add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); Odisha – sachkiawaz.com https://sachkiawaz.com Mon, 15 Jun 2026 16:31:58 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.9 ملی وسماجی رہنما تھے سابق ایم ایل سی انور احمد ،ان کے سانحہ ارتحال پر امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نےگہرے دکھ اور صدمے کاکیا اظہار https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%84%db%8c-%d9%88%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d8%b1%db%81%d9%86%d9%85%d8%a7-%d8%aa%da%be%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%a8%d9%82-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%86%d9%88/ https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%84%db%8c-%d9%88%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d8%b1%db%81%d9%86%d9%85%d8%a7-%d8%aa%da%be%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%a8%d9%82-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%86%d9%88/#respond Mon, 15 Jun 2026 16:31:58 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=7725 (پی این این)
پھلواری شریف:بہار کے قدر آور ممتاز ملی وسیاسی شخصیت جناب انور احمد صاحب سابق ایم ایل سی کے سانحہ ارتحال پر امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نےگہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک نیک دل ،خوش اخلاق اور خد مت خلق کا جذبہ رکھنے والے ہمدرد انسان تھے ، اللہ تعالی مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے اور ان کے صاحبزادگان اسفر احمد و ارشد احمد وغیرھم کو صبر جمیل کی توفیق مرحمت فرمائے۔
ان کے انتقال پر ناظم امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے دلی رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے ،ہر ایک کے خوشی وغم میں شریک ہوتے تھے ،وہ اپنی شرافت کے باعث ہر مکتب فکر میں عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے ،ان کی ہر دل عزیز ی کا منظر ان کی نمازجنازہ میں شرکت کے موقع پر دیکھاکہ بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مرحوم کےلئے ایصال ثواب اور دعاء مغفرت کی۔
ناظم صاحب نے کہاکہ مرحوم 1978ء سے 1990 تک وارڈ کونسل کی حیثیت سے بڑی عوامی خدمت انجام دی اس کے بعد 1993ء سے 1995ء تک 15 نکاتی پروگرام کے نائب چیرمین اور1995 سے 2004 ء تک قانون ساز کونسل کے رکن کی حیثیت سے بڑے بڑے فلاحی ورفاہی کاموں کو انجام دیا۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم کا امارت شرعیہ اور یہاں کے بزرگان دین سے بڑا گہرا اور عقیدت مندانہ تعلق تھاان کے صاحبزادے جناب ارشد احمدڈائریکٹر مدرس انٹر نیشنل اسکول اور اسفر احمد وارڈ کونسلروالد محترم کے مشن کو آگے بڑھارہے ہیں اور امارت شرعیہ کی ملی تحریکات کو قوت بخش رہے ہیں دعاء ہے کہ اللہ تعالی ان کے تما م پسمندگان کو صبر وثبات کی توفیق بخشے اور مرحوم کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے ۔
حضرت امیرشریعت صاحب مدظلہ العالی کی ہدایت پر ناظم امارت شرعیہ مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی صاحب کی قیادت میں مولانامنہاج عالم ندوی اور مولانا محمد صابر حسین قاسمی نے نماز جنازہ میں شرکت کی،ارکان وفد نے مرحوم کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا اور تعزیتی کلمات کے ساتھ مرحوم کےلئے دعاء مغفرت کی ،قارئین سے بھی دعاء مغفرت کی درخواست ہے ۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%84%db%8c-%d9%88%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d8%b1%db%81%d9%86%d9%85%d8%a7-%d8%aa%da%be%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%a8%d9%82-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%86%d9%88/feed/ 0
قانون شریعت پر عمل کرنے سے معاشرہ میں قائم ہوتی ہے امن وسکون کی فضا:امیر شریعت https://sachkiawaz.com/%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d8%b9%d9%85%d9%84-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d8%b1%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%a7/ https://sachkiawaz.com/%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d8%b9%d9%85%d9%84-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d8%b1%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%a7/#respond Thu, 07 May 2026 13:16:59 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=6547 (پی این این )
پٹنہ :نظام قضا کا قیام امت محمدیہ کا اہم ترین فریضہ ہے جس سے امت نے کبھی غفلت نہیں برتی، اس لئے اس نظام کی اہمیت وضرورت کو دیکھتے ہوئے ہمارے اکابر واسلاف ہمیشہ اسے قائم کرنے اور اسے پھیلانے کیلئے فکرمند رہے اور اس کے لئے کوششیں بھی کرتے رہے ہیں، کیونکہ اسی سے معاشرہ میں امن وسکون کی فضا قائم ہوتی ہے، اسی لئے مدرسہ اسلامیہ عربیہ گھوری گھاٹ چترا میں دارالقضاء کی نشأۃ ثانیہ ہورہی ہے، یہ باتیں امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نے گھوری گھاٹ کی جامع مسجد میں مسلمانوں کے ایک بڑے اجتماع میں مولانا مفتی محمد زاہد بن محمد یونس کو منصب قضا پر فائز کرتے ہوئے کہیں۔
