Connect with us

دلی این سی آر

دہلی میں بارش کے باعث کئی پروازیں متاثر

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :موسم نے ایک بار پھر دہلی والوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں بارش جاری ہے۔ کئی ایئرلائنز نے بارش کی وجہ سے پروازوں میں تاخیرہواہے جس کی وجہ سے مسافرپریشان ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یمنا کی پانی کی سطح بھی ایک بار پھر خطرے کے نشان کے قریب پہنچ گئی ہے۔
اسپائس جیٹ اور ایئر انڈیا جیسی بڑی ایئر لائنز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر مسافروں کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ایئر انڈیا نے کہا، “دہلی میں مسلسل بارش کی وجہ سے آج پروازیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ براہ کرم گھر سے نکلنے سے پہلے اپنی فلائٹ کی حالت چیک کریں اور ہوائی اڈے کے لیے اضافی وقت رکھیں۔”ساتھ ہی اسپائس جیٹ نے بھی ٹویٹ کیا، “دہلی میں خراب موسم کی وجہ سے پروازیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ مسافروں سے درخواست ہے کہ وہ اپنی پروازوں کی حالت پر نظر رکھیں۔”
محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق دہلی میں ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے۔ منگل کے لیے جاری کی گئی پیشن گوئی میں، جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، پنجاب، ہریانہ، دہلی اور شمالی ساحلی آندھرا پردیش میں درمیانے سے شدید بارش کے لیےاورنج ٹو ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ تاہم دہلی کے لیے موسلادھار بارش کا کوئی الرٹ نہیں ہے، لیکن ہلکی بارش اور بوندا باندی دن بھر جاری رہ سکتی ہے۔ نوئیڈا اور غازی آباد میں بھی ہلکی بارش متوقع ہے۔دہلی میں جمنا ندی کی پانی کی سطح خطرے کے نشان کے قریب پہنچ گئی ہے۔ پرانے جمنا پل کے قریب دریا کے پانی کی سطح تقریباً 205 میٹر دیکھی گئی جو کہ تشویشناک ہے۔ بارش اسی طرح جاری رہی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔دہلی میں جمنا ندی خطرے کے نشان کے قریب بہہ رہی ہے۔ دہلی میں جمنا ندی کی پانی کی سطح پرانے ریلوے پل پر 204.76 میٹر ریکارڈ کی گئی، جو 205.33 میٹر کے خطرے کے نشان سے تھوڑا نیچے ہے۔ ہریانہ میں ہتھینی کنڈ بیراج سے پانی چھوڑنے اور مسلسل بارش کی وجہ سے پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔ دہلی حکومت نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ وہاں کشتیاں تعینات ہیں۔دہلی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق این سی آر کے علاقوں میں بھی موسم خراب ہوگا۔ محکمہ موسمیات نے اگلے 3 گھنٹوں کے دوران خاص طور پر دہلی کے مختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ اس سے درجہ حرارت میں کمی کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اس ہفتے دہلی کے ساتھ ساتھ این سی آر کے علاقوں میں بھی بارش جاری رہے گی۔دہلی کے مختلف علاقوں میں اگلے تین گھنٹے تک شدید بارش کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے بارش دیکھی جا سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق؛ دہلی، جنوبی ہریانہ، مشرقی راجستھان اور شمالی گجرات کے کئی حصوں میں درمیانی سے بھاری بارش کا امکان ہے۔ تازہ ترین ریڈار امیج میں، دہلی کے مغربی حصوں اور ہریانہ کے ملحقہ اضلاع میں موسم کی سرگرمی دکھائی دے رہی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق قومی راجدھانی دہلی کے کچھ حصوں میں موسلادھار بارش دیکھی جا سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات نے کل بھی دہلی این سی آر کے مختلف حصوں میں ابر آلود موسم کی پیش گوئی کی ہے۔ دوپہر یا شام میں ایک یا دو بار ہلکی بارش یا گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے 28 اگست کو دہلی اور این سی آر کے علاقوں میں موسم کم و بیش ایک جیسا رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس دن ہلکی بارش یا بوندا باندی بھی ہو سکتی ہے۔ اس دن دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31 سے 33 ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ڈی نے 29 اور 30 اگست کو دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 سے 32 ڈگری سیلسیس رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات نے 29 اور 30 اگست کو دہلی کے ساتھ ساتھ این سی آر کے علاقوں میں بکھرے بادلوں کی نقل و حرکت کی پیش گوئی کی ہے۔ ان دونوں دنوں کے دوران دہلی این سی آر کے مختلف حصوں میں ہلکی بارش یا بوندا باندی ہو سکتی ہے۔ دہلی این سی آر کے کچھ حصوں میں 31 اگست اور 1 ستمبر کو گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے۔ اس ہفتے بھی ہوا صاف رہنے کا امکان ہے۔

دلی این سی آر

ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد کا عید الفطر پر مکمل انتظامات کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمدنے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے پرزور اپیل کی کہ شب قدر میں والہانہ طور پر عبادت کریں اور عید الفطر کی تیاریوں میں اسراف سے پرہیز کریں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھیں ۔ صدقہ فطر ہر مسلمان آزاد مالک نصاب پر عید کے دن صبح صادق ہوتے ہی واجب ہو جاتا ہے عمر بھر اس کا وقت ہے لیکن سنت یہ ہے کہ عید کی نماز سے پہلے دے دیا جائے۔ اس کی مقدار فی کس دو کلو 50 گرام گیہوں یا اس کا آٹا یا اس کی قیمت ہے اگر صدقہ فطر میں کھجور یا جو دینا چاہیں تو فی کس چار کلو 100 گرام دیا جائے جس قیمت کا گیہوں خود استعمال کرتے ہیں اس کے حساب سے صدقہ فطر دیا جائے۔ مسکین اور ضرورت مندوں کو تلاش کر کے دیں۔
مفتی مکرم نے دہلی کے اتم نگر علاقے میں ہولی کے دن تشدد کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ ایک غیر مسلم نوجوان کی موت واقع ہو گئی اس کا بھی ہمیں شدید افسوس ہے اور پسماندگان کے ساتھ ہمدردی کا ہم اظہار کرتے ہیں۔ ہولی کے دن چونکہ رنگ کھیلنے کے بعد شراب پینے کا رواج ہے حملہ آورنشے میں تھے یہ جھگڑا ہندو مسلم فرقہ کا نہیں تھا دو پڑسیوں کا تنازعہ تھا ترن نے باہر کے لوگوں کو بلا کر حملہ کر دیا اور دونوں طرف کے لوگ شدید زخمی ہوئے اگر باہر کے حملہ آور نہ ہوتے تو شاید یہ جھگڑا اتنا طول نہ پکڑتا پولیس نے کچھ اقلیتی فرقہ کے افراد کو گرفتار کیا ہے اور ایک مکان کو بھی بلڈوزر سے منہدم کیا ہے کچھ فرقہ پرست لیڈر ویڈیو بنا کر وائرل کر رہے ہیں اور عید الفطر پر بدامنی پھیلانے کا چیلنج کر رہے ہیں ان کے بیانات شدید قابل اعتراض اور غیر قانونی ہیں ان پر ایکشن ہونا چاہیے ۔ملزمان کو سزا ملے لیکن بلڈوزر گھر کے بچوں عورتوں پر ظلم ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے اور عید الفطر کے موقع پر مکمل انتظامات کیے جائیں تاکہ شر پسند کسی سازش میں کامیاب نہ ہو سکیں ۔جمعہ کی نماز کے بعد یوم القدس پروگرام ہوا جس میں قبلہ اول کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور صیہونی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ کے زیر اہتمام پہلا قرۃ العین حیدر یادگاری خطبے کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام قرۃ العین حیدر سے منسوب پہلے یادگاری خطبے کا انعقاد کیا گیا۔ پہلا خطبہ ہونے کے ساتھ اس کو یادگار بنانے میں دو اہم پہلو نمایاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ خود وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف نے یہ خطبہ دیا، جو کہ کئی زبانوں اور علوم و فنون کے علاوہ صوفی اور بھکتی تحریکات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اس خطبے کی دوسری اہمیت یہ تھی کہ اس کا عنوان ’’رومی اور کبیر: ایک تقابلی مطالعہ‘‘ تھا۔
