add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); “Save Waqf – sachkiawaz.com https://sachkiawaz.com Tue, 17 Jun 2025 10:54:11 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.9 ملی قیادتوں کی مشترکہ پریس کانفرنس ،’’وقف بچاؤ ، دستور بچاؤ‘‘کانفرنس کو کامیاب بنانے کا عزم https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%84%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3-%da%a9%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b1%d9%86%d8%b3-%d8%8c/ https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%84%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3-%da%a9%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b1%d9%86%d8%b3-%d8%8c/#respond Tue, 17 Jun 2025 10:54:11 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4090 (پی این این)
پٹنہ : 29 جون کو گاندھی میدان پٹنہ میں منعقد ہونے والی “وقف بچاؤ، دستور بچاؤ کانفرنس” کی تیاریاں بڑی تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے زیر اہتمام ہونے والی اس تاریخی کانفرنس کی مجلس استقبالیہ کی جانب سے پٹنہ میں امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی صدارت میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد کی گئی ،جس میں ملی تنظیموں کے ذمہ داران خانقاہوں کے سجادگان، ائمہ کرام، استقبالیہ کمیٹی کے اہم ذمہ داران اور متعدد مسالک و مکاتب فکر کے قائدین نے شرکت کی اور متفقہ طور پر “وقف بچاؤ دستور بچاؤ” کانفرنس کوہرطرح کامیاب بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس اجلاس کی کامیابی کے لیے ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ساتھ ہی پٹنہ سمیت مختلف شہروں اور قصبوں میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں ائمہ کمیٹی، خواص کمیٹی، مجلس استقبالیہ کمیٹی، میڈیا کمیٹی، نشر و اشاعت کمیٹی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان تمام کمیٹیوں نے یک زبان ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ “پٹنہ کی سرزمین وقف بچاؤ تحریک کی امین بنے گی”۔ ماضی میں دین بچاؤ دیش بچاؤ تحریک کے دوران جس طرح پٹنہ نے خدمت، ضیافت اور نظم و ضبط اور اہتمام کی مثال پیش کی تھی، اس بار بھی وہی نقش دہرانے کا اعلان کیا گیا۔
اس موقع پر شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ وقف ترمیمی قانون نہ صرف آئینی خلاف ورزی ہے بلکہ وقف املاک پر منظم قبضے اور لوٹ کھسوٹ کی راہ ہموار کرتا ہے۔اس قانون کے نفاذ کے بعد وقف کا بنیادی اسلامی تصورِ اور اس کی اصل اسلامی تعریفات ختم کر دی جائیں گی۔ وقف بورڈ کو ایک حکومتی ایجنسی میں تبدیل کرنے، لوگوں کے وقف کرنے کے اختیارات کو محدود تر کر دیا جائےگا۔ ہمارے خیر کی 1400 سالہ تاریخ کو مٹا دیا جائے گا اور ہمارے مدارس، مساجد، مقابر و قبرستان سب کو برباد کر دیا جائے گا۔
یہ تمام تبدیلیاں دراصل ایک منصوبہ بند سازش ہیں جس کے ذریعے مسلمانوں کے مذہبی، تعلیمی، سماجی و تاریخی ورثے کو مٹانے کی راہ بنائی جا رہی ہے۔ کانفرنس کا مقصد ان تمام سازشوں کو ناکام بنانا اور ایک متحد آواز میں حکومت ہند کو یہ پیغام دینا ہے کہ “ہم دستور کے ساتھ ہیں، اور اپنے وقفی اداروں پر کسی قسم کی سیاسی یا قانونی شب خون کو برداشت نہیں کریں گے۔”پریس کانفرنس کے اختتام پر تمام جماعتوں کے قائدین اور امارت شرعیہ کے نمائندگان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 29 جون کو اپنے گھروں سے نکلیں، اور گاندھی میدان کو تاریخ کے سب سے بڑے پرامن، باوقار اور دستور پرست اجتماع میں بدل دیں۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%84%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3-%da%a9%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b1%d9%86%d8%b3-%d8%8c/feed/ 0
گیا کے عوام کا 29 جون کو وقف ترمیمی قانون کے خلاف گاندھی میدان بھرنے کا عزم https://sachkiawaz.com/%da%af%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-29-%d8%ac%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%88%d9%82%d9%81-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85%db%8c-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9/ https://sachkiawaz.com/%da%af%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-29-%d8%ac%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%88%d9%82%d9%81-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85%db%8c-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9/#respond Sun, 15 Jun 2025 10:39:11 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4054 (پی این این)
