دلی این سی آر
اردو اکادمی کے زیر اہتمام35واں اردو ڈراما فیسٹول کا آغاز
(پی این این)
نئی دہلی:ڈراما ادب کی وہ صنف ہے جس میں زندگی کے حقائق، احساسات اور مظاہر کو کرداروں اور مکالموں کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ معروف فلسفی و نقاد ارسطو کے مطابق ڈراما انسانی اعمال کی تقلید ہے، یعنی یہ انسانی زندگی کو پیش کرنے کا دلچسپ اور مؤثر ذریعہ ہے۔اردو ڈرامے کی ایک اہم شاخ اسٹیج ڈراما ہے، جس میں اداکاری کے ذریعے کسی کہانی یا واقعے کو براہِ راست ناظرین کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ ایسے اسٹیج پرفارمنس نہ صرف تفریح کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ معاشرتی، ثقافتی اور فکری شعور کو بھی بیدار کرتے ہیں۔
اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اردو اکادمی، دہلی گذشتہ۳۵برسوں سے مسلسل اردو ڈراما فیسٹول کا انعقاد کرتی آرہی ہے۔ اس فیسٹول کا مقصد محض ناظرین کے ذوق کی تسکین ہی نہیں بلکہ اردو زبان و ثقافت کے فروغ اور عصری مسائل کے فنی اظہار کو بھی اجاگر کرنا ہے۔اس سال بھی اردو اکادمی، دہلی نے محکمہ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی کے زیر اہتمام چھ روزہ ۳۵واں اردو ڈراما فیسٹول منعقد کیا ہے۔ یہ فیسٹول 10 نومبر سے شروع ہوکر 15 نومبر تک سری رام سینٹر، منڈی ہاؤس میں جاری رہے گا، جہاں ہر روز شام ساڑھے چھ بجے ایک نیا اسٹیج ڈراما پیش کیا جارہا ہے۔
افتتاحی نظامت میں اطہر سعید نے نہایت دل کش انداز میں اردو ڈرامے اور پارسی تھیٹر کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور اسٹیج ڈراموں کی ادبی و ثقافتی اہمیت پر گفتگو کی۔ اس کے بعد ڈاکٹر رمیش ایس لعل (لنک آفیسر، اردو اکادمی، دہلی) نے اپنے استقبالیہ خطاب میں اس فیسٹول کو تھیٹر سے وابستہ فنکاروں کے لیے ایک مثبت اور با مقصد پلیٹ فارم قرار دیا۔فیسٹول کے پہلے دن پریتی پریرنا فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام پیش کیے گئے ڈرامے ’’بدھا اور غالب سے ملاقات‘‘ نے اپنے منفرد موضوع، مکالموں اور اداکاری کے ذریعے ناظرین کو مسحور کردیا۔ ڈراما ایک نوجوان شاعر کی خود شناسی کی کہانی ہے جو مرزا غالب کے کلام اور گوتم بدھ کے افکار سے گہری وابستگی رکھتا ہے۔ ایک طرف وہ غالب کے اشعار کے ذریعے زندگی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو دوسری جانب بدھ کی تعلیمات اسے روحانی بصیرت عطا کرتی ہیں۔ڈرامے میں فلسفیانہ اور ادبی دونوں جہتیں اس خوبی سے یکجا کی گئی ہیں کہ ناظرین خود کو کرداروں کے احساسات میں شریک محسوس کرتے ہیں۔ جناب اشوک لال کی تحریر اور آشیش شرما کی ہدایت نے اس پیشکش کو مزید دلکش بنا دیا۔دھرمیندر، وکرم آدتیہ، پریرنا کشیپ اور دیگر فنکاروں نے اپنے کرداروں کو بھرپور انداز میں نبھایا، جبکہ مکالمے، اسکرپٹ اور منظرنامہ نہایت بامعنی اور مؤثر رہے۔
ڈرامے کےاختتام پر اردو اکادمی کے لنک آفیسرڈاکٹر رمیش ایس لعل، محمد ہارون اور عزیرحسن قدوسی نے ہدایت کار آشیش شرما کو مومنٹو اور گلدستہ پیش کرکے ان کی کاوشوں کو سراہا۔تقریب میں اکادمی کے سابق سکریٹری انیس اعظمی، ڈاکٹر شبانہ نذیر، ایڈوکیٹ عبدالرحمٰن، شیخ علیم الدین اسعدی، پروفیسر خالد علوی، پروفیسر رحمان مصور، فرحت احساس سمیت علمی و ادبی شخصیات اور تھیٹر کے شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی۔
دلی این سی آر