امیر شریعت نے مولانا موصوف کو سند قضاء دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ فریقین کے باہمی جھگڑوں کا قرآن وحدیث کی روشنی میں تصفیہ کریں اور مسلمانوں کو اسلامی قوانین واحکام پر عمل آوری کا جذبہ پیدا کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ جب اللہ رب العزت ہمارا خالق ومالک ہے تو اس کی اطاعت وفرمانبرداری کرنی ہے اور رسول اللہؐ کی تعلیمات واسوہ کے مطابق زندگی گذارنی ہے۔
امیر شریعت نے مسلمانوں سے کہا کہ آپ کو ایمانی جذبے سے اللہ اور اس کے رسولؐ کی باتیں دل وجان سے تسلیم کرنا ہے اور عملی زندگی میں اس کو جاری ونافذ کرنا ہے، اس موقع پر امیر شریعت نے امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے چھٹے امیر شریعت مولانا سید نظام الدین کی عملی وفکری صلاحیتوں کا اعتراف اور امارت شرعیہ کے تئیں آپ کی خدمات اور کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بستی آپ کا مولد ومسکن بھی ہے جو آپ سب کے لئے قابل صد رشک ہے۔
اس افتتاحی مجلس کا آغاز مولانا مفتی مجیب الرحمن قاسمی کی تلاوت سے ہوا، مفتی صاحب موصوف نے تمہیدی کلمات میں امارت شرعیہ کی نگرانی میں چل رہے دارالقضاء کی تفصیل بیان کی، اجلاس کی نظامت مولانا عبد الواحد ندوی نے بحسن وخوبی انجام دی۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d8%b9%d9%85%d9%84-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d8%b1%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%a7/feed/ 0
تعلیم وتربیت میں بچوں کی نفسیات ومزاج کا بھی رکھا جائے پاس ولحاظ : امیر شریعت https://sachkiawaz.com/%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85-%d9%88%d8%aa%d8%b1%d8%a8%db%8c%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%81%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d9%88%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%ac-%da%a9/ https://sachkiawaz.com/%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85-%d9%88%d8%aa%d8%b1%d8%a8%db%8c%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%81%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d9%88%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%ac-%da%a9/#respond Tue, 14 Apr 2026 13:18:43 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=6327 (پی این این)
پھلواری شریف:امارت شرعیہ نے سی بی ایس ای طرزپربہار ، اڈیشہ وجھارکھنڈ ومغربی بنگال میں متعدد امارت پبلک اسکول قائم کیے جو بچے اور بچیوں کی نفسیات اورمزاج کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے اور معیاری عصری تعلیم کو فروغ دینے کا مثالی کارنامہ انجام دے رہاہے ۔اب اساتذہ کرام کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ معلم انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صفا ت وکمالات کا عملی نمونہ پیش کریں ، بچوںسے محبت وشفقت کا معاملہ کریں اور ان میں اسکول سے محبت پیداکرنے کی کوشش کریں ، ان خیالات کا ا ظہار امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نے امارت پبلک اسکول کے اساتذہ ومعلمات کے ایک خصوصی اجتماع میں کیا۔
امارت شرعیہ کے میٹنگ ہال میں امارت شرعیہ کی نگرانی میں چلنے والے امارت پبلک اسکولس پھلواری شریف ،نگڑی ،اربارانچی،کٹیہار، پورنیہ، کشن گنج گریڈیہہ، گڈا، آسنسول،کٹک اڈیشہ وغیرہ سے تشریف لانے والے اساتذہ ومعلمات سے خطاب کرتے ہوئے امیر شریعت نے کہاکہ حسن اخلاق اورمعیاری تعلیم وتربیت کے ذریعہ ہی اسکول ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے ، اس لیے ٹیم ورک کے ساتھ کاموں کو قوت بخشا جائے اور نظم ونسق کے ساتھ اسکول کو بہتر سے بہتر اورمعیاری بنایاجائے ، حاضری سو فیصد لازمی ہو، بچوں کی نفسیات اورمزاج کاخیال رکھتے ہوئے ان کی تربیت ہو، زبان وبیان کی اصلاح پر توجہ دیںاور وقفہ وقفہ سے تعلیمی جائزہ لیتے رہیں، بچوں سے دوران تعلیم پانچ منٹ کے لیے فیزیکل ایکسرسائز کروایاجائے تاکہ ان کے اندر نئی توانائی پیداہو، اس سلسلہ میں امیر شریعت نے اساتذہ کرام سے بھی استصواب رائے کیا جس میں بعض اساتذہ کرام نے تعلیم میںAtlasکا استعمال کرے Exportکرانے پر توجہ دلائی ۔ امیر شریعت نے ا ن آراء پر تحسینی کلمات اداکرتے ہوئے ہر بچہ کو ہرفلڈ کے لیے تیار کرنے کے لیے لائحہ عمل بنانے پر توجہ دلائی۔
ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی نے کہا اساتذہ کرام کا مقام ومنصب بہت بلند ہے ، وہ معمارقوم ہوتے ہیں ، محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم معلم انسانیت تھے ، انہوں نے اپنے بلند اخلاق واقدار سے لوگوں کے دلوں کو حق انصاف کو قبول کرنے پر مجبور کردیا، آپ بھی معلم ہیں ، اس اخلاق کے پرتو ہیں، بچے آپ کے پاس امانت ہیں ، آپ اپنی صلاحیت سے انہیں بنانے ، سنوارنے کی کوشش کیجئے اوربچوں کو اپنے کردار وعمل سے متاثر کیجئے ، منکرات سے حتی المقدور پرہیز کیجئے ۔
اسکولوں کے اساتذہ کرام مولانا سہیل سجاد قاسمی ،رانچی، مولانا محمد عثمان قاسمی ،نزہت پروین،پھلواری شریف،روحی پروین ، نازش صباء،شیمونہ نوشین، ثانیہ فیروز،رضوان احمد کٹیہار،صنور حسین گریڈیہہ، عباس گریڈیہہ،عامر خان آسنسول، اظہر عالم ،افتخاراحمد پورنیہ،محمد نوشاد عالم کشن گنج، محمد جنید عالم گڈا،مولانا یوسف اشرفی وغیرہ نے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے قیمتی مشورے دیے ، اس نشست کا آغاز مولانا یوسف اشرف کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا، اس مجلس میں مولانا رضوان احمد ندوی ، حافظ محمد احتشام رحمانی ، مولانا محمد منہاج عالم ندوی ، مولانا ارشد رحمانی ، مولانا محمد شارق رحمانی ، مولانا قیام الدین قاسمی وغیرہ شریک رہے ۔اخیر میں یہ مجلس امیر شریعت کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی ۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85-%d9%88%d8%aa%d8%b1%d8%a8%db%8c%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%81%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d9%88%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%ac-%da%a9/feed/ 0