گیا:بہار کے گیا کی فضا اُس وقت نعرۂ حق سے گونج اُٹھی جب امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی صدارت میں “وقف بچاؤ، دستور بچاؤ” کے عنوان سے ایک بڑا اجلاس عام منعقد ہوا۔ یہ اجلاس دراصل 29 جون کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں ہونے والی کانفرنس وقف بچاؤ دستور بچاؤ کی تیاری کا حصہ تھا، جس میں عوام نے گاندھی میدان کو بھرنے کے عزم کا اظہار کیا۔یہ صرف ایک احتجاجی پروگرام نہیں بلکہ عوامی شعور، آئینی بیداری اور قومی غیرت کا زبردست مظاہرہ تھا جس میں ہر آنکھ پرعزم اور ہر دل پُرجوش نظر آیا۔
اجلاس میں گیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ مرد، خواتین، نوجوان، بزرگ، طلبہ اور سماجی کارکنان کا ایسا سیلاب امنڈا کہ گیا کی زمین گواہ بن گئی کہ ہندوستانی عوام اپنی دینی و ملی وراثت اور آئینی حقوق کے تحفط کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے ،اس اجلاس میں نہ صرف مسلمانوں نے بلکہ ہندو، جین، بودھ، دلت ہرطبقہ اور سماج کے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
امیر شریعت نے اس مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ وقف کوئی مذہبی جذبات کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک سماجی، تعلیمی، صحت و فلاحی ڈھانچے کا معاملہ ہے، جس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ہمارے غیر مسلم بھائی ہیں۔ حکومت کی طرف سے لائے گئے وقف ترمیمی قانون دراصل اس پورے خدماتی نظام کو منہدم کرنے کی کوشش ہے جو چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے جس کا تحفظ صرف مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر انصاف پسند ہندوستانی کی ذمہ داری ہے۔
سیاسی و سماجی حلقوں کی ممتاز شخصیات نے بھی اجلاس سے خطاب کیا اور امیرِ شریعت کی قیادت میں مکمل اتحاد و حمایت کا اعلان کیا۔ ان قائدین کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ وقف کی زمین پر صرف عمارتیں نہیں بلکہ نسلوں کا مستقبل کھڑا ہے، اور حکومت کی چال صرف قانون کی ترمیم نہیں بلکہ قوم کی روح اور 1400 سال پرانی خیر کی تاریخ کی مٹانے کی منظم سازش و منصوبہ بندی ہے۔
اس تاریخی اجلاس میں کئی اہم سماجی و سیاسی شخصیات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور وقف ترمیمی قانون کی سخت مخالفت کرتے ہوئے عوام کو متحد ہونے کا پیغام دیا۔ جلسے کی نظامت جناب فیاض حسین نے بحسن و خوبی انجام دی، جبکہ مہمانانِ خصوصی کے طور پر اجلاس میں شریک ڈاکٹر سورندر یادو، رکن پارلیمان جہان آباد (راجد) نے کہا کہ “وقف کی زمینیں صرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ پورے سماج کی تعلیمی اور فلاحی ترقی کا ذریعہ ہیں، ان پر حملہ ملک کے آئینی ڈھانچے پر حملہ ہے۔” اے آئی ایس اے کے معروف رہنما طارق عالم نے کہا کہ “یہ قانون صرف اقلیتوں کے خلاف نہیں بلکہ غریبوں کے حق پر ڈاکہ ہے، ہم ہر سطح پر اس کا مقابلہ کریں گے۔” کانگریس کے اقلیتی شعبہ بہار کے صدر عمیر خان نے کہا کہ “وقف اداروں کو ختم کر کے حکومت ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کو مٹانا چاہتی ہے، مگر ہم اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔” راجد رہنما اور سابق بیلا گنج امیدوار وشنو ناتھ یادو نے کہا کہ “وقف ترمیمی قانون آئین کی روح کے خلاف ہے، ہمیں مل کر اس کا راستہ روکنا ہوگا۔” پروفیسر صمدانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ “وقف اللہ کی امانت ہے، اس پر سیاسی حملے کو عوامی اتحاد سے ہی روکا جا سکتا ہے۔” ان تمام مقررین نے 29 جون کو گاندھی میدان، پٹنہ میں بھرپور شرکت کی اپیل کی اور عوام کے جوش و جذبے کو سراہا۔
پٹنہ کی یہ سرزمین اب ایک نئی تاریخ لکھنے جا رہی ہے، جہاں 29 جون کو وہ قوت جمع ہوگی جو صرف احتجاج کرنے نہیں، بلکہ آئین کو بچانے، وقف کی حفاظت کرنے، اور قوم کی امانت کو محفوظ رکھنے کا عملی اعلان کرے گی۔ اس دن گاندھی میدان محض ایک مقام نہیں، بلکہ ایک تحریک کا مرکز بنے گا، جہاں سے نکلنے والی آواز آنے والی نسلوں کے لیے بیداری، مزاحمت اور قیادت کا مینار ثابت ہوگی۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%da%af%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-29-%d8%ac%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%88%d9%82%d9%81-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85%db%8c-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9/feed/ 0