Connect with us

بہار

ٹریڈ یونین تنظیموں کی ملک گیر عام ہڑتال کو کامیاب بنانے کی اپیل

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :سی پی آئی کی سارن ضلع کونسل کی میٹنگ کا انعقاد پارٹی دفتر منظر رضوی بھون میں کیا گیا۔میٹنگ میں مزدور دشمن قوانین کے خلاف 9 جولائی کو مجوزہ ملک گیر عام ہڑتال کی بھرپور حمایت اور اسے کامیاب بنانے کی اپیل کی گئی۔میٹنگ کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے پارٹی کے ضلع سکریٹری رام بابو سنگھ نے بتایا کہ موقع پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں بیہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نام سوامی سہجانند سرسوتی ایئرپورٹ رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔
میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی ایگزیکٹو ممبر اور ضلع انچارج سریندر سوربھ نے کہا کہ بہار میں حکومت مفلوج ہو چکی ہے۔قتل و جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔کرپشن اپنے عروج پر ہے۔آئے روز رشوت ستانی کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ایسے میں اب وقت آگیا ہے کہ اس حکومت کو ہٹا کر عظیم اتحاد کی حکومت بنائی جائے۔میٹنگ میں پارٹی کی ضلعی کانفرنس آئندہ اگست میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس سے قبل جولائی میں تمام بلاکس میں زونل کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔
میٹنگ میں اسمبلی انتخابات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور سارن کی تین سیٹوں پر الیکشن لڑنے کی تجویز ریاستی قیادت کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔موقع پر چولہن پرساد سنگھ،مہاتما گپتا،ہری بلم سنگھ،ڈاکٹر کے این سنگھ،شیو جی داس،سنجے کمار سنگھ،سوگریو گپتا،نسیم احمد،نند کمار گری،گوتم ساہ،درشنانند،دیویندر سنگھ، ڈاکٹروریندر سنگھ،نریندر رائے،سید محمد شہاب الدین،ترویکرم دوبے،پرماتا دوبے وغیرہ موجود تھے۔میٹنگ کی صدارت سریندرناتھ ترپاٹھی نے کی۔

