add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
Saudi Arabia – sachkiawaz.com
https://sachkiawaz.com
Sat, 12 Sep 2026 14:40:49 +0000en-US
hourly
1 https://wordpress.org/?v=6.9.9برکس کے مشترکہ بیان میں پہلگام حملے کی مذمت،ہندوستان کی بڑی سفارتی کامیابی،دہشت گردی پر سخت پیغام
https://sachkiawaz.com/%d8%a8%d8%b1%da%a9%d8%b3-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%81%d9%84%da%af%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c-%d9%85/
https://sachkiawaz.com/%d8%a8%d8%b1%da%a9%d8%b3-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%81%d9%84%da%af%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c-%d9%85/#respondSat, 12 Sep 2026 14:40:49 +0000https://sachkiawaz.com/?p=10943نئی دہلی :برکس کے مشترکہ اجلاس میں ہندوستان کو بڑی سفارتی کامیابی ملی ہے۔ روس ، چین سمیت برکس کے ملکوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ پاکستان کی طرف تھا۔
برکس کے درمیان مشترکہ بیان جاری کرنے کا اتفاق ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی ایشیا میں جنگ چل رہی ہے۔ اور ایران سعودی عرب ، یو اے ای کے الگ الگ نظریات ہیں۔ ہندوستان نے گفتگوکے ذریعہ اعتراض کو دور کرنے اور ارکان ممالک کے درمیان عام اتفاق بنانے میں اہم رول نبھایا ہے۔
واضح رہے کہ نئی دہلی میں منعقدہ دو روزہ برکس سربراہی اجلاس میں ہندوستان کو بڑی سفارتی کامیابی ملی ہے۔ بھارت منڈپم میں برکس کے رکن ممالک نے ’برکس نئی دہلی اعلامیہ 2026‘ کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
تقریباً 45 صفحات پر مشتمل اس اعلامیے میں دہشت گردی کے حوالے سے جس زبان کا استعمال کیا گیا ہے، اسے ہندوستان کی طویل عرصے سے جاری تشویش کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اعلامیے میں پاکستان کا براہ راست نام نہیں لیا گیا، لیکن دہشت گردی کے خلاف اپنائے گئے سخت موقف میں ہندوستان کی اہم تشویش واضح طور پر نظر آتی ہے۔اعلامیے میں 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔
برکس ممالک نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردی کسی بھی مقصد، کسی بھی مقام یا کسی بھی شخص کی جانب سے کی جائے، اسے کسی بھی صورت میں درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ رکن ممالک نے دہشت گردی کے لیے کسی بھی قسم کا جواز قبول نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔اعلامیے میں صرف دہشت گردانہ حملوں کی مذمت تک بات محدود نہیں رہی، بلکہ سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ہندوستان طویل عرصے سے بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔برکس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے اور اسے مجرمانہ اور کسی بھی صورت میں ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے، خواہ اس کے پیچھے کوئی بھی مقصد ہو، وہ کہیں بھی اور کسی کے ذریعے بھی کی گئی ہو۔اعلامیے میں 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی بھی شدید مذمت کی گئی، جس میں 26 افراد کی جان گئی تھی اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس میں دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت، دہشت گردی کی مالی معاونت اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا بھی شامل ہے۔اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ برکس ممالک نے کہا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد اور ان کے حامیوں کو قومی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جوابدہ بنایا جانا چاہیے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کے خلاف اجتماعی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے تمام عناصر، ان کے مالی معاونین اور انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔
]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a8%d8%b1%da%a9%d8%b3-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%81%d9%84%da%af%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c-%d9%85/feed/0ہندوستان اورخلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت شروع
