Connect with us

بہار

اسمیتا ڈسٹرکٹ ایتھلیٹکس لیگ میں لڑکیوں کاجلوہ

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :بہار کے چھپرہ ضلع کے کھیل کی تاریخ میں ایک نیا باب اس وقت جڑ گیا جب جے پرکاش یونیورسٹی کے اسپورٹس کمپلیکس میں پہلی مرتبہ اسمیتا ڈسٹرکٹ ایتھلیٹکس لیگ کا انعقاد ہوا۔کھیلو انڈیا کے تحت سارن ڈسٹرکٹ ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے زیراہتمام ایتھلیٹکس فیڈریشن آف انڈیا اور مرکزی وزارت کھیل اور امور نوجوانون کے اشتراک سے لڑکیوں کو نیا پنکھ دینے کے مقصد سے منعقد کی گئی یہ لیگ پورے ضلع میں جوش و خروش کا مرکز بنی رہی۔افتتاح بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین اور ریاستی و ضلع ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے صدر سلیم پرویز نے پرچم کشائی کرکے کیا۔
اس موقع پر کارگزار صدر اجے کمار سنگھ،سکریٹری گجیندر کمار سنگھ،کارگزار سکریٹری نیلابھ گنجن راکا،پروفیسر امیت سوربھ،شیام دیو سنگھ اور راجکشور تیواری موجود تھے۔سلیم پرویز نے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ کھیلو انڈیا اقدام نے ملک کے نوجوانوں کی ذہنیت کو بدل دیا ہے۔آج کھیل کیریئر کا ایک موقع بن گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج لڑکیاں ہر میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔اسمتا ایتھلیٹ لیگ جیسے اقدامات انہیں قومی اور بین الاقوامی نمائش کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر تم کھیلو گے تو کھلو گے اور قوم کا نام روشن کرو گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی میں بنائے گئے سنتھیٹک ٹریک کو مینٹین رکھنے اور سرگرمیاں بڑھانے کے لئے
یونیورسٹی اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ قائم کیا جائے گا۔ایوارڈ تقریب کے مہمان خصوصی سابق وزیر اور امنور کے ایم ایل اے کرشن کمار منٹو سنگھ نے کہا کہ ہمارے ضلع کا ہر بچہ ہیرا ہے۔ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن انہیں نکھار کر ہیرے کی طرح چمکا رہی ہے۔موجودہ حکومت نے نچلی سطح پر سہولیات کی فراہمی کے لیے کام کیا ہے۔سنتھیٹک ٹریک اور ملحقہ میڈیکل کالج اس کی مثال ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ آنے والے مراحل میں منتخب کھلاڑیوں کو ضلعی سطح سے ریاست اور پھر قومی سطح تک آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ایم ایل اے چھوٹی کماری نے کہا کہ اسمتا ڈسٹرکٹ ایتھلیٹکس لیگ نے بچیوں کو نئے خوابوں کو پنکھ دیے ہیں اور سارن کی لڑکیوں میں اسپورٹس مین شپ کا جذبہ پیدا کیا ہے۔اس سے ضلع کی کھیلوں کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ لڑکیاں کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہیں اور آگے بڑھنے کے لیے مزید محنت کریں گی۔اسپورٹس کمپلیکس کا ماحول صبح سے ہی خوش گوار اور پرجوش تھا۔
ضلع کے مختلف بلاکس اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 400 شرکاء نے ایتھلیٹکس کے مختلف مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔جن میں 60 میٹر،600 میٹر دوڑ،لمبی کود،اونچی کود،جیولن تھرو،شاٹ پٹ،ڈسکس تھرو اور بیک تھرو شامل ہیں۔تکنیکی افسران مرتونجے کمار سنگھ،پنکج چوہان،گوری شنکر،روپ نارائن،رانا یشپال سنگھ،امت کمار گری،سنجے کمار سنگھ،کمل کمار،پرنس،روہت،ایکلویہ کوچ و قومی کھلاڑی شویتا،کشور کنال اور دیگر نے مقابلے کے انعقاد میں بہترین تال میل کا مظاہرہ کیا۔
مقابلے کے انڈر 16 زمرے میں گرکھا کی ارپیتا نے گولڈ،امنور کی پوجا نے سلور اور گرکھا کی اُجالا نے کانسی کا تمغہ جیتا ہے۔600 میٹر کی دوڑ میں راجا پٹی کی سنی،امنور کی راگنی اور ساتھی کلب چھپرہ کی روپا نے پہلا، دوسرا اور تیسرا مقام حاصل کیا۔امنور کی آرتی، پوجا اور راگنی نے ڈسکس میں،امنور کی پوجا،راگنی اور سمریدھی نے جیولن میں،امنور کی آرتی،پرسا کی کمل اور آنند کی انو شاٹ پٹ میں اور امنور کی نبھا اور پرسا کی انو کو اونچی چھلانگ میں رکھا گیا۔فاتحین کو مہمان خصوصی سابق وزیر اور ایم ایل اے کرشن کمار منٹو اور چھپرہ ایم ایل اے چھوٹی کماری نے میڈل اور سرٹیفکیٹ دے کر اعزاز سے نوازا۔

