add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); Professor Mazhar Asif – sachkiawaz.com https://sachkiawaz.com Tue, 17 Feb 2026 10:41:42 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.9 جامعہ ملیہ میں’عہد حاضر میں تدریس و آموزش کے تقاضے‘کے موضوع پرقومی سمینار کا انعقاد https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba%d8%b9%db%81%d8%af-%d8%ad%d8%a7%d8%b6%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d9%88-%d8%a2%d9%85/ https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba%d8%b9%db%81%d8%af-%d8%ad%d8%a7%d8%b6%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d9%88-%d8%a2%d9%85/#respond Tue, 17 Feb 2026 10:41:42 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5875 (پی این این)
نئی دہلی :اکادمی برائے فروغ استعداد اردو میڈیم اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’عہد حاضر میں تدریس و آموزش کے تقاضے‘ کے موضوع پر کامیابی کے ساتھ یک روزہ قومی سمینار منعقد کیا۔سمینار کا افتتاح میر انیس ہال، دیار میر تقی میر ،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوا۔پروگرام میں ملک بھر سے شامل ممتاز علمی ہستیوں، محققین ماہرین اور طلبہ کا استقبال کیا گیا جنہوں نے اردو میڈیم کے خصوصی حوالے سے تدریس و آموزش کے عمل میں معاصر چیلنجیز اور ابھرتے رجحانات پر اظہار خیا ل کیا۔
شکیل الرحمان رسرچ اسکالر کی تلاوت کلام پاک سے افتتاحی اجلاس کا آغاز ہوا جس کے بعد جامعہ کا ترانہ پیش کیا گیا۔سمینار کے منتظم سیکریٹری ڈاکٹر عبد الواحد کے خیر مقدمی کلمات سے سمینار کے لیے مناسب فضا تیار ہوئی۔عزت و ستائش کی نشانی کے طورپر مندوبین کی خدمت میں مومینٹو پیش کیے گئے اس کے بعد شال پوشی کی رسم سے معزز مہمانا ن کی والہانہ موجودگی کا اعتراف کیا گیا۔ اس موقع پر معزز مہمانان نے، سال گزشتہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے یوم تاسیس کے موقع پر اکادمی کے زیر اہتمام منعقدہ موضوعی مشاعرے میں پیش کی گئی نظموں کے مجموعہ ’گلدستہ موضوعی مشاعرہ ’جامعہ کی کہانی شاعروں کی زبانی‘ کا اجرا بھی کیا۔
پروفیسر جسیم احمد، اعزازی ڈائریکٹر اے پی ڈی یو ایم ٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ و سمینار کنوینر نے حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے سمینار کے ابتدائی مراحل میں پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے حاصل رہنمائی کے لیے ان کی خدمت میں ہدیہ تشکر پیش کیا۔ سمینار میں تعاون کے لیے انہوں نے ہولسٹک ٹرسٹ اور ا ردو اکادمی دہلی کابھی شکریہ اد اکیا۔ پروفیسر احمد نے سمینار میں مہمانان اور شرکا کاوالہانہ استقبال کیا۔انہوں نے ’کلاس روم کی قسمت کو اساتذہ سمت دیتے ہیں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زوردیا کہ اسکولی تعلیم بہترین ملک کی بنیاد ہوتی ہے۔انہوں نے تدریس و آموزش کے معاصر طریقوں پر اظہار خیال کے سلسلے میں سمینار کے موضوع کی معنویت بھی اجاگر کی۔
پروفیسر سارہ بیگم، کارگزار ڈین، فیکلٹی آف ایجوکیشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ ہردور میں تدریس و آموزش کے تقاضے سماجی تناظر میں کس طرح تبدیل ہوتے ہیں۔ڈاکٹر واحد نظیر نے کلیدی خطبہ کے مہمان خطیب ڈاکٹر ندیم احمد،شعبہ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ کا استقبال کیا۔ڈاکٹر ندیم احمد نے خطبہ میں موجودہ زمانے میں اساتذہ کے رول پر زور دیا اور طلبہ کی آموزش کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ان کو میسروسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کی اہمیت پر گفتگو کے ساتھ ساتھ طلبہ کو ان کی پیشہ ورانہ ملازمت کے لیے تیار کرنے کے سلسلے میں قومی تعلیمی پالیسیوں، ڈیجیٹل ٹیچنگ لرننگ ریسورسیزاینڈ ایمپ پر بھی بات کی۔