https://sachkiawaz.com/%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%ae%d9%84%db%8c%d8%ac-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88%d9%86%d8%b3%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7/
https://sachkiawaz.com/%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%ae%d9%84%db%8c%d8%ac-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88%d9%86%d8%b3%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7/#respondFri, 06 Feb 2026 11:19:11 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5811(پی این این)
نئی دہلی:ہندوستان اور خلیج تعاون کونسل جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ،قطر، کویت، عمان اور بحرین شامل ہیں، نے نئی دہلی میں ٹرمز آف ریفرنس پر دستخط کرکے آزاد تجارتی معاہدے کے لیے بات چیت شروع کرنے پر باضابطہ طور پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد ایک مضبوط اور زیادہ مضبوط تجارتی تعلقات کو فروغ دینا، سامان اور خدمات کے زیادہ بہاؤ میں سہولت فراہم کرنا، پالیسی کی پیشن گوئی کو بڑھانا، اور دو طرفہ تعلقات کو بلند کرنا، 5,000 سال پر محیط تجارتی تاریخ پر استوار کرنا ہے۔
ایف ٹی اےسے توقع کی جاتی ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور عالمگیریت پر سوالیہ نشان کے دوران ہندوستان اور GCC ممالک دونوں کے لیے خوراک اور توانائی کی حفاظت میں حصہ ڈالتے ہوئے، ‘دنیا کے لیے طاقت کے ضرب’ کے طور پر کام کرے گا۔ اس ایف ٹی اے کے لیے بات چیت دو دہائیوں سے جاری ہے، اس وقت تقریباً 10 ملین ہندوستانی جی سی سی ممالک میں مقیم اور کام کر رہے ہیں۔
GCC سے ہندوستان کی بنیادی درآمدات میں خام تیل اور قدرتی گیس شامل ہیں، جب کہ اس کی برآمدات موتی، قیمتی پتھر، دھاتیں، نقلی زیورات، برقی مشینری اور کیمیکل جیسی مصنوعات پر مشتمل ہیں۔ بھارت اورGCCکے درمیان کل تجارت 2024-25 میں 178.7 بلین ڈالر تک پہنچ گئی، بھارت کی برآمدات 1% بڑھ کر تقریباً 57 بلین ڈالر اور درآمدات 15.33% بڑھ کر 121.7 بلین ڈالر تک پہنچ گئی، جس کے نتیجے میں بھارت کے لیے تجارتی خسارہ نمایاں ہے۔
]]>https://sachkiawaz.com/%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%ae%d9%84%db%8c%d8%ac-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88%d9%86%d8%b3%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7/feed/0مکہ سے مدینہ کا آخری سفر 42 ہندوستانی زائرین ایک ہی لمحے میں راہیٔ آخرت
https://sachkiawaz.com/%d9%85%da%a9%db%81-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%af%db%8c%d9%86%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d8%b3%d9%81%d8%b1-42-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b2%d8%a7%d8%a6/
https://sachkiawaz.com/%d9%85%da%a9%db%81-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%af%db%8c%d9%86%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d8%b3%d9%81%d8%b1-42-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b2%d8%a7%d8%a6/#respondMon, 17 Nov 2025 12:57:14 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5371رپورٹ: سید آصف امام کاکوی
-سعودی عرب کی وہ سیاہ رات ہمیشہ ان بے شمار گھروں کی زندگی میں ایک نہ مٹنے والا زخم بن کر رہے گی، جن کے پیارے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے روحانی سفر پر تھے۔ وہ لمحہ، وہ گھڑی رات کا تقریباً 1:30 بجے کا وقت جب ایک بس حادثہ اچانک 42 ہندوستانی زائرین کی جانیں لے اُڑا۔ یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا… یہ 42 خاندانوں کے چراغوں کے اچانک بجھ جانے کی قومی سانحہ ہے، ایک ایسی چیخ جو آنے والی کئی نسلوں تک سنائی دیتی رہے گی۔ ان مرحومین میں اکثریت حیدرآباد کے افراد کی تھی۔ وہ لوگ جو ابھی چند گھنٹے پہلے خانۂ خدا کا دیدار کرکے لوٹے تھے، جنہوں نے کعبہ کے سائے میں سجدے کئے تھے، جن کی آنکھوں میں سکون تھا، چہروں پر نور تھا، اور دلوں میں رحمتِ الٰہی کی لطافت۔ کون جانتا تھا کہ مدینہ منورہ کی وہ روشن گلیاں جہاں وہ سلام پیش کرنے جا رہے تھے، وہیں پہنچنے سے پہلے ان کا سفر ہمیشہ کے لئے تھم جائے گا۔ عمرہ کوئی عام زیارت نہیں، روح کا سفر ہے۔ انسان اپنی جمع پونجی، اپنی دعائیں، اپنی ساری تمنائیں لے کر رب کے دربار میں حاضر ہوتا ہے۔ یہ سفر دل کو نرم کرتا ہے، رُوح کو دھوتا ہے، ایمان کو تازہ کرتا ہے۔ مگر اس بار یہی مبارک سفر درجنوں خاندانوں کے لئے ہمیشہ کا روگ، ہمیشہ کا درد، اور ہمیشہ کا خلا بن گیا۔
