add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
Munger – sachkiawaz.com
https://sachkiawaz.com
Sat, 12 Sep 2026 16:32:03 +0000en-US
hourly
1 https://wordpress.org/?v=6.9.9’’عظمتِ رفتہ کی جستجو‘‘علم و تاریخ کے بھولے ہوئے چراغوں کی بازیافت: فضل رحمٰن رحمانی
https://sachkiawaz.com/%d8%b9%d8%b8%d9%85%d8%aa%d9%90-%d8%b1%d9%81%d8%aa%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%b3%d8%aa%d8%ac%d9%88%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%da%a9/
https://sachkiawaz.com/%d8%b9%d8%b8%d9%85%d8%aa%d9%90-%d8%b1%d9%81%d8%aa%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%b3%d8%aa%d8%ac%d9%88%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%da%a9/#respondSat, 12 Sep 2026 16:32:03 +0000https://sachkiawaz.com/?p=10967(پی این این)
مونگیر:معروف قلم کار، متعدد کتابوں کے مصنف اور صاحبِ اسلوب کالم نگار مولانا مفتی عین الحق امینی قاسمی نے اپنی تازہ تصنیف “عظمتِ رفتہ کی جستجو” جامعہ رحمانی، مونگیر کے شعبۂ صحافت کے ایچ او ڈی اور فکر و نظر ٹی وی کے چیف ایڈیٹر جناب فضل رحمٰن رحمانی کو پیش کی۔جس پر انہوں نے بے پناہ خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ یہ محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ ایک ایسی علمی و ادبی دستاویزی کتاب ہے جو قاری کو تاریخ، عقیدت اور خودشناسی کے ایک نئے سفر پر لے جاتی ہے۔
کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے سب سے پہلے جو بات ذہن نشین ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مفتی عین الحق امینی قاسمی نے سفرنامے کے روایتی حدود کو پھلانگ کر اسے تاریخ، سیرت، علمی ورثے، تہذیبی یادداشت اور ادبی اسلوب کا حسین سنگم بنا دیا ہے۔ میرے نزدیک اس تصنیف کی اصل قوت اس کے مشاہدات کی گہرائی اور اس جذبے میں پنہاں ہے جو مصنف کو محض راستوں اور عمارتوں سے آگے بڑھ کر ان لوگوں کی تلاش پر آمادہ کرتا ہے جنہوں نے ان مقامات کو اپنے علم اور اخلاص سے زندہ کیا۔
یہ سفرنامہ اپنی نوعیت میں ایک منفرد کاوش ہے کیونکہ اس میں سیاحتی تفصیلات کی بجائے تحقیق، مشاہدہ اور تاریخی شعور غالب ہے۔ مصنف نے گیلانی، دیسنہ، استھانواں اور بہار شریف جیسے علاقوں کا سفر کیا، مگر ان کی نگاہ عمارتوں کی اینٹ و پتھر پر نہیں ٹھہری بلکہ ان بستیوں سے وابستہ علمی، دینی اور روحانی روایات کی بازیافت پر مرکوز رہی۔ یہی زاویۂ نظر اس تحریر کو عام سفرناموں سے ممتاز کرتا ہے اور اسے تاریخ نویسی کے قریب لے آتا ہے۔
ان چاروں مقامات کی تاریخی اہمیت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطہ صدیوں سے علم و معرفت کا سرچشمہ رہا ہے۔ کتاب اس حقیقت کو بجا طور پر اجاگر کرتی ہے کہ بہار شریف اور اس کی مضافاتی بستیاں، خصوصاً گیلانی، دیسنہ اور استھانواں، اپنے مشاہیر کی وجہ سے شہرت رکھتی رہی ہیں، مگر افسوس کہ اب تک انہیں وہ توجہ نہیں ملی جس کی وہ مستحق تھیں۔ اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک قابلِ قدر کوشش اس تصنیف کی صورت میں سامنے آئی ہے۔
ان بستیوں سے وابستہ علمی و روحانی شخصیات کا ذکر کتاب کو مزید وقیع بنا دیتا ہے۔ حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی، جنہیں دارالعلوم دیوبند نے “سلطان القلم” اور “رئیس القلم” کے القاب سے نوازا، علامہ سید سلیمان ندوی، ان کے جدِ امجد مولانا محمد احسن گیلانی، بانی ندوۃ العلماء سے متعلق روایات کے حوالے سے مولانا سید تجمل حسین بہاری، قاضی محب اللہ بہاری جن کی علمی جلالت کا یہ عالم تھا کہ ان کی کتاب پر حاشیہ لکھنے والے کو “علامہ” کا خطاب ملتا تھا، نیز سید عبدالغنی استھانوی، علامہ شوق نیموی اور ڈاکٹر کلیم عاجز جیسی شخصیات کا تذکرہ اس بات کی گواہی ہے کہ یہ سرزمین کس قدر علمی برکتوں سے مالا مال رہی ہے۔ مخدوم الملک شیخ شرف الدین یحییٰ منیری کی خانقاہی روایت اور موجودہ سجادہ نشیں سید شاہ سیف الدین فردوسی کا ذکر بھی اس تسلسل کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
