دلی این سی آر
اردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
(پی این این)
نئی دہلی:اردو اکادمی، دہلی کے زیر اہتمام پرائمری سے لے کر سینئر سکنڈری زمرے تک کے طلبہ کے لیے مضمون نویسی کا ایک شاندار مقابلہ آج صبح دس بجے اکادمی کے دفتر میں منعقد ہوا۔ مقابلے میں ہر زمرے کے طلبہ کے لیے الگ الگ موضوعات دیے گئے تھے اور شرکاء کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایک سو پچاس الفاظ پر مشتمل مضمون تحریر کریں، جس کے لیے ڈیڑھ گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ تعلیمی مقابلے کا یہ برسہا برس سے بڑے پیمانے پر منعقد کیا جا رہا ہے، جن میں دہلی کے درجنوں سرکاری اور غیرسرکاری اسکولوں کے بچے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد قیمتی انعامات سے نوازے جاتے ہیں۔
ان مقابلوں میں حسبِ روایت اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو خصوصی انعامات عطا کیے جاتے ہیں، جبکہ حوصلہ افزائی کے لیے دیگر نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو بھی انعامات پیش کیے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ سب سے زیادہ شرکت کرنے والے اسکول کو ’’بہترین شرکت کرنے والا اسکول‘‘(Best Participating School) اور سب سے زیادہ انعامات حاصل کرنے والے اسکول کو ’’بہترین کارکردگی کا حامل اسکول‘‘( Best Performing School) کے اعزاز کے ساتھ ٹرافی اور نقد انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ اس بار بھی اکادمی کے پلیٹ فارم پر مختلف النوع مقابلے جیسے تقریر، فی البدیہہ تقریر، بیت بازی، اردو ڈراما، غزل سرائی، کوئز، مضمون نویسی، خطوط نویسی، خوشخطی، امنگ فی الفورپینٹنگ، گروپ سانگ (پرائمری زمرہ) اور بلند خوانی (پرائمری زمرہ) کا اہتمام کیا گیا۔
آج کے اس دور میں جب کہ عمومی طور پر اردو زبان کے تئیں دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے، ایسے حالات میں دہلی کے اسکولوں کے بچوں میں اردو کے مطالعے اور اس کے عملی استعمال کا رجحان روز بروز بڑھتا جارہا ہے، جو ایک خوش آئند ہے۔ اردو اکادمی، دہلی زبان، ادب اور ثقافت کے فروغ کے لیے ہمہ وقت سرگرمِ عمل ہے۔ اکادمی میں اردو سیکھنے کے لیے مختلف مدتی اور قلیل مدتی کورسز کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں اور دہلی کے گوشے گوشے میں قائم اردو خواندگی مراکز میں ہزاروں طلبہ اردو سیکھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ طلبہ جو اسکولوں میں باضابطہ طور پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کے لیے بھی اکادمی کے زیر انتظام مختلف قسم کے مقابلہ جاتی پروگرام اور تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان مقابلوں میں طلبہ جس جوش و خروش اور والہانہ جذبے کے ساتھ شرکت کر کے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں بلکہ اپنے والدین اور ادارے کا نام بھی روشن کر رہے ہیں، وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ مضمون نویسی جو ایک مشکل فن سمجھا جاتا ہے، اس میں بچوں کی شرکت اور ان کی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو اکادمی کی یہ کاوشیں بارآور ثابت ہو رہی ہیں۔ اس بار ستر سے زیادہ اسکولوں کے 221 طلبہ نے مضمون نویسی اور خطوط نویسی کے مقابلے میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جبکہ دوپہر کے بعد 294 طلبہ نے خوشخطی کے مقابلے میں اپنے دلکش و جاذبِ نظر رسم الخط کو امتحانی پرچوں پر اتارا۔
ہر زمرے میں کتنے طلبہ پوزیشن حاصل کریں گے اور کتنے حوصلہ افزائی کے انعامات کے مستحق قرار پائیں گے، اس کا فیصلہ نتائج کے باضابطہ اعلان کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ البتہ یہ امر خوش آئند ہے کہ ان مقابلوں میں بچوں کی بھرپور دلچسپی کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی رہنمائی اور کارکردگی بھی نمایاں طور پر نظر آ رہی ہے، جو مستقبل میں اردو زبان و ادب کے فروغ کی روشن ضمانت
دلی این سی آر
بہار میں ماب لنچنگ کے بڑھتے واقعات پر مفتی محمد مکرم کا اظہار تشویش
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ نوجوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ کریں اور کم عمر بچوں کو موبائل کے زیادہ استعمال سے روکنے کی کوشش کریں تاکہ نوجوان گمراہ نہ ہو ں.