ایران کی اصول پسند قیادت کے ظالمانہ قتل قابل مذمت:امیرِ شریعت https://sachkiawaz.com/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%88%d9%84-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%d9%82%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b8%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%db%81-%d9%82%d8%aa%d9%84/ https://sachkiawaz.com/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%88%d9%84-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%d9%82%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b8%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%db%81-%d9%82%d8%aa%d9%84/#respond Mon, 02 Mar 2026 11:38:19 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5968 (پی این این)

پٹنہ:امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال،مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشین خانقاہِ رحمانی مونگیر، نے ایران میں پیش آنے والے حالیہ المناک واقعات میں شیخ آیت اللہ علی خامنہ ای اور متعدد اہم ایرانی قائدین و ذمہ داران کے جاں بحق ہونے پر گہرے رنج و غم، شدید صدمہ اور امتِ مسلمہ کے ساتھ قلبی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔امیرِ شریعت نے اس واقعہ کو ایک سنگین ظلم، بین الاقوامی ضمیر کے لیے چیلنج، اور انسانی جان کی حرمت پر کھلا حملہ قرار دیتے ہوئے نہایت سخت اور واضح الفاظ میں اس کی مذمت کی۔
انہوں نے کہاکہ آج امتِ مسلمہ جس کرب اور اضطراب سے گزر رہی ہے وہ محض ایک سیاسی واقعہ کا ردِعمل نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی اور اجتماعی زخم ہے، جب کسی مسلم قیادت کو اس طرح نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری امت کے احساسات اور وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق انسانی جان کی حرمت بنیادی اصول ہے، اور کسی بھی ملک یا قیادت کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں دنیا کو مزید بے یقینی، انتقام اور عدمِ استحکام کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔امیرِ شریعت نے مرحوم شیخ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی سطح پر ایک مضبوط، جرأت مند، بااثر اور اصولی آواز کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی طویل قیادت کے دوران استقامت، خود اعتمادی اور امت کے اجتماعی شعور کو ابھارنے کی کوشش کی۔ اختلافاتِ مسلک کے باوجود انہوں نے عالمی سطح پر مسلم مسائل، خصوصاً مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی، جس کی بازگشت مسلم دنیا میں سنی جاتی تھی۔ ان کا یوں اچانک اٹھ جانا بلاشبہ ایک بڑا خلا پیدا کرتا ہے جسے پر کرنا آسان نہیں ہوگا۔
امیرِ شریعت نے امت کے درد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت صرف تعزیت کا نہیں بلکہ غور و فکر کا بھی ہے۔ ظلم کا جواب انتشار سے نہیں بلکہ اتحاد سے دیا جاتا ہے۔ جذبات کی شدت کو حکمت کے دائرے میں رکھ کر عمل درامد ہونا ہی اہلِ ایمان کی شان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی اخوت کا تقاضا ہے کہ اہلِ قبلہ باہمی احترام اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، کیونکہ ایسے مواقع پر داخلی اختلافات کو ہوا دینا امت کو مزید کمزور کرتا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے انصاف، شفافیت اور مکالمہ کا راستہ اختیار کرے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہ کریں تو اس نوعیت کے واقعات پورے خطے کو عدمِ استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ انسانی جانوں کا تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔حضرت امیرِ شریعت نے ایران کے عوام، متاثرہ خاندانوں اور پوری مسلم دنیا کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سانحات میں سب سے اہم چیز باہمی تعاون، صبر اور اجتماعی نظم ہے۔ انہوں نے مساجد، مدارس اور اسلامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ دعاؤں، اصلاحی بیانات اور وحدتِ امت کے پیغامات کے ذریعے عوام کو مثبت اور تعمیری راستے کی طرف رہنمائی کریں۔
اختتام میں امیرِ شریعت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق قائدین پر اپنی رحمت نازل فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبر اور سکون عطا فرمائے، ایران کے عوام کو استحکام اور سلامتی نصیب فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو اتحاد، بصیرت، حکمت اور ثابت قدمی عطا فرمائے تاکہ وہ ظلم کے مقابلے میں اخلاقی قوت اور اجتماعی شعور کے ساتھ کھڑی ہو سکے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%88%d9%84-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%d9%82%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b8%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%db%81-%d9%82%d8%aa%d9%84/feed/ 0
