Connect with us

بہار

ایک ہزار ووٹ ڈال کر ای وی ایم کا کیا گیا ماک پول ٹیسٹ

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے مرحلے کے طور پر ای وی ایم۔وی وی پیٹ کے فرسٹ لیول چیک (FLC) عمل کے تحت ماک پول کا انعقاد کیا گیا۔ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کم ڈی ایم امن سمیر نے پورے عمل کا مشاہدہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ ضلع میں دستیاب 6210 بی یو، 4993 سی یو اور 6134 وی وی پیٹ کی ایف ایل سی پیر کو مکمل ہوگئی تھی۔جس میں 111 بی یو،45 سی یو اور 57 وی وی پیٹ کو مسترد کیا گیا۔بقیہ 6099،بی یو 4948 سی یو اور 6077 وی وی پیٹ انتخابات میں استعمال کے لیے درست پائے گئے۔ڈی ایم نے بتایا کہ ایف ایل سی اوکے اور ریجیکٹ کا سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن کو بھیج دیا گیا ہے۔یہ فہرست سیاسی جماعتوں کو بھی روزانہ کی بنیاد پر فراہم کی گئی ہے۔
اس موقع پر موجود ڈپٹی الیکشن آفیسر جاوید اقبال نے بتایا کہ لوڈ ٹیسٹنگ کے لیے 240 BU کو چار کی تعداد میں سیریز کر CU اور VVPAT کے ساتھ کل 60 سیٹ بنائے گئے تھے۔وی وی پیٹ میں 64 ڈمی سمبال اپلوڈ کی گئیں جبکہ BU میں 64 سمبال کے لیے ڈمی بیلٹ پیپرز ڈالے گئے۔اس ٹیسٹنگ کا مقصد 16 سے زیادہ امیدواروں کی صورت میں مشین کی صلاحیت کو جانچنا ہے۔لوڈ ٹیسٹنگ میں کوئی مسئلہ یا خرابی سامنے نہیں آئی۔تمام عمل ECIL انجینئرز نے سیاسی جماعت کے نمائندوں کی موجودگی میں مکمل کیا۔ای وی ایم سیل کے سینئر انچارج آفیسر کم میونسپل کمشنر سنیل کمار پانڈے نے کہا کہ لوڈ ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے تصادفی طور پر کل FLC OK میں سے 100 مشینوں کا انتخاب کیا۔جس پر ایک ہزار ماک پولنگ شروع کر دی گئی۔اس کام کے لیے 90 ماسٹر ٹرینرز کو الگ سے تعینات کیا گیا ہے۔
آخر تک کسی مشین میں کوئی خرابی نہیں ملی۔نوڈل آفیسر کم ڈی ایم ڈبلو او روی پرکاش نے کہا کہ ای وی ایم کے مینوئل کے پروویژن کے مطابق کل ایف ایل سی او کے سی یو کے پانچ فیصد پر ماک پول کیا جانا ہے۔جس میں آج 100 مشینوں پر ماک پول کیا گیا۔ساتھ ہی 50 مشینوں پر 1200 ووٹ اور 100 مشینوں پر ایک ہزار ووٹ ڈالے جائیں گے اور تصدیق کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پولنگ ختم ہونے کے بعد سی یو کا نتیجہ وی وی پیٹ کی پرچی سے ملایا جاتا ہے۔تمام مشینوں کی فہرست الیکشن کمیشن کی سائٹ پر اپ لوڈ کی جائے گی۔اس موقع پر بی جے پی کے ستیانند سنگھ،بی ایس پی کے منوج رام،آر جے ڈی کے اپیندر کمار،جے ڈی یو کے پربھاش شنکر،سی پی آئی ایم ایل کے ہمانشو کمار،ایل جے پی کے دیپک کمار سنگھ اور آر ایل ایس پی کے ڈاکٹر اشوک کشواہا موجود تھے۔

