add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); Mumbainews – sachkiawaz.com https://sachkiawaz.com Fri, 17 Apr 2026 13:17:53 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.9 ممبئی سے حج 2026 کا باضابطہ آغاز، عازمینِ کرام کی روانگی 18 اپریل سے https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%85%d8%a8%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%ad%d8%ac-2026-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d8%a8%d8%b7%db%81-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2%d8%8c-%d8%b9%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86%d9%90-%da%a9/ https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%85%d8%a8%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%ad%d8%ac-2026-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d8%a8%d8%b7%db%81-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2%d8%8c-%d8%b9%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86%d9%90-%da%a9/#respond Fri, 17 Apr 2026 13:17:53 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=6354 (پی این این)
ممبئی:فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے ہندوستانی عازمینِ کرام کے روح پرور سفر کا باضابطہ آغاز 18 اپریل 2026 بروز ہفتہ سے ہو رہا ہے۔ ممبئی سمیت ملک کے دیگر اہم امبارکیشن پوائنٹس سے پہلی حج پروازیں اڑان بھریں گی، جس کے ساتھ ہی حج سیزن 2026 کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔ یہ مقدس سفر ہر سال کی طرح اس بار بھی لاکھوں مسلمانوں کے لیے عقیدت، محبت اور روحانی وابستگی کا مظہر بن کر سامنے آ رہا ہے۔
ممبئی کو تاریخی طور پر ہندوستان میں حج کا مرکزی درجہ حاصل رہا ہے۔ ایک دور تھا جب یہاں سے عازمینِ حج بحری جہازوں کے ذریعے ہفتوں پر محیط سفر کرتے ہوئے حجاز مقدس پہنچتے تھے۔ یہ سفر نہ صرف طویل بلکہ صبر آزما بھی ہوتا تھا، مگر اس میں روحانیت، اجتماعی عبادت اور اخوت کا ایک منفرد رنگ پایا جاتا تھا۔ 1996 میں حکومت ہند نے باضابطہ طور پر بحری جہازوں کے ذریعے حج سفر کو بند کر دیا، جس کے بعد سے مکمل طور پر فضائی سفر ہی کو اختیار کیا گیا۔ اس تبدیلی سے اگرچہ وقت کی بچت اور سہولت میں اضافہ ہوا، لیکن پرانے عازمین آج بھی بحری سفر کی یادوں کو ایک خاص جذباتی وابستگی کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔
حج 2026 کے لیے ممبئی امبارکیشن پوائنٹ سے تقریباً 90 پروازوں کا شیڈول تیار کیا گیا ہے، جن کے ذریعے ہزاروں عازمین کو مرحلہ وار سعودی عرب روانہ کیا جائے گا۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے مطابق اس سال بھارت کا مجموعی حج کوٹہ تقریباً ایک لاکھ 22 ہزار 500 مقرر کیا گیا ہے، جبکہ درخواستوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ رہی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فریضۂ حج کے لیے عوام میں کس قدر جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ اس بڑے آپریشن کے لیے سعودی ایئر لائن، فلائی ڈیل اور اکاسا ایئر سمیت مختلف فضائی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
18 اپریل کو ممبئی سے دو خصوصی پروازیں روانہ ہوں گی، جن میں سینکڑوں عازمین سوار ہوں گے۔ اسی روز دہلی، سری نگر، گوہاٹی، کولکاتا اور وجے واڑہ سے بھی حج پروازوں کا آغاز ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق دہلی سے دو، سری نگر سے تین جبکہ دیگر مراکز سے ایک ایک پرواز روانہ کی جائے گی۔ اس طرح پہلے ہی دن ملک بھر سے بڑی تعداد میں عازمین حرمین شریفین کے مقدس سفر پر روانہ ہوں گے۔
حج آپریشن کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے کے تحت 18 اپریل سے 3 مئی تک عازمین کو مدینہ منورہ پہنچایا جائے گا، جہاں وہ روضۂ رسول ﷺ پر حاضری اور مسجد نبویؐ میں عبادت کی سعادت حاصل کریں گے۔ دوسرے مرحلے کا آغاز 5 مئی سے ہوگا، جس میں عازمین کی پروازیں جدہ کے لیے روانہ ہوں گی، جہاں سے وہ مکہ مکرمہ جا کر مناسکِ حج ادا کریں گے اور بعد ازاں مدینہ منورہ کی زیارت کریں گے۔ ممبئی سے آخری حج پرواز 20 مئی 2026 کو روانہ ہوگی، جو ملک بھر سے روانہ ہونے والی آخری پرواز بھی ہوگی۔
