add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
نئی دہلی: تھانہ انچارج کے پاس شکایت لے کر آئی ہوئی خاتون کو دھمکی دینے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے ۔ ویڈیو ٹیلا موڑ تھانے کی سکندر پور چوکی کا بتایا جا رہا ہے ۔ ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے (DCP Delhi Police) ڈی سی پی ٹرانس ہندن نمیش پاٹل نے سکندر پور چوکی کے انچارج کو لائن حاضر کیاہے ۔ اس معاملے کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے ۔
وائرل ویڈیو 1:54 منٹ طویل ہے ۔ اس میں انسپکٹر کہہ رہے ہیں کہ کیا کارروائی کی جائے ، یہ بہت قانونی ہوتا جا رہا ہے ۔ مجھے عمل بتائیں، ہم کیا کریں؟ عورت کہتی ہے کہ ہم آرام سے بات کر رہے ہیں۔ انسپکٹر کہتا ہے کہ ہم سکون سے بات کر رہے ہیں لیکن آپ سمجھ نہیں پا رہے ۔ بہت زیادہ کہا جا رہا ہے ۔ اس دوران انسپکٹر قابل اعتراض الفاظ استعمال کرتا ہے ۔ تیری زبان تجھے جیل بھیج دے گی، ہم تیری مدد کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن اب نہیں۔ جہاں بھی جانا ہے جا۔
]]>مظفرنگر: مظفر نگر ضلع میں سوشل میڈیا (Social Media) پر اس وقت ایک ویڈیو بہت تیزی کے ساتھ وائرل (Viral Video) ہو رہی ہے جس میں ایک برقہ پوش مسلم لڑکی سے زبردستی برقعہ اتروایا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ موجود ایک لڑکے کے ساتھ کچھ شرپسند عناصر بدسلوکی اور مارپیٹ کرتے نظر آ رہے ہیں۔
اس واقعے کو ایک نوجوان نے اپنے موبائل میں قید کر لیا سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ منگل 12 اپریل کا ہے۔ جیسے ہی اس واقعہ کی اطلاع پر پولیس کو دی گئی پولیس نے نوجوان لڑکی کو ہجوم کے چنگل سے آزاد کروا کر تھانے پہنچایا۔ متاثرہ لڑکی کی شکایت پر سنگین دفعات کے تحت شرپسندوں کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے اس معاملے میں چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
دراصل مظفر نگر کے کھالا پار تھانہ علاقے کی رہائشی ایک مسلم خاتون اتکرشٹ اسمال فائننس لمیٹڈ کمپنی میں سچن نامی ایک ہندو نوجوان کے ساتھ بینک کی قسط وصول کرنے کا کام کرتی ہے۔ منگل کو خاتون نے اپنی بیٹی کو سوجڈو گاؤں کی رہائشی شمع اہلیہ شاہنواز کے یہاں سے قسط وصول کرنے کے لیے اپنی بیٹی کو سچن کے ساتھ بھیجا تھا۔ا جس وقت یہ لڑکی اور سچن بائیک پر سوار ہو کر سوجڈو گاؤں سے آ رہے تھے تو کھالاپار محلے میں واقع درزی والی گلی میں اٹھ سے دس لوگوں نے انہیں جبراً روک دیا۔متاثرہ لڑکی کا الزام ہے کہ اس دوران ان سبھی لوگوں نے ان کے ساتھ گالی گلوچ اور بدسلوکی کرتے ہوئے مار پیٹ کی۔ اس دوران کسی نوجوان نے پورا واقعہ اپنے موبائل میں قید کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔
اس معاملے میں مزید معلومات دیتے ہوئے سی او سٹی راجو کمار ساؤ نے بتایا کہ گزشتہ 12 اپریل 2025 کو شام کے چار سے ساڑھے چار بجے کے بیچ تھانہ بھون شاملی کا رہائشی ایک ہندو نوجوان اور کھالا پار کی رہائشی مسلم لڑکی اتکرسٹ سمال فائنانس بینک کے لون کی قسط کو سوجڑو سے جب وصول کر کے ارہے تھے تو کھالا پار میں ہی درزی والی گلی کے سامنے کچھ مقامی لوگوں نے ان کو روک کر ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور ان کے ساتھ مار پیٹ کی۔
اس معاملے میں تھانہ کھالاپار پولیس کو جب اطلاع موصول ہوئی تو متاثرہ کی تحریر پر سنگین دفعات میں مقدمہ دائر کر دیا گیا اس پورے واقعے کی کچھ لوگوں نے ویڈیو بھی بنایا تھا اسے ویڈیو میں یہ سب ہوتا دکھ بھی رہا ہے اس ویڈیو میں جن لوگوں کے ذریعے اس واردات کو انجام دیا جا رہا ہے ان کی پہچان کی جارہی ہے۔
]]>