حادثے کے بعد بس کا منظر دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے ٹوٹے ہوئے شیشے، بکھرا ہوا سامان، اور وہ نشان جن میں چند ہی گھنٹے پہلے احرام میں لپٹے وہ لوگ تھے جو ہاتھ اٹھا کر دُعائیں کر رہے تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لمحہ بھر میں 42 دھڑکتے دل رک گئے، 42 خواب بکھر گئے، 42 منزلیں ادھوری رہ گئیں۔ جیسے ہی یہ دل دہلا دینے والی خبر پہنچی، پوری فضا سوگوار ہوگئی۔ جس گھر میں فجر کی اذان کے بعد چائے بنانے کی خوشبو آنی تھی، وہاں آہ و بکا کی آوازیں بلند ہوئیں۔ کوئی ماں اپنے بیٹے کے نام کی تلاش میں بے حال کوئی بہن بھائی کی تصویر سینے سے لگائے ہوئے کوئی بوڑھا باپ آنکھوں میں نمی لئے صرف اتنا پوچھتا ہوا میرا بچہ واپس آجائے گا نا؟”وہ مائیں جن کی آخری ملاقات اپنے بیٹے سے ایئرپورٹ پر ہوئی تھی وہ بیویاں جو شوہروں کے لئے پسندیدہ کھانا بنانے کے منصوبے کرتی تھیں وہ ننھے بچے جنہیں صرف اتنا معلوم ہے کہ “ابّو اللہ کے گھر گئے ہیں انہیں کون سمجھائے کہ ابّو اب واپس نہیں آئیں گے؟ یہ وہ درد ہے جو لفظوں میں بیان نہیں ہوتا، صرف دلوں میں ٹوٹتا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے فوراً سعودی عرب میں موجود بھارتی سفارت خانہ سے رابطہ کیا۔
سفارت خانہ نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے 24×7 کنٹرول روم قائم کیا ہے، تاکہ ہر متاثرہ خاندان کو معلومات تک فوری رسائی ہو۔ ہندوستانی حجاج کیلئے ہیلپ لائن نمبر:8002440003یہ محض ایک نمبر نہیں آج یہ سینکڑوں روتے ہوئے دلوں کا سہارا ہے، امید کی آخری کرن ہے۔ سفارت خانہ اپنی پوری توجہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے، مگر جو نقصان ہو چکا ہے اس کا مداوا دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی۔ یہ حادثہ بتا رہا ہے کہ موت نہ وقت دیکھتی ہے، نہ جگہ نہ عمر، نہ منزل جو لوگ اللہ کے گھر سے دلوں میں نور لئے لوٹ رہے تھے، وہ شاید دنیا کے دکھوں سے آزاد ہوکر اس مقام پر پہنچ گئے جہاں نہ تھکن ہے، نہ بیماری، نہ غم صرف رحمت ہی رحمت ہے۔ لیکن پیچھے رہ جانے والے لوگ؟ ان کے لئے یہ آزمائش زندگی کی سب سے بڑی چوٹ ہے۔ ان کے دل میں بس ایک ہی صدا گونج رہی ہے یا اللہ! یہ امتحان اتنا سخت کیوں؟ ہم اس وقت کوئی خبر نہیں لکھ رہے ہر لفظ ایک آنسو ہے، ہر جملہ ایک سسکی، اور ہر فقرہ ٹوٹے ہوئے دلوں کی گواہی ہے۔ کسی کا بھائی کسی کا شوہر کسی کی بہن کسی کا جوان بیٹا یہ سب اس سفر میں اللہ کے حضور حاضر ہوگئے۔
سعودی عرب کی گرم ریت شاید برسوں تک ان 42 جانوں کی خوشبو اپنے اندر سنبھالے رکھے گی۔ مدینہ کی مقدس ہوائیں، شاید ان کی روحوں کے لئے دعا کرتی رہیں گی خاموش، آہستہ، مگر ہمیشہ۔ یا اللہ ان سب کی مغفرت فرما۔ ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔ ان کے گناہوں کو معاف فرما۔ ان کی روحوں پر اپنی بے حساب رحمتیں نازل فرما۔ ان کے لواحقین کے دلوں کو تھام لے، انہیں وہ صبر عطا فرما جو تیرے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ہم سب اسی کے ہیں اور اُسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d9%85%da%a9%db%81-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%af%db%8c%d9%86%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d8%b3%d9%81%d8%b1-42-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b2%d8%a7%d8%a6/feed/0ٹوکیو، نیویارک، انکاش اور پیرس کو ملاٹورائز ایوارڈز 2025
https://sachkiawaz.com/%d9%b9%d9%88%da%a9%db%8c%d9%88%d8%8c-%d9%86%db%8c%d9%88%db%8c%d8%a7%d8%b1%da%a9%d8%8c-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%db%8c%d8%b1%d8%b3-%da%a9%d9%88-%d9%85%d9%84%d8%a7%d9%b9/