حج حکام کے مطابق اس سال انتظامات کو مزید بہتر اور منظم بنایا گیا ہے۔ عازمین کو پیشگی اطلاع فراہم کر دی گئی ہے اور امیگریشن، سیکیورٹی، طبی سہولیات اور رہائش کے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہنواز سی نے کہا ہے کہ انتظامیہ کی اولین ترجیح عازمین کو سہل اور محفوظ سفر فراہم کرنا ہے۔
عازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی پرواز کی تصدیق “حج سہولت” ایپ یا سرکاری پورٹل پر کریں اور دستخط شدہ رسید ساتھ رکھیں۔ امبارکیشن پوائنٹ پر کم از کم 24 گھنٹے قبل رپورٹ کرنا لازمی ہوگا، جبکہ براہِ راست ایئرپورٹ جانے والوں کو 6 گھنٹے پہلے پہنچنا ہوگا۔ پاسپورٹ، ہیلتھ سرٹیفکیٹ، ادائیگی کی رسید اور دیگر ضروری دستاویزات ساتھ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مرد و خواتین کے قیام میں اہم تبدیلی حج 2026 میں ایک نمایاں تبدیلی مرد و خواتین عازمین کے قیام کے حوالے سے کی گئی ہے۔ اس سال مردوں اور خواتین کے کمروں کو مکمل طور پر الگ رکھا جائے گا، حتیٰ کہ میاں بیوی یا محرم کے ساتھ سفر کرنے والوں کے لیے بھی علیحدہ کمروں کا انتظام ہوگا۔ انتظامیہ کے مطابق یہ قدم نظم و ضبط اور سہولت کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے، تاہم بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے خصوصاً معمر عازمین کو دشواری ہو سکتی ہے۔
اسمارٹ واچ اور جدید سہولیات اس سال عازمین کو اسمارٹ واچ بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ہجوم میں ان کی نگرانی کی جا سکے اور گمشدگی کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ تاہم اس سہولت کے استعمال کے لیے مناسب تربیت نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں، کیونکہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کئی عازمین جدید ٹیکنالوجی سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%85%d8%a8%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%ad%d8%ac-2026-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d8%a8%d8%b7%db%81-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2%d8%8c-%d8%b9%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86%d9%90-%da%a9/feed/ 0
آزاد میدان میں نمازِ عیدین کی روایت تعطل کا شکار https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2%d9%90-%d8%b9%db%8c%d8%af%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%a7%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d8%b9%d8%b7/ https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2%d9%90-%d8%b9%db%8c%d8%af%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%a7%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d8%b9%d8%b7/#respond Wed, 18 Mar 2026 14:39:57 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=6076 جاوید جمال الدین
ممبئی:ممبئی میں عیدالفطر کی صبح ہمیشہ سے ایک روحانی، سماجی اور تہذیبی منظر پیش کرتی رہی ہے۔ سفید لباس میں ملبوس مرد، رنگین کپڑوں میں بچے اور گھروں سے نکلتے خاندان جب عید کی نماز کے لیے رواں دواں ہوتے ہیں تو شہر کی فضا ایک خاص سرور میں ڈوب جاتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جنوبی ممبئی میں واقع آزاد میدان اس عظیم اجتماع کا سب سے بڑا مرکز ہوا کرتا تھا، جہاں دور دراز علاقوں سے مسلمان نمازِ عیدین ادا کرنے آتے تھے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں یہ صدیوں پرانی روایت تعطل کا شکار ہو کر تقریباً ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔یہ تبدیلی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ مختلف عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں اجازت کے پیچیدہ مراحل، تنظیمی انتشار، انتظامیہ کا عدم اعتماد اور شہری ترقیاتی دباؤ نمایاں ہیں۔
