add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); nitish Government – sachkiawaz.com https://sachkiawaz.com Mon, 23 Feb 2026 10:35:20 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.9 سیلاب کے باعث بہار کی 2.5لاکھ ایکڑاراضی ہوگئی تباہ https://sachkiawaz.com/%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b9%d8%ab-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-2-5%d9%84%d8%a7%da%a9%da%be-%d8%a7%db%8c%da%a9%da%91%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%b6%db%8c-%db%81/ https://sachkiawaz.com/%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b9%d8%ab-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-2-5%d9%84%d8%a7%da%a9%da%be-%d8%a7%db%8c%da%a9%da%91%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%b6%db%8c-%db%81/#respond Mon, 23 Feb 2026 10:35:20 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5914 14ندیوں کے قہر سے کسانوں کو 3500کروڑروپے کاہورہاہے نقصان
(پی این این)
پٹنہ :بہار کے جوعلاقے سونا پیداکرسکتے ہیں وہاں سے کسانوں کوکچھ نہیں مل پارہاہے ۔ ریاست کی 14 ندیوں کے ساتھ ساتھ 50نالوں کی دھاروں نے 2.5لاکھ ایکڑزمین کو پوری طرح ڈوبودیاہے جس کے باعث یہاں گنے کی کھیتی نہیں ہورہی ہے ۔اس سیلاب زدہ علاقے کی وجہ سے کسانوں کو سالانہ تقریباً 3500 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
ان میں وہ ندیاں بھی شامل ہیں جو نیپال سے براہ راست بہار میں داخل ہوتے ہیں۔ تقریباً 300 مقامات سے ندیوں کاپانی شمالی بہار میں داخل ہوتے ہیں، جو پھر چھوٹی چھوٹی ندیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی نہریں اور ندیاں بھی بڑے علاقوں میں پانی پھیلا رہی ہیں۔اس کے علاوہ،چانروں، سائفنوں، پلوں کے نیچے کے علاقوں، سلائس گیٹس، اور نکاسی آب کی نالیوں میں رکاوٹیں بھی کئی علاقوں میں پانی کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
حال ہی میں جب ریاستی حکومت نے اس مسئلے کا جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ گنے کی پیداوار کرنے والے تقریباً 42 فیصد علاقے اس وقت غیر کاشت شدہ ہیں۔ تقریباً 2.57 لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی بھرنے کا سامنا ہے، جس سے کاشتکاروں کو ان کی خواہش کے باوجود گنے کی کاشت سے نہیں ہورہا ہے۔ اس طرح گنے کے کاشتکاروں کو دوہری پریشانی کا سامنا ہے۔ ایک طرف وہ گنے کی کاشت نہیں کر پا رہے جس سے مالی نقصان ہو رہا ہے۔ دوسری طرف ان کے کھیت ناقابل استعمال ہوتے جا رہے ہیں۔
جب یہ مسئلہ ریاستی حکومت کی توجہ میں آیا تو محکمہ آبی وسائل اور شوگر کین انڈسٹری ڈپارٹمنٹ کی سطح پر ایک جامع جائزہ لیا گیا۔ محکمہ آبی وسائل کے پرنسپل سکریٹری سنتوش کمار مل کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں اس علاقے کو آبی ذخائر سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر اس 42 فیصد زیر آب علاقے کو مکمل طور پر آبی ذخائر سے آزاد کر دیا جائے۔ حکومت نے ایسیندیوں اور نالوں کی دوبارہ نشاندہی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو گنے کے علاقے کو زیر آب کر رہے ہیں۔ اس کے بعد انہیں بچانے کے لیے ایکشن پلان بنایا جائے گا۔
کئی دریاؤں میں پشتے نہ ہونے کی وجہ سے ان کا پانی سیلاب کے دوران پھیل جاتا ہے اور چوروں میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چوروں سے نکلنے والے نالوں، دھاروں اور چھوٹی ندیوں میں گاد جمع ہونے، ان پر تجاوزات اور نہروں پر بنائے گئے ڈھانچے سے نکاسی کا ہموار نہ ہونے کی وجہ سے بڑے علاقے میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر، چمپارن میں دریائے مسان اور دریائے سکرہنا پر کوئی پشتے نہیں ہیں۔ اسی طرح اور بھی بہت سے چھوٹے دریا ہیں جو بغیر پشتے کے ہیں۔ گوپال گنج، سمستی پور، بیگوسرائے اضلاع میں نالے، ندیاں اور چھوٹی ندیاں گاد کی وجہ سے اپنے آس پاس کے ایک بڑے علاقے میں پانی پھیلا رہی ہیں۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b9%d8%ab-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-2-5%d9%84%d8%a7%da%a9%da%be-%d8%a7%db%8c%da%a9%da%91%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%b6%db%8c-%db%81/feed/ 0