https://sachkiawaz.com/%d9%b9%d9%88%da%a9%db%8c%d9%88%d8%8c-%d9%86%db%8c%d9%88%db%8c%d8%a7%d8%b1%da%a9%d8%8c-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%db%8c%d8%b1%d8%b3-%da%a9%d9%88-%d9%85%d9%84%d8%a7%d9%b9/#respondFri, 14 Nov 2025 10:00:24 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5353ایوارڈز کے پہلے فاتحین کا اعلان کر دیا گیا ہے، جو جدید سیاحوں کیلئے تلاش، مہمان نوازی اور ثقافتی تعلق کی نئی تعریف کرتے ہوئے، جدت اور عمدگی کے لیے نئے معیارات قائم کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں ناقابل فراموش سیاحوں کے تجربات فراہم کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیر اعظم اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی افتتاحی ٹورائز سمٹ کے ایک حصے کے طور پر منعقد ہونے والا، مجموعی طور پر بہترین کا مائشٹھیت ٹائٹل جیت کر بڑے فاتح کے طور پر ابھرا ۔ منزل۔ اس کے علاوہ، ٹوکیو کو بھی بہترین خوراک اور پاک اور بہترین تفریحی منزل، جدت، توانائی، اور ناقابل فراموش تجربات کے عالمی دارالحکومت کے طور پر اپنی حیثیت کی تصدیق کرتی ہے۔
2025 انفرادی زمرہ کے فاتح:ایک آزاد کراس سیکٹر جیوری کے ذریعے منتخب کیا گیا اور دنیا بھر میں مسافروں، صنعت کے رہنماؤں، اور تنظیموں کی طرف سے جمع کرائی گئی نامزدگیوں کی ایک وسیع سلیٹ سے منتخب کیا گیا، اس سال کے فاتحین روح کو ہلانے والے کلچر، حدود کو آگے بڑھانے کے تجربات اور بامعنی، دیرپا مثال پیش کرتے ہیں۔یادیں جیتنے والے ان منزلوں کی نمائندگی کرتے ہیں جنہوں نے ثقافت اور فنون کو عمیق تجربات میں بلند کیا، مہم جوئی کو نئی سطحوں تک پہنچایا، مقامی پیداوار کو عالمی معیار کے پاک ماحولیاتی نظام میں تبدیل کیا، خوردہ کو تخلیقی جگہ سازی کے طور پر نئے سرے سے متعین کیا اور حدود کو توڑنے والی تفریح کے ساتھ متحرک شہر کے مناظر۔
اس سال کے زمرے کے فاتحین کی مکمل فہرست یہ ہیں:بہترین فنون ampثقافت کی منزل: نیو یارک، USA – ایک شہری شہر جہاں مارکی میوزیم اور عالمی اسٹیجز آف براڈوے محلے کی روح سے ملتے ہیں اور آپ کو کسی بھی کونے میں اپنا منظر مل سکتا ہے۔ ایڈونچر کی بہترین منزل: انکاش، پیرو – مہم جوئی کی مشہور سائٹ جو کورڈیلیرا بلانکا کے فیروزی کے درمیان کلاسک اینڈین بکٹ لسٹ ایڈونچر کو اینکر کرتی ہے۔جھیلیں، اونچائی پر چلنے والی پگڈنڈیاں، اور ڈرامائی چوٹیوں۔ بہترین خوراک اور کھانا پکانے کی منزل: ٹوکیو، جاپان – ایک عالمی شہرت یافتہ دارالحکومت جو بے مثال پاک گہرائی سے شادی کرتا ہے، شائستہ کاؤنٹرز سے لے کر ملٹی کورس کیسیکی تک جدت۔ خریداری کا بہترین مقام: پیرس، فرانس – اشرافیہ “روشنیوں کا شہر” اور عالمی دارالحکومت، عصری کنارے کے ساتھ زندہ ورثے کو فیوز کرتے ہوئے ایٹیلیئرز، تصوراتی اسٹورز، اور احیاء شدہ اضلاع کے ذریعے خریداری کو ثقافتی دریافت کے طور پر دوبارہ تصور کرتے ہوئے۔
بہترین تفریحی مقام: ٹوکیو، جاپان – عالمی سطح پر پہچانے جانے والے تھیم پارکس سے لے کر موسیقی اور ثقافتی منظر کیلئے دلکش انڈور پرکشش مقامات، ٹوکیو میں واقعی ہر کسی کیلئے کچھ نہ کچھ ہے۔’’فاتح صرف نقشے پر جگہیں نہیں ہوتے، وہ زندہ ہوتے ہیں، جو ثقافتوں کو متحد کرتے ہیں اور تخیلات کو جنم دیتے ہیں‘‘، احمد الخطیب، وزیر سیاحت اور بورڈ آف ٹورائز کے چیئرمین نے کہا۔سیاحت اگلے 50 سالوں کے سفر کی تشکیل کر رہی ہےاور یہ منزلیں اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ کیا بامقصد اور تبدیلی لانے والا ہے۔سیاحت حاصل کر سکتے ہیں۔آج کا مسافر تیزی سے تلاش کر رہا ہے۔ صداقت، تخلیقی صلاحیت، اور تجربات جو لوگوں کو جگہ اور مقصد سے جوڑتے ہیں۔ ہم ان کے وژن اور عزائم سے تحریک لیتے ہیں، جیسا کہ ہم مل کر ایک سیاحتی مستقبل کی تشکیل کرتے ہیں جو ترقی کی تحریک دیتا ہے، برادریوں کو مضبوط کرتا ہے، اور دنیا کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔”