انہوں نے بہار میں روز بروز ہجومی تشدد اور لنچنگ کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ بہار میں موجودہ حکومت قائم ہونے کے بعد سے ایک مخصوص فرقے کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے یہ تشویش کی بات ہے نالندہ کے اطہر حسین کو نوادہ ضلع میں شدید زدوکوب کیا گیا جس کے بعد موت ہو گئی ۔ مظفر پور ضلع میں ایک معمر شخص پر ہجوم کے ذریعے حملہ کرنے کی کوشش کی گئی اور سپول ضلع کے باشندہ مرشد عالم کو بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر زخمی کر دیا گیا ،مذہب اور نفرت کی بنیاد پر سنگین جرم کرنے والوں پر جلد از جلد کاروائی ہونی چاہیے۔بہار میں لنچنگ کا کوئی واقعہ رونما نہ ہواس کے لیے حکومت کو سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔
مفتی مکرم نے مدھیہ پردیش کے ریوا شہر سے متصل چورر ہٹا تھا نہ علاقہ کے اموا نامی گاؤں میں سماج دشمن عناصر کے ذریعے رات کی تاریکی میں ایک قدیم درگاہ کو مسمار کیے جانے کی شدید مذمت کی یہ درگاہ صدیوں پرانی بتائی گئی ہے اس سے متصل قبرستان میں کئی قبروں کے نوشتہ جات کو توڑنے اور قبروں کی توڑ پھول پر بھی انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ مذکورہ درگاہ کو مسمار کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے اور جو لوگ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برباد کرنا چاہتے ہیں ان کو بخشا نہیں جانا چاہیے۔
مفتی مکرم نے مسجد درگاہ فیض الٰہی احاطہ میں ایم سی ڈی کی طرف سے انہدامی کارروائی کی شدید مذمت کی انہوں نے کہا ہائی کورٹ میں مقدمہ کی سماعت چل رہی ہے تو پھر رات کے 2بجے اتنی جلدی کارروائی نہیں ہونی چاہئے تھی یہ سب اوقاف کی جگہ ہے۔
دلی این سی آر
آتشی کے بیان پر دہلی اسمبلی میں ہنگامہ، سکھ گرووں کی توہین کا الزام
(پی این این)
نئی دہلی:اپوزیشن لیڈر آتشی کے بیان پر دہلی اسمبلی میں ہنگامہ بڑھ گیا ہے۔ بی جے پی کے ممبران اسمبلی نے آتشی سکھ گرو کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے اسمبلی میں ہنگامہ کیا۔ کرنا کی ماں کے معاملے پر ارکان نے اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی جس کے بعد کارروائی ملتوی کردی گئی۔ اسمبلی کے اسپیکر نے آتشی کو ایک گھنٹے کے اندر ایوان میں واپس آنے اور اپنا موقف پیش کرنے کو کہا۔ بعد ازاں ہنگامہ آرائی جاری رہنے پر کارروائی کل تک ملتوی کر دی گئی۔
اسمبلی میں وزیر منجندر سنگھ سرسا، ایم ایل اے ارویندر سنگھ لولی اور ایم ایل اے ترویندر سنگھ ماروا نے آتشی پر گرو تیغ بہادر کی توہین کا الزام لگایا۔ کپل مشرا نے کہا کہ آتشی نے جو کیا وہ شرمناک تھا اور انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ ایم ایل اے کنویں میں گھس گئے اور ہنگامہ کرنے لگے۔ انہوں نے پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا، ’’ہم گرووں کی توہین برداشت نہیں کریں گے۔‘‘
اسمبلی میں کیجریوال کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ ایوان کی کارروائی آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کرتے ہوئے اسپیکر وجیندر گپتا نے کہا کہ آتشی کو ایک گھنٹے کے اندر ایوان میں واپس آنا چاہیے تاکہ وہ اپنا موقف پیش کریں۔ اس کے بعد اس معاملے پر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ جب کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو وجیندر گپتا نے کہا کہ موقع ملنے کے باوجود آتشی نے کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ ایم ایل اے مکیش اہلوت نے بتایا کہ وہ گوا گئی تھیں۔ کل اس نے آلودگی پر بحث کا مطالبہ کیا تھا اور آج وہ گوا گئی تھیں۔ حکمران جماعت کے ارکان پھر کنویں میں گھس گئے۔ ہنگامہ آرائی جاری رہنے پر کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی گئی۔ دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے سرمائی اجلاس کے دوسرے دن منگل کو کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور رکن آتشی نے میڈیا کو گمراہ کیا ہے اور ایوان میں گمراہ کن بیانات دیے ہیں۔ ان کا یہ بیان کہ ’ممبران کو آج اسمبلی سے صرف اس لیے نکال دیا گیا کہ انہوں نے ماسک نہیں پہنے ہوئے تھے‘ مکمل طور پر غلط ہے اور ایوان کی اصل کارروائی کی عکاسی نہیں کرتا۔ چار ایم ایل ایز (سنجیو جھا، سوم دت، کلدیپ کمار اور جرنیل سنگھ) کو ایوان سے معطل کرنے کی واحد وجہ کارروائی میں جان بوجھ کر خلل ڈالنا تھا۔