بہار

سیلاب کے باعث بہار کی 2.5لاکھ ایکڑاراضی ہوگئی تباہ

Published

on

14ندیوں کے قہر سے کسانوں کو 3500کروڑروپے کاہورہاہے نقصان
(پی این این)
پٹنہ :بہار کے جوعلاقے سونا پیداکرسکتے ہیں وہاں سے کسانوں کوکچھ نہیں مل پارہاہے ۔ ریاست کی 14 ندیوں کے ساتھ ساتھ 50نالوں کی دھاروں نے 2.5لاکھ ایکڑزمین کو پوری طرح ڈوبودیاہے جس کے باعث یہاں گنے کی کھیتی نہیں ہورہی ہے ۔اس سیلاب زدہ علاقے کی وجہ سے کسانوں کو سالانہ تقریباً 3500 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
ان میں وہ ندیاں بھی شامل ہیں جو نیپال سے براہ راست بہار میں داخل ہوتے ہیں۔ تقریباً 300 مقامات سے ندیوں کاپانی شمالی بہار میں داخل ہوتے ہیں، جو پھر چھوٹی چھوٹی ندیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی نہریں اور ندیاں بھی بڑے علاقوں میں پانی پھیلا رہی ہیں۔اس کے علاوہ،چانروں، سائفنوں، پلوں کے نیچے کے علاقوں، سلائس گیٹس، اور نکاسی آب کی نالیوں میں رکاوٹیں بھی کئی علاقوں میں پانی کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
حال ہی میں جب ریاستی حکومت نے اس مسئلے کا جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ گنے کی پیداوار کرنے والے تقریباً 42 فیصد علاقے اس وقت غیر کاشت شدہ ہیں۔ تقریباً 2.57 لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی بھرنے کا سامنا ہے، جس سے کاشتکاروں کو ان کی خواہش کے باوجود گنے کی کاشت سے نہیں ہورہا ہے۔ اس طرح گنے کے کاشتکاروں کو دوہری پریشانی کا سامنا ہے۔ ایک طرف وہ گنے کی کاشت نہیں کر پا رہے جس سے مالی نقصان ہو رہا ہے۔ دوسری طرف ان کے کھیت ناقابل استعمال ہوتے جا رہے ہیں۔
جب یہ مسئلہ ریاستی حکومت کی توجہ میں آیا تو محکمہ آبی وسائل اور شوگر کین انڈسٹری ڈپارٹمنٹ کی سطح پر ایک جامع جائزہ لیا گیا۔ محکمہ آبی وسائل کے پرنسپل سکریٹری سنتوش کمار مل کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں اس علاقے کو آبی ذخائر سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر اس 42 فیصد زیر آب علاقے کو مکمل طور پر آبی ذخائر سے آزاد کر دیا جائے۔ حکومت نے ایسیندیوں اور نالوں کی دوبارہ نشاندہی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو گنے کے علاقے کو زیر آب کر رہے ہیں۔ اس کے بعد انہیں بچانے کے لیے ایکشن پلان بنایا جائے گا۔
کئی دریاؤں میں پشتے نہ ہونے کی وجہ سے ان کا پانی سیلاب کے دوران پھیل جاتا ہے اور چوروں میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چوروں سے نکلنے والے نالوں، دھاروں اور چھوٹی ندیوں میں گاد جمع ہونے، ان پر تجاوزات اور نہروں پر بنائے گئے ڈھانچے سے نکاسی کا ہموار نہ ہونے کی وجہ سے بڑے علاقے میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر، چمپارن میں دریائے مسان اور دریائے سکرہنا پر کوئی پشتے نہیں ہیں۔ اسی طرح اور بھی بہت سے چھوٹے دریا ہیں جو بغیر پشتے کے ہیں۔ گوپال گنج، سمستی پور، بیگوسرائے اضلاع میں نالے، ندیاں اور چھوٹی ندیاں گاد کی وجہ سے اپنے آس پاس کے ایک بڑے علاقے میں پانی پھیلا رہی ہیں۔

Continue Reading

بہار

جامعہ رحمانی، خانقاہ مونگیر کے تمام شعبہ جات میں داخلہ جاری

Published

on

(پی این این)
مونگیر :جامعہ رحمانی، خانقاہ مونگیر، بہارملک ہندوستان کا منفرد، ممتاز دینی، تعلیمی اور تربیتی ادارہ ہے، جہاں ابتدائی درجات سے لے کر دورہ حدیث اور تخصصات تک کی تعلیم کا معیاری نظم ہے ۔ جامعہ رحمانی کے سرپرست امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی ہدایت پر تعلیمی مشاورتی مجلس نے نئے تعلیمی سال 1446-1447ھ کے لیے تمام شعبوں میں داخلے کا اعلان کیا ہے۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی جامعہ رحمانی کے تمام درجات، (درجہ حفظ، درجات عربی از درجہ ششم اردو تا دورہ حدیث)، دار الحکمت (حفظ و عربی)، معہد الریادۃ (لیڈرشپ اکیڈمی)، شعبہ تخصص فی الافتاء، اور شعبہ صحافت میں داخلے کے لئے اس سائٹ rahmanimission.info پر آن لائن فارم بھرکر اپنا رجسٹریشن کروا لیں ۔ داخلہ کی تمام کاروائی امتحان میں کامیابی کی بنیاد پر ہوگا تخصصات کے طلبہ کو وظیفہ بھی دیا جائے گا ۔ ان شاءاللہ
درجہ حفظ تا دورہ حدیث اور دار الحکمت (حفظ و عربی) میں فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 28 رمضان المبارک 1446ھ ہے، شعبہ تخصص فی الافتاء کے لیے 20 شوال المکرم 1446ھ جبکہ معہد الریادۃ (لیڈرشپ اکیڈمی) اور شعبہ صحافت کے لیے 15 شوال المکرم 1446ھ مقرر کی گئی ہے۔
مطلوبہ تمام درجات میں داخلہ کیلئے امتحان تحریری و تقریری ہوگا، تخصص فی الافتاء اور معہد الریادۃ میں داخلہ کیلئے فقہ، حدیث، عربی ادب اور ترجمہ قرآن وغیرہ کا امتحان لیا جائے گا البتہ معہد الریادۃ میں ابتدائی انگریزی کا امتحان بھی ہوگا۔ شعبہ صحافت میں داخلہ کیلئے اردو زبان و ادب کے بنیادی اصول و قواعد اور مضمون نگاری کا امتحان ہوگا۔
مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے درج ذیل نمبرات پر رابطہ کریں۔مولانا عبد الاحد رحمانی ازہری: 081022 17957،مولانا محمد صبا حیدر ندوی : 7039605711، مفتی نشاط احمد ندوی ، 9608078879 ، مفتی جنید احمد قاسمی ، 7004543729، فضل رحمٰں رحمانی : 9971224394