مصنف کے اسلوب پر غور کریں تو ان کی مشاہداتی صلاحیت، تحقیقی نظر اور بیان کی روانی نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔ وہ کسی عمارت کو دیکھتے تو اس کے معماروں کو یاد کرتے، کسی مدرسے میں داخل ہوتے تو اس کے بانیوں کے اخلاص کو خراجِ عقیدت پیش کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ عنوان “عظمتِ رفتہ کی جستجو” محض ایک ادبی ترکیب نہیں بلکہ اس پوری تحریر کے مزاج کی صحیح ترجمانی کرتا ہے، کیونکہ یہ کتاب واقعی ماضی کی گم شدہ عظمتوں کو نئے سرے سے تلاش کرنے کی کوشش ہے۔
اس رائے کی تصدیق صدر جمعیۃ علماء بیگوسرائے مولانا مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی کے تاثرات سے بھی ہوتی ہے، جنہوں نے اس سفرنامے کو ابتدا سے آخر تک بغور پڑھنے کے بعد لکھا کہ “یہ سفرنامہ کیا در حقیقت عجالہ نافعہ ہے، جس میں بلاغت بھی ہے، فصاحت بھی ہے اور تاریخی وعلمی امور کو پیش کرنے کا ہنر بھی ہے۔” ان کے بقول “یہ تحریر تاریخ نویسی اور سفری روداد کا نمونہ ہے۔” ان کی یہ رائے اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ کتاب علم اور ادب کے امتزاج میں کس قدر کامیاب ہے۔
خدا بخش لائبریری، پٹنہ سے وابستہ مولانا طلحہ نعمت ندوی نے اس علاقے کی تاریخی محرومی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھا کہ استھانواں، دیسنہ اور گیلانی کو اپنے مشاہیر کی بنا پر خاص شہرت تو ملی، مگر اب تک کوئی قابلِ ذکر سفرنامہ نگار میسر نہ آسکا جس کی وجہ سے آنے والی نسلوں کے لیے یہ آثار تاریخ کا مستقل حصہ بن سکیں۔ ان کی یہ بات میرے نزدیک اس کتاب کی اہمیت کو مزید واضح کرتی ہے۔اسی طرح جی ڈی کالج بیگوسرائے کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی کا یہ اختصار بھی نہایت جامع معلوم ہوتا ہے کہ اس سفرنامے میں “علم بھی، معلومات بھی اور مشاہدات و تجربات بھی” موجود ہیں۔ یہ ایک مختصر مگر بھرپور تبصرہ ہے جو اس کتاب کی ہمہ جہتی خوبی کو چند الفاظ میں بیان کر دیتا ہے۔
ان اصحابِ علم کے تاثرات کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو ایک نکتہ مشترک طور پر ابھرتا ہے، اور وہ یہ کہ “عظمتِ رفتہ کی جستجو” محض ایک فرد کی سیاحتی روداد نہیں بلکہ ایک پورے علاقے کی علمی، دینی اور روحانی شناخت کی بازیافت ہے۔ میرے خیال میں آج کے دور میں، جب سفر کا مفہوم اکثر تفریح اور منظر بینی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، ایسی تصنیف کا سامنے آنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ حقیقی سفر وہی ہے جو انسان کو اس کی تاریخ اور شناخت سے جوڑے۔یہ کتاب خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ موجودہ دور میں جب بہت سے نوجوان اپنے علمی، دینی اور تہذیبی ورثے سے بتدریج دور ہوتے جا رہے ہیں، ایسے میں یہ سفرنامہ انہیں ان اسلاف سے متعارف کراتا ہے جنہوں نے علم اور اخلاص سے اپنی بستیوں کو زندہ جاوید بنایا۔ اس کتاب کا مطالعہ نوجوانوں میں یہ احساس بیدار کر سکتا ہے کہ ان کی عظمت محض ماضی کا قصہ نہیں بلکہ ایک زندہ روایت ہے جسے سنبھالنا ان کی اپنی ذمہ داری ہے۔