دانشوروں اور اسکالرز کی کہکشاں کو خطاب کرتے ہوئے پروفیسر مظہر آصف نے کہا کہ صوفیوں اور سنتوں کی مشترک شناخت دنیابیزاری، انسانیت اور محبت ہے۔ چنانچہ رومی اور کبیر کے درمیان بظاہر بعدالمشرقین کے باوجود گہری مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ رومی کا تعلق ایک تہذیب یافتہ، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ماحول سے ہے، جب کہ اس کے برعکس کبیر کا رشتہ ایک ان پڑھ، غیرمتمدن اور دیہی زندگی سے ہے۔ لیکن دونوں کا وجدان، الوہی انوار سے وابستگی، حیات و کائنات سے متعلق درویشانہ اور قلندرانہ رویہ، نفسانی خواہشات، انا، تکبر اور دنیوی آلائشوں سے بیزاری، رومی اور کبیر کو ایک ہی منبع نور سے منسلک کردیتی ہے۔
اس یادگاری خطبے کی شان و شوکت یوں بھی فزوں تر ہوجاتی ہے کہ اس کی صدارت کے فرائض رجسٹرار جامعہ ملیہ اسلامیہ اور بین الاقوامی تعلقات پر بسیط نظر رکھنے والے پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے انجام دیے۔ اس حوالے سے ان کی صدارت کی معنی خیزی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کہ رومی اور کبیر بھی دراصل دو تہذیبوں اور دو اقوام کے مابین نقطۂ اتصال ہی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے صدارتی کلمات میں پروفیسر مظہر آصف کی عالمانہ بصیرتوں کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ رومی اور کبیر دونوں کے یہاں امن، محبت اور اعلیٰ روحانی اقدار سے وابستگی اپنی انتہا پر ہے۔ رومی اور کبیر دراصل انانیت اور نفسانی خواہشات کو ختم کردینے کا نام ہیں۔
اس باوقار جلسے کو خطاب کرتے ہوئے مہمان اعزازی اور ڈین فیکلٹی برائے انسانی علوم و السنہ پروفیسر اقتدار محمد خاں نے کہا کہ پروفیسر مظہر آصف کا قرآن سے گہرا شغف ان کے والد کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ ان کی دلچسپیوں کا دائرہ جتنی زبانوں اور علوم و فنون تک پھیلا ہوا ہے، ایسی شخصیات بہت کم ہی ہوتی ہیں۔ آج کے دور میں رومی اور کبیر کی تعلیمات کا آموختہ بہت ضروری ہے۔
استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے پریم چند آکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر کے اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ اس سینٹر کو وائس چانسلر اور رجسٹرار کا بے پایاں التفات حاصل ہے اور انھیں کی سرپرستی کے سبب ہمیں اس سال دو یادگاری خطبات کی داغ بیل ڈالنے کا موقع ملا۔ انھوں نے مہمانان کا خیرمقدم کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس سینٹر کے شایانِ شان ایک آڈیٹوریم کی سخت ضرورت ہے۔
اس موقع پر پروفیسر شہزاد انجم نے وائس چانسلر کی خدمت میں قرۃ العین حیدر کا شہرۂ آفاق ناول ’’آگ کا دریا‘‘ ہدیہ کرتے ہوئے ان کی شال پوشی کی۔ ڈاکٹر سید محمد عامر نے رجسٹرار کو یہ تحفے نذر کیے۔ سینٹر سے وابستہ اسنِگدھا رائے نے ڈین فیکلٹی برائے انسانی علوم و السنہ کا تحائف سے استقبال کیا۔ قرۃ العین حیدر یادگاری خطبے کی مناسبت سے ڈاکٹر ایس ایم عامر نے قرۃ العین حیدر کا ایک مختصر اور جامع تعارف پیش کیا، جب کہ مہمان مقرر پروفیسر مظہر آصف کے مفصل تعارف سے اسنِگدھا رائے نے حاضرین کو روشناس کرایا۔
