add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); Save Constitution” – sachkiawaz.com https://sachkiawaz.com Tue, 01 Jul 2025 11:47:19 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.9 گاندھی میدان میں کامیاب تاریخی اجتماع پر امیر شریعت کا پُرخلوص اظہار تشکر اور اوقاف و آئینی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کو جاری رکھنے کی اپیل https://sachkiawaz.com/%da%af%d8%a7%d9%86%d8%af%da%be%db%8c-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%a7%d8%a8-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%b9/ https://sachkiawaz.com/%da%af%d8%a7%d9%86%d8%af%da%be%db%8c-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%a7%d8%a8-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%b9/#respond Tue, 01 Jul 2025 11:47:19 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4207 (پی این این)
پٹنہ: امارت شرعیہ، بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے زیر اہتمام، امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی قیادت میں ’’وقف بچاؤ، دستور بچاؤ‘‘ کے تاریخی اور پُرامن عوامی اجتماع میں 10 لاکھ سے زائد وقف و دستور کے بہادر محافظین نے شرکت کرکے یہ ثابت کر دیا کہ امتِ مسلمہ اپنے دین، اوقاف، اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار اور پُرعزم ہے۔
یہ اجتماع صرف احتجاج نہیں بلکہ ایک اجتماعی بیداری کا مظہر تھا، جس میں دیہی و شہری علاقوں سے دس لاکھ سے زائد انسانوں کا سمندر امن و وقار کے ساتھ پٹنہ پہنچا۔امیر شریعت نے تمام شرکاء، منتظمین، ملی تنظیمیں، علماء ، قائدین، نوجوان رضاکاروں، ڈاکٹروں، میزبان شہریوں، اور انتظامیہ کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا:امارت شرعیہ کے تمام ذمہ داران قضاۃ مفتیان مبلغین و کارکنان ، امارت شرعیہ کے تمام ٹرسٹیز مجلس عاملہ مجلس شوری ،ارباب حل و عقد، نقباء ، امارت شرعیہ کی تنظیموں کے ذمہ داران و ممبران ،تحفظ اوقاف و کانفرنس کی کمیٹیوں، مساجد کے ائمہ، صدور و سیکریٹریز، متعدد تعلیمی اداروں کے ذمہ داران اور رضاکاروں کا خصوصی شکریہ جنہوں نے گاؤں گاؤں، کوچہ کوچہ عوام کو بیدار کیا،رات دن محنت کی اور مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔
تمام ملی تنظیمات کی قیادت و کارکنان ، خانقاہوں اور تعلیمی اداروں کا شکریہ جنہوں نے متحد ہو کر اتحادِ ملت کا مظاہرہ کیا، جن میں خصوصاً:آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ،جمعیت علماء( الف )، جمعیت علماء (م)،جماعتِ اسلامی ، جمعیت اہل حدیث ، مجلس علماء خطباء امامیہ اہل تشیع ، آل انڈیا مومن کانفرنس ، مسلم مجلس مشاورت ، خانقاہ رحمانی مونگیر ، خانقاہ فردوسیہ منیر شریف ، خانقاہ دیوان شاہ ارزانی پٹنہ ،خانقاہ درویشیہ اشرفیہ گیا ، خانقاہ چشتیہ نظامیہ دانا پور پٹنہ ، خانقاہ سرکاہی شریف مظفر پور ، خانقہ عالیہ سمر قندیہ دربھنگہ ، خانقاہ نقشبندیہ مصراولیاء اورائی مظفر پور ، خانقاہ کریمیہ نقشبندیہ مجددیہ گڑہول شریف سیتامڑھی ، خانقاہ عرفانیہ ، خانقاہ پیر ڈومریا شاہ بھاگلپور ، خانقاہ شمسیہ ویشالی ، خانقاہ اخلاقیہ مظفر پور ، درگاہ حضرت منہاج الدین راستی پٹنہ ، خانقاہ ریاضیہ پٹنہ ، خانقاہ مداری اشرفی سہسرام ، خانقاہ مخدوم احمد بہار شریف ، خانقاہ تیغیہ مظفر پور ، درگاہ کا کو جہاں آباد ، خانقاہ کبیریہ شہسرام ، آستانہ حضرت بجلی شہید سہسرام ، المعہد العالی امارت شرعیہ ، دارا العلوم الاسلامیہ،مولانا منت اللہ رحمانی انسٹی ٹیوٹ ، امارت ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ ،مولانا سجاد میموریل اسپتال ، پارہ مڈیکل انسٹی ٹیوٹ ، جامعہ رحمانی مونگیر اور دیگر تمام تنظیمات، خانقاہیں و مدارس شامل ہیں۔
