add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); Waqf Amendment Act – sachkiawaz.com https://sachkiawaz.com Sun, 04 Jan 2026 13:16:23 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.9 اوقاف کی جائداد سے دستبردار ی ہرگز قبول نہیں: امارت شرعیہ https://sachkiawaz.com/5607/ https://sachkiawaz.com/5607/#respond Sun, 04 Jan 2026 13:15:04 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5607 (پی این این)
پٹنہ : امارت شرعیہ بہار اڈیشہ جھارکھند پھلواری شریف پٹنہ کے زیر اہتمام امیر شریعت مفکر ملت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی ہدایت اور ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب کی اجازت سے جامع مسجد ڈہری اون سون میں ضلع رہتاس کے متولیان اوقاف، علماء وائمہ اور دانشوران کا ایک خصوصی تربیتی کیمپ منعقد ہوا ،جس کی صدارت نائب ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی نے کی اور بطور ٹرینر مولانا عبد اللہ جاوید ثاقبی اور مولانا منہاج عالم ندوی نے شرکت کی ۔
اس تربیتی کیمپ کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت اور نعت رسول سے ہوا ، تمہیدی گفتگو کرتے ہوئے تربیتی کیمپ کے داعی اور ضلع رہتاس کے قاضی شریعت مولانا احسان الحق قاسمی نے کہا کہ اوقاف کے رجسٹریشن کے تعلق سے ضلع کے مسلمانوں میں کافی بے چینی تھی اور اس سلسلہ میں لوگ بار بار ہم سے رجو ع کررہے تھے؛چنانچہ میری گذار ش پر امیر شریعت اور ناظم امار ت شرعیہ نے اس کیمپ کی منظوری دی ا ور اس وقت آپ حضرات اس کیمپ میں جمع ہیں ، اس کیمپ کے انعقاد کا مقصد رجسٹریشن کے تعلق سے صحیح معلومات آپ تک پہونچانا اورامید پورٹل پر کاغذات اپلوڈ کرنے کے طریقے سے واقف کرانا ہے۔
صدر اجلاس مولانا مفتی سہراب ندوی قاسمی نے قدرے تفصیل کے ساتھ اوقاف سے متعلق موجودہ صورت حال اور اوقاف کو امید پورٹل پر اپلوڈ کرنے کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ امید پورٹل پر انہیںجائداد کو اپلوڈ کیاجانا ہے جو پہلے سے وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہیں ابھی حکومت کے طرف سے صرف رجسٹرڈ جائداد کو اپلوڈ کرنے کی بات کہی گئی ہے، ان کے علاوہ جو اوقاف کی جائداد ہیں ان کے لئے کوئی گائدلائن جاری نہیں ہوئی ہے، اس لئے غیر رجسٹرڈ اوقاف کے ذمہ داروں کو بے چین نہیں ہونا چاہئے،بلکہ ایسی جائدا د وں کے کاغذات کی فراہمی پر توجہ دینی چاہئے، ان شاء اللہ اس سلسلہ میں امارت شرعیہ کی طر ف سے جلد ہی مضبوط نقشہ عمل جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اوقاف کی جائداد ملت کا قیمتی سرمایہ ہے اور اسلامی نظام کا بڑا حصہ اسی سے مربوط ہے ، ملک کے آئین نے مسلم پر سنل لا کو تحفظ دیا ہے، اور وقف بھی اس کا ایک اہم حصہ ہے اس لئے کسی قیمت پر وقف کی جائداد سے دستبردار ی قابل قبول نہیں ہوگی، اس موقع پر مولانا عبد اللہ جاوید ثاقبی اور مولانا منہاج عالم ندوی نے عملی طو رپر امید پورٹل پر جائداد کو اپلوڈ کرنے کے طریقے بتائے اور اس سلسلہ میں ضروری معلومات سے واقف کرایا لوگوںنے اس تربیتی کیمپ سے بے حد اطمینان کا احساس کیا، تربیتی کیمپ میں پورے ضلع سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔آخر میں صدر اجلاس کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا ۔

 

]]>
https://sachkiawaz.com/5607/feed/ 0
امید پورٹل میں وقف املاک کے رجسٹریشن سے کیا جائےاجتناب:آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%af-%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%82%d9%81-%d8%a7%d9%85%d9%84%d8%a7%da%a9-%da%a9%db%92-%d8%b1%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86-%d8%b3%db%92/ https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%af-%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%82%d9%81-%d8%a7%d9%85%d9%84%d8%a7%da%a9-%da%a9%db%92-%d8%b1%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86-%d8%b3%db%92/#respond Tue, 15 Jul 2025 12:21:17 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4418 (پی این این)
