بہار
سارن کمشنری کے معذوروں کے لیے ریاست گیر پیرا ایتھلیٹکس مقابلہ منعقد
(پی این این)
سارن :کمشنری کے چھپرہ، سیوان اور گوپال گنج اضلاع کے معذور کھلاڑیوں کے لیے ریاست گیر کھیل مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔مقابلے کا افتتاح میونسپل کمشنر سنیل کمار پانڈے،اے ڈی ایم پی جی آر او ہپردیپ کمار جھا،ڈسٹرکٹ ڈس ایبلٹی ایمپاورمنٹ سیل کی اے ڈی پوجا کماری،ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر شمیم انصاری اور ضلع اطلاع عامہ آفیسر رویندر کمار نے مشترکہ طور پر شمع روشن کر کیا۔
اے ڈی ڈی پوجا نے کہا کہ اس ریاست گیر پیرا اسپورٹس مقابلے کا مقصد معذور کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنا،ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں قومی اور بین الاقوامی مقابلوں کے لیے تیار کرنا ہے۔ڈی ایس او محمد شمیم نے باصلاحیت معذور کھلاڑیوں کے روشن مستقبل کی خواہش کی گئی۔مقابلے میں سارن،سیوان اور گوپال گنج کے 100 سے زیادہ شرکاء نے حصہ لیا۔معذور خواتین کھلاڑیوں نے بھی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ایونٹ کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ریسورس ٹیچرز،انسٹرکٹرز اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اسپورٹس آفس کے مقابلے کے اہلکار مقابلے کے مقام پر موجود تھے۔
بہار پیرا اسپورٹس ایسوسی ایشن کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر گوہر نے ایونٹ کے کامیاب انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا۔تقریب میں تینوں اضلاع کے رضاکار اور سارن کے اسکاؤٹ گائیڈز بھی موجود تھے۔بہار پیرا اسپورٹس ایسوسی ایشن کی پٹنہ ٹیم نے راجندر اسٹیڈیم میں منعقدہ ریاست گیر ڈس ایبلٹی اسپورٹس مقابلے میں شاٹ پٹ،ڈسکس تھرو،جیولن تھرو اور پیرا بیڈمنٹن مقابلوں کا اہتمام کیا۔مختلف مقابلوں کے بعد جیتنے والے شرکاء کو میڈلز اور اسناد سے نوازا گیا۔
بہار
چھپرہ میں ماک ڈرل کاانعقاد، لوگوں میں مچی افراتفری
(پی این این)
چھپرہ :بہار کے چھپرہ صدر اسپتال،ضلع پریشد دفتر،کٹہری باغ میں واقع اگرنی ہومس کیمپس،پرساد پٹرول پمپ اور پربھوناتھ نگرمیں واقع چلڈرن پارک میں اچانک ایک ساتھ سائرن اور ہوٹر کی آواز سن کر مقامی باشندوں میں افراتفری مچ گئی۔کچھ دیر کے لیے لوگ بے چین ہو گئے۔مگر جیسے ہی معلوم ہوا کہ یہ ماک ڈرل ہے تب لوگوں نے راحت کی سانس لی اور پورے منظر کو اپنے ا پنے موبائل میں قید کرنے لگے۔موقع تھا ضلع میں ممکنہ زلزلہ جیسی قدرتی آفت سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ماک ڈرل منعقد کرنے کا۔
یہ مشق ضلع انتظامیہ کی قیادت میں این ڈی ایم اے کی ہدایات پر انجام دی گئی۔جس میں این ڈی آر ایف اورایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ماک ڈرل صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی۔اس دوران 3.8 شدت کے فرضی زلزلے کا منظرنامہ تیار کیا گیا اور ہنگامی حالات میں بچاؤ اور راحت رسانی کی کارروائیوں کا حقیقی وقت میں عملی مظاہرہ پیش کیا گیا۔ماک ڈرل کے دوران ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچیں اور ملبہ ہٹانے،پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ نکالنے،ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے اور ایمبولینس کے ذریعے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کی کارروائی انجام دی۔کٹہری باغ میں واقع اگرنی ہومس کیمپس میں مشق کے دوران گرین لینڈ پبلک اسکول کے طلبہ کے لیے آفات سے بچاؤ کے موضوع پر خصوصی ماک ڈرل بھی منعقد کی گئی۔