تاریخی پس منظر: ایک تہذیبی علامت:آزاد میدان میں عیدین کی نماز ایک صدی سے زائد پرانی روایت رہی ہے۔ برطانوی دور میں یہ میدان فوجی مشقوں اور عوامی اجتماعات کے لیے استعمال ہوتا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ ممبئی کے مسلمانوں کی اجتماعی شناخت بن گیا۔ماضی میں یہاں نماز کا انتظام ایک باقاعدہ کمیٹی کے تحت ہوتا تھا۔ اس دور میں مولانا ضیاء الدین بخاری جیسے جید عالم خطبہ دیتے تھے۔ ان کی پُراثر تقریر اور رقت آمیز دعا کے باعث نمازیوں کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی تھیں۔ وہ نہ صرف مذہبی رہنما تھے بلکہ سیاسی میدان میں بھی سرگرم رہے اور مسلم لیگ سے وابستہ ہو کر ایم ایل اے منتخب ہوئے۔اس کمیٹی میں خلیفہ ضیاء الدین، ہارون موزے والا اور بابائے قوم یوسف پٹیل جیسے سرکردہ افراد شامل تھے، جنہوں نے اس روایت کو منظم انداز میں برقرار رکھا۔
اجازت کا پیچیدہ نظام:ممبئی امن کمیٹی کے صدر فرید شیخ کے مطابق عیدگاہ کے لیے اجازت حاصل کرنا ایک کثیر سطحی اور پیچیدہ عمل ہے۔ان کے مطابق: یہ پرمیشن کوئی ایک ادارہ نہیں دیتا، بلکہ پولیس کمشنر، مقامی ڈی سی پی اور دیگر سرکاری محکمے اس میں شامل ہوتے ہیں۔ آزاد میدان چونکہ پی ڈبلیو ڈی کے تحت آتا ہے، اس لیے وہاں کی اجازت بھی ضروری ہوتی ہے، لیکن اصل فیصلہ کمشنر کا ہوتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ بظاہر یہ ایک رسمی کارروائی لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ مکمل طور پر انتظامیہ کے اعتماد اور حالات پر منحصر ہوتی ہے۔
تنظیمی انتشار اور اعتماد کا بحران:مقامی ذمہ داران کے مطابق اس روایت کے تعطل کی ایک بڑی وجہ تنظیمی کمزوری ہے۔فرید شیخ کے مطابق: پہلے تجربہ کار لوگ تھے، جن کا ایک مضبوط ریکارڈ تھا، مگر اب نئے لوگ بغیر تیاری کے سامنے آ جاتے ہیں۔ کچھ غیر سنجیدہ کوششوں نے پورا معاملہ بگاڑ دیا اور انتظامیہ کا اعتماد مجروح ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ جب ایک ہی معاملے پر مختلف گروپس الگ الگ کوشش کریں تو نہ صرف اتحاد متاثر ہوتا ہے بلکہ حکام کے لیے بھی فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف اور سیکورٹی خدشات:پولیس اور انتظامیہ کے مطابق بڑے اجتماعات کے لیے اجازت دیتے وقت شہری سلامتی کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق اگر کسی گروپ کی تنظیمی صلاحیت یا سنجیدگی پر شبہ ہو تو اجازت دینے میں احتیاط برتی جاتی ہے۔ ایک افسر کے مطابق: اگر کسی بڑے اجتماع میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو صورتحال کو سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے ہمیں مکمل تیاری اور اعتماد درکار ہوتا ہے۔
شہری ترقی اور محدود ہوتی جگہ:ممبئی میٹرو کے تحت جاری تعمیراتی کاموں نے بھی آزاد میدان کے استعمال کو متاثر کیا ہے۔کھدائی، محدود جگہ اور دیگر سرکاری سرگرمیوں کے باعث بڑے پیمانے پر اجتماع کا انعقاد مشکل ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑے شہروں میں کھلی جگہوں کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
متبادل انتظام: مساجد اور محدود گنجائش:آزاد میدان میں نماز نہ ہونے کی صورت میں نمازیوں کا رخ قریبی مساجد کی طرف ہو جاتا ہے، جن میں نمایاں جمعہ مسجد ممبئی ہے۔ اس کے علاوہ انجمن اسلام کے میدان میں بھی نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔یہاں عید کے دن ایک کے بجائے کئی جماعتیں منعقد کی جاتی ہیں، تاہم اس سے نئی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
جگہ کی کمی:عوامی ردعمل:عوام اس تبدیلی کو ایک نقصان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک مقامی شہری عابد شیخ کے مطابق: آزاد میدان میں جو وسعت اور سکون تھا، وہ کہیں اور ممکن نہیں۔ وہاں سب ایک ساتھ ہوتے تھے، یہاں ہم مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں، جو اس روایت کی روح کے خلاف ہے۔
