بہار
حاجی پور میں اردوداں طلبا حوصلہ افزائی تقریری مقابلہ کا انعقاد
(پی این این)
حاجی پور : اردو زبان کسی مذہب و ملت کی زبان نہیں بلکہ یہ عام آدمی کی زبان ہے۔اسے بلکل آسان لفظوں استعمال کرنا چاہیے تاکہ سیکھنے میں بھی آسانی ہو۔مذکورہ باتیں ویشالی کلکٹریٹ حاجی پور کے کانفرنس ہال میں بچوں کو خطاب کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ جناب یشپال مینا نے کہی۔اردو ڈائریکٹوریٹ کابینہ سکریٹریٹ حکومت بہار کی ھدایت پر اردو زبان و ادب کے طلباء و طالبات حوصلہ افزائی تقریری مسابقہ پروگرام کے تحت ضلع سطحی مسابقہ پروگرام کی افتتاح ویشالی ضلع مجسٹریٹ جناب یشپال مینا نے شمع روشن کر کیا۔
اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے جناب للت موہن شرما ایس پی ویشالی نے شرکت کی۔اس موقع سے مہمان ذی وقار کی حیثیت سے وینود کمار سنگھ اے ڈی ایم ویشالی بھی شریک تھے۔جناب احسان احمد اے ڈی ایم شعبہ تحقیق،جناب کندن کمار ڈی ڈی سی ویشالی اور محمد ساجد ضلع اقلیتی ویلفیئر افسر ویشالی شریک تھے۔ساتھ ہی کئ اعلی افسران بھی مذکورہ پروگرام میں شامل رہے۔ان میں ڈی ایس پی ویشالی ابو ظفر صاحب نے اردو کے حوالے سے بہت ہی قیمتی باتیں بچوں کے سامنے پیش کی اور اردو زبان کی خوبصورتی میں چار چاند لگائے اور خوبصورت انداز میں اپنے کلام پیش کر داد و تحسین حاصل کیا۔
مذکورہ پروگرام کی شروعات بہار راجیہ گیت ” میری رفتار پہ سورج کی کرن ناز کرے” گرلز ہائی سکول حاجی پور کی طالبہ نے سماں باندھا اور ساتھ ہی علامہ اقبال کا مشہور ترانہ ” سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ” پیش کیا۔جسے سامعین نے کافی پسند کیا۔اس پروگرام میں میٹرک،انٹر اور گریجویشن مساوی طلباء و طالبات نے حصہ لیا۔میٹرک سطح کے طلباء و طالبات کا موضوع نظم اور ربائی،تعریف و توضیح انٹر کے لئے فن افسانہ نگاری ایک جائزہ،گریجویشن کے لئے نابل نگاری آغاز و ارتقاء موضوع تھا۔میٹرک درجہ میں اول مقام صابرہ توصیف،دوسرا کنیز فاطمہ اور درخشاں پروین نے حاصل کیا اور سوئم مقام محمد جاوید،غوثیہ آفرین،زیبا آفرین اور ثانیہ پروین نے حاصل کیا۔انٹر درجہ میں اول مقام محمد توصیف،دوسرا مقام شمسہ خاتون،نفیسہ خاتون،محمد التمش نے حاصل کیا جبکہ تیسرا مقام حلیمہ خاتون،نور حسن،آفرین انجم اور ثنا پروین نے حاصل کیا۔اسی طرح گریجویشن درجہ میں محمد ارشاد،شازیہ پروین،زکوان قمر،صافیہ خانم،روشنی پروین،شازیہ پروین،جوبی پروین،آصفہ ناز وغیرہ انعام جیت کر پروگرام کو خوب خوب کامیاب بنایا۔مذکورہ مسابقتی پروگرام میں جج کی حیثیت سے جناب محمد ناظم انصاری این این کالج مہوا،جناب عمر فاروق پروجیکٹ گرلز ہائی سکول مہوا اور جناب آفتاب عالم سہیوگی ہائی اسکول حاجی پور نے حصہ لیا۔پروگرام کی نظامت بڑے ہی حسن خوبی کے ساتھ جناب آفتاب عالم نے انجام دیا۔
اس موقع پر طلباء و طالبات کو نقد رقم اور اعزازیہ سند اور میڈل دیکر انہیں نوازتے ہوئے انکے حوصلہ کو بڑھایا گیا۔پروگرام کے صدارتی خطبہ میں جناب پروفیسر حسن رضا صدر شعبہ اردو سکھ دیو مکھ لال کالج جڑھوا حاجی پور نے کہا کہ زبان پر مذہب کا لیول لگانا درست نہیں۔زبان کا تعلق عوام سے ہے۔اس کی ادائیگی آسان زبان میں ادا کریں۔پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے ترجمہ افسر بشمول انچارج آفیسر ضلع اردو زبان سیل ویشالی کلکٹریٹ حاجی پور محمد سلام الدین نے حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے کامیاب پروگرام کے انعقاد پر بہت بہت مبارک باد پیش کیا۔