ماب لنچنگ معاملہ:اطہر حسین کے ورثاکو انصاف دلانے کیلئے جمعیۃعلماء ہند نےتشکیل دیا لیگل پینل https://sachkiawaz.com/5554/ https://sachkiawaz.com/5554/#respond Wed, 17 Dec 2025 12:36:31 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5554 (پی این این)
پٹنہ:بہارماب لنچنگ میں مارے گئے اطہر حسین کی بیوہ کی درخواست اور جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی کی ایماپر جمعیۃعلماء قانونی امدادکمیٹی اس مقدمہ میں قانونی امدادفراہم کرنے کے لئے تیارہوچکی ہے اس مقدمہ میں وہ ایک مداخلت کارکے طورپر پٹیشن داخل کریگی اس سلسلہ میں جمعیۃعلماء ہند کی لیگل ٹیم تجربہ کار،کریمنل وکلاء کا باقاعدہ طورپر ایک پینل تشکیل دینے جارہی ہے، تاکہ ورثاکو نہ صرف یہ کہ انصاف دلایاجاسکے بلکہ قاتلوں کو ان کے کیفرکردارتک پہنچایاجاسکے۔
قابل ذکرہے کہ 6 دسمبر 2025 کو مقتول کی اہلیہ نے ایف آئی آر درج کروائی تھی جس میں، دس لوگوں کو نامزد ملزم بنایا گیاتھا اور دس سے پندرہ نا معلوم افراد کے خلاف شکایت درج کرائی گئی تھی۔اس معاملہ اب تک 11 نامزد ملزمین کی گرفتاری ہو چکی ہے،جمعیۃ علماء بہار کی جانب سے جزوی مالی مددبھی پیش کی گئی ہے اور ہر ممکن مدد کا یقین بھی دلایا گیاہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روزبہارجمعیۃعلماء کاایک وفد نوادہ کے ضلع کلکٹر اور پولس کپتان ابھینو دھامی سے مل چکاہے اورمقامی ایس پی کواس سلسلہ میں ایک میمورنڈم بھی دے چکاہے۔ڈی ایم نوادہ روی پرکاش نے اس موقع پر وفد کویہ یقین دلایا کہ مقتول کے ساتھ انصاف ہوگا یہ انتہائی غیر انسانی فعل ہے اور میں خود اس کیس پر نظر رکھ رہا ہوں۔
اس وحشیانہ واقعہ پر اپنے سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی سوال کیا کہ بہارکے نالندہ میں ایک غریب پھیری والے اطہرحسین کو نام اورمذہب پوچھ کر مارڈالاگیا تواب ملک کامتعصب میڈیاچپ کیوں ہے؟ کیا اس لئے کہ مرنے والا مسلمان ہے،یہ دوہراکردارکیوں؟ انہوں نے کہا کہ ظلم ظلم ہی ہوتاہے وہ ہندویا مسلمان نہیں ہوتا،ظلم کسی پر بھی ہواگر ہم انسان ہونے کا دعوی کرتے ہیں توہمیں ہر طرح کے ظلم کے خلاف آوازاٹھانی چاہئے مولانامدنی نے کہاکہ سپریم کورٹ کی سخت شرزنس کے بعد اس طرح کے واقعات کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں ان کو سیاسی تحفظ اور پشت پناہی حاصل ہے اس لئے ان کے حوصلے بلند ہیں، انہوں نے اس بات پر بھی سخت افسوس کا اظہارکیا کہ اطہر حسین کے قاتلوں کے خلاف پولیس نے معمولی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جبکہ اطہر حسین اسپتال میں اپنا بیان قلم بند کرواچکاہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند کے ذمہ داروں کے دباؤپر اب 302کی دفعہ جڑگئی ہے، لیکن اس سے حکومت کا چہرہ اجاگرہوگیا اوریہ بات صاف ہوگئی کہ جن کی نظرمیں اقتدارہی سب کچھ ہوان کی نظرمیں انسانی زندگی کی اب کوئی قیمت نہیں رہ گئی ہے، انہوں نے آگے کہا کہ گزشتہ نوبرسوں کے دوران دوسوسے زیادہ ماب لنچنگ کے واقعات ہوچکے ہیں اورسپریم کورٹ کے سخت رویہ کے باوجود اس کولیکر ریاستی حکومتوں کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ رہاہے انہوں نے کہا کہ ماب لنچنگ فرقہ پرستوں کی نفرت کی اس سیاست کا نتیجہ ہے جو ملک میں کھلے عام ہورہی ہے،مولانا مدنی نے اخیرمیں کہاکہ ان حالات میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے اگر عزم مضبوط ہو تو مایوسی کے اندھیروں سے امید کی نئی شمع روشن ہو سکتی ہے کیونکہ اس ملک کی مٹی میں محبت کا خمیر شامل ہے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/5554/feed/ 0
شراؤنی میلہ کو نتیش سرکار نے دیا سرکاری مہوتسو کا درجہ، 10 لاکھ روپے کی رقم منظور https://sachkiawaz.com/%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a4%d9%86%db%8c-%d9%85%db%8c%d9%84%db%81-%da%a9%d9%88-%d9%86%d8%aa%db%8c%d8%b4-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%86%db%92-%d8%af%db%8c%d8%a7-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c/ https://sachkiawaz.com/%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a4%d9%86%db%8c-%d9%85%db%8c%d9%84%db%81-%da%a9%d9%88-%d9%86%d8%aa%db%8c%d8%b4-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%86%db%92-%d8%af%db%8c%d8%a7-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c/#respond Sat, 02 Aug 2025 10:00:03 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4615 (پی این این)