یہ ایک یادگار رات تھی:یہ باوقار ایوارڈز ریاض کے رٹز کارلٹن میں ایک شاندار گالا ڈنر میں پیش کیے گئے، جس میں شیف نوال الخلاوی کی طرف سے تیار کیا گیا کھانا پکانے کا سفر اور بین الاقوامی گلوکارہ لورین آلریڈ کی ایک شو اسٹاپنگ لائیو پرفارمنس کے ساتھ جس نے سعودی فیشن ڈیزائنر مشائل الفاریس کے ایک شاندار گاؤن میں کمرے کو موہ لیا۔کھانے کی زبان کے ذریعے کہانی سنانے پر توجہ دینے کے ساتھ، مینو نے سعودی عرب کے متنوع علاقائی کھانوں کو خراج تحسین پیش کیا، مہمانوں کو حیران اور خوش کرنے کیلئے عالمی اثرات سے سوچ سمجھ کر متاثر کیا گیا۔ عالمی شبیہیں کی طرف سے فیصلہ:ایوارڈز کے آزاد، کراس سیکٹر جیوری پینل میں فوربس ٹریول گائیڈ، میکلین گائیڈز، ٹیٹ ماڈرن، کونڈے ناسٹ، برٹش فیشن کونسل، اور مزید کے سابق رہنما شامل تھے، جو سفر، فیشن، خوراک اور دنیا بھر سے بے مثال مہارت کو اکٹھا کرتے ہیں۔
مندرجہ ذیل ماہرین جیوری پینل میں تھے۔مندرجہ ذیل ماہرین جیوری پینل میں تھے۔ فلپ بوئن، سابق سی ای او، فوربس ٹریول گائیڈ۔ مائیکل ایلس، سابق عالمی ڈائریکٹر، مشیلن گائیڈز، فیونا جیفری، سابق چیئر، ورلڈ ٹریول مارکیٹ؛ سابق چیئر، ٹورازم فار ٹومارو ایوارڈز، ریناؤڈ ڈی لیسکون، سابق سی ای او، گیونچی؛ سابق صدر، ڈائر اے ایم، لارس نیتوے، سابق بانی ڈائریکٹر، ٹیٹ ماڈرن۔ البرٹ ریڈ، سابق مینیجنگ ڈائریکٹر، کونڈے ناسٹ۔ کیرولین رش، سابق سی ای او، برٹش فیشن کونسل۔ عمر سمرا، اقوام متحدہ کے خیر سگالی سفیر، کوہ پیما اور پولر ایکسپلورر۔ برنولڈ شروڈر، سابق سی ای او، کیمپنسکی؛ پین پیسیفک ۔ 2025 ٹورائز ایوارڈز کے فاتحین کے اعلان کے ساتھ، ثقافت، کھانوں، مہم جوئی اور تفریح میں ایک نیا معیار قائم کیا گیا ہے۔ جیسا کہ سفر جاری ہے، TOURISE نئی نسل کو حیران اور خوش کرنے والی منزلوں کو دریافت کرنے اور منانے کیلئے پرعزم ہے ۔مسافروں کی منزلیں جو تجسس کو جنم دیتی ہیں، روابط قائم کرتی ہیںاور ناقابل فراموش یادیں تخلیق کرتی ہیں۔ اپنی عالمی برادری کے ساتھ مل کر، ہم اگلے باب اور چمکنے والی اگلی قابل ذکر منزلوں کے منتظر ہیں۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d9%b9%d9%88%da%a9%db%8c%d9%88%d8%8c-%d9%86%db%8c%d9%88%db%8c%d8%a7%d8%b1%da%a9%d8%8c-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%db%8c%d8%b1%d8%b3-%da%a9%d9%88-%d9%85%d9%84%d8%a7%d9%b9/feed/0اقوام متحدہ کی سیاحت کیلئے مصنوعی ذہانت کا ایجنڈہ
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%82%d9%88%d8%a7%d9%85-%d9%85%d8%aa%d8%ad%d8%af%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86/
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%82%d9%88%d8%a7%d9%85-%d9%85%d8%aa%d8%ad%d8%af%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86/#respondFri, 14 Nov 2025 09:54:32 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5349ڈاکٹر سید اصدر علی
اقوام متحدہ کی سیاحت نے اپنی 50 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی جنرل اسمبلی کا کامیابی سے اختتام کیا، نئی قیادت کی تصدیق کی اور اختراع اور مصنوعی ذہانت کے لیے مشترکہ وژن کا اعلان کیا۔اقوام متحدہ کی سیاحت کی جنرل اسمبلی کے 26ویں اجلاس میں 148 رکن ممالک کے وفد کا ریاض میں خیرمقدم کیا گیا جس میں 90 وزرائے سیاحت اور 70 سفیر شامل تھے۔ تین دنوں کے دوران، تنظیم کے رکن ممالک نے کام کے مشترکہ پروگرام کو آگے بڑھایا، جس نے مزید جامع، اختراعی اور پائیدار مستقبل کے لیے کورس ترتیب دیا۔
اقوام متحدہ کے سیاحت کے سکریٹری جنرل زوراب پولولیکاشویلی کا کہنا ہے’’ جیسے ہی اقوام متحدہ کی سیاحت 50 سال منا رہی ہے، ہم اگلی نصف صدی کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ شعبہ اختراعات اور مصنوعی ذہانت سے تبدیل ہو جائے گا۔ ہمیں سرفہرست اختراع کرنے والوں کی حمایت کرنے اور اپنے رکن ممالک کی رہنمائی کرنے پر فخر ہے کہ وہ AI کی طاقت سے پوری طرح فائدہ اٹھا سکیں اور تمام شعبوں میں ترقی کے مواقع کو فروغ دیں‘‘۔مصنوعی ذہانت پر اسپاٹ لائٹ جو کہ جدت طرازی اور شعبہ کی ڈیجیٹل تبدیلی کو آگے بڑھانے میں اقوام متحدہ کی سیاحت کے اہم کردار کی عکاسی کرتی ہے، مصنوعی ذہانت کے اثرات پر ایک خصوصی تھیمیٹک سیشن ایک ساتھ لایا گیا۔
