Connect with us

دلی این سی آر

کوئی بھی شخص علاج سےنہ رہے محروم،دہلی سرکار کا یہی خواب: ریکھا گپتا

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا ہے کہ حکومت خواتین کی صحت اور بہبود کے سلسلے میں ہمیشہ کمر بستہ رہتی ہے اور اس سمت میں مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔ ریکھا گپتا نے ڈیفنس کالونی میں خواتین کے لیے وقف کینسر اسپتال اپولو ایتھینا کا افتتاح کرنے کے بعد کہا کہ خواتین کے لیے کینسر کی نگہداشت بہت ہی حساس مسئلہ ہے اور میں یہ دیکھ کر بہت مطمئن ہوں کہ ہم خواتین کو حقیقی طور پر بااختیار بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اپولو ایتھینا کینسر کی نگہداشت میں سنگ میل ثابت ہوگا جو ہر عورت کے لیے عزت اور تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایشیا کا پہلا ویمن کینسر سنٹر ہے جس سے پورے ملک کی خواتین مستفید ہوں گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا وژن بااختیار خواتین بااختیار خاندان ہے۔ حکومت خواتین کی صحت اور بہبود کے لیے ہمہ وقت چوکس ہے۔ حکومت پہلے ہی اس سمت میں کام کر رہی ہے اور مستقبل میں بھی ایسا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت صحت کے نئے ادارے قائم کیے جائیں تاکہ پورے ہندوستان میں کوئی بھی شخص علاج سے محروم نہ رہے۔
اس موقع پر بنسوری سوراج نے کہا کہ ہندوستان میں کینسر کا مرض خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے اور اس لئے حکومت ہند نے ملک بھر میں اس کی روک تھام، جلد تشخیص، علاج اور مریضوں کی نگہداشت کو بہتر بنانے کے لیے مضبوط پالیسیاں اور اسٹریٹجک مداخلت شروع کی ہے۔ ہماری حکومت خواتین کی صحت کو بھی مسلسل ترجیح دے رہی ہے۔ اپولو اس انقلابی اقدام کے ذریعے خواتین پر مرکوز کینسر کی نگہداشت میں عالمی معیار قائم کرکے قومی صحت مشن کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔
دریں اثناوزیر اعظم مودی کے یوم پیدائش پر دہلی کے 50 ہزار بزرگ شہریوں کو پنشن اسکیم سے منسلک کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے اتوار کو اعلان کردہ تین فلاحی اسکیموں کے بارے میں مزید معلومات دیں۔ اہل پنشنرز کو ای-ڈسٹرکٹ پورٹل کے ذریعے اپنی درخواستیں جمع کرنی ہوں گی۔ وزیر اعلیٰ نے تمام اہل بزرگ شہریوں اور ان کے اہل خانہ سے اپیل کی کہ وہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے فوری طور پر درخواست دیں کیونکہ استفادہ کنندگان کا انتخاب پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ریکھا گپتا نے یہ بھی بتایا کہ رواں مالی سال میں اس اسکیم کے لیے تقریباً 149 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا، “50,000 نئی پنشن سے بہت سے خاندانوں کو مالی ریلیف ملے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ بزرگ شہری عزت اور وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔” انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ اگر مستقبل میں مستفید ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور اضافی فنڈز کی ضرورت پڑتی ہے تو حکومت بغیر کسی تاخیر کے اضافی بجٹ میں معاونت فراہم کرے گی۔ مارچ میں اپنی بجٹ تقریر میں وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ 60-69 سال کے بزرگ شہریوں کے لیے ماہانہ امداد 2,000 روپے سے بڑھا کر 2,500 روپے کی جا رہی ہے اور 70 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو یہ امداد 2,500 روپے سے بڑھا کر 3,000 روپے تک دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ امیت شاہ مختلف معذور بچوں کے لیے 10 نئے ‘وسائل مراکز’ بھی شروع کریں گے، جن سے تقریباً 12,500 بچے مستفید ہوں گے۔ یہ مراکز طبی، تعلیمی اور مشاورتی خدمات کو مربوط کریں گے، بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کو یقینی بنائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، “یہ اقدام صرف اسکول میں داخلے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ہر بچے کے لیے وقار، بااختیار بنانے اور مساوی مواقع کے بارے میں ہے۔ ہمارا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی بچہ طبی یا سماجی ضروریات کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائے۔”
چیف منسٹر آفس (سی ایم او) کے مطابق، ہر سنٹر چھ ماہرین کی ٹیم کے ساتھ ایک سروس سنٹر کے طور پر کام کرے گا، جس میں ایک سپیچ تھراپسٹ، فزیو تھراپسٹ، آکوپیشنل تھراپسٹ، اور ایک رویے کے مشیر شامل ہیں۔ یہ ٹیمیں بچوں کے سیکھنے اور روزمرہ کی سرگرمیوں میں مدد کے لیے ذاتی نگہداشت فراہم کریں گی۔گپتا نے زور دے کر کہا کہ ان خدمات کا تعلیمی کامیابیوں اور ذہنی صحت دونوں پر براہ راست اثر پڑے گا۔