بہار

بیہٹا ہوائی اڈے کا نام ویر کنور سنگھ کے نام پر کرنے کی کارروائی شروع

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :ایم پی جناردن سنگھ سگریوال کی کوششوں پر بیہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نام بابو ویر کنور سنگھ کے نام پر رکھنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔اس سلسلے میں شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو کنجراپو نے ایک خط لکھ کر رکن پارلیمنٹ کو مطلع کیا ہے۔
واضح ہو کہ اس سلسلے میں مہاراج گنج کے ایم پی جناردن سنگھ سگریوال نے حکومت ہند کے شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو کنجراپو سے ملاقات کی تھی اور ایک خط پیش کیا تھا۔جس میں بیہٹا بین الاقوامی ہوائی اڈے کا نام ویر بابو ویر کنور سنگھ کے نام پر رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ بابو ویر کنور سنگھ بہار اور بہاری کے فخر اور عزت نفس کی علامت ہیں۔
وزیر نے ایم پی سگریوال کو یقین دلایا کہ وہ ان کی مانگ پر ضرور توجہ دیں گے۔وزیر نے اپنے خط کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ محکمہ نے بابو ویر کنور سنگھ کے نام پر بیہٹا بین الاقوامی ہوائی اڈے کا نام دینے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔اس کے لیے ایم پی سگریوال نے وزیر ہوا بازی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ بابو ویر کنور سنگھ کو حقیقی خراج عقیدت ہوگی۔

Continue Reading

بہار

وزیرِاعظم مودی کو گالی دینے کے معاملے میں محمد رضوی گرفتار، دیگر کی تلاش جاری

Published

on

(پی این این)
جالے:ووٹر ادھیکار یاترا کے دوران سِمری تھانہ حلقہ کے بٹھولی چوک پر کانگریس رہنما محمد نوشاد کے اسٹیج سے وزیرِاعظم نریندر مودی اور ان کی آنجہانی والدہ کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال کا معاملہ اب سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ اس واقعے کا ویڈیو انٹرنیٹ میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا اور ایف آئی آر 25/243 درج ہوئی جس کے بعد سمری پولیس نے سنگھواڑہ کے بھپورہ گاؤں کے رہائشی محمد رضوی کو گرفتار کیا، جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ماری جاری ہے۔
صدر سرکل 2 کمتول کے ڈی ایس پی ایس کے سمن نے سِمری تھانہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کی ویڈیو کا سائبر تھانہ نے باریک بینی سے تجزیہ کیا، جس میں کئی افراد کی شناخت کی گئی۔ اسی بنیاد پر سنگھواڑہ تھانہ حلقہ کے بھوانی پور پنچایت کے بھپورہ گاؤں کے رہائشی انیس قریشی کے بیٹے محمد رضوی عرف راجہ (22) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار نوجوان پیشے سے پنکچر کی دکان چلاتا ہے اور گاڑی بھی چلاتا ہے۔
ڈی ایس پی کے مطابق یہ واقعہ کانگریس رہنما محمد نوشاد کے ذریعے تیار کیے گئے اسٹیج پر اس وقت پیش آیا جب بدھ کے روز راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور تیجسوی یادو کے استقبال میں مقامی ہوٹل پر بنے پلیٹ فارم سے وزیرِاعظم اور ان کی والدہ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی۔ جمعرات کو ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جانچ شروع کی گئی اور رضوی کو گرفتار کر لیا گیا، جس نے دورانِ تفتیش اعتراف بھی کر لیا ہے۔ دیگر ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کی کارروائی جاری ہے۔
اس معاملے کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے سنجیدگی سے لیا اور ضلع صدر آدتیہ نارائن منا کی تحریری شکایت پر سِمری تھانہ میں ایف آئی آر 25/243 درج کی گئی ہے، جس میں کانگریس رہنما جالے تھانہ کے دیورا بندھولی باشندہ محمد نوشاد سمیت دیگر کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ اگرچہ محمد نوشاد نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کر معذرت پیش کی اور کہا کہ یہ حرکت ایک کم عمر لڑکے نے کی ہے جو انتہائی قابلِ مذمت ہے، لیکن اس کے باوجود معاملہ طول پکڑ گیا ہے۔
ادھر اس واقعے پر سیاست بھی شدید ہو گئی ہے۔ مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے اسے ’’جمہوریت پر داغ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی سیاست اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اُنہوں نے الزام لگایا کہ گاندھی خاندان برسوں سے مودی جی کے خلاف نفرت کی سیاست کرتا آیا ہے اور اس بار تو انہوں نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ امیت شاہ نے کہا: ’’یہ حرکت صرف مودی جی اور ان کی والدہ کی نہیں بلکہ ہر ماں اور بیٹے کی توہین ہے، جسے 140 کروڑ عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔ اگر راہل گاندھی میں شرم باقی ہے تو وہ وزیرِاعظم مودی اور پوری قوم سے معافی مانگیں۔
وہیں بہار کے وزیرِاعلیٰ نتیش کمار نے بھی سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم اور ان کی والدہ کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حرکت جمہوری اقدار کے سراسر منافی ہے اور ہر حال میں اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔واضح رہے کہ دربھنگہ کا یہ واقعہ اب صرف مقامی سطح پر محدود نہیں رہا بلکہ قومی سیاست میں بھی گرما گرم بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