افتتاحی اجلاس کی ایک اہم بات پروفیسر ایم۔اختر صدیقی کا خطبہ تھا جنہوں نے زبان کی بنیا دپر طلبہ کے درمیان تنوع اور فرق کے مسئلے سے نمٹنے کی ضرورت کے سلسلے میں اپنے بیش قیمت تجربات و مشاہدات ساجھا کیے۔انہوں نے یہ سوال بھی پوچھا کہ اساتذہ کلاس روم میں ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں طلبہ کی مختلف سطحوں سے کس طرح نمٹتے ہیں اور آموزش کی الگ الگ رفتار کے تناظر میں تمام طلبہ پر کس طرح توجہ دیتے ہیں۔ڈاکٹر حنا آفرین کے اظہار تشکر اور سمینار کے تکنیکی اجلاسوں کے متعلق اشارے کے ساتھ افتتاحی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba%d8%b9%db%81%d8%af-%d8%ad%d8%a7%d8%b6%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d9%88-%d8%a2%d9%85/feed/ 0
پریم چنداور کبیرکاادبی سرمایہ ہندوستانی تہذیب کابیش قیمت ورثہ: پروفیسر مظہر آصف https://sachkiawaz.com/%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%86%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a8%db%8c%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa/ https://sachkiawaz.com/%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%86%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a8%db%8c%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa/#respond Wed, 11 Feb 2026 13:25:17 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5845 جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈلٹریری سنٹر،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر صغیر افراہیم کاپریم چندیادگاری خطبہ
(پی این این)
نئی دہلی :پریم چند اور کبیرکاادبی سرمایہ ہندوستانی ادب کابیش قیمت ورثہ ہے۔یہ دونوں مایہ نازادیب ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کے علمبردار ہیں۔ان کے ادب سے میری گہری دلچسپی اور خاص شغف ہے۔ان خیالات کااظہارجامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈ لٹریری سنٹر کے زیراہتمام منعقدہ نویں پریم چند یادگاری خطبے کے موقع پراپنے صدارتی خطبے میں کیا۔انھوں نے فرمایاکہ جامعہ کے اس ادبی مرکز جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈ لٹریری سنٹر کومزید فعال ہونے کی ضرورت ہے۔ یہاں تواتر کے ساتھ ادبی پروگرام کاانعقاد ہوناچاہیے۔پروفیسر مظہر آصف نے پریم چندکی ادبی خدمات پر بھرپور روشنی ڈالی اور موجود ہ عہد میں اس کی اہمیت پر اساتذہ طلبہ اور ریسرچ اسکالر ز کی توجہ مبذول کرائی۔
پریم چندیادگاری خطبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے استاد سابق صدر شعبۂ اردو،ماہر پریم چندپروفیسر صغیرافراہیم نے پیش کیا۔اپنے خطبے میں پروفیسر صغیر افراہیم نے پریم چند کے فن کی امتیازی خصوصیات کو بیان کیا۔انھوں نے پریم چند کے فکشن کے موضوعات،اسلوب اورتکنیک پر روشنی ڈالی۔پروفیسر صغیر افراہیم نے پریم چند کے بیشتر ناولوں اور متعدد افسانوں کاتجزیہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ پریم چند نے ہمارے فکشن کو نئے موضوعات،نئے اسالیب اور نئی فکری سمت عطا کی ہے۔ان کے ناولوں اور افسانوں کے متون پر نئے فن پارے تخلیق کیے گئے ہیں۔پریم چند نے اپنے بیانیہ کو پر اثر بنایااور دلکش مکالموں کے ذریعہ کرداروں کی ذہنی کشمکش کو پیش کیا۔انھوں نے یہ بھی فرمایاکہ پریم چند کی تمام افسانوی اور غیر افسانوی تحریریں اس کی گواہ ہیں کہ وہ تہذیب وتمدن کے ساتھ ساتھ جدید علوم وفنون خصوصاًفکشن کی ہیئت، ساخت اور فنی نکات متعارف کرانے کے خواہاں تھے۔
اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر اقتدار محمدخاں ڈین فیکلٹی آف ہیومنیٹیزاینڈلنگویجزجامعہ ملیہ اسلامیہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پریم چند کے گہر ے رشتے کاذکر کیاکہ جامعہ کی خدمات کو پریم چند نے بے حد محبت سے سراہاتھااور اس ادار ے کو ہندوستان کاعظیم سیکولر ادارہ قرار دیاتھا۔انھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پریم چند کا افسانہ ’’کفن‘‘ پہلی بار رسالہ جامعہ میں شائع ہوا تھا۔اس جلسے کے مہمانان اعزازی پروفیسر کوثر مظہر ی صدر شعبۂ اردواور پروفیسر نیرج کمار صدرشعبۂ ہندی جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی خطاب کیا۔ان دونوں مہمانان نے پریم چند کے فن کی خوبیوں اور ان کی ادبی خدمات کامفصل ذکر کیا۔پروفیسر کوثر مظہری نے اس خواہش کااظہار کیاکہ جامعہ کے اس مرکز میں پریم چند کے تعلق سے مختلف زبانوں کی تمام کتابوں کو جمع کیاجاناچاہیے تاکہ پریم چند کے محققین اور شیدائی یہاں رجوع کر سکیں۔
اس موقع پر جامعہ پریم چندآرکائیوز اینڈلٹریری سنٹر کے ڈائرکٹرپروفیسر شہزاد انجم نے فرمایاکہ پریم چند کاجامعہ سے گہرارشتہ رہاہے۔ جامعہ کے بزرگوں نے اس ادار ے کانام پریم چند کے نام پر رکھا۔پریم چند کی تخلیقات رسالہ’’ جامعہ‘‘ میں چھپیں اور ان کے کئی ناول مکتبہ جامعہ سے شائع ہوئے۔پریم چند نے 8مارچ 1936عیسوی کو جامعہ میں’’ہندوستانی سبھا‘‘کاقیام کیا۔اس موقعے پر انہوںنے ہندی او ر اردو کے ادیبوں کو جمع کیااور ان سے یہ فرمایاکہ ہندی اور اردو کے ادیبوں کو ایک ساتھ جمع ہوناچاہیے۔ایک دوسرے کی تخلیقات اور تحریروں کو پڑھنااو ر سنناچاہیے۔اس سے آپسی رنجشیں اور کدورتیں دور ہوں گی اور ملک میںخوشگوار محبت کی فضاقائم ہوگی۔پروفیسر شہزاد انجم نے مزید فرمایاکہ اس سینٹر کی خدمات بیش بہاہیں۔اسے مزید فعال کیاجائے گااور اسے ادیبوں کاایک بڑامرکز بنایاجائے گا،جہاں تمام زبانوں کے ادیبوں،اساتذہ،ریسرچ اسکالرز اور طلبہ اور طالبات کو اظہار خیال کاموقع ملے گااور پریم چند کے خوابوں کی تعبیر کی جائے گی۔جلسے کاآغاز جامعہ کی روایت کے مطابق تلاوت کلام پاک سے ہواجسے ڈاکٹرمحمد شاہ نواز فیاض نے پیش کیا۔منشی پریم چند اورخطیب پروفیسر صغیر افراہیم کاتعارف محترمہ شردھاشنکر صاحبہ نے پیش کیاجبکہ جلسے کے آخر میں محترمہ اسگندھارائے نے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف،جامعہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم،ڈین پروفیسر اقتدار محمد خاں،مہمانان اعزازی پروفیسر کوثر مظہری،پروفیسر نیرج کمار،جامعہ کے تمام اراکین،لائبریرین، اساتذہ،ریسرچ اسکالرز،طلبہ و طالبات اور سینٹر کے تمام ملازمین کاشکریہ اداکیا،جن کے بھر پور تعاون سے یہ جلسہ کامیاب ہوا۔اس جلسے میں خصوصی طور پر پروفیسر مشتاق احمد گنائی،ڈاکٹرمحی الدین زور (کشمیر)،پروفیسر شہپر رسول،ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی،پروفیسر سرور الہدی،پروفیسر ممتاز احمد،ڈاکٹرمشتاق احمد تجاوری،ڈپٹی لائبریرین سفیان احمد،ڈاکٹرخالد مبشر،ڈاکٹر محمد عامر،ڈاکٹر مشیر احمد،ڈاکٹر سید تنویر حسین،ڈاکٹرمحمدمقیم،ڈاکٹر جاوید حسن،ڈاکٹر راہین شمع،ڈاکٹرمحمدآدم،ڈاکٹر ثاقب عمران،ڈاکٹر شاداب تبسم،ڈاکٹر نوشاد منظر،ڈاکٹر مخمور صدری،ڈاکٹر ثاقب فریدی،ڈاکٹر راحت افزا،ڈاکٹر خان محمد رضوان اور بڑی تعداد میںہندی،اردواور دیگر زبانوں کے ریسرچ اسکالرزاور طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%86%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a8%db%8c%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa/feed/ 0