عالم اسلام کو صہیونی جارحیت کے خلاف بلند کرنی چاہیےآواز:ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ ماہ مبارک میں تلاش کر کے مستحق ضرورت مندوں کی امداد کریں نیز رمضان المبارک میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں پیش پیش رہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست عناصر کو امن و سکون کا ماحول اچھا نہیں لگتا کسی بھی قیمت پر حالات خراب کرنا چاہتے ہیں اور جھگڑے پر اکسانے کی کوشش کرتے ہیں بدایوں کے حالیہ سانحہ نے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ایک فرقہ پرست نوجوان تین مسلم افراد کو بلاوجہ گالیاں دے رہا ہے اور تھپڑ مارتا ہے تین مسلمان سیدھے سادھے انداز میں راستہ سے گزر رہے تھے جو اس بدبخت سے بڑی عمر کے تھے تینوں نے بے پناہ صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی جوابی حملہ نہیں کیا اس سانحہ پر کئی سیاسی پارٹیوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ اتر پردیش میں اقلیتی فرقہ کو تحفظ دیا جائے اور اس نوجوان پر شدید ایکشن لیا جائے۔
مفتی مکرم نے مدھیہ پردیش کے ضلع جبل پور کے قصبہ سیہورا میں لاؤڈ اسپیکر تنازعہ پر تشدد کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائے جانے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ایک طرفہ مسلم فرقہ کے افراد کی گرفتاریوں کی مذمت کی۔ واقعہ کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جن مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ جھگڑے میں ملوث نہیں تھے تراویح پڑھ کر مسجد سے نکل رہے تھے اس واقعہ سے کچھ دنوں پہلے ایک ہندو تنظیم نے سیہورا پولیس اسٹیشن پر احتجاج کیا تھا ۔ گویا تنازعہ منصوبہ بند تھا اس کی انکوائری کرائی جائے اور جو فرقہ پرست لیڈرشر انگیزی میں ملوث ہیں انہیں گرفتار کیا جائے۔
مفتی مکرم نے مسجد اقصی میں تراویح میں کثیر تعداد میں فلسطینیوں کی شرکت پر ایمانی جذبے کی تعریف کی اور صہیونی جارحیت کی شدید مذمت کی۔ میڈیا رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے بیت المقدس شہر کے گردونواح میں چیک پوسٹ بنا کر مسجد اقصی کے دروازوں پر اپنی فوجی نفری میں غیر معمولی اضافہ کر رکھا ہے اور ماہ مبارک میں فلسطینیوں کو عبادت کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے عالم اسلام کو اس کے خلاف متحدہ آواز اٹھانی چاہیے۔
دلی این سی آر
اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام جلسۂ تقسیمِ انعامات پروگرام منعقد
(پی این این)
نئی دہلی: اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام سال 2025ء کے تعلیمی و ثقافتی مقابلوں میں کامیاب طلبہ کے اعزاز میں ایوانِ غالب، ماتا سندری لین، نئی دہلی میں جلسۂ تقسیمِ انعامات منعقد ہوا۔ تقریب میں دہلی کے مختلف اسکولوں کے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور والدین نے شرکت کی۔یہ تعلیمی مقابلے20اگست تا8ستمبر2025ء اردو اسکولوں کے طلبا و طالبات کے درمیان منعقد کیے گئے تھے، جن میں تحریری امتحانات ، مضمون نویسی،تقریری، کوئز، غزل سرائی، اردو ڈراما، بیت بازی، گروپ سانگ ، بلند خوانی اور امنگ پینٹنگ جیسے متنوع مقابلے شامل تھے، جن تقریباً 1663 طلبا وطالبات نیان مقابلوں میں حصہ لیا تھا، جن میں سے 265 طلبہ مختلف زمروں میں کامیاب قرار پائے گئے تھے۔