Continue Reading

بہار

شفیع مسلم ہائی اسکول میں مسلم اساتذہ بحال نہ کرنے اور بی ایڈ کی سیٹیوں میں بدعنوانی سے عوام میں ناراضگی

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ: آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ شفیع مسلم ہائی اسکول کی مینیجنگ کمیٹی کے ذریعہ برسوں سے بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی جارہی ہے۔ اسکول ایک اقلیتی ادارہ ہے لیکن کمیٹی کے افراد ہی اقلیتی حقوق کی پامالی کررہے ہیں۔اسکول کا تعلیمی نظام دن بدن بگڑتا جارہا ہے اور حالت بدسے بدتر ہورہی ہے لیکن کمیٹی اس کی اصلاح کی بجائے اقلیتوں کو نظرانداز کرنے اور بدعنوانی کو فروغ دینے میں لگی ہوئی ہے۔ اس کام میں صدر، سکریٹری، پرنسپل اور پوری کمیٹی ملوث ہے۔ اس سلسلہ میں ان سے سوال کیا جاتا ہے تو جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں اقلیتی اسکول ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں غیرمسلم اساتذہ کو بحال کیا گیا ہے اور اہل مسلم امیدواروں کو محروم رکھا گیا ہے۔
نظرعالم نے کہا کہ ذاکرحسین ٹیچرس ٹریننگ کالج سے حاصل ہونے والی بی ایڈ کی سیکڑوں سیٹیں بیچ دی گئیں اور اس کا فائدہ اسکول کو نہیں ملا۔ کمیٹی کے افراد یا تو ان سیٹوں کو موٹی رقم لے کر بیچ دئیے یا اپنے رشتہ داروں کو اس کا فائدہ پہنچائے۔جہاں دوسرے ادارے ترقی کررہے ہیں وہیں شفیع مسلم اسکول تعلیم سے لے کر عمارت تک میں پیچھے جارہا ہے۔ چند افراد برسوں سے کمیٹی پر قابض ہیں اور اسکول کو ذاتی سرمایہ سمجھ بیٹے ہیں۔
نظرعالم نے کہا کہ سکریٹری جاوید اقبال جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ان پر محکمہ نگرانی کا کیس بھی درج ہے اوراسی وجہ سے انہیں بہت دنوں تک دربھنگہ سے باہر رہنا پڑا تھا۔ لیکن یہ نہ استعفیٰ دے رہے ہیں نہ ادارہ کو چلاپارہے ہیں۔ وہ کسی بات کا جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ صدر اور سکریٹری دونوں غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں کہ ان سے پوچھا نہیں گیا ہے جب کہ کارواں کے پاس خطوط اور آر ٹی آئی کا سارا ریکارڈ موجود ہے۔
نظرعالم نے کہا کہ اگر اسکول میں بدعنوانی ختم نہیں ہوتی ہے اور موجودہ کمیٹی استعفیٰ نہیں دیتی ہے تو اسکول کے احاطہ میں ہی عوامی نشست بلاکر ان کو معزول کیا جائے گا اور اسکول کی بھلائی کے لئے نئی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network