جامعہ میں اینٹی مائیکروبائیل ریسسٹینس کے موضوع پر قومی کانفرنس کا انعقاد https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%85%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%d8%b1%db%8c%d8%b3%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%86/ https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%85%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%d8%b1%db%8c%d8%b3%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%86/#respond Mon, 10 Nov 2025 12:52:30 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5318 (پی این این)
نئی دہلی :سینٹر فار انٹر ڈسپلنری ریسرچ ان بیسک سائنس (سی آئی آر بی ایس سی)فیکلٹی آف لائف سائنس،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’فرنٹیئرس ان اینٹی مائیکروبائیل ریسسٹینس (اے ایم آر)رسرچ،پالیسی اینڈ پریکٹس‘ کے موضوع پر دوروزہ قومی کانفرنس منعقد کیا۔ اس پروگرام کا انعقاد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک سو پانچویں یوم تاسیس تقریبات کے حصے کے طورپر ہوا تھا۔
اینٹی مائیکروبائیل ریسسٹینس یا اے ایم آر اکیسویں صدی کے سب سے خطرناک عالمی صحت چیلنجز میں سے ایک ہے۔مزاحم روگ دائی میں خطرناک حد تک اضافے نے دہائیوں کی طبی پیش رفت کو ناکافی بتانے کا اشارہ ہے اور عوامی صحت،زراعت اور ماحولیایت کے لیے یکساں طورپر بڑا خطرہ ہے۔یہ کانفرنس دانشورانہ مذاکرات اور اشتراکی لین دین کے لیے ایک پلیٹ فارم کا م کررہی ہے جس میں محققین، معالجین،سائنس داں، علمی ہستیاں،پالیسی ساز اور متعلقین ایک ساتھ اے ایم آر رسرچ، معائنہ،عمل اور اہم پالیسی تیاری کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہورہے ہیں۔کانفرنس کا افتتاحی پروگرام چھ نومبر دوہزار پچیس کو منعقد ہوا۔کانفرنس کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا جس کے بعد جامعہ کا ترانہ پیش کیا گیا۔بعد ازاں معزز اور باوقار مہمانان کی خدمت میں بطور تہنیت مومینٹو اور شال پیش کی گئی۔پروفیسر مظہر آصف (شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،(مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ) پروگرام میں شریک ہوئے، مہمان خصوصی(پروفیسر آر۔سی کوہاد،وائس چانسلر،سوامی وویکانند یونیورسٹی، ککراجھار، آسام) مہمان اعزازی (پروفیسر ایس۔کے سریواستو،وائس چانسلر،بابو بنارسی داس یونیورسٹی، لکھنؤ، اتر پردیش) اور کلیدی خطبہ کے مقرر (پروفیسر راجیو سود،وائس چانسلر بابا فرید یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسس،فرید کوٹ، پنجاب) شریک ہوئے۔پروفیسر زاہد اشرف (ڈین،فیکلٹی آف لائف سائنسس) پروفیسر رنجن پٹیل،(چیئر مین و ڈائریکٹر سی آئی آر بی ایس سی) پروفیسر تنوجا (ڈین،اکیڈمک افیئرز،جامعہ ملیہ اسلامیہ و کانفرنس کنوینر)پروفیسر شمع پروین (منتظم سیکریٹری)فیکلٹی اراکین اوررسرچ اسکالروں اور شرکا افتتاحی اجلاس میں موجود تھے۔ ایسے اہم پروگرام کے انعقاد کے لیے مندوبین نے منتظمہ کمیٹی کی تعریف کی۔