اس پروگرام میں سب ڈویژن،بلاک اور سرکل کے دفتروں میں مامور اردو عملوں نے شرکت کی۔ان میں محمد منہاج،محمد نعمان،افشاں خورشید،نشاط اختر،شبیر عالم وغیرہ ہم نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس موقع پر کافی تعداد میں اساتذہ کرام،طلباء و طالبات،گارجین حضرات شریک ہوئے اور پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔اس موقع پر حاجی پور و ضلع کے مختلف مقامات سے سرکردہ شخصیتوں میں محمد شاہد محمود پوری،صحافی محمد عظیم الدین انصاری،ماسٹر محمد فداء الہدی،ڈاکٹر آصف،اے ڈی سی انوج سر نے بھی مفید باتیں بچوں کے درمیان پیش کی اور موجودہ لوگوں کے ہاتھوں پروگرام میں کامیاب اور شریک ہونے والے طلباء و طالبات کو نوازا گیا۔جبکہ ابتدائی کلمات اور نظامت جناب محمد آفتاب عالم اردو مترجم بلاک آفس راجاپاکر نے پیش کیا۔پروگرام کے اخیر محمد سلام الدین نے اظہار تشکر پیش کیا۔
بہار
چھپرہ ائیر پورٹ سے جلد شروع ہوگی فلائٹس
(پی این این)
چھپرہ :رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر راجیو پرتاپ روڈی کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے چھپرہ میں ہوائی اڈے کی ترقی میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ جلد ہی پرانے برطانوی دور کے ہوائی اڈے سے چھوٹے طیارے چل سکیں گے۔ ائیرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا نے چھپرہ سمیت بہار کے پانچ مقامات پر پری فزیبلٹی اسٹڈی کے عمل کو آگے بڑھایا ہے۔ مزید برآں UDAN اسکیم کے تحت فضائی تربیت اور ایرو اسپورٹس کو فروغ دینے والا اہم ادارہ ایرو کلب آف انڈیا چھپرہ میں اپنا کام شروع کرے گا۔ پائلٹ ٹریننگ اور ایرو اسپورٹس کے لیے ملک کے اس اہم ریگولیٹری ادارے کا ایک وفد 7 اپریل کو ہوائی اڈے کا معائنہ کرے گا۔ غور طلب ہے کہ ایم پی روڈی نے پہلے ہی سونپور کے لیے گرین فیلڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے منظوری حاصل کر لی ہے۔ جس کی سائٹ کلیئرنس منظور ہو چکی ہے۔
ایم پی روڈی کے ساتھ بات چیت کے بعد بہار کے چیف سکریٹری پرتیئے امرت نے ان تمام مجوزہ ہوائی اڈوں خاص طور پر چھپرہ کو RCS-UDAN اسکیم کے تحت شامل کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ منصوبوں کے لیے ضروری تکنیکی معلومات اور ابتدائی دستاویزات پہلے ہی فراہم کر دی گئی ہیں۔ ریاستی حکومت ان کے کامیاب نفاذ کے لیے مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اے اے آئی کے چیئرمین وپن کمار نے ایم پی روڈی کو بتایا کہ کلب کی ٹیم جلد ہی چھپرہ اور دیگر مقامات کا معائنہ کرے گی۔ خاص طور پر چھپرہ کے معائنہ کی تاریخ ایم پی کے دفتر کو پہلے سے بتائی جائے گی تاکہ ضلع انتظامیہ کے ساتھ مناسب تال میل کو آسان بنایا جاسکے۔
قابل ذکر ہے کہ ایم پی مسٹر روڈی نے اپنے خط میں چھپرہ کو ترجیح دیتے ہوئے جلد از جلد فزیبلٹی اسٹڈی، فیس کے ڈھانچے کی وضاحت اور کام کو تیز کرنے کے لیے باقاعدہ پیش رفت کی تازہ کاری کا مطالبہ کیا تھا۔ ایم پی روڈی نے کہا کہ چھپرہ ہوائی اڈے سے پروازوں کا آغاز علاقائی رابطوں کو نمایاں فروغ دے گا۔ جس سے سرمایہ کاری، تجارت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور سارن ترقی کو فروغ ملے گا۔
بہار