 

Continue Reading

بہار

رمضان المبارک کے پہلے جمعہ پر مساجد میں فرزندان توحید کا جم غفیر

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے مساجد میں روزہ داروں کا جم غفیر امنڈ پڑا۔ہزاروں روزہ داروں نے ملک میں امن اور ہم آہنگی کے لیے دعا کی۔
صاحب گنج واقع جامع مسجد اور شہر کی دیگر بڑی مساجد کے مقررین اور اماموں نے خطبہ میں فرمایا کہ رمضان کا مقدس مہینہ وہ موقع ہے جس میں گزشتہ 11 مہینوں کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔اپنے آپ کو با تقویٰ بنانے کے لیے دین کی راہ پر چلیں اور وہ کریں جو اللہ کو پسند ہو۔شریعت کہتی ہے کہ کسی کو نقصان نہ پہنچائیں۔کسی سے جھوٹ نہ بولیں۔کسی کی امانت میں خیانت نہ کریں۔اپنے ہاتھ یا زبان سے کسی کو نقصان نہ پہنچائیں خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ہو۔اسلام انسانوں کے ساتھ جانوروں کو بھی نقصان پہنچانے سے منع کرتا ہے۔محبت اور ایک دوسرے کی دیکھ بھال لازمی ہے۔ہر روزہ دار کو عید سے پہلے فطرہ ادا کرنا چاہیے۔فطرہ ادا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ روزے کے دوران کیے گئے غلطیوں کو معاف کر دیتا ہے۔رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کو میونسپل کارپوریشن نے مساجد کے آس پاس اور محلوں کی خصوصی صفائی کی۔نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مساجد میں روزہ داروں کی آمد کا سلسلہ دوپہر سے ہی شروع ہو گیا۔روزہ داروں کی بڑی تعداد نے شہر کی بڑی مساجد میں ملک میں امن کے لیے دعائیں مانگیں۔
اہل حدیث مسجد،مولا مسجد،جمنی مسجد اور چھوٹا تیلپا مسجد کے ساتھ بڑا تلپا میں واقع جامع مسجد کے اماموں نے بتایا کہ رمضان کا پہلا عشرہ جاری ہے۔یہ رحمت کا ہے عشرہ ہے جبکہ دوسرا عشرہ بخشش کا ہو گا۔ہر روزہ دار کو چاہیے کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے اور اللہ سے معافی مانگے۔انہیں ایک نئی زندگی شروع کرنے کا ارادہ کرنا چاہیے۔رمضان کے مہینے میں دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنا سب سے اہم عمل ہے۔اس مہینے میں ہر روزے دار کو عید سے پہلے فطرہ ادا کرنا چاہیے۔ہر روزے دار کو چاہیے کہ عید کی نماز سے پہلے ایک چوتھائی کلو گندم یا اس کے مساوی،تین کلو کھجور یا اس کے مساوی یا تین کلو کشمش یا اس کے مساوی صدقہ کرے۔اس طرح اللہ تعالیٰ روزے کی کوتاہیوں کو پورا کر دیتا ہے۔غریبوں کا بھی رمضان اور عید اچھا گزتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network