افتتاحی اجلاس میں پروفیسر شمع پروین نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بتائے۔پروفیسر رنجن پٹیل نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور سی آئی آر بی ایس سی میں جاری بین علومی تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کیا۔پروفیسر زاہد اشرف نے اے ایم آر اور تحقیق پر مبنی فیکلٹی آف لائف سائنس کی دیگر حصولیابیوں سے سامعین و حاضرین کو آگاہ کرایا۔ پروفیسر تنوجا نے تعلیمی افضلیت اور برادری پر مبنی تعلیم کے فروغ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کردار پر زور دیا۔پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے سامعین سے خطاب کیا اور بامعنی تعلیمی پلیٹ فارم تیار کرنے کے لیے منتظمہ کمیٹی کی کوششوں کو سراہا۔نیز انہو ں نے اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ کانفرنس سے در آمد اہم باتیں اور تحقیقی ماحصل عوامی بیداری اور تعلیمی حصولیابی میں معاون و مددگار ثابت ہوں کانفرنس کے دوران زیر بحث آئی بصیر ت افروز باتوں کو زیادہ لوگوں تک پہنچانے اور انہیں عام کرنے کی اہمیت بتائی۔پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے صدارتی گفتگو کرتے ہوئے اے ایم آر سے نمٹنے کے لیے موثر تحقیق اور اختراعیت کو فروغ دینے کے سلسلے میں تعلیمی اداروں کی اہمیت اجاگر کی۔ انہو ں نے اے ایم آر سے نمٹنے کے لیے کمیونیٹی بیداری اور اشتراکی سائنسی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔نیز انہو ں نے انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے اور اے ایم آر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صحت مند طرز زندگی کے بطور تدارکی تدبیر اختیار کرنے کی بات کہی۔پروفیسر کوہاد نے اشتراکی تحقیق، عوامی بیداری،معقول اینٹی بایوٹک استعمال اور فعال پالیسی میکانزم کے ضرورت و اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دنیا بھر میں اینٹی مائیکروبائل ریسسٹینس کے بڑھتے خطرے کو اجاگرکیا۔ پورے ملک میں علمی معلومات کی موثر ترویج کے لیے قومی تعلیمی پالیسی دوہزار بیس کے نفاذ پر توجہ مرکوز رکھی۔
پروگرام میں پروفیسر ایس۔کے۔سریواستو کا بھی استقبال کیا گیا جنہوں نے اے ایم آر کو پھیلنے سے روکنے کے لیے تدارکی تدابیر اور بین ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔پروفیسر راجیو سود نے اے ایم آر کے طبی مضمرات، مریضوں کی نگہ داشت کے چیلنجز اور قومی و ادارہ جاتی سطحوں پر اینٹی مائیکروبائل ایسٹورڈشپ پروگرام کو مضبو ط کرنے سے متعلق کلیدی خطبہ دیا۔ اس موقع پر پروفیسر مظہر آصف نے آئی آئی ٹی روپرکے ممتاز سائنس داں اور مشہور ماہر مامونیات پروفیسر جاوید اگریوالا کاشال پوشی کرکے ان کا خیر مقدم اور استقبال کیا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%85%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%d8%b1%db%8c%d8%b3%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%86/feed/ 0
جامعہ ملیہ اسلامیہ میںدانشورانہ املاک حقوق اور تکنیک کی منتقلی کے موضوع پر ورکشاپ کاانعقاد https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba%d8%af%d8%a7%d9%86%d8%b4%d9%88%d8%b1%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%85%d9%84%d8%a7/ https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba%d8%af%d8%a7%d9%86%d8%b4%d9%88%d8%b1%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%85%d9%84%d8%a7/#respond Thu, 19 Jun 2025 10:37:03 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4119 (پی این این
