بہار
اردو ہائی اسکول میں جمعہ کی چھٹی و اردو میں جواب لکھنے کے لئے بیداری مہم کا آغاز
(پی این این)
مظفر پور: اردو ہائی اسکول میں جمعہ کی چھٹی اور بہار کی دوسری سرکاری زبان اردو میں امتحان کے سوال کا جواب دینا ہمارا آئینی حق ہے۔ یہ باتیں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع نے کہی ہے۔ محمد رفیع نے یہ بھی کہا کہ اردو ہماری مادری زبان ہے، بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے اور یہ ہماری تہذیب و تمدن کا ضامن ہے۔ رفیع نے یہ باتیں آج عوامی بیداری مہم کے تحت کڈھنی بلاک کے مور نصف میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
محمد رفیع نے بتایا معلوم ہو کہ سیتامڑھی اور شیوہر ضلع تعلیمی افسر نے جمعہ کے دن اردو ہائی اسکول کھولنے اور اتوار کو ہفتہ واری چھٹی کا حکم نامہ جاری کیا ہے ساتھ ہی بہار اسکول اگزامنیشن بورڈ پٹنہ نے انٹر کے رجسٹریشن میں امتحان دینے کا ذریعہ ہندی اور انگریزی میں سے ہی کوئی ایک زبان سیلیکٹ کرنے کا آپشن کے خلاف قومی اساتذہ تنظیم بہار نے آج کڈھنی بلاک کے مور نصف میں ایک عوامی بیداری مہم چلا کر یہ اپیل کی کہ کسی بھی حال میں جمعہ کو اردو ہائی اسکول کو نہیں کھلے اور انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں میٹرک اور انٹر کے طلبہ کو محکمۂ تعلیم اور حکومت بہار کو خطوط ارسال کرنے کی ترغیب دی۔ اس موقع پر قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی صدر نے کہا کہ اردو زبان ہمارے معاش کا بہترین ذرائع ہے اور تمام دینی کتابیں بھی اردو زبان میں ہیں اس لئے اس کا تحفظ لازمی طور پر کرنا ہے۔ محمد رفیع نے اس موقع پر کہا کہ آج اس بیداری مہم کی شروعات کڈھنی کے مور نصف سے ہوئی ہے اور بہار میں جہاں کہیں بھی اردو ہائی اسکول قائم ہے وہاں جا کر عوام کو بیدار کیا جائے گا۔
نشست میں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی مجلس عاملہ کے رکن رضی احمد، محمد امان اللہ، محمد جاوید عالم، وقار عالم و محمد ممتاز الحق کے ساتھ تعلیمی مرکز تنظیم کے رہنما عبد الوارث، محمد شوکت، امام جماع مسجد مور نصف حافظ منظر عالم، مفتی محمد عزیر، محمد آفتاب عالم چاند، الحاج سعداللہ، الحاج محمد ناظم، محمد طفیل، ماسٹر محمد بشیر اور محمد عامر وغیرہ شامل ہیں۔
بہار
نتیش کمار نے بہارقانون ساز کونسل کی رکنیت سے دیااستعفیٰ
(پی این این )
پٹنہ :بلآخر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہونے کے بعد قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جے ڈی یو لیڈر وجے کمار چودھری نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار پہلے ہی راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو چکے ہیں، اس لیے استعفیٰ ضروری تھا۔ نتیش کمار کی جانب سے جے ڈی یو ایم ایل سی سنجے گاندھی نے بہار قانون ساز کونسل کے چیئر مین کو استعفیٰ سونپ دیا ہے۔
واضح ہوکہ نتیش کمار 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے، وہ رواں ماہ 16 مارچ کو راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو گئے تھے۔ جے ڈی یو کے سربراہ ان لیڈران میں شامل ہیں جو چاروں ایوانوں کے رکن بنے ہیں۔ نتیش کمار نے راجیہ سبھا انتخاب لڑنے کے دوران کہا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہوں، اس لیے انہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے۔
واضح رہے کہ نتیش کمار 1985 میں ہرنوت اسمبلی سیٹ سے جیت حاصل کر اسمبلی پہنچے تھے۔ اس کے بعد 1989 میں وہ نویں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے۔ اب پہلی بار راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر وہ اپنی نئی پاری کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ 10 اپریل کو وہ راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کریں گے۔
