Connect with us

دیش

پیوش گوئل نے آندھرا میں این آئی سی ڈی سی کی زیر قیادت صنعتی نوڈس کی پیشرفت کالیا جائزہ

Published

on

(پی این این)
چنئی:تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے گنٹور میں تمباکو بورڈ میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی تاکہ آندھرا پردیش میں مختلف صنعتی کوریڈورز کے تحت این آئی سی ڈی سی کی قیادت میں صنعتی نوڈز کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔جائزے کا مرکز ریاست کے تین اہم صنعتی نوڈز کی ترقی تھا ،جس میں چنئی-بنگلور صنعتی کوریڈور( سی بی آئی سی) کے تحت کرشناپٹنم صنعتی علاقہ، حیدرآباد-بنگلور صنعتی کوریڈور (ایچ بی آئی سی) کے تحت اورواکل صنعتی علاقہ اور وشاکھاپٹنم-چنئی صنعتی کوریڈور(وی سی آئی سی) کے تحت کوپارتھی صنعتی علاقہ شامل ہے۔گوئل نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ ہر صنعتی نوڈ کے اندر جدت پسندانہ ماحول قائم کرکے اہم سرمایہ کاروں اور اسٹارٹ اپس کو راغب کرنے پر توجہ دیں۔ انہوں نے ابتدائی مرحلے کے کاروباروں کوترقی دینے کے لیے مخصوص انکیوبیٹر قائم کرنے اور مضبوط اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر موصوف نے حکام کو ہدایت دی کہ ہر صنعتی نوڈ کے اندرایم ایس ایم ای ایز اور اسٹارٹ اپس کے لیے مخصوص زون مختص کیے جائیں، جہاں سبسڈی شدہ نرخوں کے ساتھ جدید ترین بنیادی ڈھانچوں اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے۔عالمی شراکت داری کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئےگوئل نے مخصوص ممالک کے لیے سرمایہ کاری کے اجلاس منعقد کرنے کی وکالت کی تاکہ ہدف شدہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔ انہوں نے منصوبوں کی پیش رفت کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے ایک مرکزی ڈیش بورڈ بنانے کا بھی مطالبہ کیا اور عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کو یقینی بنانے کے لیے جدید ترین جانچ اور کوالٹی کنٹرول کے طریقہ کار اپنانے پر زور دیا۔وزیر نے حکومت ہند کے عہد کو دوہراتے ہوئے کہا کہ آندھرا پردیش کو صنعتی عمدگی اور جدت کی علامت بنانے کے لیے ہم پر عزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ریاست جلد ہی ‘سورن آندھرا پردیش’ بن جائے گی — جو جامع اور پائیدار صنعتی ترقی کا روشن مینار ہوگی۔اس اجلاس میں گنتور سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر چندر شیکھر پمّاسانی، وزیر مملکت برائے دیہی ترقی و مواصلات ٹی جی بھرت، آندھرا پردیش حکومت کے وزیر صنعت و تجارت ڈاکٹر این یووراج، آندھرا پردیش حکومت کے سکریٹری صنعت راجات کمار سینی،این آئی سی ڈی سی کے سی ای او و منیجنگ ڈائریکٹر ابھیشکتھ کشور،اے پی آئی آئی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر، این آئی سی ڈی سی ، اے پی آئی سی ڈی سی اوردیگر متعلقہ اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دیش

بنگلہ دیش نے کی بھارت سے مزید ایندھن کی فراہمی کی درخواست

Published

on

(پی این این)
ڈھاکہ :بنگلہ دیش نے بھارت سے ایندھن کی مزید فراہمی کی درخواست کی ہے، جو دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی ایک اہم علامت سمجھی جا رہی ہے۔بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے نئی دہلی کے دو روزہ دورے کے دوران بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری سے ملاقاتیں کیں، جہاں توانائی تعاون سمیت مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔
بنگلہ دیش نے حالیہ ڈیزل سپلائی پر بھارت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایندھن اور کھاد کی فراہمی میں اضافے کی درخواست کی، جس پر بھارتی وزیر نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس درخواست پر “ہمدردانہ اور فوری” غور کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش توانائی کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اور امریکہ۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس سے ملک میں ایندھن کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔یہ دورہ وزیر اعظم طارق رحمان کی نئی حکومت کی جانب سے بھارت کے ساتھ سفارتی روابط بحال کرنے کی ابتدائی کوششوں کا حصہ ہے، جو فروری 2026 میں اقتدار میں آئی تھی۔
ملاقاتوں میں ویزا سہولتوں میں نرمی اور سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ بھارت نے عندیہ دیا کہ بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے، خاص طور پر طبی اور کاروباری مقاصد کے لیے، ویزا عمل کو آسان بنایا جائے گا۔یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات 2024 میں اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ بھارت منتقل ہو گئی تھیں، تاہم حالیہ مہینوں میں دونوں جانب سے مثبت اشاروں کے بعد تعلقات میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