نئی دہلی :شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،پروفیسر مظہر آصف کی صاحب بصیرت قیادت میں سینٹر فار انوویشن(سی آئی ای) نے کل وزارت تعلیم (ایم او ای) کے اختراعی سیل اور اے آئی سی ٹی ای کے اشتراک سے دانشورانہ املاک حقوق اور تکنیک کی منتقلی کے موضوع پر ورکشاپ منعقد کیا۔ورکشاپ میں بیس سے زیادہ تعلیمی اداروں کے فیکلٹی اراکین، محققین، طلبہ اورخطے کے اختراعی رہنماؤں نے شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز جامعہ کی روایت کے مطابق تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد پروفیسر ریحان خان سوری،ڈائریکٹر سی آئی ای اور صدر انسٹی ٹیوشنز انوویشن کونسل (آئی آئی سی سات اعشاریہ صفر) کے استقبالیہ خطبہ ہوا۔انھوں نے علمی برادری میں اختراعیت، تخلیقیت اور کارجویانہ فکر کے فروغ کے تئیں شعبے کے عہد پر زور دیا۔
پروگرام کے مہمان خصوصی،پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے افتتاحی تقریر میں اختراعی سیل،وزرات تعلیم اور اے آئی سی ٹی ای کے اشتراک سے مذکورہ موضوع پر ایک اہم اور باریکی سے منصوبہ بند ورکشاپ کے لیے مبارک باد دی۔
پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے نیشنل ایجوکیشن پالیسی (این ای پی) اسٹارٹ اپ انڈیا، میک ان انڈیا اور نیشنل انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ پالیسی(این آئی ایس پی) جیسے حکومت ہند کے اقدامات سے اس ورکشاپ کی ہم آہنگی کو بھی اجاگر کیااور اداروں سے اپیل کی کہ وہ ایسے میکانزم کو مضبوط و مستحکم کریں جو تعلیمی تحقیق کو حقیقی دنیا میں اثر ڈالنے والا بنا سکیں۔
پروفیسر کفیل احمد، ڈین، رسرچ اینڈ انوویشن،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے قومی تعمیر اور شرکا کو تصورات سے آگے بڑھ کران کے اطلاق کی صورت تلاش کرنے کے سلسلے میں آئی پی آر اور ٹکنالوجی منتقلی سے متعلق موثرتقریر کی۔
چاوی گرگ،پیٹنٹس اور ڈیزائن کی ممتحن،انڈین پیٹنٹ آفس نئی دہلی نے آئی پی کو داخل دفتر کرنے سے متعلق پروسیس پر ایک جامع سیشن لیااور پیٹنٹ کی لائف سائیکل،دستاویز سازی کے پروسیس اور قانونی امور سے متعلق بہت اہم نکات پر روشنی ڈالی۔
پروفیسر ایس۔ایم۔مذکر،انویشن کوآرڈی نیٹر کے اظہار تشکر پر پروگرام کا اختتام ہوا۔انھوں نے وزارت تعلیم کے اختراعی سیل۔اے آئی سی ٹی ای،تمام مقررین، اداروں اور شرکا کی دلچسپی اور ان کے بیش قیمت تعاون کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔
یہ پروگرام قومی ترقیاتی اہداف کے ساتھ تعلیمی فضیلت کو ہم آہنگ کرتے ہوئے اختراعیت،کارجویائی اور دانشوارنہ املاک سے متعلق بیداری کے فروغ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی قیادت کی توثیق کرتاہے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba%d8%af%d8%a7%d9%86%d8%b4%d9%88%d8%b1%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%85%d9%84%d8%a7/feed/ 0
جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مختلف پروگراموں کے انٹرنس ٹسٹ کے نتائج کاکیا اعلان https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%86%db%92-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85%d9%88%da%ba/ https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%86%db%92-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85%d9%88%da%ba/#respond Wed, 18 Jun 2025 10:44:00 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4103 (پی این این)
جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سترہ یونیورسٹی پروگرام کے انٹرنس ٹسٹ کے نتائج کا اعلان کیا اور آج یعنی سترہ جون دوہزار پچیس کو پانچ اسکولوں کے منتخب امیدواروں کے داخلے کی فہرست جاری کردی۔یونیورسٹی نے تعلیمی سال دوہزار پچیس چھبیس کے لیے چھبیس اپریل تا تیس مئی دوہزار پچیس تک مختلف کورسیز کے لیے انٹرنس امتحانات منعقد کرائے۔مارچ اور اپریل دوہزار پچیس کے مہینوں میں جامعہ کے زیر اہتما م چلنے والے مختلف اسکولوں میں داخلے کے لیے پانچ شہروں یعنی کولکتہ، سری نگر، پٹنہ،لکھنؤ اور دہلی میں ایک ساتھ انٹرنس ٹسٹ منعقد کرائے گئے تھے۔انٹرنس امتحانات کا یہ مرحلہ بارہ شہروں میں پندرہ جون دوہزار پچیس کو جامعہ ریزیڈینشیل کوچنگ (آر سی اے) کے انٹرنس امتحان کے انعقاد کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
پروفیسر مظہر آصف شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مختلف اسکولوں، انڈر گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ،ڈپلوما اور دیگر پروگراموں میں داخلے کے لیے انٹرنس امتحانات بہترین انداز میں اور بروقت منعقد کرانے پر دفتر،کنٹرولر امتحانات،جامعہ ملیہ اسلامیہ کو مبارک باد دی۔ پروفیسر مظہر آصف نے سال رواں کے شان دار داخلہ پروسیس اور نتائج کے بروقت اعلان پر اطمینان کا اظہار کیا اور پروفیسر پون کمار شرما، کنٹرولر امتحانات،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروفیسر احتشام الحق، ڈپٹی، کنٹرولر امتحانات،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ان کی پوری ٹیم کو فرائض کی انجام دہی میں وقف ہونے،خلوص وسنجیدگی اور سخت کاوش کے لیے انھیں مبارک بادپیش کی۔پروفیسر آصف نے مزید کہاکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ امتحان کی کاروائی اور نتائج کے اعلان کی رفتار کے باب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ نے دوسری یونیورسٹی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔‘
پروفیسر محمدمہتاب عالم رضوی نے کہا”مختلف کورسیز کے انٹرنس ٹسٹ کے نتائج کا پہلے ہی اعلان کیا جاچکاہے اور باقی پروگراموں کے نتائج بھی آئندہ چند دنوں میں آجائیں گے۔انھوں نے کہاکہ نو سے زیادہ شہروں میں ایک اعشاریہ دو لاکھ سے زیادہ درخواست دہندگان کے لیے انٹرنسٹ ٹسٹ کرانے، اس کی تحسیب اور نتائج کے اعلان میں جامعہ دوسری یونیورسٹیوں سے کافی آگے رہی ہے۔ امیدوار جامعہ داخلہ پورٹل https://admission.jmi.ac.in پر نتائج دیکھ سکتے ہیں۔درخواست دہندگان کو مشورہ دیا جاتاہے کہ وہ نتائج، انٹرویو کی تاریخ اور جامعہ میں داخلہ کاروائی سے متعلق آگے کیا کرنا ہے اس سلسلے میں تازہ ترین معلومات کے لیے جامعہ کا متعلقہ پورٹل چیک کرتے رہیں۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%86%db%92-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85%d9%88%da%ba/feed/ 0
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ فارسی میں ایران شناسی ہال کا افتتاح https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d8%b4%d8%b9%d8%a8%db%81-%d9%81%d8%a7%d8%b1%d8%b3%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c/ https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d8%b4%d8%b9%d8%a8%db%81-%d9%81%d8%a7%d8%b1%d8%b3%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c/#respond Fri, 30 May 2025 09:56:03 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=3838 (پی این این)