نئی دہلی: پارلیمنٹ سے متنازعہ وقف ترمیمی قانون کی منظوری کے بعد سے ملک کے متعدد چھوٹے بڑے شہروں بلکہ بعض مقامات پر دیہاتوں اور قصبات تک میں متعدد عوامی جلسے، راؤنڈ ٹیبل میٹنگس، انٹرفیتھ پروگرام اور پریس کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا۔ ضلع اور شہر کی سطح سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعے صدر جمہوریہ کو وقف قانون کے خلاف سیکڑوں کی تعداد میں میمورنڈم دئے گئے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ وقف بچاؤ دستور بچاؤ مہم کے کنوینر اور بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک بیان میں کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی کوششوں سے ملک کی متعدد ریاستوں میں متنازعہ وقف ترمیمی قانون کے خلاف پورے زور شور کے ساتھ تحفظ اوقاف مہم جاری ہے۔ چھوٹے بڑے کئی شہروں میں بڑے بڑے جلسوں کا انعقاد ہو چکا ہے جس میں بورڈ کی قیادت کے علاوہ متعدد ممبران پارلیمنٹ سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنما بھی شریک رہے۔ بڑے بڑے جلسوں کے علاوہ برادران وطن کی ذہن سازی کے لیے متعدد بڑے شہروں میں راؤنڈ ٹیبل میٹنگوں کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں سیاسی سماجی قائدین، سول سوسائٹی کی اہم شخصیات شریک ہوئیں اور اس سے اتفاق کیا کہ پارلیمنٹ سے منظور وقف ترمیمی قانون نہ صرف امتیاز و تفریق پر مبنی ہے بلکہ دستور کی بنیادی دفعات سے بھی راست متصادم ہے ۔
13 جولائی کو تحفظ اوقاف مہم کے پہلے مرحلے کے اختتام کے بعد تمام ریاستی کنوینرس کے ساتھ ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا جس میں اب تک کی کاروائی کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ مرحلے کے لیے تجاویز و مشورے بھی طلب کئے گئے، جنہیں بہت جلد بورڈ کی عاملہ کی منظوری کے بعد دوسرے مرحلے کا روڈ میپ منظر عام پر لایا جائے گا ۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ ان متنازعہ ترمیمات کے خلاف پوری اپوزیشن پارٹیوں کا پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مظاہرہ اور بورڈ کی تحفظ اوقاف کانفرنسوں میں سیاسی و سماجی رہنماؤں، سول سوسائٹی کی اہم شخصیات کی شرکت یہ ثابت کر رہی ہے کہ ملک کا سواد اعظم بی جے پی حکومت کے ذریعہ لائی گئی ان ترمیمات کے خلاف نہ صرف صف آراء ہے بلکہ ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ دیر یا سویر رائے عامہ کے دباؤ میں حکومت کو ان سیاہ ترمیمات کو واپس لینا ہوگا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%af-%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%82%d9%81-%d8%a7%d9%85%d9%84%d8%a7%da%a9-%da%a9%db%92-%d8%b1%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86-%d8%b3%db%92/feed/ 0
ملی قیادتوں کی مشترکہ پریس کانفرنس ،’’وقف بچاؤ ، دستور بچاؤ‘‘کانفرنس کو کامیاب بنانے کا عزم https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%84%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3-%da%a9%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b1%d9%86%d8%b3-%d8%8c/ https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%84%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3-%da%a9%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b1%d9%86%d8%b3-%d8%8c/#respond Tue, 17 Jun 2025 10:54:11 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4090 (پی این این)