کانفرنس کے کنوینر مولانا احمد حسین اور ان کے تمام رفقاء کار کا شکریہ جنہوں نے لگاتار محنت کرکے پروگرام کا بہترین انتظام کیا ۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کی خدمات کا شکریہ جنہوں نے میڈیکل کیمپ لگا کر حاضرین کی خدمت کی اور انسانیت نوازی کی روشن مثال قائم کی۔ علماء و مشائخ، مفکرین، اور تعلیمی و سماجی قائدین کا شکریہ جنہوں نے اپنی علمی رہنمائی، فکری بصیرت اور عملی تعاون سے تحریک کو معنوی قوت عطا کی۔سیاسی و سماجی رہنما کا شکریہ جنہوں نے حق کی آواز پر لبیک کہا اور دستورِ ہند کے دفاع میں مظلوموں کا ساتھ دیا۔ پٹنہ کے مسلمان و غیر مسلم عوام کا شکریہ جنہوں نے مہمان نوازی، حسنِ اخلاق اور بھائی چارے کا شاندار مظاہرہ کیا اور شہر کو مثالی میزبان بنایا۔
امیر شریعت نےمزید کہا کہ یہ اجتماع کسی مہم کا اختتام نہیں بلکہ ایک عظیم تحریک کا نقطۂ آغاز ہے۔ اوقاف، ملت کی امانت اور ربِّ کائنات کی عطا کردہ نعمت ہیں۔ ان کا تحفظ ایک دینی و آئینی فریضہ ہے۔ آئیں! ہم سب عزم کریں کہ اپنے اپنے علاقوں میں اس شعور کو عام کریں اور پُرامن، منظم جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔ یہ پرامن اور تاریخی اجتماع، ملک کی جمہوری روح اور مسلمانوں کے وقار کا مظہر تھا۔ حکومتِ ہند سے پرزور اپیل کی جاتی ہے کہ وہ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو واپس لے اور آئینی دفعات (آرٹیکل13، 14، 25، 26 اور 300-A) کا احترام کرتے ہوئے ملتِ اسلامیہ کے جائز خدشات کو سنجیدگی سے سنے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%da%af%d8%a7%d9%86%d8%af%da%be%db%8c-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%a7%d8%a8-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%b9/feed/ 0
گیا کے عوام کا 29 جون کو وقف ترمیمی قانون کے خلاف گاندھی میدان بھرنے کا عزم https://sachkiawaz.com/%da%af%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-29-%d8%ac%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%88%d9%82%d9%81-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85%db%8c-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9/ https://sachkiawaz.com/%da%af%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-29-%d8%ac%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%88%d9%82%d9%81-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85%db%8c-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9/#respond Sun, 15 Jun 2025 10:39:11 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4054 (پی این این)
گیا:بہار کے گیا کی فضا اُس وقت نعرۂ حق سے گونج اُٹھی جب امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی صدارت میں “وقف بچاؤ، دستور بچاؤ” کے عنوان سے ایک بڑا اجلاس عام منعقد ہوا۔ یہ اجلاس دراصل 29 جون کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں ہونے والی کانفرنس وقف بچاؤ دستور بچاؤ کی تیاری کا حصہ تھا، جس میں عوام نے گاندھی میدان کو بھرنے کے عزم کا اظہار کیا۔یہ صرف ایک احتجاجی پروگرام نہیں بلکہ عوامی شعور، آئینی بیداری اور قومی غیرت کا زبردست مظاہرہ تھا جس میں ہر آنکھ پرعزم اور ہر دل پُرجوش نظر آیا۔