اس موقر خطبے کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے شعبۂ اردو سے وابستہ ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر خالدمبشر نے کہا کہ آج کا دن پریم چند آرکائیوز کی تاریخ میں نہایت یادگار ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سربراہِ اعلیٰ نے بہ نفس نفیس یہ باوقار اور علمی خطبہ ارشاد فرمایا۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر شاہنواز فیاض کی تلاوت اور اختتام شردھا شنکر کے اظہارِ تشکر پر ہوا۔ اس موقع پر پروفیسر خالدمحمود، پروفیسر تسنیم فاطمہ، پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر حبیب اللہ، پروفیسر احمد محفوظ، ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی اور ڈاکٹر شکیل اختر کے علاوہ بڑی تعداد میں جامعہ کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی میں گرمی نے توڑا50سال کا ریکارڈ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دارالحکومت دہلی میں گرمی نے لوگوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا ہے۔ مارچ کے اوائل میں غیر معمولی طور پر گرم موسم کی وجہ سےزیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو پچھلے 50 سالوں میں مہینے کے پہلے ہفتے میں ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اتوار کو بھی گرمی سے کوئی مہلت نہیں ملے گی۔محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے ایک اہلکار نے کہا کہ گزشتہ 50 سالوں کے موسمی اعداد و شمار کی بنیاد پر، شہر کے بیس ویدر اسٹیشن صفدرجنگ میں مارچ کے پہلے سات دنوں کے دوران ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت 34.8 ڈگری سیلسیس تھا، جو 5 مارچ 1999 کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔آئی ایم ڈی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہفتہ کو پارہ 35.7 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کے ساتھ ہی یہ گزشتہ 50 سالوں میں مارچ کے پہلے ہفتے کا گرم ترین دن بن گیا۔ آئی ایم ڈی کے 2011 کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مارچ کے پہلے ہفتے کے دوران ریکارڈ کیا گیا دوسرا سب سے زیادہ درجہ حرارت 2016 میں تھا، جب 4 مارچ کو پارہ 33.6 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا تھا۔
دریں اثنا، ہفتے کے روز شہر کی ہوا کا معیار نمایاں طور پر بگڑ گیا۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے مطابق، 24 گھنٹے کا اوسط ہوا کے معیار کا انڈیکس (AQI) شام 4 بجے۔ 246 (غریب)، پچھلے دن اسی وقت 170 (اعتدال پسند) کے مقابلے میں۔ یہ کمی مسلسل تین دنوں کے اعتدال پسند ہوا کے معیار کے بعد آئی ہے۔ ایئر کوالٹی ارلی وارننگ سسٹم کی پیشین گوئیوں کے مطابق، اگلے دو دنوں میں ہوا کا معیارعتدال پسند زمرے میں بہتر ہونے کی امید ہے، لیکن اس میں دوبارہ کمی واقع ہو سکتی ہے۔ CPCB کی درجہ بندی کے مطابق، صفر اور 50 کے درمیان AQI کو اچھا، 51-100 اطمینان بخش، 101-200اعتدال پسند، 201-300 خراب، 301-400 انتہائی ناقص، اور 401-500 کو کبھی بھی سمجھا جاتا ہے۔ہفتہ کو شہر کے اہم موسمی مرکز صفدرجنگ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.7 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، معمول سے 7.3 ڈگری زیادہ، اور کم از کم درجہ حرارت 17.4 ڈگری سیلسیس، معمول سے 3.4 ڈگری زیادہ۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق ماہ کے صرف ایک ہفتے کے اندر اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ اور اوسط کم سے کم درجہ حرارت 16.3 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ 2022 میں مارچ کا اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33.4 ڈگری سینٹی گریڈ تھا جب کہ اوسط درجہ حرارت 16.7 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ مارچ میں دہلی میں اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.6 ڈگری سیلسیس ہے جو 31 مارچ 1945 کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network