مولانا عبداللہ سالم قاسمی کی گرفتاری تشویشناک :امیر شریعت
(پی این این)
پٹنہ : مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امیر شریعت بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال نے اپنےایک بیان میں مولانا عبداللہ سالم قاسمی کی گرفتاری کی نوعیت پر شدید تشویش کا اظہار کیا اوراس تناظر میں آئینِ ہند کی بالادستی، شہری آزادیوں کے تحفظ اور ریاستی طاقت کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیتے ہوئےکہا کہ انڈین جمہوریت کی اصل روح اس کے آئین میں مضمر ہے، اور یہی آئین ریاست اور شہری کے درمیان ایک عادلانہ معاہدہ کی حیثیت رکھتا ہے لہذا اس کا خیال رکھنا ہر ایک کیلئے ضروری ہے۔
امیر شریعت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ مولانا عبداللہ سالم قاسمی کی گرفتاری کے طریقہ کار نے ایسے بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے جو پورے نظامِ انصاف اور ریاستی طرزِ عمل سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات اس اصول کی ہے کہ کیا ریاستی طاقت کا استعمال آئین کے دائرے میں ہو رہا ہے یا نہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آئینِ ہند کا آرٹیکل 19(1)(a) ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، اور اس آزادی پر پابندیاں صرف اسی صورت میں عائد کی جاسکتی ہیں جب وہ آرٹیکل 19(2) کے تحت معقول، محدود اور آئینی معیار پر پوری اترتی ہوں۔ امیر شریعت نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ سپریم کورٹ نے متعدد فیصلوں میں یہ واضح کیا ہے کہ محض کسی بات کا ناگوار ہونا اسے جرم نہیں بنا دیتا، جب تک وہ براہِ راست امن عامہ کو متاثر نہ کرے۔
امیرشریعت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آرٹیکل 21 ہر شہری کی شخصی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، اور اس کے تحت کسی بھی شخص کو صرف اسی صورت میں اس آزادی سے محروم کیا جا سکتا ہے جب ایک منصفانہ، معقول اور شفاف طریقۂ کار اختیار کیا جائے۔ اسی طرح آرٹیکل 22 گرفتاری کے وقت بنیادی تحفظات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے ڈی کے باسو بنام ریاست مغربی بنگال (1997) میں گرفتاری کے واضح اصول متعین کیے گئے ہیں، جن کی پابندی ہر حال میں لازم ہے۔
امیر شریعت نے اپنے بیان میں ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان اطلاعات کا حوالہ دیا جن کے مطابق مولانا عبد اللہ سالم کو پیشی کے وقت کمزور اور تشویشناک حالت میں دیکھا گیا اور ایک ویڈیو معذرت بھی سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ امور بذاتِ خود کسی جبر کو ثابت نہیں کرتے، مگر یہ ایسے سوالات کو ضرور جنم دیتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی تناظر میں امیر شریعت نے نہایت دوٹوک انداز میں متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا گرفتاری مکمل قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دی گئی؟ کیا متعلقہ شخص کو گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا اور اس کے اہلِ خانہ کو اطلاع دی گئی؟ کیا لازمی طبی معائنہ کرایا گیا؟ اگر وہ پیشی کے وقت کے کمزور حالت میں نظر آئے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اور جو معذرت سامنے آئی، وہ کن حالات میں دی گئی—کیا وہ مکمل رضامندی کے ساتھ تھی یا ایسے ماحول میں دی گئی جہاں آزادیِ ارادہ متاثر ہو سکتی تھی؟
انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ایک ریاست کی پولیس کی جانب سے دوسری ریاست میں کارروائی کے لیے کون سا قانونی طریقہ اختیار کیا گیا، اور کیا اس میں مقامی پولیس کو شامل کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک وفاقی نظام ہے، اور اس نظام کی روح باہمی احترام اور قانونی ہم آہنگی میں ہے، نہ کہ یک طرفہ طاقت کے استعمال میں۔
امیر شریعت نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ سوالات کسی الزام کے طور پر نہیں بلکہ آئینی جوابدہی کے تقاضے کے طور پر اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط جمہوریت وہی ہوتی ہے جہاں ریاستی طاقت شفاف ہو، قانون کے تابع ہو، اور عوام کے سامنے جوابدہ ہو۔
اپنے بیان کے اختتام پر امیر شریعت نے کہاکہ اگر آئین کے اصولوں کو نظر انداز کیا جائے تو اس کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے میں بے چینی اور عدمِ اعتماد کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تفصیلات، طریقۂ کار اور قانونی بنیاد کو عوام کے سامنے پیش کریں تاکہ قانون کی حکمرانی پر اعتماد برقرار رہے اور مولانا پر کسی بھی طرح کا جبر ، اور ذہنی و جسمانی اذیت کا معاملہ ہر گز نہ کیا جائے اور قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کیلئے مولانا کے ساتھ انصاف کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی اصل طاقت اس میں نہیں کہ سوال نہ اٹھائے جائیں، بلکہ اس میں ہے کہ سوال اٹھائے جائیں—اور ان کے جواب دیانت داری اور شفافیت کے ساتھ دیے جائیں۔
بہار
نتیش کمار نے بہارقانون ساز کونسل کی رکنیت سے دیااستعفیٰ
(پی این این )
پٹنہ :بلآخر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہونے کے بعد قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جے ڈی یو لیڈر وجے کمار چودھری نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار پہلے ہی راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو چکے ہیں، اس لیے استعفیٰ ضروری تھا۔ نتیش کمار کی جانب سے جے ڈی یو ایم ایل سی سنجے گاندھی نے بہار قانون ساز کونسل کے چیئر مین کو استعفیٰ سونپ دیا ہے۔
واضح ہوکہ نتیش کمار 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے، وہ رواں ماہ 16 مارچ کو راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو گئے تھے۔ جے ڈی یو کے سربراہ ان لیڈران میں شامل ہیں جو چاروں ایوانوں کے رکن بنے ہیں۔ نتیش کمار نے راجیہ سبھا انتخاب لڑنے کے دوران کہا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہوں، اس لیے انہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے۔
واضح رہے کہ نتیش کمار 1985 میں ہرنوت اسمبلی سیٹ سے جیت حاصل کر اسمبلی پہنچے تھے۔ اس کے بعد 1989 میں وہ نویں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے۔ اب پہلی بار راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر وہ اپنی نئی پاری کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ 10 اپریل کو وہ راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کریں گے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار4 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار10 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
