ممتاز نے شرکت کی تعزیتی نششت کا آغاز قاری مفتی محمد مجیب الرحمن معاون قاضی شریعت کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا ،آخیر میں مولانا مفتی احتکام الحق نے اجتماعی طور پر دعا مغفرت کرائی ،اس نششت میں مشہور معالج جمشید انور کے والد نور الدین انصاری کے انتقال پر بھی دعا مغفرت کی گئی اور ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا ۔
بہار
بہارمیں وسطانیہ امتحان پُرامن ماحول میں جاری
(پی این این)
سیتامڑھی:بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، پٹنہ کے زیرِ اہتمام وسطانیہ (آٹھویں) جماعت کا امتحان ضلع کے مختلف مراکز پر نہایت پُرامن، منظم اور نقل سے پاک ماحول میں جاری ہے۔ منگل کے روز امتحان کے تیسرے دن بھی تمام امتحان مراکز پر سخت نگرانی اور بہتر نظم و ضبط کے درمیان امتحان منعقد ہوا۔مدرسہ حمیدیہ دارالبنات حسینؔہ کے مرکز نگران و پرنسپل مولانا ضیاءالرحمن قاسمی اور نائب مرکز نگران مولانا امتیاز علی نے بتایا کہ اس مرکز پر کل 111 طلبا وطالبات رجسٹرڈ تھے، جن میں سے 110 طلبا وطالبات نے امتحان میں شرکت کی۔
اسی طرح مدرسہ اسلامیہ عربیہ، جامع مسجد کورٹ بازار کے مرکز نگران و پرنسپل مولانا علی مرتضیٰ ندوی اور نائب مرکز نگران و نائب پرنسپل مولانا ارشاد مظاہری، و مولانا محمد تنویر احمد کے مطابق یہاں 669 رجسٹرڈ طلبا وطالبات میں سے 650 طلبا وطالبات امتحان میں حاضر ہوئے۔مدرسہ رحمانیہ اندولی، پریہار کے انچارج مرکز نگران محمد مناظرالاسلام نے بتایا کہ اس مرکز پر 180 طلبا وطالبات رجسٹرڈ تھے، جن میں سے 160 طلبا وطالبات نے امتحان میں شرکت کئے ۔
مدرسہ فیضِ عام، پھلوریا باجپٹی کے مرکز نگران و پرنسپل مولانا محمد مطیع الرحمٰن قاسمی نے بتایا کہ یہاں 212 طلبا وطالبات میں سے 200 طلبا طالبات امتحان میں شریک ہوئے۔تمام مراکز نگران نے اس بات کی تصدیق کی کہ امتحان کو شفاف بنانے کے لیے سیکورٹی کے مضبوط انتظامات کیے گئے ہیں اور مدرسہ بورڈ کی تمام ہدایت پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ ضلع بھر سے نقل یا کسی بھی طرح کی بدعنوانی کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، جس سے طلبہ، سرپرستوں اور تعلیمی حلقوں میں اطمینان کا ماحول ہے۔
-
دلی این سی آر12 months agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر12 months agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر12 months agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
بہار8 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