اس موقع پراین ڈی آر ایف اورایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے زلزلے اور آگ جیسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے عملی طریقوں کا مظاہرہ کیا۔ ریسکیو ٹیم نے دکھایا کہ کسی حادثے کی صورت میں اونچی عمارتوں سے لوگوں کو کس طرح محفوظ طریقے سے باہر نکالا جاتا ہے۔ماہرین نے طلبہ کو تفصیل سے بتایا کہ زلزلے کے دوران کیا کرنا چاہیے اور کن امور سے گریز ضروری ہے۔ انہیں ہدایت دی گئی کہ کسی بھی ہنگامی حالت میں گھبرانے کے بجائے صبر و حوصلے سے کام لیں اور سب سے پہلے اپنی جان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں محفوظ مقامات کی طرف منتقلی، لفٹ کے استعمال سے گریز، مضبوط میز یا ڈیسک کے نیچے پناہ لینے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر شہزاد عالم نے کہا کہ آفات جیسی صورت حال میں اسکولی طلبہ معاشرے کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور بیداری و امدادی سرگرمیوں میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تربیتی مشقیں بچوں میں اعتماد پیدا کرتی ہیں اور انہیں ذمہ دار شہری بننے کی ترغیب دیتی ہیں۔اگرنی ہومس کیمپسمیں منعقدہ مشق کے دوران ضلع کوآپریٹو افسر سدھیر کمار سنگھ،جے پی یو کے رجسٹرار پروفیسر وشوامتر پانڈے،اجے کمار، ابھینیک کمار سنگھ،راج کمار مشرا،دلیپ کمار، ریڈ کراس سوسائٹی کے ڈاکٹر شہزاد عالم کے علاوہ گرین لینڈ پبلک اسکول کی طلبہ شریا کماری،مدیحہ ندیم،صبا شاہین،شاہین شہنواز،غوث رضا،دلشاد رضا،شاد،کماری سونی اور ایوب انصاری سمیت دیگر افراد موجود تھے۔
بہار
سیلاب کے باعث بہار کی 2.5لاکھ ایکڑاراضی ہوگئی تباہ
14ندیوں کے قہر سے کسانوں کو 3500کروڑروپے کاہورہاہے نقصان
(پی این این)
پٹنہ :بہار کے جوعلاقے سونا پیداکرسکتے ہیں وہاں سے کسانوں کوکچھ نہیں مل پارہاہے ۔ ریاست کی 14 ندیوں کے ساتھ ساتھ 50نالوں کی دھاروں نے 2.5لاکھ ایکڑزمین کو پوری طرح ڈوبودیاہے جس کے باعث یہاں گنے کی کھیتی نہیں ہورہی ہے ۔اس سیلاب زدہ علاقے کی وجہ سے کسانوں کو سالانہ تقریباً 3500 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
ان میں وہ ندیاں بھی شامل ہیں جو نیپال سے براہ راست بہار میں داخل ہوتے ہیں۔ تقریباً 300 مقامات سے ندیوں کاپانی شمالی بہار میں داخل ہوتے ہیں، جو پھر چھوٹی چھوٹی ندیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی نہریں اور ندیاں بھی بڑے علاقوں میں پانی پھیلا رہی ہیں۔اس کے علاوہ،چانروں، سائفنوں، پلوں کے نیچے کے علاقوں، سلائس گیٹس، اور نکاسی آب کی نالیوں میں رکاوٹیں بھی کئی علاقوں میں پانی کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
حال ہی میں جب ریاستی حکومت نے اس مسئلے کا جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ گنے کی پیداوار کرنے والے تقریباً 42 فیصد علاقے اس وقت غیر کاشت شدہ ہیں۔ تقریباً 2.57 لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی بھرنے کا سامنا ہے، جس سے کاشتکاروں کو ان کی خواہش کے باوجود گنے کی کاشت سے نہیں ہورہا ہے۔ اس طرح گنے کے کاشتکاروں کو دوہری پریشانی کا سامنا ہے۔ ایک طرف وہ گنے کی کاشت نہیں کر پا رہے جس سے مالی نقصان ہو رہا ہے۔ دوسری طرف ان کے کھیت ناقابل استعمال ہوتے جا رہے ہیں۔