اجلاس میں گیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ مرد، خواتین، نوجوان، بزرگ، طلبہ اور سماجی کارکنان کا ایسا سیلاب امنڈا کہ گیا کی زمین گواہ بن گئی کہ ہندوستانی عوام اپنی دینی و ملی وراثت اور آئینی حقوق کے تحفط کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے ،اس اجلاس میں نہ صرف مسلمانوں نے بلکہ ہندو، جین، بودھ، دلت ہرطبقہ اور سماج کے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
امیر شریعت نے اس مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ وقف کوئی مذہبی جذبات کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک سماجی، تعلیمی، صحت و فلاحی ڈھانچے کا معاملہ ہے، جس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ہمارے غیر مسلم بھائی ہیں۔ حکومت کی طرف سے لائے گئے وقف ترمیمی قانون دراصل اس پورے خدماتی نظام کو منہدم کرنے کی کوشش ہے جو چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے جس کا تحفظ صرف مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر انصاف پسند ہندوستانی کی ذمہ داری ہے۔
سیاسی و سماجی حلقوں کی ممتاز شخصیات نے بھی اجلاس سے خطاب کیا اور امیرِ شریعت کی قیادت میں مکمل اتحاد و حمایت کا اعلان کیا۔ ان قائدین کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ وقف کی زمین پر صرف عمارتیں نہیں بلکہ نسلوں کا مستقبل کھڑا ہے، اور حکومت کی چال صرف قانون کی ترمیم نہیں بلکہ قوم کی روح اور 1400 سال پرانی خیر کی تاریخ کی مٹانے کی منظم سازش و منصوبہ بندی ہے۔
اس تاریخی اجلاس میں کئی اہم سماجی و سیاسی شخصیات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور وقف ترمیمی قانون کی سخت مخالفت کرتے ہوئے عوام کو متحد ہونے کا پیغام دیا۔ جلسے کی نظامت جناب فیاض حسین نے بحسن و خوبی انجام دی، جبکہ مہمانانِ خصوصی کے طور پر اجلاس میں شریک ڈاکٹر سورندر یادو، رکن پارلیمان جہان آباد (راجد) نے کہا کہ “وقف کی زمینیں صرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ پورے سماج کی تعلیمی اور فلاحی ترقی کا ذریعہ ہیں، ان پر حملہ ملک کے آئینی ڈھانچے پر حملہ ہے۔” اے آئی ایس اے کے معروف رہنما طارق عالم نے کہا کہ “یہ قانون صرف اقلیتوں کے خلاف نہیں بلکہ غریبوں کے حق پر ڈاکہ ہے، ہم ہر سطح پر اس کا مقابلہ کریں گے۔” کانگریس کے اقلیتی شعبہ بہار کے صدر عمیر خان نے کہا کہ “وقف اداروں کو ختم کر کے حکومت ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کو مٹانا چاہتی ہے، مگر ہم اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔” راجد رہنما اور سابق بیلا گنج امیدوار وشنو ناتھ یادو نے کہا کہ “وقف ترمیمی قانون آئین کی روح کے خلاف ہے، ہمیں مل کر اس کا راستہ روکنا ہوگا۔” پروفیسر صمدانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ “وقف اللہ کی امانت ہے، اس پر سیاسی حملے کو عوامی اتحاد سے ہی روکا جا سکتا ہے۔” ان تمام مقررین نے 29 جون کو گاندھی میدان، پٹنہ میں بھرپور شرکت کی اپیل کی اور عوام کے جوش و جذبے کو سراہا۔
پٹنہ کی یہ سرزمین اب ایک نئی تاریخ لکھنے جا رہی ہے، جہاں 29 جون کو وہ قوت جمع ہوگی جو صرف احتجاج کرنے نہیں، بلکہ آئین کو بچانے، وقف کی حفاظت کرنے، اور قوم کی امانت کو محفوظ رکھنے کا عملی اعلان کرے گی۔ اس دن گاندھی میدان محض ایک مقام نہیں، بلکہ ایک تحریک کا مرکز بنے گا، جہاں سے نکلنے والی آواز آنے والی نسلوں کے لیے بیداری، مزاحمت اور قیادت کا مینار ثابت ہوگی۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%da%af%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-29-%d8%ac%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%88%d9%82%d9%81-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85%db%8c-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9/feed/ 0