مجموعی طور پر میری نگاہ میں مولانا مفتی عین الحق امینی قاسمی صاحب مدظلہ نے محنت، لگن اور تحقیقی دیانت کے ساتھ علم، تاریخ اور ادب کا حسین سنگم پیش کیا ہے۔ اس گراں قدر کاوش پر انہیں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید ہے کہ ’’عظمتِ رفتہ کی جستجو‘‘ علمی و ادبی حلقوں میں قدر و پذیرائی حاصل کرے گی۔آج جب معمولی تحریروں کے لیے بھی لوگ اے آئی ٹولز کے محتاج ہو رہے ہیں، ایسے صاحبِ قلم مصنفین کی محنت سے وجود میں آنے والی تصانیف کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہی تحریریں آنے والی نسلوں، بلکہ اے آئی کے لیے بھی معتبر علمی سرمایہ اور سورس میٹریل کا کام کرتی ہیں اور آگے بھی کرے گی۔ اللہ تعالیٰ مولانا سے خوب خوب علمی و تصنیفی خدمات لے اور ان کے قلم کو مزید قوت و برکت عطا فرمائے۔
]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%b9%d8%b8%d9%85%d8%aa%d9%90-%d8%b1%d9%81%d8%aa%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%b3%d8%aa%d8%ac%d9%88%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%da%a9/feed/0وفاق المدارس امارت شرعیہ کا اختتامی و انتخابی اجلاس آج، ملک بھر کے اکابر علماء کی شرکت متوقع ،جامعہ رحمانی کے زیر انتظام تربیتی ورکشاپ کا دوسرا دن کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
https://sachkiawaz.com/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82-%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%b3-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d8%aa%d8%a7%d9%85%db%8c-%d9%88-%d8%a7/
https://sachkiawaz.com/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82-%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%b3-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d8%aa%d8%a7%d9%85%db%8c-%d9%88-%d8%a7/#respondWed, 10 Jun 2026 17:03:23 +0000https://sachkiawaz.com/?p=7561(پی این این)
مونگیر: امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشین جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کی صدارت میں وفاق المدارس الاسلامیہ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے زیرِ اہتمام منعقد سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا دوسرا دن علمی، فکری اور تربیتی سرگرمیوں کے ساتھ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ 9 تا 11 جون 2026ء جاری اس تربیتی ورکشاپ میں وفاق المدارس سے ملحق مدارس کے ذمہ داران، اساتذۂ کرام اور ماہرینِ تعلیم شریک ہیں، جہاں تعلیمی نظام کے استحکام، نصابی ارتقاء اور تدریسی مہارتوں کے فروغ سے متعلق اہم موضوعات پر گفتگو کی جا رہی ہے۔
حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں و خلیفہ و مجاز حضرت مولانا محمد ولی رحمانیؒ نے تربیت اور اخلاق سازی کے موضوع پر اپنے محاضرہ میں فرمایا کہ مدارس کے اساتذہ صرف علم منتقل کرنے والے نہیں بلکہ نسلوں کی فکری و اخلاقی تعمیر کرنے والے معمار ہیں۔ آپ نے زور دیتے ہوئے فرمایا کہ طلبہ کے دلوں میں اخلاص، ذمہ داری، حسنِ اخلاق اور خدمتِ دین کا جذبہ پیدا کرنا ہی کامیاب تربیت کی اصل علامت ہے۔ابتدائی درجات میں طلباء میں قرآن فہمی کی ضرورت” کے عنوان پر محاضرہ پیش کرتے ہوئے نائب امیرِ شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد صاحب رحمانی استاذ دارالعلوم وقف دیوبند نے فرمایا کہ بچوں میں ابتدائی مرحلے ہی سے قرآن فہمی کا ذوق پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اساتذۂ کرام پر زور دیا کہ وہ طلبہ کو محض ناظرہ اور حفظ تک محدود نہ رکھیں بلکہ قرآن کے معانی، پیغام اور عملی تعلیمات سے بھی جوڑیں، تاکہ نئی نسل فکری استحکام اور دینی شعور سے آراستہ ہو سکے۔
ناظم وفاق المدارس الاسلامیہ امارت شرعیہ نے فرمایا کہ پڑے پرسکون علمی ماحول میں یہ تربیتی ورکشاپ جاری ہے جس کا اختتام آج اگلی سہ سالہ میقات کے لیے ذمہ داروں کے انتخاب کے بعد ہوگا۔اس انتخابی اجلاس میں وفاق کی مجلس عمومی کے نمائندگان، مجلس عاملہ کے ارکان اور ذمہ داران کو شریک ہونا ہے۔ یہ اجلاس صبح 8:30 سے شروع ہوگا اس لیے ارکان کی بروقت حاضری انتخابی اجلاس کو کامیاب کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