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ کے زیر اہتمام پہلا قرۃ العین حیدر یادگاری خطبے کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام قرۃ العین حیدر سے منسوب پہلے یادگاری خطبے کا انعقاد کیا گیا۔ پہلا خطبہ ہونے کے ساتھ اس کو یادگار بنانے میں دو اہم پہلو نمایاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ خود وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف نے یہ خطبہ دیا، جو کہ کئی زبانوں اور علوم و فنون کے علاوہ صوفی اور بھکتی تحریکات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اس خطبے کی دوسری اہمیت یہ تھی کہ اس کا عنوان ’’رومی اور کبیر: ایک تقابلی مطالعہ‘‘ تھا۔
دانشوروں اور اسکالرز کی کہکشاں کو خطاب کرتے ہوئے پروفیسر مظہر آصف نے کہا کہ صوفیوں اور سنتوں کی مشترک شناخت دنیابیزاری، انسانیت اور محبت ہے۔ چنانچہ رومی اور کبیر کے درمیان بظاہر بعدالمشرقین کے باوجود گہری مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ رومی کا تعلق ایک تہذیب یافتہ، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ماحول سے ہے، جب کہ اس کے برعکس کبیر کا رشتہ ایک ان پڑھ، غیرمتمدن اور دیہی زندگی سے ہے۔ لیکن دونوں کا وجدان، الوہی انوار سے وابستگی، حیات و کائنات سے متعلق درویشانہ اور قلندرانہ رویہ، نفسانی خواہشات، انا، تکبر اور دنیوی آلائشوں سے بیزاری، رومی اور کبیر کو ایک ہی منبع نور سے منسلک کردیتی ہے۔
اس یادگاری خطبے کی شان و شوکت یوں بھی فزوں تر ہوجاتی ہے کہ اس کی صدارت کے فرائض رجسٹرار جامعہ ملیہ اسلامیہ اور بین الاقوامی تعلقات پر بسیط نظر رکھنے والے پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے انجام دیے۔ اس حوالے سے ان کی صدارت کی معنی خیزی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کہ رومی اور کبیر بھی دراصل دو تہذیبوں اور دو اقوام کے مابین نقطۂ اتصال ہی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے صدارتی کلمات میں پروفیسر مظہر آصف کی عالمانہ بصیرتوں کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ رومی اور کبیر دونوں کے یہاں امن، محبت اور اعلیٰ روحانی اقدار سے وابستگی اپنی انتہا پر ہے۔ رومی اور کبیر دراصل انانیت اور نفسانی خواہشات کو ختم کردینے کا نام ہیں۔
اس باوقار جلسے کو خطاب کرتے ہوئے مہمان اعزازی اور ڈین فیکلٹی برائے انسانی علوم و السنہ پروفیسر اقتدار محمد خاں نے کہا کہ پروفیسر مظہر آصف کا قرآن سے گہرا شغف ان کے والد کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ ان کی دلچسپیوں کا دائرہ جتنی زبانوں اور علوم و فنون تک پھیلا ہوا ہے، ایسی شخصیات بہت کم ہی ہوتی ہیں۔ آج کے دور میں رومی اور کبیر کی تعلیمات کا آموختہ بہت ضروری ہے۔
استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے پریم چند آکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر کے اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ اس سینٹر کو وائس چانسلر اور رجسٹرار کا بے پایاں التفات حاصل ہے اور انھیں کی سرپرستی کے سبب ہمیں اس سال دو یادگاری خطبات کی داغ بیل ڈالنے کا موقع ملا۔ انھوں نے مہمانان کا خیرمقدم کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس سینٹر کے شایانِ شان ایک آڈیٹوریم کی سخت ضرورت ہے۔
اس موقع پر پروفیسر شہزاد انجم نے وائس چانسلر کی خدمت میں قرۃ العین حیدر کا شہرۂ آفاق ناول ’’آگ کا دریا‘‘ ہدیہ کرتے ہوئے ان کی شال پوشی کی۔ ڈاکٹر سید محمد عامر نے رجسٹرار کو یہ تحفے نذر کیے۔ سینٹر سے وابستہ اسنِگدھا رائے نے ڈین فیکلٹی برائے انسانی علوم و السنہ کا تحائف سے استقبال کیا۔ قرۃ العین حیدر یادگاری خطبے کی مناسبت سے ڈاکٹر ایس ایم عامر نے قرۃ العین حیدر کا ایک مختصر اور جامع تعارف پیش کیا، جب کہ مہمان مقرر پروفیسر مظہر آصف کے مفصل تعارف سے اسنِگدھا رائے نے حاضرین کو روشناس کرایا۔