سرکاری اور نجی شعبے کے رہنما اور رکن ریاستوں کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر نتالیہ بیونا کے ذریعہ تنظیم کے ایجنڈے میں AI کی جگہ کا جائزہ فراہم کیا گیا، جس میں 30 سے زائد سربراہانِ وفود یا اعلیٰ سطح کے مساوی افراد کی مداخلت پر مشتمل پالیسی پر بحث کا مرحلہ طے کیا گیا۔ Apostolos Tzitzikostas، EU کمشنر برائے پائیدار نقل و حمل اور سیاحت میں شامل ہونے والے، Amadeus، Trip.com، Microsoft اور ورلڈ اکنامک فورم کے نمائندے تھے۔ریاض میں، اقوام متحدہ کے سیاحتی مصنوعی ذہانت کے چیلنج کے فائنل نے اس شعبے کو تبدیل کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کی طاقت کو بروئے کار لانے میں راہنمائی کرنے والے اختراع کاروں کو تسلیم کیا۔ فائنلسٹس میں سے، برازیل کے اسمارٹ ٹور کو مجموعی طور پر فاتح قرار دیا گیا۔
سیشن کا اختتام سیاحت کے مستقبل سے متعلق ریاض اعلامیہ کے اعلان کے ساتھ ہوا، جو اس شعبے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ روڈ میپ ہے۔ اعلامیہ بین الاقوامی تعاون، لچک اور مقامی کمیونٹیز کو بااختیار بنانے پر زور دیتا ہے۔ ڈیجیٹل جدت، AI انضمام، اور جامع سیاحتی معیشتوں کے ذریعے۔دستخط کنندگان ٹھوس اقدامات کرنے کا عہد کرتے ہیں، بشمول ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا، افرادی قوت کی کمی اور مہارتوں کے فرق کو دور کرنا، اور مقامی کاروباری افراد کو سپورٹ کرنے کے لیے تکنیکی اور مصنوعی ذہانت ے چلنے والے اقدامات سے فائدہ اٹھاناشامل ہے ۔
نئی قیادت اور بڑھتی ہوئی عالمی موجودگی :جنرل اسمبلی کے پہلے دن شیخا النویس کو اقوام متحدہ کی سیاحت کا نیا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔ رکن ممالک نے باضابطہ طور پر ان کی نامزدگی کی توثیق کردی، یعنی وہ اقوام متحدہ کی 50 سالہ تاریخ میں سیاحت کیلئے خصوصی ایجنسی کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون ہوں گی۔ وہ 2026 کے آغاز میں اپنی مدت ملازمت کا آغاز کریں گی۔ریاض میں بھی، جنرل اسمبلی نے اقوام متحدہ کے سیاحت افریقہ اور امریکہ کے سربراہی اجلاس کو دونوں خطوں کے درمیان مکالمے اور سیاسی اور تکنیکی تعاون کے لیے ایک مستقل دو سالہ پلیٹ فارم کے طور پر باضابطہ طور پر ادارہ بنانے کی منظوری دی، ساتھ ہی ساتھ جنوبی – جنوب تعاون کیلئے ایک میکانزم کی تشکیل کی بھی منظوری دی۔
چین کی حکومت کی جانب سے شنگھائی شہر میں علاقائی دفتر کے قیام کی تجویز کو بھی اراکین نے منظور کرلیا۔ عالمی یوم سیاحت کیلئے جدت اور تعلیم کے رکن ممالک نے ’’ڈیجیٹل ایجنڈا اور مصنوعی ذہانت‘‘کے موضوع پر عالمی یوم سیاحت 2026 منانے کی تجاویز کی منظوری دی، جس میں ایل سلواڈور سرکاری میزبان ملک ہے۔ 2027 کی تقریبات ’’تعلیم کے ذریعے سیاحت کی تبدیلی‘‘ کے موضوع کے ارد گرد منعقد کی جائیں گی، جس کی میزبانی Cabo Verde کرے گی۔آخرکار، رکن ممالک نے ڈومینیکن ریپبلک میں اقوام متحدہ کی سیاحت کی جنرل اسمبلی کے 27ویں ایڈیشن کے انعقاد کے حق میں ووٹ دیا۔
(مضمون نگار ’سچ کی آواز ‘کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%82%d9%88%d8%a7%d9%85-%d9%85%d8%aa%d8%ad%d8%af%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86/feed/0مستقبل سیاحت کے اگلے دور کیلئے ’ٹورائز‘کی افتتاحی تقریب منعقد
https://sachkiawaz.com/%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d9%84-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%da%af%d9%84%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%b9%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6/
https://sachkiawaz.com/%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d9%84-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%da%af%d9%84%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%b9%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6/#respondWed, 12 Nov 2025 09:33:58 +0000https://sachkiawaz.com/?p=53368 ہزار مندوبین کی شرکت درج ،ریاض میں عالمی سیاحت کاسہ روزہ آغاز
ڈاکٹر سید اصدر علی
اسپیشل رپورٹ
ریاض:مستقبل سیاحت کے اگلے دور کیلئے ’ٹورائز ‘کی افتتاحی تقریب کا سہ روزہ آغاز ہوا۔ٹورائز اجلاس میں تقریباً8ہزار مندوبین کی شرکت درج کرائی گئی ۔دلیرانہ عزائم کے ساتھ سفر کے قواعد، شاہی سرپرستی میں افتتاحی ٹورائز سمٹ عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد اوروزیراعظم کا آج سرکاری طور پر افتتاح H.E. احمد الخطیب، وزیرسعودی عرب کی سیاحت اور TOURISE کے چیئرمین۔ٹوریس عالمی سیاحت کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کر رہا ہے، وزراء، مندوبین اوردنیا بھر سے بصیرت رکھنے والے ایک پریمیئر پلیٹ فارم کے طور پر جو کی تشکیل کے لیے وقف ہیں۔