پٹنہ : 29 جون کو گاندھی میدان پٹنہ میں منعقد ہونے والی “وقف بچاؤ، دستور بچاؤ کانفرنس” کی تیاریاں بڑی تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے زیر اہتمام ہونے والی اس تاریخی کانفرنس کی مجلس استقبالیہ کی جانب سے پٹنہ میں امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی صدارت میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد کی گئی ،جس میں ملی تنظیموں کے ذمہ داران خانقاہوں کے سجادگان، ائمہ کرام، استقبالیہ کمیٹی کے اہم ذمہ داران اور متعدد مسالک و مکاتب فکر کے قائدین نے شرکت کی اور متفقہ طور پر “وقف بچاؤ دستور بچاؤ” کانفرنس کوہرطرح کامیاب بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس اجلاس کی کامیابی کے لیے ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ساتھ ہی پٹنہ سمیت مختلف شہروں اور قصبوں میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں ائمہ کمیٹی، خواص کمیٹی، مجلس استقبالیہ کمیٹی، میڈیا کمیٹی، نشر و اشاعت کمیٹی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان تمام کمیٹیوں نے یک زبان ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ “پٹنہ کی سرزمین وقف بچاؤ تحریک کی امین بنے گی”۔ ماضی میں دین بچاؤ دیش بچاؤ تحریک کے دوران جس طرح پٹنہ نے خدمت، ضیافت اور نظم و ضبط اور اہتمام کی مثال پیش کی تھی، اس بار بھی وہی نقش دہرانے کا اعلان کیا گیا۔
اس موقع پر شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ وقف ترمیمی قانون نہ صرف آئینی خلاف ورزی ہے بلکہ وقف املاک پر منظم قبضے اور لوٹ کھسوٹ کی راہ ہموار کرتا ہے۔اس قانون کے نفاذ کے بعد وقف کا بنیادی اسلامی تصورِ اور اس کی اصل اسلامی تعریفات ختم کر دی جائیں گی۔ وقف بورڈ کو ایک حکومتی ایجنسی میں تبدیل کرنے، لوگوں کے وقف کرنے کے اختیارات کو محدود تر کر دیا جائےگا۔ ہمارے خیر کی 1400 سالہ تاریخ کو مٹا دیا جائے گا اور ہمارے مدارس، مساجد، مقابر و قبرستان سب کو برباد کر دیا جائے گا۔
یہ تمام تبدیلیاں دراصل ایک منصوبہ بند سازش ہیں جس کے ذریعے مسلمانوں کے مذہبی، تعلیمی، سماجی و تاریخی ورثے کو مٹانے کی راہ بنائی جا رہی ہے۔ کانفرنس کا مقصد ان تمام سازشوں کو ناکام بنانا اور ایک متحد آواز میں حکومت ہند کو یہ پیغام دینا ہے کہ “ہم دستور کے ساتھ ہیں، اور اپنے وقفی اداروں پر کسی قسم کی سیاسی یا قانونی شب خون کو برداشت نہیں کریں گے۔”پریس کانفرنس کے اختتام پر تمام جماعتوں کے قائدین اور امارت شرعیہ کے نمائندگان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 29 جون کو اپنے گھروں سے نکلیں، اور گاندھی میدان کو تاریخ کے سب سے بڑے پرامن، باوقار اور دستور پرست اجتماع میں بدل دیں۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%84%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3-%da%a9%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b1%d9%86%d8%b3-%d8%8c/feed/ 0
گیا کے عوام کا 29 جون کو وقف ترمیمی قانون کے خلاف گاندھی میدان بھرنے کا عزم https://sachkiawaz.com/%da%af%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-29-%d8%ac%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%88%d9%82%d9%81-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85%db%8c-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9/ https://sachkiawaz.com/%da%af%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-29-%d8%ac%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%88%d9%82%d9%81-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85%db%8c-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9/#respond Sun, 15 Jun 2025 10:39:11 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4054 (پی این این)
گیا:بہار کے گیا کی فضا اُس وقت نعرۂ حق سے گونج اُٹھی جب امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی صدارت میں “وقف بچاؤ، دستور بچاؤ” کے عنوان سے ایک بڑا اجلاس عام منعقد ہوا۔ یہ اجلاس دراصل 29 جون کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں ہونے والی کانفرنس وقف بچاؤ دستور بچاؤ کی تیاری کا حصہ تھا، جس میں عوام نے گاندھی میدان کو بھرنے کے عزم کا اظہار کیا۔یہ صرف ایک احتجاجی پروگرام نہیں بلکہ عوامی شعور، آئینی بیداری اور قومی غیرت کا زبردست مظاہرہ تھا جس میں ہر آنکھ پرعزم اور ہر دل پُرجوش نظر آیا۔