موجودہ صورتحال اور ممکنہ حل:اس وقت صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ چار سے پانچ برسوں سے آزاد میدان میں باقاعدہ نماز نہیں ہو رہی، اور کوئی مضبوط متفقہ قیادت بھی سامنے نہیں آئی۔ماہرین اور مقامی ذمہ داران کے مطابق اس مسئلے کا حل ممکن ہے، بشرطیکہ:ایک متحد اور منظم کمیٹی تشکیل دی جائے،تجربہ کار افراد کو شامل کیا جائے،پیشگی منصوبہ بندی کے ساتھ اجازت حاصل کی جائے،انتظامیہ کے ساتھ اعتماد بحال کیا جائے۔آزاد میدان میں نمازِ عیدین کا تعطل صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی خلا کی علامت ہے۔ یہ روایت ممبئی کے مسلمانوں کی اجتماعی شناخت اور شہر کی مشترکہ ثقافت کا اہم حصہ رہی ہے۔اگرچہ سیکورٹی خدشات اور شہری دباؤ اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کے ساتھ توازن قائم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ یہ روایت مکمل طور پر ختم نہ ہو۔عید کی نماز محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی تجربہ ہے، جو دلوں کو جوڑتا ہے۔ آزاد میدان اس تجربے کی ایک مضبوط علامت رہا ہے۔اب سوال یہی ہے کہ کیا اس تاریخی روایت کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کر کے دوبارہ زندہ کیا جا سکے گا، یا یہ ماضی کی ایک خوبصورت یاد بن کر رہ جائے گی۔یہ فیصلہ صرف انتظامیہ کا نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کے اجتماعی شعور، اتحاد اور سنجیدگی پر منحصر ہے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2%d9%90-%d8%b9%db%8c%d8%af%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%a7%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d8%b9%d8%b7/feed/ 0
ممبئی میں بھائی چارہ اور مذہبی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال، ہندو ڈاکیہ مسلم پڑوسیوں کے ساتھ رکھتا ہےروزہ https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%85%d8%a8%d8%a6%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%86%d8%a7%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8%db%8c-%db%81%d9%85-%d8%a2%db%81%d9%86%da%af%db%8c/ https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%85%d8%a8%d8%a6%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%86%d8%a7%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8%db%8c-%db%81%d9%85-%d8%a2%db%81%d9%86%da%af%db%8c/#respond Sat, 14 Mar 2026 11:59:41 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=6044 (پی این این)
ممبئی:ممبئی کو ہمیشہ سے ایک کاسموپولیٹن شہر کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ ایک ساتھ مل جل کر زندگی گزارتے ہیں۔ اس شہر کی شناخت صرف اس کی معاشی سرگرمیوں یا تیز رفتار زندگی سے نہیں بلکہ یہاں کے عوام میں پائی جانے والی بھائی چارہ، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کی روایات سے بھی ہوتی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے مذہبی تہواروں اور خوشیوں میں شریک ہو کر ایک مثالی معاشرتی ہم آہنگی کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اسی جذبۂ خیر سگالی کی ایک خوبصورت مثال ممبئی کے نواحی علاقے کلیان سے سامنے آئی ہے جہاں ایک ہندو ڈاکیہ اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ رمضان کا روزہ رکھ کر مذہبی بھائی چارے کا پیغام دے رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق محکمہ ڈاک میں خدمات انجام دینے والے پوسٹ مین پنڈلک ٹھاکر گزشتہ کئی دہائیوں سے کلیان میں مقیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچپن ہی سے ان کے پڑوس میں کئی مسلم خاندان آباد رہے ہیں اور ان کی دوستی کا دائرہ بھی بڑی حد تک مسلم دوستوں پر مشتمل رہا ہے۔ اسی میل جول اور باہمی تعلقات کی وجہ سے مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان محبت اور اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوتا گیا۔