add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); petition – sachkiawaz.com https://sachkiawaz.com Thu, 03 Sep 2026 14:30:23 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.8 ٹی ایم سی کے 22 باغیوں کی رکنیت پر لٹکی تلوار https://sachkiawaz.com/%d9%b9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-22-%d8%a8%d8%a7%d8%ba%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b1%da%a9%d9%86%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d9%84%d9%b9%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%84%d9%88/ https://sachkiawaz.com/%d9%b9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-22-%d8%a8%d8%a7%d8%ba%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b1%da%a9%d9%86%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d9%84%d9%b9%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%84%d9%88/#respond Thu, 03 Sep 2026 14:30:23 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=10665 نئی دہلی:ترنمول کانگریس کے 22 باغی ممبران پارلیمنٹ جو این سی پی میں چلے گئے ہیں، ان کی رکنیت پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ 22 ستمبر تک جواب دیں کہ کیسے وہ این سی پی آئی میں گئے۔ غورطلب ہے کہ ٹی ایم سی کے لیڈر ابھشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایک گمنام جماعت این سی پی آئی میں چلے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون 2026 کو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھشیک بنرجی نے اوم برلا سے ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آئین کی دسویں شیڈیول کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے ان 20 این سی پی آئی ممبران پارلیمنٹ کو ٹی ایم سی اس عرضی کا جواب دینے کے لئے 22 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد 14 جون ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمنٹ نے بغاوت کردی تھی اور نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی ) کا دامن تھام لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے این ڈی اے کو حمایت دینے کا اعلان کردیا تھا، مگر اب ان کی رکنیت پر آئینی سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔بہرحال باغیوں میں حجان کی کیفیت ہے جبکہ ممتا بنرجی خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ یوسف پٹھان سمیت چار ممبران پارلیمنٹ ممتا بنرجی کے رابطہ میں ہیں۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%b9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-22-%d8%a8%d8%a7%d8%ba%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b1%da%a9%d9%86%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d9%84%d9%b9%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%84%d9%88/feed/ 0
چار ہزار مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹانے کا معاملہ،بنگال سرکار سے ہائی کورٹ نے طلب کی وضاحت https://sachkiawaz.com/%da%86%d8%a7%d8%b1-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%88%da%88%d8%a7%d8%b3%d9%be%db%8c%da%a9%d8%b1-%db%81%d9%b9%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9/ https://sachkiawaz.com/%da%86%d8%a7%d8%b1-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%88%da%88%d8%a7%d8%b3%d9%be%db%8c%da%a9%d8%b1-%db%81%d9%b9%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9/#respond Thu, 13 Aug 2026 14:21:14 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=9683 کولکاتہ:کولکاتہ ہائی کورٹ نے بنگال سرکار سے پوچھا ہے کہ اس نے مغربی بنگال کی مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹانے کے لئے کوئی حکم دیا ہے۔ کارگزار چیف جسٹس تاپ ورتا چکرورتی اور جسٹس اتروپ بنرجی کی بنچ نے ایک عرضی پر ریاستی حکومت سے یہ سوال کیا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ بغیر تحریری حکم کے بنگال میں 4000 مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹا دیئے گئے ہیں، اس عرضی پر عدالت نے بنگال سرکار سے پوچھا ہے کہ وہ بتائے کہ اس نے ایسی کوئی کارروائی کی ہے یا نہیں۔ کورٹ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست کو کرے گی۔ غورطلب ہے کہ ایک مفاد عامہ کی عرضی میں وکیل دانش فاروقی نے کہا ہے کہ پولیس افسران بغیر کسی تحریری حکم کے لائوڈاسپیکر ہٹادیئے ہیں۔ وہ صوتی جانچ کے بغیر غیر قانونی فرمانوں کی تابعداری کررہے ہیں۔ فاروقی کا کہنا ہے کہ اذان اسلامی اعتقادات کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ جو آئین کی دفعہ 25 کے تحت محفوظ ہے۔ اور لائوڈاسپیکر پر اس طرح کی پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ فاروقی کی نمائندگی کررہے ہیں سینئر وکیل کلیان بندو اپادھیائے نے کہا ہے کہ پولیس نے مسجد انتظامیہ پر دبائو ڈالا اور بنا کسی نوٹس کے چار ہزار مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹا دیئے۔ اس طرح کی غیر قانونی فرمان سے قانون کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%da%86%d8%a7%d8%b1-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%88%da%88%d8%a7%d8%b3%d9%be%db%8c%da%a9%d8%b1-%db%81%d9%b9%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9/feed/ 0