اس کارروائی کا ماسک پہننے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ کسی بھی رکن کو کسی بھی سطح پر صرف ماسک پہننے پر نکالا یا معطل نہیں کیا گیا۔ اس طرح کے دعوے حقائق کی سراسر غلط بیانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ایوان کے وقار، نظم و ضبط اور اختیار کو برقرار رکھنے اور دہلی قانون ساز اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور طرز عمل کے مکمل مطابق کیا گیا ہے۔یہ دیکھتے ہوئے کہ اس طرز عمل سے ایوان کی توہین ہوتی ہے، اس معاملے کو قاعدہ 82 کے تحت استحقاق کی کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔ قاعدہ 82 کے مطابق، سپیکر استحقاق یا توہین کے کسی بھی سوال کو تحقیقات، جانچ یا رپورٹ کے لیے کمیٹی آف استحقاق کو بھیج سکتا ہے اور ایوان کو اس سے آگاہ کر سکتا ہے۔ یہ حوالہ اصول کی روح اور دائرہ کار میں بنایا گیا ہے۔یہ قابل ذکر ہے کہ رول 221 کے تحت، استحقاق کمیٹی کو معاملے سے متعلق شواہد اور حالات کی روشنی میں جانچ کرنے کا اختیار ہے، آیا اس میں استحقاق کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا ایوان کی توہین، خلاف ورزی کی نوعیت اور اس سے منسلک حالات، اور مناسب سفارشات پیش کرنا۔مزید برآں، یہ بات ریکارڈ پر رکھنا ضروری ہے کہ قائد حزب اختلاف اور رکن آتشی نے’دہلی میں آلودگی‘ کے موضوع پر بحث شروع کرنے کی کوشش کی حالانکہ یہ معاملہ پہلے ہی 7 جنوری 2026 کو بحث کے ایجنڈے میں درج تھا۔ اسپیکر نے واضح کیا تھا کہ یہ معاملہ مقررہ وقت پر اٹھایا جائے گا۔
اس کے باوجود اس معاملے کو طے شدہ کارروائی سے پہلے اٹھانے کی کوشش کو ایوان کی منظم کارروائی میں خلل ڈالنے اور طے شدہ پروگرام میں خلل ڈالنے کی دانستہ کوشش سمجھا گیا۔ سپیکر کی طرف سے کئے گئے تمام اقدامات ایوان کے آئین، قواعد و ضوابط اور روایات کے مطابق ہیں اور یہ ایوان کی سجاوٹ اور وقار کو برقرار رکھنے کے مقصد سے اٹھائے گئے ہیں۔
دلی این سی آر
مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی قابل مذمت،شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی کرے حکومت :ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمدنے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے پرزور اپیل کی کہ نوجوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کی طرف خصوصی توجہ دیں نوجوان ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہیں ان کی نگہداشت میں لا پرواہی شدید نقصان کا باعث ہوگی۔
انہوں نے کچھ لیڈروں اور تنظیموں کی طرف سے مسلسل مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کی اور ان کے خلاف سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ۔غازی آباد میں اکثریتی فرقہ کے درمیان تلواریں تقسیم کیے جانے کی بھی انہوں نے مذمت کی اور کہا ہمیں امید ہے کہ غیر قانونی طور پر تلوار یں تقسیم کرنے والوں پر جلد کارروائی ہوگی اور امن برباد کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ غازی آباد کے ڈاسنہ میں یتی نر سنگھا نند سرسوتی نے اپنی عادت کے مطابق ایک بار پھر اکثریتی فرقہ کو اکساتے ہوئے آئی ایس آئی ایس جیسی تنظیم بنانے کا مطالبہ کیا۔ یتی نرسنگھانند نے کہا کہ ہندوؤں کو اب خود کش دستے بنانے چاہئیں ۔ مفتی مکرم نے کہا کہ بھارت میں ہر فرقہ کے لوگ یکجہتی اور محبت کے ساتھ رہتے آئے ہیں اور آگے بھی سب مل جل کر رہنا چاہتے ہیں فرقہ پرستی پھیلانے والے اور اشتعال انگیزی کرنے والے بہت کم ہیں وہ کبھی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ بھارت کی گنگا جمنی تہذیب صدیوں پرانی ہے یہ ملک کی شان ہے۔
غزہ میں اسرائیلی فوج کے مسلسل حملوں اور جنگ بندی کے خلاف ورزی کے باوجود امن منصوبہ جلد دوسرے مرحلے میں داخل ہونے والا ہے مفتی مکرم نے کہا غزہ کی وزارت صحت میں شعبہ نگہداشت وفارمیسی کے ڈائریکٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ دواؤں اور طبی ساز و سامان کی کمی کے باعث دو لاکھ مریض اور 10 ہزار آپریشن متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ قابض اسرائیل اب بھی طبی امداد کی ترسیل روک رہا ہے مفتی مکرم نے یو این او اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ کے باشندوں پر ظلم و ستم کو بند کرایا جائے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی بند کرائی جائے۔
-
دلی این سی آر12 months agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر12 months agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر12 months agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
بہار8 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