وندے ماترم کی لازمیت مذہبی اور شخصی آزادی کے خلاف :امیر شریعت https://sachkiawaz.com/%d9%88%d9%86%d8%af%db%92-%d9%85%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d8%aa-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%ae%d8%b5%db%8c-%d8%a2%d8%b2%d8%a7/ https://sachkiawaz.com/%d9%88%d9%86%d8%af%db%92-%d9%85%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d8%aa-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%ae%d8%b5%db%8c-%d8%a2%d8%b2%d8%a7/#respond Fri, 13 Feb 2026 12:49:54 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5855 (پی این این)
پھلواری شریف:امیر شریعت بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نےکہاکہ نظم وندے ماترم کی اصل روح دیوی ،درگاہ کی حمد وثناء پر مبنی ہے ، اس کو لازمی قرار دینا مذھبی اور شخصی آزدی کے قطعی خلاف ہے۔انہوں نےمزید فرما یاکہ ملک آئین ودستور سے چلے گا کیونکہ دستور کے معماروں نے ملک کے دستور کو سیکولر ڈھانچہ میں تشکیل دیا ہے ، جس میں تمام مذاہب وادیان کو مذہبی آزادی حاصل ہے ، یہاں کے تمام باشندے اپنے مذہب وعقیدے پر آزادانہ طریقہ پر عمل کرتے ہیں جو ان کے بنیادی حقوق کا حصہ ہے اور وندے ماترم گیت میں دیوی دیوتا ؤں کو ماں تصور کرنے کا نظریہ پیش کیا گیا ہے ، ماضی میں بھی یہ قضیہ کھڑا ہواتھا ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے واضح کردیا تھا کہ یہ ترانہ اپنے مخصوص تہذیب میں روایت سے وابستہ ہے ، اس کو ملکی وحدت قرار دینے سے مشکلات پیداہوں گی ، تحریک آزادی کے قائد اور ملک کےپہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا کہ اس طرح کے ترانوں سے قومی یکجہتی میں شگاف پیدا ہوسکتا ہے ، بالآخر یہ مسلمانوں کے ایمان وعقیدے کے منافی ہے جس کو ہم کسی طرح تسلیم نہیں کریں گے ، کیوں کہ مذہبی آزادی ہمارا بنیادی حق ہے ۔
ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعیدا لرحمن قاسمی نےکہاکہ ملکی عدالتوں نے اس ترانے کو سیکولر اقدار کے منافی قرارد یا ہے، اس کے باجود مرکزی حکومت کا وندے ماترم گانے پر اصرارکرنا دستور وآئین اورعدالتی فیصلوں کے قطعی خلاف ہے، اس سے ملک میں یکجہتی قائم نہیں رہ سکتی ہے ، لہٰذا ملکی وحدت وسالمیت کے پیش نظر حکومت اپنے نوٹیفیکیشن کو واپس لے تاکہ ملک میں جمہوری اقدار قائم رہیں ، انہوں نے مزید فرمایاکہ اس ملک کو بنانے وسنوارنےاورانگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے میں مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ، ہزاروں کی تعدا د میں مسلمان شہید ہوئے ، قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں ، ان کی سرفروشانہ کوششوں کے نتیجہ میں ملک آزاد ہوا،اور یہ ملک گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ قرار پایا اور تمام مذاہب وادیان کا خیال رکھتے ہوئے دستور بنایا گیا،لہذا ان پر کوئی ایسے نامناسب کلمات وگیت کو قومی ترانہ کا نام دے کر پڑھنے پر مجبور کرنا کسی طرح بھی قبول نہیں ہے ۔ اس لیے ہمار امرکزی حکومت سے مطالبہ ہے کہ فورا ًاس نوٹیفیکیشن کو واپس لے تاکہ ملک میں امن وامان قائم رہے اور محبت وبھائی چارگی کی فضا ہموار ہو۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%88%d9%86%d8%af%db%92-%d9%85%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d8%aa-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%ae%d8%b5%db%8c-%d8%a2%d8%b2%d8%a7/feed/ 0
امیرِ شریعت کے ہاتھوں متعدد اہم کتابوں کا شاندار رسمِ اجرا https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%d8%aa-%da%a9%db%92-%db%81%d8%a7%d8%aa%da%be%d9%88%da%ba-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%af-%d8%a7%db%81%d9%85-%da%a9%d8%aa%d8%a7%d8%a8%d9%88%da%ba/ https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%d8%aa-%da%a9%db%92-%db%81%d8%a7%d8%aa%da%be%d9%88%da%ba-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%af-%d8%a7%db%81%d9%85-%da%a9%d8%aa%d8%a7%d8%a8%d9%88%da%ba/#respond Mon, 09 Feb 2026 13:15:44 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5826 (پی این این)
پٹنہ:امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے مرکزی دفتر میں منعقدہ اجلاسِ مجلسِ شوریٰ کے موقع پر ایک یادگار اور علمی اہمیت کی حامل نشست میں امیرِ شریعت مفکرِ ملت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے دستِ مبارک سے متعدد قیمتی اور علمی کتابوں کا باوقار رسمِ اجرا انجام پایا۔
اس موقع پر معروف عالمِ دین، صاحبِ قلم اور معہد عائشہ الصدیقہ خاتوپور بیگوسرائے کے بانی وناظم مولانا مفتی عین الحق امینی قاسمی کی دو اہم تصانیف کی رونمائی عمل میں آئی۔ پہلی کتاب “افکارِ ولی” ہے، جو امیرِ شریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے افکاروالفاظ، سیرت و کردار، منہج و اولیات اور دینی و سماجی خدمات پر مبنی تحقیقی اور فکری مضامین کا ایک نہایت گراں قدر اور بصیرت افروز مجموعہ ہے۔ کتاب امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی ،مفتی محمد خالد حسین نیموی اور پرفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی کے کلمات عالیہ سے مزین ہے جس میں مؤلف کی کاوش اور امیر شریعت سابع سے غیر معمولی عقیدت ومحبت کو سراہا گیا ہے۔ یہ کتاب دینی قیادت، فکری رہنمائی اور ملت کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کتاب میں رحمانی کے روشن افکار اور ادھورے خواب کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا۔