بہار

نتیش کمار نے بہارقانون ساز کونسل کی رکنیت سے دیااستعفیٰ

Published

on

(پی این این )
پٹنہ :بلآخر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہونے کے بعد قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جے ڈی یو لیڈر وجے کمار چودھری نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار پہلے ہی راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو چکے ہیں، اس لیے استعفیٰ ضروری تھا۔ نتیش کمار کی جانب سے جے ڈی یو ایم ایل سی سنجے گاندھی نے بہار قانون ساز کونسل کے چیئر مین کو استعفیٰ سونپ دیا ہے۔
واضح ہوکہ نتیش کمار 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے، وہ رواں ماہ 16 مارچ کو راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو گئے تھے۔ جے ڈی یو کے سربراہ ان لیڈران میں شامل ہیں جو چاروں ایوانوں کے رکن بنے ہیں۔ نتیش کمار نے راجیہ سبھا انتخاب لڑنے کے دوران کہا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہوں، اس لیے انہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے۔
واضح رہے کہ نتیش کمار 1985 میں ہرنوت اسمبلی سیٹ سے جیت حاصل کر اسمبلی پہنچے تھے۔ اس کے بعد 1989 میں وہ نویں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے۔ اب پہلی بار راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر وہ اپنی نئی پاری کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ 10 اپریل کو وہ راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کریں گے۔

Continue Reading

بہار

جیویش کمار نے ہائی اسکول کی عمارت کا کیا افتتاح

Published

on

(پی این این )
جالے: جالے اسمبلی حلقہ میں ترقیاتی کاموں کو مزید تقویت دیتے ہوئے رکنِ اسمبلی و سابق ریاستی وزیر جیویش کمار نے 2 اہم عوامی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مقامی نمائندے، معززینِ علاقہ اور بڑی تعداد میں عوام موجود رہے۔
راڑھی جنوبی پنچایت (بہاری) میں نوتعمیر شدہ ہائی اسکول عمارت کا افتتاح عمل میں آیا، جس کی تعمیر تقریباً 213.27 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہوئی ہے۔ اس عمارت کے قیام سے علاقے کے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔
اسی طرح برہمپور مشرقی پنچایت (کٹائی) میں پنچایت سرکار بھون کا افتتاح کیا گیا، جس پر تقریباً 305.31 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس عمارت کے ذریعے مقامی انتظامی نظام کو مضبوطی ملے گی اور عوام کو مختلف سرکاری خدمات ایک ہی جگہ فراہم کی جا سکیں گی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی جیویش کمار نے کہا کہ حلقہ میں تعلیم، دیہی ترقی اور بہتر حکمرانی کو فروغ دینا ترجیحات میں شامل ہے، اور اس سمت میں کام جاری رہے گا۔تقریب میں شریک افراد نے ان منصوبوں کو علاقہ کی ترقی کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

Continue Reading

بہار

بہارمدرسہ بورڈ کا بڑااعلان: تمام امدادی مدارس میں مڈ ڈے میل لازمی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں مدرسہ تعلیم کے نظام کو لے کر ایک بڑا اور اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے ریاست کے تمام امدادی مدارس میں مڈ ڈے میل (درمیانی کھانا) اسکیم کو لازمی طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔
مدرسہ بورڈ کے سکریٹری عبدالسلام انصاری نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر، مڈ ڈے میل اسکیم، بہار کو خط ارسال کرتے ہوئے فوری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ کئی امدادی مدارس اب تک اس اسکیم سے محروم ہیں، جو ایک تشویشناک امر ہے۔ جاری خط میں کہا گیا ہے کہ مڈ ڈے میل اسکیم تمام تعلیمی اداروں کے لیے لازمی ہے، ایسے میں کسی بھی مدرسے کا اس سے باہر رہنا قابل قبول نہیں ہوگا۔
ہدایت دی گئی ہے کہ تمام محروم مدارس کو فوراً اس اسکیم سے جوڑا جائے تاکہ وہاں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جا سکے۔ سکریٹری انصاری نے واضح طور پر کہا کہ اس اسکیم کا مقصد صرف کھانا فراہم کرنا نہیں بلکہ بچوں کی صحت بہتر بنانا اور اسکولوں میں ان کی حاضری بڑھانا بھی ہے۔ اس لیے کسی بھی سطح پر لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بورڈ کی جانب سے 1942 امدادی مدارس کی فہرست فراہم کر دی گئی ہے اور سبھی کو اسکیم کے دائرے میں لانے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
سیتامڑھی کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو ضلع میں کئی مدارس میں پہلے سے مڈ ڈے میل چل رہا ہے، لیکن بڑی تعداد اب بھی اس سے محروم ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے سخت ہدایت دی گئی ہے کہ اپریل سے ہر حال میں ضلع کے تمام مدارس میں یہ اسکیم نافذ کر دی جائے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ انتظامیہ اس حکم کو زمینی سطح پر کتنی تیزی اور سنجیدگی سے نافذ کرتی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network