جب یہ مسئلہ ریاستی حکومت کی توجہ میں آیا تو محکمہ آبی وسائل اور شوگر کین انڈسٹری ڈپارٹمنٹ کی سطح پر ایک جامع جائزہ لیا گیا۔ محکمہ آبی وسائل کے پرنسپل سکریٹری سنتوش کمار مل کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں اس علاقے کو آبی ذخائر سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر اس 42 فیصد زیر آب علاقے کو مکمل طور پر آبی ذخائر سے آزاد کر دیا جائے۔ حکومت نے ایسیندیوں اور نالوں کی دوبارہ نشاندہی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو گنے کے علاقے کو زیر آب کر رہے ہیں۔ اس کے بعد انہیں بچانے کے لیے ایکشن پلان بنایا جائے گا۔
کئی دریاؤں میں پشتے نہ ہونے کی وجہ سے ان کا پانی سیلاب کے دوران پھیل جاتا ہے اور چوروں میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چوروں سے نکلنے والے نالوں، دھاروں اور چھوٹی ندیوں میں گاد جمع ہونے، ان پر تجاوزات اور نہروں پر بنائے گئے ڈھانچے سے نکاسی کا ہموار نہ ہونے کی وجہ سے بڑے علاقے میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر، چمپارن میں دریائے مسان اور دریائے سکرہنا پر کوئی پشتے نہیں ہیں۔ اسی طرح اور بھی بہت سے چھوٹے دریا ہیں جو بغیر پشتے کے ہیں۔ گوپال گنج، سمستی پور، بیگوسرائے اضلاع میں نالے، ندیاں اور چھوٹی ندیاں گاد کی وجہ سے اپنے آس پاس کے ایک بڑے علاقے میں پانی پھیلا رہی ہیں۔
بہار
جامعہ رحمانی، خانقاہ مونگیر کے تمام شعبہ جات میں داخلہ جاری
(پی این این)
مونگیر :جامعہ رحمانی، خانقاہ مونگیر، بہارملک ہندوستان کا منفرد، ممتاز دینی، تعلیمی اور تربیتی ادارہ ہے، جہاں ابتدائی درجات سے لے کر دورہ حدیث اور تخصصات تک کی تعلیم کا معیاری نظم ہے ۔ جامعہ رحمانی کے سرپرست امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی ہدایت پر تعلیمی مشاورتی مجلس نے نئے تعلیمی سال 1446-1447ھ کے لیے تمام شعبوں میں داخلے کا اعلان کیا ہے۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی جامعہ رحمانی کے تمام درجات، (درجہ حفظ، درجات عربی از درجہ ششم اردو تا دورہ حدیث)، دار الحکمت (حفظ و عربی)، معہد الریادۃ (لیڈرشپ اکیڈمی)، شعبہ تخصص فی الافتاء، اور شعبہ صحافت میں داخلے کے لئے اس سائٹ rahmanimission.info پر آن لائن فارم بھرکر اپنا رجسٹریشن کروا لیں ۔ داخلہ کی تمام کاروائی امتحان میں کامیابی کی بنیاد پر ہوگا تخصصات کے طلبہ کو وظیفہ بھی دیا جائے گا ۔ ان شاءاللہ
درجہ حفظ تا دورہ حدیث اور دار الحکمت (حفظ و عربی) میں فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 28 رمضان المبارک 1446ھ ہے، شعبہ تخصص فی الافتاء کے لیے 20 شوال المکرم 1446ھ جبکہ معہد الریادۃ (لیڈرشپ اکیڈمی) اور شعبہ صحافت کے لیے 15 شوال المکرم 1446ھ مقرر کی گئی ہے۔
مطلوبہ تمام درجات میں داخلہ کیلئے امتحان تحریری و تقریری ہوگا، تخصص فی الافتاء اور معہد الریادۃ میں داخلہ کیلئے فقہ، حدیث، عربی ادب اور ترجمہ قرآن وغیرہ کا امتحان لیا جائے گا البتہ معہد الریادۃ میں ابتدائی انگریزی کا امتحان بھی ہوگا۔ شعبہ صحافت میں داخلہ کیلئے اردو زبان و ادب کے بنیادی اصول و قواعد اور مضمون نگاری کا امتحان ہوگا۔
مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے درج ذیل نمبرات پر رابطہ کریں۔مولانا عبد الاحد رحمانی ازہری: 081022 17957،مولانا محمد صبا حیدر ندوی : 7039605711، مفتی نشاط احمد ندوی ، 9608078879 ، مفتی جنید احمد قاسمی ، 7004543729، فضل رحمٰں رحمانی : 9971224394
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار9 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
بہار3 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