اسی طرح دوسری کتاب “تذکرۂ مشفقِ ملت” ہے، جو سابق رکنِ شوریٰ امارتِ شرعیہ اور بیگو سرائے کی عظیم دینی وملی شخصیت مولانا محمدشفیق عالم قاسمی کی حیات، علمی خدمات، ملی جدوجہد اور دینی و سماجی کارناموں پر مشتمل ایک جامع اور مؤثر تذکرہ ہے۔ یہ کتاب اہلِ علم اور نئی نسل کے لیے ایک قیمتی تاریخی و اخلاقی سرمایہ ہے۔ اس کتاب کی تصنیف کے ذریعےمصنف نے مشفق ملت پر آنے والے دنوں میں کام کرنے والوں کے لئے مضبوط متن تیار کردیا ہے جس سے استفادہ کیا جاتا رہے گا ۔ اس تقریب میں ایک اور اہم تصنیف “حی علی الفلاح” کا بھی رسمِ اجرا ہوا، جو مفتی محفوظ الرحمن قاسمی (صدر مفتی و مہتمم جامعہ عربیہ سراج العلوم) کے علمی و اصلاحی افادات کو مرتب کر کے شائع کی گئی ہے۔ اس کتاب کی ترتیب و تدوین قاری محمد حیدر نے انجام دی ہے۔ یہ تصنیف دینی تربیت، فکری رہنمائی اور روحانی اصلاح کے حوالے سے نہایت مفید اور مؤثر کاوش ہے۔
امیرِ شریعت دامت برکاتہم نے اس موقع پر مصنفین، مرتبین اور معاونین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ علمی و فکری سرمایہ امت کی امانت ہے، اور ایسی تصانیف آئندہ نسلوں کے لیے رہنمائی، بصیرت اور اصلاح کا ذریعہ بنتی ہیں۔ انہوں نے اہلِ علم کو تحقیق، تصنیف اور دینی خدمات کے میدان میں مزید سرگرم رہنے کی تلقین فرمائی۔اجلاس میں شریک مجلسِ شوریٰ کے معزز اراکین، علما، دانشوران اور مہمانانِ خصوصی نے ان کتابوں کو ملت کے لیے ایک اہم علمی سرمایہ قرار دیا اور امارتِ شرعیہ کی علمی و فکری خدمات کو سراہتے ہوئے مصنفین کو مبار بادی بھی پیش کی ۔اس اہم پروگرامز میں ان قیمتی علمی دستاویزوں کی رونمائی نہ صرف ایک خوش آئند پیش رفت ثابت ہوئی بلکہ ملتِ اسلامیہ کے فکری و دینی تسلسل کو مضبوط کرنے کی ایک اہم کڑی بھی سامنے آئی۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%d8%aa-%da%a9%db%92-%db%81%d8%a7%d8%aa%da%be%d9%88%da%ba-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%af-%d8%a7%db%81%d9%85-%da%a9%d8%aa%d8%a7%d8%a8%d9%88%da%ba/feed/ 0
امارت شرعیہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں قضاۃ :امیر شریعت https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%b1%db%8c%da%91%da%be-%da%a9%db%8c-%db%81%da%88%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%ab%db%8c%d8%aa/ https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%b1%db%8c%da%91%da%be-%da%a9%db%8c-%db%81%da%88%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%ab%db%8c%d8%aa/#respond Sat, 07 Feb 2026 13:35:10 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5815 (پی این این)
پھلواری شریف:مرکزی دفتر امارت شرعیہ کے المعہد العالی کے کانفرنس ہال میں مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مد ظلہ العالی امیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈومغربی بنگال کی صدارت میں امارت شرعیہ بہار اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے جملہ قضاۃ کرام کی ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی، امیر شریعت نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ امارت شرعیہ کوئی ادارہ یاتنظیم نہیں، بلکہ یہ ایک اسلامی فکر ہے، ہم سب کو فکر امارت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، اس کے لئے فکر امارت سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے، آپ نے یہ بھی فرمایا کہ عہدہ سے عزت یاذلت نہیں ملتی بلکہ عزت اور وقار کا مدار کام اور لوگوں کے لئے نفع بخش ہونے پر ہے، ہر کوئی آپ کی عزت کرے یہ کوئی ضروری نہیں، اللہ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی لوگوں نے بُرا بھلا کہا، لیکن اس کی وجہ سے آپؐ کی عزت وعظمت اور تقدس پر ذرہ برابر کوئی فرق نہیں پڑا، اس لئے ہم سب کو بھی اپنے کاموں میں مخلص ہونا چاہئے اور لوگوں کے لیے نفع بخش بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ امیر شریعت نے قضاء کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ قضاء کے ذریعہ عدل وانصاف قائم ہوتا ہے اور عدل وانصاف ہی کے ذریعہ امن وامان قائم ہوتا ہے، امیر شریعت دامت برکاتہم نے تمام قضاۃ کے کاموں کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ یقینا آپ لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں، آپ لوگ امارت شرعیہ کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
حضرت مولانا محمدشمشاد رحمانی قاسمی نائب امیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال نے فرمایا کہ یقینا آپ تمام لوگ علم وفضل ہے، آپ لوگوں سے بہت سارا کام لیا جاتا، ہر شعبہ کی نظر آپ ہی لوگوں پر ٹکی ہوتی ہے اور ہر شخص آپ سے امید لگائے بیٹھا ہوا ہے اور آپ سے امید بھی ہونی چاہئے اس لئے آپ اس کے لائق بھی ہیں جو لوگ جتنا کام کرکے گزر جاتے ہیں وہی لوگ اصل قابل تعریف ہیں اور وہی ان کے لئے سرمایہ ہے، امارت شرعیہ کا نظام قضاء مزید مضبوط اور مستحکم ہو رہا ہے، جس میں حضرات قضاۃ کا جہد مسلسل اور سعی پیہم کا عنصر غالب ہے۔
حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی ناظم امارت شرعیہ وصدر مفتی امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال نے قضاۃ کرام کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ سب اپنے معمولات میں کتابوں کے مطالعہ کو ضرور شامل رکھیں، خاص طور پر عائلی مسائل سے متعلق کتابوں کا مطالعہ ضرور کرتے رہیں، مزید انہوں نے کہا کہ آپ سب کی محنتوں اور کوششوں سے الحمد للہ امارت شرعیہ کامیابی وکامرانی کی راہ پر گامزن ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ادارہ کے لیے نفع بخش بنائے اور آپ سب کو صحت وسلامتی کے ساتھ رکھے۔
مفتی محمد انظار عالم قاسمی صدر قاضی شریعت امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال نے سب سے پہلے کار قضاء میں جو خامیاں اور کمیاں رہ جاتی ہیں ان پر تفصیل سے گفتگو کی اور تمام قضاۃ کرام کو ہدایت کی کہ کار قضاء ایک نہایت حساس اور اہم فریضہ ہے، جس میں کوتاہی پر عندالناس جواب دہ ہونے کے ساتھ ساتھ عند اللہ جواب دہ ہونا پڑے گا، لہٰذا ہم سب کو چاہئے کہ کتاب وسنت اور اپنے اکابر کے ضابطے کے مطابق کارقضاء انجام دیں، مرکزی دارالقضاء سے جو ہدایت دی جائے اس پر ضرور عمل کی کوشش کریں، نیز یہ فرمایا کہ ہم سب کی شخصیت اور ہم سب کی عزت ادارہ کی وجہ سے ہے، اس لئے اپنے ذاتی مفاد پر ادارہ کے مفاد کو ترجیح دیں اور اپنے کسی مفاد کی وجہ سے ادارہ کو نقصان پہونچانے سے پرہیز کریں، قاضی کی اس بات پر نائب امیر شریعت اور ناظم نے پرزور تائید کی۔
مولانا ابوالکلام شمسی معاون ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ امارت کے اسکول کی تعمیر وترقی میں قضاۃ کرام بہت اہم کردار نبھاتے ہیں، مزید قضاۃ کرام اگر اس طرف توجہ دیں تو یہ کام اور مضبوط ہوگا، ان شاء اللہ، مولانا ارشد علی رحمانی قاضی شریعت مہدولی، دبھنگہ نے تنظیم کو بنانے کے تعلق سے کہا کہ ہم سب کو جتنی محنت کرنی پڑے کرکے تنظیم امارت شرعیہ کو مستحکم بنانا چاہئے۔ایجنڈوں پر بحث میں قضاۃ کرام نے پورا پورا حصہ لیا اور امیر شریعت سے کھل کر تبادلۂ خیال کیا اور کار قضاء سے متعلق پیش آمدہ پریشانیوں کو بیان کیا۔
مفتی محمد سہیل اختر قاسمی، مولانا محمد مجیب الرحمن قاسمی دربھنگوی، مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی مولانا مفتی محمدسہراب ندوی، مفتی محمد انور قاسمی، مولانا سعود عالم قاسمی، مولانا ارشد قاسمی پورنیہ، مولانا ارشد قاسمی گوگری، مولانا ارشد قاسمی کشن گنج اور مولانا رضی احمد ندوی نے زیر بحث ایجنڈوں پرکئی تجاویز پیش کئے،ان کے علاوہ مولانا مجیب الرحمن قاسمی بھاگلپوری، مولانا امتیاز احمد قاسمی، قاضی ضمیر الدین قاسمی، قاضی صبغۃ اللہ قاسمی، مولانا راشد انور قاسمی، مولانا شمس الحق قاسمی نے نظام قضاء کو وسیع تر کرنے اور مسائل ومعاملات کو حل کرنے کے لئے مختلف تدابیر بیان کیے۔
اجلاس کی نظامت مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت نے کی، مولانا عبداللہ انس مرکزی دارالقضاء کی تلاوت اور مولانا ابوداؤد قاسمی دارالقضاء رانچی کی نعت شریف سے مجلس کا آغاز ہوا، اس اجلاس میں ڈاکٹر سید یاسر حبیب سکریٹری مولانا سجاد میموریل ہاسپیٹل، ڈاکٹر سید نثار احمد ، ایس ایم شرف ، اے ڈی ایم عبد الوہاب ، عرفان الحسن انچارج بیت المال، حاجی احسان الحق نے شرکت کی۔اس نشست میں کئی اہم تجاویز پاس ہو ئیں، اخیر میں امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی دعا اور کلمات تشکر کے ساتھ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%b1%db%8c%da%91%da%be-%da%a9%db%8c-%db%81%da%88%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%ab%db%8c%d8%aa/feed/ 0
اوقاف کی حفاظت مسلمانوں کی ایمانی ذمہ داری:امیرشریعت https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%88%d9%82%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%81%d8%a7%d8%b8%d8%aa-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af/ https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%88%d9%82%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%81%d8%a7%d8%b8%d8%aa-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af/#respond Tue, 25 Nov 2025 12:16:01 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5405 جو جائیداد یں وقف بورڈ میں پہلے سے رجسٹر ڈ ہیں ا ن کوہی امید پورٹل پر احتجاجی نوٹ کےساتھ اپلوڈ کریں
(پی این این)
پھلواری شریف: اوقاف کی جائدادیں اللہ کی ایک امانت ہیں، ان کی حفاظت کے لئے ہم سبھی لوگ اللہ کی غیبی نصرت وحمایت اوراس کے احکام کی پیروی کے ساتھ اجتماعی قوت سے اٹھ کھڑے ہوں اور ہرحال میں منشاء واقف کے مطابق اس کے مصارف کوعمل میں لائیں، ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نے بہار کے متولیان اوقاف کے ایک مشاورتی اجلاس منعقدہ ۲۵؍نومبر ۲۰۲۵ء المعہدالعالی للتدریب فی الافتاء والقضاء کے کانفرنس ہال میں کیا،جس میں ریاست بہار کے متولیان مساجد ومدارس ،قبرستان کے صدور وسکریٹریز نے پانچ سو سےزائد تعداد میں شرکت کی، اس مجمع سے خطاب کرتے ہوئے امیر شریعت مدظلہ نے فرمایاکہ وقف کا نیا قانون(وقف ترمیمی ایکٹ 2025) دستور ہند کے بنیادی دفعات ،انسانی حقوق اور سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کے خلاف ہے، اس سے وقف کی جائدادیں محفوظ نہیں رہیں گی، اس لئے اس قانون کی واپسی تک ہماری تحریک جاری رہے گی، حضرت امیر شریعت نے اپنے ایک گھنٹہ کے خطاب میں وقف کی شرعی حیثیت اور موجودہ ایکٹ کے نقائص پر نہایت ہی باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے کہاکہ 1850ء سے قبل اوقافی جائدادیں محفوظ تھیں، انگریزوں کے عہدمیں 1923میں