پروگرام کا آغاز جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے شعبۂ حفظ کے استاذ جناب مولانا قاری جوہر نیازی صاحب رحمانی کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ جامعہ رحمانی کے فاضل ور معروف نعت خواں مولانا منظر قاسمی رحمانی نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرکے محفل کو روحانی رنگ عطا کیا۔ پروگرام کی پہلی نشست میں نظامت کے فرائض جامعہ رحمانی کے استاذِ حدیث اور طلبہ امور کے ناظم تعلیمات جناب مولانا خالد صاحب رحمانی نے جبکہ دوسری نشست میں جامعہ رحمانی کے استاذ جناب مونا انظر حسین قاسمی صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے اور اپنے مختصر مگر مؤثر کلمات میں اساتذۂ کرام کو نصاب کی تکمیل کے ساتھ طلبہ میں خود مطالعہ اور خود اعتمادی پیدا کرنے کی تلقین کی۔
واضح رہے کہ اس سہ روزہ ورک شاپ میں مختلف علمی، فکری اور تربیتی موضوعات پر ماہرینِ تعلیم کے خطابات اور مذاکرے منعقد ہوئے، جبکہ شرکائے ورکشاپ نے اس تربیتی اجتماع کو مدارس کے تعلیمی نظام میں بہتری، اساتذۂ کرام کی علمی و تدریسی صلاحیتوں کے فروغ اور دینی تعلیم کے معیار کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم اور مؤثر پیش رفت قرار دیا۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82-%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%b3-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d8%aa%d8%a7%d9%85%db%8c-%d9%88-%d8%a7/feed/0امارتِ شرعیہ کا بین المدارس تربیتی اجتماع کا جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں آج سے آغاز
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%90-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%b3-%d8%aa%d8%b1%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%ac%d8%aa/
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%90-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%b3-%d8%aa%d8%b1%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%ac%d8%aa/#respondMon, 08 Jun 2026 16:00:14 +0000https://sachkiawaz.com/?p=7475(پی این این)
مونگیر:9 جون 2026 وفاق المدارس الاسلامیہ امارتِ شرعیہ کے زیرِ اہتمام 9 تا 11 جون 2026 ء کو جامعہ رحمانی خانقاہ، مونگیر میں سہ روزہ بین المدارس تربیتی اجتماع کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس تربیتی اجتماع کا بنیادی مقصد وفاق المدارس سے منسلک مدارس کے اساتذہ کو تدریس کے جدید اور مؤثر طریقوں سے روشناس کرانا، ان کی علمی، فکری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنا، اور تعلیمی میدان میں پیش آنے والے معاصر مسائل و تقاضوں پر رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
اجتماع میں مختلف علمی و تربیتی موضوعات پر ملک کے ممتاز اہلِ علم کے محاضرات کا اہتمام کیا گیا ہے، اور مؤثر پریزینٹیشنز کے ذریعے اساتذہ کو جدید تدریسی اسالیب سے آگاہ کیا جائے گا۔اپنی تاریخی، روحانی اور تعلیمی میراث کے اعتبار سے ممتاز ادارہ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر ایک بار پھر تاریخی علمی و تربیتی سرگرمیوں کا گواہ بننے جا رہا ہے۔ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے نائب ناظم اور وفاق المدارس الاسلامیہ کے ناظم حضرت مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے ایک پریس بیانیہ میں اس اجتماع کے انعقاد کے پس منظر اور مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تربیتی پروگرام امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر و صدر وفاق المدارس الاسلامیہ کی ہدایت پر ترتیب دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تدریس کے جدید طریقوں کی روشنی میں اساتذہ کو تربیت دینا اور انہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ درس کو مؤثر بنانے اور طلبہ تک علم کو صحیح انداز میں منتقل کرنے کے لیے کون سے اسالیب اختیار کیے جائیں۔ مولانا موصوف نے بتایا کہ وفاق المدارس کے دستور کے مطابق میقات تین سال کا ہوتا ہے اور اس بار تین سال کی مدت پوری ہو جانے کے سبب تیسرے روز یعنی 11 جون کو انتخابی نشست بھی منعقد ہوگی۔ واضح رہے کہ مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب سنہ 2008 سے وفاق المدارس کے منتخب ناظم کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مولانا قاسمی نے مزید کہا کہ اجتماع کی تمام تیاریاں بحمد اللہ مکمل ہیں اور جامعہ رحمانی کے اساتذہ اور ذمہ داران اس سلسلے میں انتہائی تندہی سے کام کر رہے ہیں۔ خود امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، سجادہ نشیں خانقاہِ رحمانی مونگیر، پورے پروگرام کی براہِ راست نگرانی فرما رہے ہیں اور اسے آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ یہ اجتماع تاریخی، مثالی اور اساتذہ کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید ثابت ہو۔
مولانا نے شرکاء سے گزارش کی کہ وہ 11 جون کو نمازِ ظہر کے بعد واپسی کی ترتیب بنائیں اور اس سے قبل پورے تین روز پروگرام میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں، کیونکہ یہ اجتماع انتہائی مفید اور مؤثر ہوگا۔جامعہ رحمانی کے ناظم جناب الحاج مولانا محمد عارف صاحب نے بتایا کہ اس عظیم الشان اجتماع کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور جامعہ رحمانی مہمانوں کے استقبال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے اطلاع دی کہ شرکاء بڑی تعداد میں پہنچ چکے ہیں۔
امیر شریعت سابع مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانیؒ نے مدارس پر ہو رہے حملہ کے تعلق سے فرمایا تھا کہ مدارس کے خلاف مزاج اسلیے بنانے کی کوشش ہو رہی ہے تاکہ مدارس کو کمزور کیا جا سکے۔ مدارس خدمت کے تسلسل کا نام ہے، دشمنوں کو خدمت کا یہ تسلسل ناپسند ہے۔
یہ تربیتی اجتماع مدارسِ دینیہ کے تعلیمی و انتظامی نظام کو مزید مستحکم اور مؤثر بنانے کی سمت امارتِ شرعیہ اور وفاق المدارس کی ایک سنجیدہ اور قابلِ قدر کاوش ہے، جس سے ان شاء اللہ آنے والے برسوں میں ملحقہ مدارس کے تعلیمی معیار پر دور رس اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%90-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%b3-%d8%aa%d8%b1%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%ac%d8%aa/feed/0جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں عظیم الشان اجلاس ختم بخاری شریف کا انعقاد
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86%d9%82%d8%a7%db%81-%d9%85%d9%88%d9%86%da%af%db%8c%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d8%b8%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%84/
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86%d9%82%d8%a7%db%81-%d9%85%d9%88%d9%86%da%af%db%8c%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d8%b8%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%84/#respondMon, 02 Feb 2026 12:34:17 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5789(پی این این)