Continue Reading

دیش

پیوش گوئل نے خطے میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد کویتی ہم منصب سے کی بات

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی : تجارت اور صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے جمعرات کو کویت کے وزیر تجارت اور صنعت اسامہ خالد بودائی کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ کی۔ دونوں نے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے پر بات چیت کی۔ ہندوستان اور کویت روایتی طور پر دوستانہ تعلقات ہیں، جو تاریخ میں جڑے ہوئے ہیں اور وقت کی کسوٹی پر کھڑے ہیں۔
ہندوستان کویت کا فطری تجارتی شراکت دار رہا ہے، اور 1961 تک، ہندوستانی روپیہ کویت میں قانونی طور پر رائج تھا۔ تیل کی دریافت اور ترقی تک، کویت کی معیشت اس کی عمدہ بندرگاہ اور سمندری سرگرمیوں کے گرد گھومتی تھی، جس میں جہاز کی تعمیر، موتیوں کی غوطہ خوری، ماہی گیری اور کھجوریں، عربی گھوڑے اور موتی جو لکڑی، اناج، کپڑوں اور مسالوں کے لیے تجارت کیے جاتے تھے، پر بھارت کا سفر شامل تھا۔
دریں اثنا، الجزیرہ کے مطابق، ایران اور امریکہ کی طرف سے دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد، کئی خلیجی ممالک نے اپنے علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاع دی ہے۔

Continue Reading

دیش

آبنائے ہرمز پارکرگیا ہندوستان کا 8واں جہاز

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول کے باوجود بھارت نے اپنی توانائی سپلائی کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جہاں کم از کم آٹھ بھارتی یا بھارت سے وابستہ جہاز اس اہم راستے سے گزرنے میں کامیاب رہے۔ رپورٹس کے مطابق، یہ جہاز — جن میں ایل پی جی اور تیل بردار ٹینکرز شامل ہیں — حالیہ کشیدگی کے دوران اس اسٹریٹجک گزرگاہ سے گزرے، جس سے بھارت کی توانائی سپلائی کا تسلسل برقرار رہا۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، ایران کی جانب سے کنٹرول سخت کیے جانے کے بعد شدید دباؤ میں ہے، اور عالمی سطح پر سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق، ان جہازوں میں “شیولک، نندا دیوی، جگ لادکی، پائن گیس، جگ وسنت، بی ڈبلیو ٹائر، بی ڈبلیو ایلم اور گرین سانوی” جیسے نام شامل ہیں، جنہوں نے بحران کے باوجود کامیاب ٹرانزٹ کیا۔ ایران نے بھی بھارت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی توانائی سپلائی محفوظ رہے گی۔ ایران کے سفارتی ذرائع نے کہا کہ “بھارتی دوست محفوظ ہاتھوں میں ہیں”، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری توانائی تعاون کا عندیہ ملتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ایران نے آبنائے ہرمز میں محدود رسائی صرف “دوست ممالک” جیسے بھارت، چین اور روس کے لیے کھولی ہے، جبکہ دیگر ممالک کے لیے پابندیاں برقرار ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اس اہم سمندری راستے پر سخت کنٹرول قائم کر لیا، جس کے باعث جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے اور عالمی توانائی منڈی متاثر ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس صورتحال میں بھارت کی جانب سے اپنی توانائی سپلائی کو جاری رکھنا اس کی سفارتی اور بحری حکمتِ عملی کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے، جس نے ایک بڑے عالمی بحران کے دوران بھی داخلی توانائی ضروریات کو متاثر ہونے سے بچایا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network