ایک قانون بنا جس کو قانون سازوں نے چیریٹی کے دائرہ سے نکال دیا تاکہ زرعی ٹیکس اور مال گذاری کی حصولیابی آسان ہو، حالانکہ یہ کوئی چیریٹی پروپرٹی نہیں ہے، بلکہ وقف عبادت ہے، جب مرکزی حکومت نے نیاقانون وضع کیا تو انگریزوں کے نقطہائے نظر کو پیش نظر رکھا، حالانکہ یہ تصور سراسر شرعی وملکی قانون کے خلاف ہے، اس کی اصلاح ودرستگی کےسلسلہ میں مرحلہ وار تبدیلی ہوتی رہی، تاآنکہ 1995ء میں وقف ایکٹ پاس ہوا جس میں بڑی حد تک واقف کے منشاء کا خیال رکھاگیا اور زبانی وقف کرنے کو بھی وقف سمجھا گیا، اس کے لئے رجسٹریشن کو لازمی نہیں قرار دیا، اب جب کہ نیا قانون نافذ ہونے والاہے، اس میں اوقاف کو رجسٹرڈ کرانے کو لازمی قراردیاگیا ہے، اس نئے قانون نے ملت کو ذہنی الجھن میں ڈال دیاہے کہ وہ شرعی عزیمت کی راہ اختیار کرے یا قانونی رخصت کے طریقہ کار کو اپنائے، اگر عزیمت پر عمل کیاجاتاہے تو قیدوبند کی صعوبتیں جھیلنی ہوںگی اوراس کے لئے ہم سب کو تیار رہناہے۔
اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے اگرچہ ہم سب اس سیاہ قانون کو کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں سمجھتے ؛تاہم حکومت کی طرف سے جاری ہدایت کے پس منظر میں اگر کوئی متولی عزیمت کی راہ اختیار کرے تو وہ کورٹ کی راہ اختیار کرے اور اگر رخصت کی راہ اختیار کرتا ہے تو جائداد جو وقف بورڈ میں پہلے سے رجسٹرڈ ہیں انہیں امید پورٹل پر اپلوڈ کرائیں؛لیکن اس کے ساتھ امارت شرعیہ کی طرف سے جو احتجاجی نوٹ فراہم کرایا جا رہا ہے ،اسے بھی اپلوڈ کرے ؛تاکہ عدم رضا کے اظہار کے ساتھ اللہ کے سامنے کسی قدر جوابدہی سے بچ سکیں ،ان کے علاوہ جو وقف کی جائداد وقف بورڈ میں رجسٹرڈ نہیں ہیں ،انہیں سپریم کورٹ کے مکمل فیصلہ آنے سے پہلے رجسٹرڈ کرانے کی ضرورت نہیں ہے ،نیز جو مدارس،مساجد،عیدگاہ ،قبرستان خرید یا گفٹ کی زمین پر واقع ہیں یا ان کے کاغذات دستیاب نہیں ہیں صرف کھتیان ہیں ان کا ذکر ہے ،ایسی جائداد کو بھی رجسٹرڈ نہیں کرانا ہے ،ان شاء اللہ امارت شرعیہ اس سلسلہ میںآئندہ غور خوض کے بعد مزید رہنمائی کرے گی ،جوحضرات رجسٹرڈ شدہ جائداد کو امید پورٹل پر ڈالنا چاہتے ہوں اور انہیں دشواری در پیش ہو تو وہ امارت شرعیہ کے مرکزی دفتر میں قائم شعبۂ خدمت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ازیں قبل ناظم امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ وصدر مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی نے اپنے خیرمقدمی کلمات میںمندوبین کا شکریہ ادا کیا اور اوقاف کی اہمیت وافادیت اور احکام ومسائل کے ذکر کے ساتھ اوقاف کی گرانقدر تاریخ ،ہندوستان کے مختلف ادوار میں اس کے حکومتی قوانین کی خطرناکیوں کو بیان کیا اور اس تعلق سے اکابر امارت شرعیہ کی طرف سے کی جانے والی کاوشوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اول دن سے موجودہ امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی بل سے لیکر قانون بننے تک بڑی جدوجہد کرتے رہے، جس کی ایک لمبی تاریخ ہے کہ اس کے قانون کے خلاف سیکڑوں اجتماعات منعقد کئے، ملت کو وقف کی حفاظت کے لئے بیدار کیا، بدقسمتی ایسی کہ سپریم کورٹ کے عبوری فیصلہ نے بھی سبھوں کو مایوس کیا اورجن نکات پر رولنگ دی وہ بھی اطمینان بخش نہیں ہے،ان حالات میں ہم سب کو اجتماعی قوت کے ساتھ مسئلہ کو حل کرنا ہے اورآخری لمحہ تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھنی ہے اور جس طرح آج آپ امارت شرعیہ کی دعوت پر یہاں جمع ہوئے ہیں آئندہ بھی امارت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہاں تشریف لائیں اور یقین مانیں جو تحریک اجتماعی قوت سے چلتی ہے وہ کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے۔
یہ اجلاس مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امیر شریعت بہار اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال کی صدارت میں منعقد ہوا،اجلاس کا آغاز مولانامولانااسعد اللہ قاسمی ،مینیجر نقیب کی تلاوت کلام سے ہوا ، بعدا زاں مولانا مجیب الرحمن قاسمی معاون قاضی شریعت امارت شرعیہ اور مولانا احمد حسین قاسمی مدنی معاون ناظم امارت شرعیہ نے رسالت مآبﷺ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا، اجلاس کی نظامت کا فریضہ مولانامفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا، شرکاء نے رجسٹریشن کے تعلق سے کئی خدشات اور اندیشوں کا اظہار کیا جس کا حضرت امیر شریعت نے بہت عمدہ طریقہ سے قانونی انداز میں جواب مرحمت فرمایا جس سے لوگوں کو اطمینان خاطر ہوا، اخیر میں یہ اجلاس حضرت امیر شریعت کی رقت آمیزدعاپر اختتام پذیر ہوا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%88%d9%82%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%81%d8%a7%d8%b8%d8%aa-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af/feed/ 0
اوقاف کا تحفظ مسلمانوں کی ایمانی ذمہ داری ،عدالتی فیصلہ کی روشنی میں لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت : امیر شریعت https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%88%d9%82%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7/ https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%88%d9%82%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7/#respond Tue, 30 Sep 2025 12:21:54 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5064 (پی این این)