دربھنگہ:بہار کے دربھنگہ ضلع کے جالے بلاک کے عوام کے لیے ریاستی حکومت نے خوشخبری دیتے ہوئے ایک اور سرکاری مہوتسو کا تحفہ دیا ہے۔ رتن پور واقع تاریخی اور مذہبی مقام گنگیشور استھان میں منعقد ہونے والے شراؤنی میلہ کو اب دو روزہ سرکاری مہوتسو کے طور پر منظوری مل گئی ہے۔
ریاستی ریونیو و زمین اصلاحات محکمہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اس مہوتسو کے انعقاد کے لیے دس لاکھ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ شہری ترقی و رہائش کے وزیر و علاقائی رکن اسمبلی جیویش کمار کی سفارش اور ریونیو و زمین اصلاحات کے وزیر سنجے شراوگی کے حکم پر کیا گیا ہے۔وزیر جیویش کمار نے اس منظوری کے لیے وزیر سنجے شراوگی، ضلع مجسٹریٹ راکیش اور سرکل آفیسر کا شکریہ ادا کیا ہے۔
سی او کے مطابق دو روزہ سرکاری مہوتسو کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے تین اگست کو گنگیشور استھان واقع بابا گنگیشورناتھ دھارمک ٹرسٹ کمیٹی کے دفتر میں ایک اہم میٹنگ بلائی گئی ہے۔ اس میٹنگ میں ٹرسٹ کے اراکین کے ساتھ پروگرام کی تفصیلات پر غور و خوض ہوگا اور اتفاقِ رائے سے مہوتسو کا خاکہ تیار کیا جائے گا۔
سرکاری مہوتسو کا درجہ ملنے کی خبر سنتے ہی علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ گنگیشور استھان ٹرسٹ کمیٹی کے کارگزار صدر شیو نارائن ٹھاکر، ڈاکٹر رام پرویش ٹھاکر، سنجیو کمار چودھری، پریانشو کمار، مہیشور ٹھاکر، سنجے کمار ٹھاکر، ستیش کمار ٹھاکر سمیت کئی مقامی افراد نے حکومت، دونوں وزراء، ڈی ایم اور سی او کے تئیں اظہارِ تشکر کیا ہے۔علاقے کے عوام کا ماننا ہے کہ سرکاری مہوتسو کا درجہ ملنے سے گنگیشور استھان کی مذہبی و ثقافتی شناخت کو نئی توانائی ملے گی اور مقامی سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a4%d9%86%db%8c-%d9%85%db%8c%d9%84%db%81-%da%a9%d9%88-%d9%86%d8%aa%db%8c%d8%b4-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%86%db%92-%d8%af%db%8c%d8%a7-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c/feed/ 0
سلیم پرویز پھر بنے بہار مدرسہ بورڈ کے چیئرمین https://sachkiawaz.com/%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%b1%d9%88%db%8c%d8%b2-%d9%be%da%be%d8%b1-%d8%a8%d9%86%db%92-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%af%d8%b1%d8%b3%db%81-%d8%a8%d9%88%d8%b1%da%88-%da%a9%db%92-%da%86%db%8c/ https://sachkiawaz.com/%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%b1%d9%88%db%8c%d8%b2-%d9%be%da%be%d8%b1-%d8%a8%d9%86%db%92-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%af%d8%b1%d8%b3%db%81-%d8%a8%d9%88%d8%b1%da%88-%da%a9%db%92-%da%86%db%8c/#respond Sun, 08 Jun 2025 12:25:29 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=3942 (پی این این)
پٹنہ:بہار قانون ساز کونسل کے سابق ڈپٹی چیئرمین سلیم پرویز کو بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کا چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔اس موقع پر انہوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا شکریہ ادا کیا۔سلیم پرویز نے کہا کہ میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔انہوں نے مجھے دوبارہ مدرسہ بورڈ کا چیئرمین بنا کر قیادت کا موقع دیا ہے۔میں پوری دیانت اور لگن کے ساتھ کام کروں گا۔میں اپنے کام سے بہتر نتائج دینے کی کوشش کروں گا۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ کی اچھی صحت اور درازی عمر کی خواہش بھی کی۔سلیم پرویز اس سے قبل بھی مدرسہ بورڈ کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔لیکن مہاگٹھ بندھن حکومت بدلنے پر بورڈ کو تحلیل کر دیا گیا تھا۔مسٹر پرویز کے پہلے دور اقتدار میں تعلیم کے میدان میں ان کے تعاون کو سراہا گیا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%b1%d9%88%db%8c%d8%b2-%d9%be%da%be%d8%b1-%d8%a8%d9%86%db%92-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%af%d8%b1%d8%b3%db%81-%d8%a8%d9%88%d8%b1%da%88-%da%a9%db%92-%da%86%db%8c/feed/ 0