اجلاس میں گیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ مرد، خواتین، نوجوان، بزرگ، طلبہ اور سماجی کارکنان کا ایسا سیلاب امنڈا کہ گیا کی زمین گواہ بن گئی کہ ہندوستانی عوام اپنی دینی و ملی وراثت اور آئینی حقوق کے تحفط کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے ،اس اجلاس میں نہ صرف مسلمانوں نے بلکہ ہندو، جین، بودھ، دلت ہرطبقہ اور سماج کے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
امیر شریعت نے اس مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ وقف کوئی مذہبی جذبات کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک سماجی، تعلیمی، صحت و فلاحی ڈھانچے کا معاملہ ہے، جس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ہمارے غیر مسلم بھائی ہیں۔ حکومت کی طرف سے لائے گئے وقف ترمیمی قانون دراصل اس پورے خدماتی نظام کو منہدم کرنے کی کوشش ہے جو چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے جس کا تحفظ صرف مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر انصاف پسند ہندوستانی کی ذمہ داری ہے۔
سیاسی و سماجی حلقوں کی ممتاز شخصیات نے بھی اجلاس سے خطاب کیا اور امیرِ شریعت کی قیادت میں مکمل اتحاد و حمایت کا اعلان کیا۔ ان قائدین کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ وقف کی زمین پر صرف عمارتیں نہیں بلکہ نسلوں کا مستقبل کھڑا ہے، اور حکومت کی چال صرف قانون کی ترمیم نہیں بلکہ قوم کی روح اور 1400 سال پرانی خیر کی تاریخ کی مٹانے کی منظم سازش و منصوبہ بندی ہے۔
اس تاریخی اجلاس میں کئی اہم سماجی و سیاسی شخصیات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور وقف ترمیمی قانون کی سخت مخالفت کرتے ہوئے عوام کو متحد ہونے کا پیغام دیا۔ جلسے کی نظامت جناب فیاض حسین نے بحسن و خوبی انجام دی، جبکہ مہمانانِ خصوصی کے طور پر اجلاس میں شریک ڈاکٹر سورندر یادو، رکن پارلیمان جہان آباد (راجد) نے کہا کہ “وقف کی زمینیں صرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ پورے سماج کی تعلیمی اور فلاحی ترقی کا ذریعہ ہیں، ان پر حملہ ملک کے آئینی ڈھانچے پر حملہ ہے۔” اے آئی ایس اے کے معروف رہنما طارق عالم نے کہا کہ “یہ قانون صرف اقلیتوں کے خلاف نہیں بلکہ غریبوں کے حق پر ڈاکہ ہے، ہم ہر سطح پر اس کا مقابلہ کریں گے۔” کانگریس کے اقلیتی شعبہ بہار کے صدر عمیر خان نے کہا کہ “وقف اداروں کو ختم کر کے حکومت ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کو مٹانا چاہتی ہے، مگر ہم اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔” راجد رہنما اور سابق بیلا گنج امیدوار وشنو ناتھ یادو نے کہا کہ “وقف ترمیمی قانون آئین کی روح کے خلاف ہے، ہمیں مل کر اس کا راستہ روکنا ہوگا۔” پروفیسر صمدانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ “وقف اللہ کی امانت ہے، اس پر سیاسی حملے کو عوامی اتحاد سے ہی روکا جا سکتا ہے۔” ان تمام مقررین نے 29 جون کو گاندھی میدان، پٹنہ میں بھرپور شرکت کی اپیل کی اور عوام کے جوش و جذبے کو سراہا۔
پٹنہ کی یہ سرزمین اب ایک نئی تاریخ لکھنے جا رہی ہے، جہاں 29 جون کو وہ قوت جمع ہوگی جو صرف احتجاج کرنے نہیں، بلکہ آئین کو بچانے، وقف کی حفاظت کرنے، اور قوم کی امانت کو محفوظ رکھنے کا عملی اعلان کرے گی۔ اس دن گاندھی میدان محض ایک مقام نہیں، بلکہ ایک تحریک کا مرکز بنے گا، جہاں سے نکلنے والی آواز آنے والی نسلوں کے لیے بیداری، مزاحمت اور قیادت کا مینار ثابت ہوگی۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%da%af%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-29-%d8%ac%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%88%d9%82%d9%81-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85%db%8c-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9/feed/ 0