مونگیر :جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں ہر سال کی طرح اس سال بھی ختمِ بخاری شریف کی عظیم الشان اور بابرکت تقریب خانقاہ رحمانی کی پرشکوہ مسجد میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی ، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے کی۔ اس موقع پر امیرِ شریعت نے جامعہ رحمانی سے اس سال فارغ ہونے والے طلبہ کو بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دے کر حدیث کے پڑھنے پڑھانے کی اجازت دی اور نہایت بصیرت افروز، فکر انگیز اور نصیحت آموز خطاب میں علم کے ساتھ عمل، اخلاص، تقویٰ اور خدمتِ دین کی تلقین کی۔ حضرت نے آیتِ کریمہ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کی تشریح کرتے ہوئے زندگی کے ہر لمحے ہر کام میں رضاء الٰہی کے طلب و استحضار پر زور دیا اور نصیحت کی کہ اصل کامیابی اس وقت ملتی ہے جب انسان اپنی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دے۔
آپ سے قبل جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد اظہر مظاہری نے بخاری شریف کی ایک حدیث پڑھائی ،اور اپنی سند سے حدیثِ رسول ﷺ کی روایت، قرأت اور تدریس کی اجازت دی ساتھ ہی اکابرِ امت کی تشریحات کی روشنی میں حدیث شریف پر مکمل عمل پیرا ہونے کی خصوصی تاکید کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ رحمانی کے ناظمِ تعلیمات مولانا جمیل احمد مظاہری نے فرمایا کہ قرآنِ کریم کے بعد حدیثِ رسول ﷺ ہی شریعتِ اسلامیہ کی عملی اور مستند تعبیر ہے، جبکہ مفتی محمد جنید قاسمی نے اسلام و شریعت میں حدیثِ شریف کی حجیت پر جامع اور مدلل خطاب کرتے ہوئے منکرینِ حدیث کے شبہات کا علمی و تحقیقی جائزہ پیش کیا۔ اسی طرح ناظمِ تعلیمات برائے امور طلبہ مولانا محمد خالد رحمانی نے حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اصلاحِ معاشرہ کے موضوع پر نہایت فکر انگیز گفتگو کی اور سماج میں پھیلی ہوئی اخلاقی و معاشرتی برائیوں کے سدِباب پر زور دیا اور ساتھ ہی مکمل پروگرام کی شاندار نظامت کی ۔
اجلاس کا آغاز جامعہ کے استاد مولانا قاری وسیم اختر قاسمی کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں مولانا محمد دلشاد رحمانی، حافظ محمد انصار سلمہ (متعلمانِ جامعہ رحمانی مونگیر) اور معروف نعت خواں مولانا منظر قاسمی رحمانی نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعتیہ کلام پیش کر کے محفل کو روحانیت سے معطر کر دیا۔ انجمن نادیۃ الادب کے صدر و استاذ حدیث جامعہ رحمانی مونگیر مولانا محمد نعیم رحمانی نے انجمن کے مختلف پروگراموں میں پوزیشن حاصل کرنے والے تمام طلبہ کو حضرت امیر شریعت کے دست مبارک سے انعام عطا کروایا ۔اختتامی مرحلے میں مولانا محمد برکت اللہ رحمانی کھگڑیا نے الوداعی ترانہ پیش کیا، جس سے مجلس پر رقت طاری ہو گئی اور حاضرین کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔اخیر میں حضرت امیر شریعت کی دعاء سے پروگرام کا اختتام ہوا۔
جامعہ رحمانی میں 9 فروری سنہ 1966 ء میں دورہ حدیث شریف کا افتتاح ہوا تھا تب سے تسلسل کے ساتھ یہاں حدیث شریف کے پڑھنے پڑھانے کا کام جاری ہے۔یہ روحانی و علمی تقریب ہر اعتبار سے نہایت کامیاب رہی، جس میں جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے ذمہ داران، اساتذۂ کرام، کارکنان، طلبہ کے علاوہ بہار کے مختلف اضلاع اور ملک کے الگ الگ گوشوں سے جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے متعلقین، متوسلین اور معتقدین کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے خوب استفادہ کیا۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86%d9%82%d8%a7%db%81-%d9%85%d9%88%d9%86%da%af%db%8c%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d8%b8%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%84/feed/0جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر سے 2فضلاء اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ ازہر مصر روانہ