اس موقر خطبے کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے شعبۂ اردو سے وابستہ ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر خالدمبشر نے کہا کہ آج کا دن پریم چند آرکائیوز کی تاریخ میں نہایت یادگار ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سربراہِ اعلیٰ نے بہ نفس نفیس یہ باوقار اور علمی خطبہ ارشاد فرمایا۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر شاہنواز فیاض کی تلاوت اور اختتام شردھا شنکر کے اظہارِ تشکر پر ہوا۔ اس موقع پر پروفیسر خالدمحمود، پروفیسر تسنیم فاطمہ، پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر حبیب اللہ، پروفیسر احمد محفوظ، ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی اور ڈاکٹر شکیل اختر کے علاوہ بڑی تعداد میں جامعہ کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی میں گرمی نے توڑا50سال کا ریکارڈ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دارالحکومت دہلی میں گرمی نے لوگوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا ہے۔ مارچ کے اوائل میں غیر معمولی طور پر گرم موسم کی وجہ سےزیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو پچھلے 50 سالوں میں مہینے کے پہلے ہفتے میں ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اتوار کو بھی گرمی سے کوئی مہلت نہیں ملے گی۔محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے ایک اہلکار نے کہا کہ گزشتہ 50 سالوں کے موسمی اعداد و شمار کی بنیاد پر، شہر کے بیس ویدر اسٹیشن صفدرجنگ میں مارچ کے پہلے سات دنوں کے دوران ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت 34.8 ڈگری سیلسیس تھا، جو 5 مارچ 1999 کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔آئی ایم ڈی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہفتہ کو پارہ 35.7 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کے ساتھ ہی یہ گزشتہ 50 سالوں میں مارچ کے پہلے ہفتے کا گرم ترین دن بن گیا۔ آئی ایم ڈی کے 2011 کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مارچ کے پہلے ہفتے کے دوران ریکارڈ کیا گیا دوسرا سب سے زیادہ درجہ حرارت 2016 میں تھا، جب 4 مارچ کو پارہ 33.6 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا تھا۔
دریں اثنا، ہفتے کے روز شہر کی ہوا کا معیار نمایاں طور پر بگڑ گیا۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے مطابق، 24 گھنٹے کا اوسط ہوا کے معیار کا انڈیکس (AQI) شام 4 بجے۔ 246 (غریب)، پچھلے دن اسی وقت 170 (اعتدال پسند) کے مقابلے میں۔ یہ کمی مسلسل تین دنوں کے اعتدال پسند ہوا کے معیار کے بعد آئی ہے۔ ایئر کوالٹی ارلی وارننگ سسٹم کی پیشین گوئیوں کے مطابق، اگلے دو دنوں میں ہوا کا معیارعتدال پسند زمرے میں بہتر ہونے کی امید ہے، لیکن اس میں دوبارہ کمی واقع ہو سکتی ہے۔ CPCB کی درجہ بندی کے مطابق، صفر اور 50 کے درمیان AQI کو اچھا، 51-100 اطمینان بخش، 101-200اعتدال پسند، 201-300 خراب، 301-400 انتہائی ناقص، اور 401-500 کو کبھی بھی سمجھا جاتا ہے۔ہفتہ کو شہر کے اہم موسمی مرکز صفدرجنگ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.7 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، معمول سے 7.3 ڈگری زیادہ، اور کم از کم درجہ حرارت 17.4 ڈگری سیلسیس، معمول سے 3.4 ڈگری زیادہ۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق ماہ کے صرف ایک ہفتے کے اندر اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ اور اوسط کم سے کم درجہ حرارت 16.3 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ 2022 میں مارچ کا اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33.4 ڈگری سینٹی گریڈ تھا جب کہ اوسط درجہ حرارت 16.7 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ مارچ میں دہلی میں اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.6 ڈگری سیلسیس ہے جو 31 مارچ 1945 کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔

Continue Reading

دلی این سی آر

ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت عالم اسلام کا عظیم سانحہ:مفتی محمد مکرم احمد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ اخیر عشرہ میں شب بیداری کریں اور شب قدر کو طاق راتوں میں تلاش کریں اور اعتکاف بھی کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اخیر عشرہ میں خود بھی شب بیداری فرماتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس کی تاکید فرماتے تھے انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ اور صدقات سے مستحق طلبہ کی ضرور مدد کریں جو عصری علوم حاصل کر رہے ہیں لوگ ہم سے معلوم کرتے ہیں کہ کیا ہم زکوٰۃ کی رقم اسکول و کالج میں پڑھنے والے مسلم مستحق طلبہ و طالبات کو دے سکتے ہیں۔ مفتی مکرم نے کہا کہ عصری علوم کے طلبہ کے تعلیمی مصارف بہت زیادہ ہوتے ہیں لہٰذا ان کی زکوٰۃ سے مدد کر سکتے ہیں اس میں بھی ثواب ہے۔
مفتی مکرم نے مشرق وسطی میں امن کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیل و امریکی حملوں کی شدید مذمت کی جن کے باعث اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت ہوئی انہوں نے کہا سپریم لیڈر کی ہلاکت عالم اسلام کا ایک عظیم سانحہ ہے ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری تھے اور 2مارچ بھی مذاکرات کے لیے مقرر تھی لیکن 28 فروری کو اچانک بغیر اعلان جنگ کے بزدلانہ طور پر سپریم لیڈر پر حملہ کر دیا گیا جس میں ان کے ساتھ کچھ اعلیٰ افسران بھی ہلاک ہو گئے اور سپریم لیڈر کے اہل خانہ بھی ہلاک ہو گئے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اسرائیل نے حملہ کر کے اقوام متحدہ کے اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی ہے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو اس پر ایکشن لینا چاہیے اسرائیل نے ایک ایلیمنٹری اسکول (پرائمری اسکول) پر حملہ کر دیا جس میں 160 طالبات کی ہلاکت ہو گئی اور 90کے قریب بچے زخمی ہیں اورحالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں ہم عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ سنجیدہ عملی اقدامات کر کے حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایا جائے نیز مذاکرات سے مسائل کو حل کیا جائے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network