بہار
جیویش کمار نے ہائی اسکول کی عمارت کا کیا افتتاح
(پی این این )
جالے: جالے اسمبلی حلقہ میں ترقیاتی کاموں کو مزید تقویت دیتے ہوئے رکنِ اسمبلی و سابق ریاستی وزیر جیویش کمار نے 2 اہم عوامی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مقامی نمائندے، معززینِ علاقہ اور بڑی تعداد میں عوام موجود رہے۔
راڑھی جنوبی پنچایت (بہاری) میں نوتعمیر شدہ ہائی اسکول عمارت کا افتتاح عمل میں آیا، جس کی تعمیر تقریباً 213.27 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہوئی ہے۔ اس عمارت کے قیام سے علاقے کے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔
اسی طرح برہمپور مشرقی پنچایت (کٹائی) میں پنچایت سرکار بھون کا افتتاح کیا گیا، جس پر تقریباً 305.31 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس عمارت کے ذریعے مقامی انتظامی نظام کو مضبوطی ملے گی اور عوام کو مختلف سرکاری خدمات ایک ہی جگہ فراہم کی جا سکیں گی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی جیویش کمار نے کہا کہ حلقہ میں تعلیم، دیہی ترقی اور بہتر حکمرانی کو فروغ دینا ترجیحات میں شامل ہے، اور اس سمت میں کام جاری رہے گا۔تقریب میں شریک افراد نے ان منصوبوں کو علاقہ کی ترقی کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
بہار
بہارمدرسہ بورڈ کا بڑااعلان: تمام امدادی مدارس میں مڈ ڈے میل لازمی
(پی این این)
پٹنہ:بہار میں مدرسہ تعلیم کے نظام کو لے کر ایک بڑا اور اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے ریاست کے تمام امدادی مدارس میں مڈ ڈے میل (درمیانی کھانا) اسکیم کو لازمی طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔
مدرسہ بورڈ کے سکریٹری عبدالسلام انصاری نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر، مڈ ڈے میل اسکیم، بہار کو خط ارسال کرتے ہوئے فوری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ کئی امدادی مدارس اب تک اس اسکیم سے محروم ہیں، جو ایک تشویشناک امر ہے۔ جاری خط میں کہا گیا ہے کہ مڈ ڈے میل اسکیم تمام تعلیمی اداروں کے لیے لازمی ہے، ایسے میں کسی بھی مدرسے کا اس سے باہر رہنا قابل قبول نہیں ہوگا۔
ہدایت دی گئی ہے کہ تمام محروم مدارس کو فوراً اس اسکیم سے جوڑا جائے تاکہ وہاں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جا سکے۔ سکریٹری انصاری نے واضح طور پر کہا کہ اس اسکیم کا مقصد صرف کھانا فراہم کرنا نہیں بلکہ بچوں کی صحت بہتر بنانا اور اسکولوں میں ان کی حاضری بڑھانا بھی ہے۔ اس لیے کسی بھی سطح پر لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بورڈ کی جانب سے 1942 امدادی مدارس کی فہرست فراہم کر دی گئی ہے اور سبھی کو اسکیم کے دائرے میں لانے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
سیتامڑھی کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو ضلع میں کئی مدارس میں پہلے سے مڈ ڈے میل چل رہا ہے، لیکن بڑی تعداد اب بھی اس سے محروم ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے سخت ہدایت دی گئی ہے کہ اپریل سے ہر حال میں ضلع کے تمام مدارس میں یہ اسکیم نافذ کر دی جائے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ انتظامیہ اس حکم کو زمینی سطح پر کتنی تیزی اور سنجیدگی سے نافذ کرتی ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار4 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار10 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