عالمی سیاحت کا مستقبل50 ویں یونائیٹڈ کے فوراً بعد 11 سے 13 نومبر 2025 تک ہو رہا ہے۔نیشنز ٹورازم جنرل اسمبلی، ٹوریس سیکٹرز کے طریقہ کار کا از سر نو تصور کر رہی ہے۔ایسے مواقع تلاش کرنے کے لیے بات چیت کرتے ہیں جہاں سرمایہ کاری کرتے ہوئے حریف شراکت دار بن جاتے ہیں۔آپٹمائزڈ ہیں اور جہاں بکھرے ہوئے سائلو اکٹھے ہوتے ہیں۔ ایونٹ کا مقصد جرات مندانہ ہونا ہے ۔ حقیقی دنیا کے حل میں خیالات اور تبدیلی کے اقدامات کو متحرک کرتے ہیں جو تشکیل دیں گے۔
آج اپنی افتتاحی تقریر کے دوران، H.E. احمد الخطیب نے نوٹ کیا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔شعبوں کی تشکیل کے لیے زیادہ ضروری یا مناسب لمحہ تھا۔عالمی سیاحت، جس کے ساتھ سیاحت کا شعبہ تاریخی بلندیوں پر پہنچ گیا ہے۔بین الاقوامی آمد اور سرمایہ کاری وبائی مرض سے پہلے کی سطحوں کو پیچھے چھوڑتی ہے۔ تاہم، وہ خبردار کیا کہ ایک ہی وقت میں، اس شعبے کو بے مثال چیلنجز کا سامنا ہے ۔اور تجربے سے چلنے والا سفر، اور اس کے سامنے لچک پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔اقتصادی اور ماحولیاتی غیر یقینی صورتحال اور اس کے ارد گرد بڑھتی ہوئی ۔
عزت مآب نے تسلیم کیا کہ ٹوریس اس موڑ پر پہنچی ہے، جب دنیا نئے ماڈلز، نئی شراکت داریوں اور نئے حل کی بھوکی ہے۔”ٹورائز ایک ایونٹ سے زیادہ ہے، یہ عمل کا ایک پلیٹ فارم ہے جہاں ہم حل کریں گے۔چیلنجز سب ایک ساتھ ہیں جنہوں نے طویل عرصے سے ان میں سیاحت کی مکمل صلاحیت کو محدود کر رکھا ہے۔ہنر، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر، پائیداری، اور ڈیجیٹل میں چیلنجز ہیں۔تبدیلی یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہم بہترین ڈیلیور کرنے ککلئےاتھ ملا کر کام کریں گے ۔ سب کے لیے نتائج: سرمایہ کاروں کیلئےمنافع؛ مزید قابل رسائی مقامات اورمسافروں کے لیے سستی تجربات؛ معاشروں کے لیے روزگار اور خوشحالی سفر کی مانگ میں اضافہ. ہم یہاں صرف خیالات پر بات کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ ہم یہاں ہیںعمل یہی وجہ ہے کہ TOURIS موجود ہے۔”اپنے تین دنوں کے دوران، TOURISE کئی کلیدی پینلز کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے۔
اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے عالمی رہنماؤں پر مشتمل بات چیت۔ قابل ذکر عالمی مقررینشامل ہیںAriane Gorin، CEO، Expedia،سفیر پیٹریسیا ایسپینوسا، بانی، onepoint5، گلوریا گویرا، عبوری سی ای او، ورلڈ ٹریول ampٹورازم کونسل، شیخا ناصر النویس، آنے والے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سیاحت، لوئس ماروٹو، سی ای او، امادیوس، فرانسس سواریز، میئر، میامی،پال گریفتھس، سی ای او، دبئی ایئرپورٹس، لوسیا پینروڈ، شریک بانی اور مالک، نکی بیچ،سیباسٹین بازن، سی ای او، ایکور( Eduardo Santander، CEO، European Travel Commission (ETC، ہاروی گولڈسمتھ CBE، بانی، Nvisible Productions، تھامس وولڈ بائی، سی ای او، ہیتھرو ایئرپورٹ، سٹیو ہافنر، شریک بانی اور سی ای او، Kayak.comسپیکر لائن اپ دکھاتا ہے کہ کس طرح ٹورائز سیکٹرز کے لیڈروں کو شاذ و نادر ہی متحد کرتا ہے۔ایک ساتھ دیکھا، متضاد، حدود توڑنے والا تعاون تخلیق کرتا ہے۔ یہ ہم آہنگی صرف ناول نہیں ہیں؛ وہ نئے کاروباری ماڈلز کے لیے انجن ہیں،مسافروں کے بہتر تجربات، پائیدار منزل کی ترقی اور سرمایہ کاری ایسی حکمت عملی جو صرف اس طرح کے منفرد، کثیر سیکٹر پلیٹ فارم سے ابھر سکتی ہے۔
سربراہی اجلاس AI سے چلنے والے سفر کے مستقبل کی نئی وضاحت کرنے والے بڑے سوالات کا احاطہ کرے گا۔ تجربات اور منزل کے ڈیزائن، سرمایہ کاری اور دوڑ کے لیے بغیر رگڑ والی سرحدیںکل کے مسافروں کے لیے، اور انھیں اعلیٰ طاقت کے ذریعے عمل میں بدل دیں۔پہلے ٹورائز ایوارڈز کے فاتحین کا اعلان بھی آج شام کیا جائے گا،ان مقامات کو پہچاننا جو منزل کی فضیلت کی مثال دیتے ہیں اور ان کو پورا کرتے ہیں۔جدید مسافر کی توقعات کا ارتقاء۔سعودی وزارت سیاحت کے ذریعہ تقویت یافتہ، ٹوریس تین دن سے زیادہ ہے۔سربراہی اجلاس، یہ ہمیشہ جاری رہنے والا، عالمی پلیٹ فارم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بات چیت شروع ہوگئی ریاض تعاون اور کراس سیکٹر کے ذریعے سال بھر پلیٹ فارم جاری رکھے گا۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d9%84-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%da%af%d9%84%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%b9%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6/feed/0کرن رجیجوحج معاہدے 2026کیلئے پہنچے سعودی عرب