پنڈلک ٹھاکر بتاتے ہیں کہ ان کے محلے میں ہندو اور مسلمان خاندان ایک دوسرے کے تہواروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ دیوالی، گنیش چتُرتھی، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ جیسے مواقع پر محلے کے لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ یہی ماحول انہیں ہمیشہ سے متاثر کرتا رہا اور اسی کے نتیجے میں انہوں نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کا تجربہ بھی کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ماہِ رمضان کے روزے رکھنا انہیں روحانی طور پر بہت اچھا لگتا ہے اور اس سے انہیں اپنے مسلم پڑوسیوں کے مذہبی جذبات کو سمجھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ تاہم روزانہ روزہ رکھنا ان کے لیے آسان نہیں کیونکہ انہیں روزانہ کلیان سے ممبئی تک تقریباً ساٹھ کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ صبح سویرے لوکل ٹرین کے ذریعے ممبئی پہنچ کر انہیں پورا دن ڈاک کی تقسیم کا کام بھی انجام دینا ہوتا ہے۔اسی مصروفیت کے باعث وہ گزشتہ تقریباً پندرہ برس سے رمضان کے آخری جمعہ، جسے عموماً جمعہ الوداع کہا جاتا ہے، کے موقع پر روزہ رکھتے ہیں۔ اس دن وہ اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ سحری کے لیے جاگتے ہیں اور سحری کے بعد جلدی اپنی ڈیوٹی کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس دن ڈاک کی تقسیم کا کام جلد مکمل کر کے شام تک واپس کلیان پہنچ جائیں تاکہ محلے کے دوستوں اور پڑوسیوں کے ساتھ مل کر افطار کر سکیں۔
پنڈلک ٹھاکر کے مطابق روزہ رکھنے کا تجربہ انہیں صبر، ضبط اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کا سبق دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ سحری اور افطار میں شریک ہوتے ہیں تو انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورا محلہ ایک ہی خاندان کا حصہ ہو۔ ان کے بقول یہی جذبہ ممبئی کی اصل روح ہے۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پنڈلک ٹھاکر کا یہ عمل صرف ایک شخصی روایت نہیں بلکہ اس شہر کی دیرینہ ثقافت کا مظہر ہے۔ محلے کے بزرگوں کے مطابق ممبئی میں دہائیوں سے مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ رمضان میں غیر مسلم پڑوسی افطار میں شریک ہوتے ہیں جبکہ تہواروں کے موقع پر مسلمان بھی اپنے ہندو دوستوں کے ساتھ خوشیاں بانٹتے ہیں۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ ممبئی صرف معاشی دارالحکومت ہی نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ ماضی میں بھی اس شہر نے مشکل حالات میں اتحاد اور یکجہتی کی مثالیں پیش کی ہیں اور آج بھی عام شہری اپنے طرزِ عمل سے اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ماہرینِ سماجیات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، مگر اس کے باوجود ہندوستان کے کئی شہروں میں عام لوگ عملی طور پر بھائی چارہ اور رواداری کی مثال قائم کرتے ہیں۔ ان میں پنڈلک ٹھاکر جیسے افراد شامل ہیں ۔بزرگوں کا کہنا ہے کہ ممبئی کی گلیوں اور محلوں میں ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جو اس شہر کی خیر سگالی اور ہم آہنگی کی فضا کو ظاہر کرتے ہیں۔ کلیان کے ایک محلے میں ہندو ڈاکیہ کا اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ روزہ رکھنا بھی اسی روایت کی ایک دلکش مثال ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ باہمی احترام اور محبت کے ذریعے مختلف مذاہب کے لوگ نہ صرف ساتھ رہ سکتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کی خوشیوں اور عبادتوں میں بھی شریک ہو سکتے ہیں۔یہی وہ جذبہ ہے جو ممبئی کو صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایک مشترکہ تہذیب اور بھائی چارے کی علامت بناتا ہے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%85%d8%a8%d8%a6%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%86%d8%a7%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8%db%8c-%db%81%d9%85-%d8%a2%db%81%d9%86%da%af%db%8c/feed/ 0