SC: فی الحال نہیں ہوگی وقف کونسل اور بورڈ میں کوئی نئی تقرری https://sachkiawaz.com/sc%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d9%88-7%d8%af%d9%86%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8-%d8%af%db%8c%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa%d8%8c-%d9%88/ https://sachkiawaz.com/sc%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d9%88-7%d8%af%d9%86%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8-%d8%af%db%8c%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa%d8%8c-%d9%88/#respond Fri, 18 Apr 2025 04:46:32 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=3527  نئی دہلی: مسلمانوں کو سپریم کورٹ کی جانب سے ایک بڑی راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے نئے وقف قانون پر عارضی روک لگا دی ہے۔جس سے مسلمانوں میںانصاف کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے آج کے فیصلے پر اطمنان کا اظہار کیا ہے۔ غور طلب ہے کہ عدالت عظمیٰ نے آج ایک اہم فیصلے میں نئے وقف قانون کی اہم شقوں پر عارضی روک لگائی ہے اور حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اگلی سماعت تک حکم امتناعی برقراررکھے ۔یہ روک سات دن کے لیے لگائی گئی ہے ۔
چیف جسٹس سنجیوکھنہ کی قیادت والی تین رکنی بینچ نے کہاکہ سنٹر ل وقف کونسل اور اوقاف بورڈ میں تا حال کوئی تقری نہ کرے ۔اور وقف بائی یوزر جو جائیداد 1997 کے قانون کے تحت درج کی گئی ہے اسے چھیڑا نہ جائے ۔عدالت عظمی نے اس کیس کی اگلی سماعت مئی کے پہلے ہفتہ میں طے کی ہے ۔مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے ایک ہفتہ کی مہلت دی ہے اور کیس کی اگلی سماعت 5مئی کو ہوگی ۔
سپریم کورٹ نے کل نئے وقف ترمیمی قانون کے خلاف تقریبا 73 عرضداشتوں پر سماعت کرتے ہوئے کئی نکات پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا تھا اور ساتھ ہی کہاتھا کہ وہ اس قانون کی کچھ شقوں پر روک لگاسکتی ہے ۔یہ امکان ظاہرکیاجارہاتھاکہ عدالت عظمی ،اس سلسلے میں اس قانون کی جوکچھ دفعات ہیں جن میں غیرمسلموں کی سنٹرل وقف کونسل اور وقف بورڈ میں نامزدگی اور وقف جائیدادوں کے تعلق سے کلکٹر ز کے رول کے بارے میں جو تنازعات ہیں ،اس پر روک لگاسکتی ہے ۔عدالت عظمی کی تین رکنی بنچ نے اس سلسلے میں کل کوئی حکم امتناعی جاری نہیں کیا تھا اور سماعت آج کے لیے ملتوی کردی تھی ۔دوران سماعت عدالت نے کہا تھاکہ وہ وقف قانون کے بارے میں آرڈر پاس کرسکتی ہے تاکہ اس میں متاثرہ پارٹی کے جوخدشات ہیں انھیں دورکیاجاسکے ۔
All Indiaعدالت نے سماعت کے دوران یہ بھی کہا تھاکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ صدیوں پرانی وقف جائیدادوں کا رجسٹریشن ہو جن میں بہت ساری مساجد اور دوسری تاریخی عبادت گاہیں شامل ہیں ۔سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی حکومت کے وکیل سے یہ سوال بھی پوچھا تھا کہ کیاوہ ہندوؤں کی عبادت گاہوں اور ٹرسٹوں میں غیر ہندوؤں کو نمائندگی دیں گے ۔چیف جسٹس نے تشار مہتہ سے پوچھا تھا کہ کیا مسلمان ہندوٹرسٹ کے ممبر بن سکتے ہیں ۔
اس سے قبل عرضی گزاروں کی پیروی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت کوبتایاکہ‘‘ وقف ایک مذہبی معاملہ ہے اور یہ اسلام کی روح سے وابستہ ہے ۔انھوں نے کہاکہ وقف ترمیمی قانون غیر آئینی اور مسلمانوں کے مذہبی امو رمیں سراسر مداخلت ہے ۔انھوں نے عدالت میں دلیل دی کہ دیگر طبقات کے مذہبی اداروں میں مسلمانوں کی شرکت نہیں توپھر مسلمانوں اوقاف میں غیرمسلم ممبران کی موجودگی ضروری کیوں قراردی گئی ۔کلکٹر کوجج کا اختیار کیوں دیاگیا اور وہ اپنے ہی مقدمہ کا فیصلہ کیسے کریگا۔’’
سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لا بورڈ ، جمعیتہ علماہند(مولانا ارشد مدنی )،کانگریس ممبر پارلیمنٹ محمد جاوید،ڈی ایم کے ، مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی ، جمعیتہ علماہند کے صدر مولانا محمودمدنی ،سمستھ کیرالہ جمعیتہ علما،ممبران پارلیمنٹ منوج کمار جھا ،مہوا موئترا ،انڈین یونین مسلم لیگ ،عام آدمی پارٹی کے امانت اللہ خان ،تمل اداکار وجے ،ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس اور دیگر درجنوں اہم شخصیات اور تنظیموں نے عرضیاں داخل کی ہیں ۔
]]>
https://sachkiawaz.com/sc%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d9%88-7%d8%af%d9%86%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8-%d8%af%db%8c%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa%d8%8c-%d9%88/feed/ 0