https://sachkiawaz.com/%da%a9%d8%b1%d9%86-%d8%b1%d8%ac%db%8c%d8%ac%d9%88%d8%ad%d8%ac-%d9%85%d8%b9%d8%a7%db%81%d8%af%db%92-2026%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%be%db%81%d9%86%da%86%db%92-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c/
https://sachkiawaz.com/%da%a9%d8%b1%d9%86-%d8%b1%d8%ac%db%8c%d8%ac%d9%88%d8%ad%d8%ac-%d9%85%d8%b9%d8%a7%db%81%d8%af%db%92-2026%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%be%db%81%d9%86%da%86%db%92-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c/#respondSat, 08 Nov 2025 12:58:58 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5310(پی این این)
ریاض: پارلیمانی اور اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو سعودی مملکت کے ساتھ دو طرفہ حج معاہدے پر دستخط کرنے اور حج 2026 کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے سعودی عرب کے جدہ پہنچ گئے۔سعودی عرب میں ہندوستانی سفیر سہیل اعجاز خان اور جدہ میں ہندوستانی قونصل جنرل فہد سوری نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہفتے کے روز، رجیجو نے پوسٹ کیا، “سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ حج معاہدے پر دستخط کرنے اور حج 2026 کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے جدہ، سعودی عرب پہنچے۔ سعودی عرب میں ہندوستان کے سفیر سہیل اعجاز خان نے ہوائی اڈے پر گرمجوشی سے استقبال کیا۔جولائی کے شروع میں، حج 2026 کے بارے میں اقلیتی امور کی وزارت کے اعلان نے ہزاروں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے حکومت ہند کے تعاون اور سہولت سے حج کرنے کی اپنی روحانی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ایک اور موقع کا آغاز کیا۔
حج 2026 کے لیے وزارت کے اعلان میں کہا گیا ہے، “حج کمیٹی آف انڈیا عازمین حج سے آن لائن حج درخواست فارم کے ذریعے حج 2026 کے لیے درخواستیں طلب کرتی ہے، جو سرکاری ویب سائٹ https://hajcommittee.gov.in اور موبائل ایپلیکیشن ‘ حج سہولت'(آئی فون اور اینڈرائیڈ دونوں آلات کے لیے دستیاب ہے)۔درخواست کی کھڑکی 7 جولائی 2025 سے 31 جولائی 2025 تک کھلی تھی ۔نوٹیفکیشن میں درخواست دہندگان کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے فارم جمع کرانے سے پہلے گائیڈ لائنز اور انڈرٹیکنگس کو اچھی طرح پڑھیں۔ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “درخواست کی آخری تاریخ کو یا اس سے پہلے جاری کردہ مشین سے پڑھنے کے قابل ہندوستانی بین الاقوامی پاسپورٹ کا حامل ہونا لازمی ہے، اور کم از کم 31 دسمبر، 2026 تک درست ہے۔”
حج کمیٹی نے درخواست گزاروں کو مشورہ دیا کہ وہ درخواست دینے سے پہلے اپنی تیاریوں پر غور کریں۔ اس نے کہا، “منسوخات، سوائے موت کی بدقسمتی یا کسی سنگین طبی ایمرجنسی کے، جرمانے کو دعوت دیں گی اور مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ہندوستانی حکومت گزشتہ 10 سالوں سے حج کو شفاف، یکساں، کم خرچ، محفوظ اور روحانی طور پر پورا کرنے والا تجربہ بنانے کی کوششیں کر رہی ہے۔ہندوستانی حج مشن – ہندوستان کی سرحدوں سے باہر اپنی نوعیت کا سب سے بڑا سرکاری آپریشن ہے – نے نئی پہل کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ سعودی حکام کے ساتھ لاجسٹک کو قریب سے مربوط کیا ہے۔
]]>https://sachkiawaz.com/%da%a9%d8%b1%d9%86-%d8%b1%d8%ac%db%8c%d8%ac%d9%88%d8%ad%d8%ac-%d9%85%d8%b9%d8%a7%db%81%d8%af%db%92-2026%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%be%db%81%d9%86%da%86%db%92-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c/feed/0