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86%d9%82%d8%a7%db%81-%d9%85%d9%88%d9%86%da%af%db%8c%d8%b1-%d8%b3%db%92-2%d9%81%d8%b6%d9%84%d8%a7%d8%a1-%d8%a7%d8%b9/
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86%d9%82%d8%a7%db%81-%d9%85%d9%88%d9%86%da%af%db%8c%d8%b1-%d8%b3%db%92-2%d9%81%d8%b6%d9%84%d8%a7%d8%a1-%d8%a7%d8%b9/#respondThu, 25 Sep 2025 12:07:07 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5026(پی این این)
مونگیر: آج جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے دو فضلاء، مولانا محمد آصف رحمانی (مونگیر) اور مولانا مشکور عثمانی رحمانی (ارریہ)، کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ رحمانی سے جامعہ ازہر مصر رخصت کیا گیا۔
یہ مبارک سفر دراصل جامعہ رحمانی کے سابق سرپرست امیر شریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی دوراندیشی اور موجودہ سرپرست امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی خصوصی توجہ اور کوششوں کا ثمرہ ہے۔ 2018ء میں جامعہ رحمانی اور جامعۃ الازہر کے درمیان ہونے والے تاریخی تعلیمی معاہدے کے بعد جامعۃ الازہر نے جامعہ رحمانی کے نصاب کو با ضابطہ تسلیم کیا۔ اس کے نتیجے میں جامعہ رحمانی کے فضلاء کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ کا موقع فراہم ہوا۔
اس سلسلے کا آغاز جامعہ رحمانی کے دو فضلاء مولانا عبد الاحد رحمانی اور مولانا عبد العلیم رحمانی سے ہوا، جو اپنی جامعہ ازہر میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد سے ہی جامعہ رحمانی میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے بعد مولانا فاخر صبا رحمانی اور مولانا سالم رحمانی نے یہ سفر جاری رکھا۔ آج اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا آصف رحمانی اور مولانا مشکور عثمانی رحمانی کو جامعہ رحمانی سے جامعۃ الازہر مصر رخصت کیا گیا۔
اس موقع پر جامعہ رحمانی کے سرپرست امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے سفر پر جانے والے دونوں فضلاء کو خصوصی نصیحت کی کہ وہ لغویات اور فضولیات سے بچتے ہوئے اپنی زندگی کا مقصد صرف اور صرف علم کو بنائیں اور بھرپور محنت سے مہارت حاصل کریں۔ جامعہ رحمانی کے ناظم، مولانا محمد عارف رحمانی نے کہاکہ “ان شاءاللہ آئندہ بڑی تعداد میں جامعہ رحمانی کے فارغین کو اعلی تعلیم کیلئے جامعہ ازہر بھیجنے کا منصوبہ ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ یہاں کے فارغین اس موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔”
جامعہ رحمانی کے ناظمِ تعلیمات، استاذ حدیث مولانا جمیل احمد مظاہری نے کہاکہ “جامعہ رحمانی کی تعلیم و تربیت کا معیاربہت بلند ہے، خصوصاً عربی زبان کی خصوصی محنت کی وجہ سے یہاں کا نصاب جامعہ ازہر مصر میں مقبول ہے لہذا یہاں کے فارغین کا بآسانی جامعہ ازہر میں داخلہ ہوجاتا ہے۔ یہ جامعہ رحمانی اور اس کے مخلصین کے لیے باعثِ افتخار ہے کہ ہمارے طلبہ دنیا کی عظیم اسلامی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔”نائب ناظم تعلیمات مولانا مفتی محمد صالحین ندوی نے کہا کہ دنیا کی کئی بڑی جامعات کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور مستقبل قریب میں جامعہ رحمانی کے فضلاء کے لیے عالمی سطح پر تعلیمی سفر کے مزید دروازے کھلنے والے ہیں۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86%d9%82%d8%a7%db%81-%d9%85%d9%88%d9%86%da%af%db%8c%d8%b1-%d8%b3%db%92-2%d9%81%d8%b6%d9%84%d8%a7%d8%a1-%d8%a7%d8%b9/feed/0