اس موقع پر محکمۂ فن، ثقافت و السنہ، حکومت دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو نہ صرف ایک دلنشیں زبان ہے بلکہ باوقار تہذیب کی نمائندہ بھی ہے۔ انہوں نے تعلیمی و ثقافتی مقابلوں میں طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکت کو نئی نسل میں اردو کے بڑھتے شوق کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے انعام یافتہ طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی محنت اور لگن کے ساتھ تعلیمی و ادبی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کریں گے۔ انھوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ آئندہ مقابلوں کے زمروں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو اظہار کا موقع مل سکے۔
جلسہ تقسیم انعامات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میںنقد انعامات، اسناد اور مومنٹو تقسیم کیے گئے۔ اس سال بہترین شرکت کا ایوارڈ ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل اسکول، جعفرآباد کو دیا گیا، جبکہ بہترین کارکردگی کا ایوارڈ سید عابد حسین جامعہ اسکول نے حاصل کیا۔ دونوں اسکولوں کو 21، 21 ہزار روپے نقد انعام، مومنٹو اور سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ اس طرح اسناد، مومنٹو اور شیلڈز کے ساتھ نقد انعامات کی مجموعی رقم تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ روپے تقسیم کی گئی۔پروگرام کی نظامت ریشما فاروقی نے کی۔ اختتام پر کامیاب طلبہ کو مبارکباد پیش کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اکادمی آئندہ بھی علمی و ادبی سرگرمیوں کے ذریعے نئی نسل کی صلاحیتوں کو فروغ دیتی رہے گی۔
دلی این سی آر
راجدھانی دہلی میں فروری میں ہی گرمی نے دی دستک
(پی این این)
نئی دہلی :دارالحکومت دہلی میں فروری میں ہی گرمی نے لوگوں کو پسینہ بہانا شروع کر دیا ہے۔ دہلی میں پارہ ایک بار پھر 30 ڈگری سیلسیس سے اوپر پہنچ گیا ہے۔ دن بھر تیز دھوپ کے باعث لوگوں نے گرمی محسوس کی۔ دہلی کے صفدرجنگ آبزرویٹری میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 5 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29 سے 31 ڈگری سیلسیس کے درمیان اور کم سے کم درجہ حرارت 12 سے 14 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ دن بھر آسمان صاف رہے گا تاہم صبح کے وقت دھند چھائی رہے گی۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ہفتے کے آخر تک گرمی میں بتدریج اضافہ ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ 25 اور 26 فروری کو دن کے وقت سطحی ہوائیں 15 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔دہلی کے بیشتر علاقوں میں صبح ہلکی کہرا چھا گیا۔ جیسے جیسے دن چڑھتا گیا، کہرا چھٹ گیا اور سورج نکلا۔ صبح 11 بجے کے بعد سورج روشن ہو گیا، جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ صفدرجنگ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے پانچ ڈگری زیادہ ہے۔ کم از کم درجہ حرارت 11.8 ڈگری سیلسیس تھا، جو سال کے اس وقت کے لیے معمول ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب 29 سے 95 فیصد تک رہا۔
دریں اثنا، دارالحکومت دہلی کو آلودہ ہوا سے کوئی راحت نہیں مل رہی ہے۔ ہوا کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے دہلی کے باشندوں کو بڑھتی ہوئی آلودگی کا سامنا ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے مطابق، دہلی کی ہوا کے معیار کا انڈیکس 228 رہا۔ اس سطح پر ہوا کا معیار خراب سمجھا جاتا ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار9 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
بہار3 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