پٹنہ :امارت شرعیہ بہار اڈیشہ جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے اراکین مجلس ارباب حل وعقد کی زوم ایپ پر ایک اہم میٹنگ سے اظہار خیال کرتے ہوئے امیرشریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نے کہاکہ سپریم کورٹ نے وقف ایکٹ 25 پر دئے گئے عبوری فیصلے کے ذریعہ ملک کے سارے مسلمانوں کو بے حد بےمایوس اور بے حد بے چین کردیا ہے، اس ایکٹ کو واپس لینے کے لیے ملی قیادت نےایک سو سے زیادہ رٹ پٹیشن داخل کیا تھااور توقع ظاہر کی تھی کہ عدالت مسلمانوں کی فریاد سنجیدگی کے ساتھ سنے گی اور اس کی خطرناکیوں کو محسوس کرتے ہوئےآئینی روح کو سامنے رکھتے ہوئے اس کومنسوخ کرنے کا فیصلہ کرے گی ،اور اس کو حقوق انسانی اور مساوات کے خلاف تصور کر کےمکمل اسٹے لگائے گی،مگر عدالت کے فیصلے سے بڑی مایوسی ہوئی، عدالت نے فیصلہ کے ابتدائی صفحات میں جو اصولی مباحث درج کئے گئے ہیں اس میں منطقی انداز کو پیش نظر رکھا گیا ہےمثلا یہ کہ ایوان بالا و زیریں سے منظور شدہ قوانین دستوری ہوں گے ،اگر یہی بات ہے تو عدالت کا لجیم کے مسئلہ میں پارلیا مینٹ کے قانون کو یکسر بدل دیا، دوسری بات عدالت نے یہ کہا کہ اگر قانون بادی النظر میں انسانی حقوق کے خلاف ہوگا تو غور کیا جائے گا، کیا یہ ایکٹ اور اس کی اکثر شقیں انسانی حقوق کی خلاف نہیں ہیں؟ مثلا وقف کرنے کے لیے پانچ سال تک مسلمان ہونے کی شرط؛ کسی سکھ اور بودھ دھرم کے لئے رکھی گئی ہے، کیا یہ امتیازی سلوک نہیں ہے؟ اس طرح ایکٹ کی ایک سو سےزائدشقیں ایسی ہیں جن سے اوقافی جائیدادیں تباہ ہونے والی ہیں، وقف با ئیوزر کے ذریعہ ہماری غیر رجسٹر وقف اور قبرستان کی اوقافی حیثیت ختم ہو جائے گی، اس ایکٹ نے وقف بورڈ کے حق استحقاق کو بھی سلب کر لیا۔
ایسے ناگفتہ حالات میں وقف کی زمینوں کے تحفظ وبقاء کے لئے کیا لائحہ عمل بنایا جائے ۔اس سے قبل مجلس عاملہ ،شوریٰ، علماء دانشوران، قانون دان و قضاۃ سے استصواب رائے کیا گیا ان حضرات کی آراء کو بھی لیا گیا ،تاکہ مستقل لائحہ عمل بناتے وقت اس کو بھی پیش نظر رکھا جائیگا اس میں مسئلہ میں آپ کی رائے بھی آ نی چاہیے ۔
امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے قائم مقام ناظم مولانا مفتی محمد سہرا ندوی قاسمی نے مندوبین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نےایکٹ پر جو فیصلے دئے ا سکی واقفیت و نوعیت پر غور کرنے اور مستقبل کے لیے نقشہ کار بنانے پر غور کرنے کے لئے ارباب حل و عقد کی مجلس طلب کی گئی ہے ،اس ایکٹ کے خلاف حضرت امیر شریعت امارت شرعیہ کے رفقاءکرام کے ساتھ اور دیگر ملی تنظیموں کے اشتراک سے مضبوط تحریک چلائی گئی، رائے عامہ کو ہموار کیا گیا ،سیاسی راہنماؤں سے گفت وشنید کی ،اس سلسلے میں جو بھی کوششیں ہو سکتی ہیں سب کچھ کیا گیا ،حتی کہ مجوزہ وقف بل کے دھمک سے آخرتک جدوجہد کی گئی، عدالت کے دروازے کو بھی کھٹکھٹایا گیا تاکہ راحت ملے گی ،مگر ساری تدبیر یں سود ہوئیں،عدالت نے بھی مایوس کیا، اس فیصلے سے بہت سے لوگوں کو غلط فہمی بھی ہوئی جس کو امیر شریعت نے تجزیاتی انداز میں وضاحت کیا کہ یہ فیصلہ اوقافی جائیدادوں کو تباہ و برباد کرنے والا ہے ،اس پہلو پر امیر شریعت نے تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ اب کیا کرنا چاہیے؟ آپ کے مشورے درکار ہیں
نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی نے فرمایا کہ قانون وقف کے نقائص سے بہت سے لوگ واقف نہیں ہیں اس لیے امیر شریعت اس پہلو پر کتابچہ مرتب کرا دیں تاکہ عوامی بیداری لانے میں اس سے مدد مل سکے ،مولانا ابوالکلام شمسی نے کہا کہ حضرت امیر شریعت نے قانون کا جو تجزیاتی نکات پیش کیا ہے وہ بے حد اہم ہیں اوقاف کے اس مسئلے کو ملک کی دوسری تنظیموں کے اشتراک سے حل کیا جائے ،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک روڈ میپ تیار کیا ہے اس کو بھی سامنے رکھا جائے ،مولانا ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی نے کہا کہ اس موضوع پر پریس کانفرنس کے انعقاد پر غور ہو ،اور پرامن جمہوری طریقہ سے احتجاج کیا جائے ،اس سلسلے میں مسلم ریٹائرڈ جج اور وکلا ءکی ٹیم بھی تشکیل دی جائے ،جناب آفاق احمد نے کہا کہ ائمہ مساجد مسئلہ کی نزاکت سے ناواقف ہیں انہیں واقف کرایا جائے ،اور ادھر رجسٹریشن کے لیے کاغذات درست کرانے پر بھی توجہ دلائی جائے ،ڈاکٹر فاروق اعظم نے کہ اس موضوع پر ورک شاپ منعقد کیے جائیں جس میں متولیان کو بھی مدعو کیا جائے ،ڈاکٹر ابو الکلام نے کہا کہ کتابچے کی طباعت لازمی طور پر ہونی چاہیے ،خورشید انور نجمی نے کہا کہ ارباب حل و عقد اپنی رائے موبائل پر بھی دے دیں، ایڈمن گروپ کو چند گھنٹوں کے لیےعام کر دیں ، حاجی مناظربھاگلپور، مولانا محمد خالد نیموی بیگو سرائے ،سیف اللہ ملکی، سمیع الحق ، مفتی ظفر عالم قاسمی اڈیشہ ،مفتی توحید مظاہری ، قاسم السلام صاحب ، جناب سہیل احمد بوکارو،مولانا رضوان احمد ندوی،مولانا جاوید اختر ندوی ،حافظ امتیاز رحمانی ، حافظ احتشام رحمانی سیمت متعدد اصحاب نے قیمتی آراں پیش کئے بعد ازاں حضرت امیر شریعت مدظلہ نے اختتامی کلمات میں شرکاء سے اپنے اپنے حلقہ کے دس متولیوں کے نام وپتے اور موبائل نمبر معلوم کر کے دفتر امارت شرعیہ کو فراہم کرنے کی ترغیب دی تاکہ آنے والے دنوں میں ان کا اجتماع رکھا جا سکے، مجلس کی کاروائی مولانا اسد اللہ قاسمی کی تلاوت سے شروع ہوئی مفتی محمد مجیب الرحمن قاسمی نے نعت شریف پڑھا اور امیر شریعت کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%88%d9%82%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7/feed/ 0