نئی دہلی :شعبہ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایران کلچر ہاو ¿س و سفارت جمہوریہ اسلامی ایران دہلی کے اشتراک سے آج ایران شناسی ہال کا افتتاح شیخ الجامعہ پروفیسر مظہرآصف اور ہندوستان میں ایران کے سفیر کبیر ڈاکٹر ایرج الٰہی کی موجودگی میں عمل میں آیا۔ شیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف نے اپنے خطاب میںہندو ایران کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے ایران شناسی ہال کی تزئین کاری کیلئے ایرانی سفیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میری خواہش ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے خارجی زبانوں کے ہر شعبہ میں اُس ملک کی تہذیب و تمدن کی جھلکیاں پیش کرنے والا ایک مخصوص کمرہ ہونا چاہئے جس کے لیے میں بھی کوشش کروں گا اور صدور شعبہ کو بھی اس جانب توجہ دینی چاہئے۔ایران کے سفیر کبیر ڈاکٹر ایرج الٰہی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندو ایران کے سیاسی، سماجی اور علمی تعلقات زمانہ قدیم سے ہیں ،یہ دونوں ملک ساتھ رہے ہیں اور ہمیشہ دنیا کے سامنے اپنی مشترکہ علمی میراث کو پیش کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے جامعہ اور ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا کہ ہمیں یہ تزئین کاری کا موقع دیا۔ڈاکٹر فریدالدین فریدعصر کلچرل کونسلر ایران کلچر ہاو ¿س نے کہا کہ یہ ہال کی تزئین ہند و ایرانی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے جس میں مشہور فارسی شعرا کے اشعار اور باہمی روابط کی پینٹنگ سے زینت دی گئی ہے۔
جامعہ کے کارگذار رجسٹرار پروفیسر ابوذر خیری نے کہا کہ میرے لئے بہت خوشی کی بات ہے کہ آج اس ہال کا افتتاح عمل میں آیا میں نے بھی کئی سال تک پی۔ جی۔ ڈپلومہ ان ایرانولوجی میں تدریسی خدمات انجام دی ہیں۔
ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹیز اینڈ لینگوجز پروفیسر اقتدار محمد خان نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیشہ سے جامعہ کی مدد کرتا رہا ہے میری طالب علمی کے زمانہ میں بھی ایران کلچر ہاو ¿س نے بعض کاموں میں تعاون کیا تھا اورمجھے امید ہے کہ مستقبل میں بھی یہ تعاون جاری رہے گا۔ آخر میں صدر شعبہ فارسی پروفیسر سید کلیم اصغر نے تمام مہمانوں اور سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خاص طور سے سفیر ایران اور کلچر خانہ فرہنگ ایران کے ڈائرکٹرکا ایران شناسی کے ہال کی تزئین کاری کے لیے شکریہ ادا کیا ۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محسن علی نے انجام دیئے جبکہ پروگرام کا افتتاح ڈاکٹر یاسر عباس نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔شرکت کرنے والوں میں خاص طور سے کارگذار پروکٹر پروفیسر راجن کمار، میڈیا کوآرڈینیٹر پروفیسر صائمہ سعید، ڈین فیکلٹی آف آرکیٹیکچر پروفیسر قمر ارشاد، صدر شعبہ اردو پروفیسر کوثر مظہری، صدر شعبہ عربی پروفیسر نسیم اختر، صدر شعبہ تاریخ پروفیسر ناظم حسین جعفری، صدر شعبہ سنسکرت پروفیسر جے پرکاش، صدر شعبہ ہندی پروفیسر نیرج کمار،پروفیسر ہمایوں اختر نجمی صدر ویسٹ ایشین اسٹڈیز، ڈائرکٹر ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ پروفیسر حبیب اللہ، پروفیسر افضل مرتضی، پروفیسر ذیشان حسین،پروفیسر انیس الرحمن، پروفیسر افضل مرتضیٰ، پروفیسر نشاط منظر، پروفیسر ذیشان حسین کمپیوٹر سائنس، سابق ڈین فیکلٹی فائن آرٹس پروفیسر غضنفر زیدی، سابق صدر شعبہ فارسی پروفیسر قمر غفار، پروفیسر اظہر ہاشمی، ڈاکٹر سلیم جاوید ملک ڈی یو۔ کے علاوہ بڑی تعداد میں اساتذہ و طلباءنے شرکت فرمائی۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d8%b4%d8%b9%d8%a8%db%81-%d9%81%d8%a7%d8%b1%d8%b3%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c/feed/ 0