add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
MaulanaMahmoodAsadMadani – sachkiawaz.com
https://sachkiawaz.com
Fri, 27 Mar 2026 14:52:00 +0000en-US
hourly
1 https://wordpress.org/?v=6.9.9گجرات یکساں سول کوڈ کے خلاف جمعیۃ عدالت سےکرے گی رجوع : مولانا محمود اسعد مدنی
https://sachkiawaz.com/%da%af%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%db%8c%da%a9%d8%b3%d8%a7%da%ba-%d8%b3%d9%88%d9%84-%da%a9%d9%88%da%88-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%8c%db%83-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa/
https://sachkiawaz.com/%da%af%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%db%8c%da%a9%d8%b3%d8%a7%da%ba-%d8%b3%d9%88%d9%84-%da%a9%d9%88%da%88-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%8c%db%83-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa/#respondFri, 27 Mar 2026 14:52:00 +0000https://sachkiawaz.com/?p=6128(پی این این)
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے گجرات اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ یکساں سول کوڈ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے اُن عائلی و شخصی قوانین بالخصوص حق وراثت کی واضح شکلوں کو عملاً ختم کرنے کی کوشش ہے جو آئینِ ہند کے تحت تسلیم شدہ ہیں اور قرآن و سنت سے ماخوذ ہونے کی بنا پر محض سماجی ضابطے نہیں بلکہ لازمی دینی احکام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کسی بھی حکومت کو مذہبی عقائد اور شرعی احکام میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں۔ مزید برآں یکساں سول کوڈ کے نام پر مذہبی شخصی قوانین کا خاتمہ legislative overreach ہے جو ملک کی بڑی عدالت میں سخت آئینی جانچ پر پورا نہیں اترتا۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدرمحترم نے یہ بیان جمعیۃ کے وکلاء پینل کے ذریعہ اس قانون کے مطالعے کے بعد دیا ہے۔
جمعیۃ کے وکلاء پینل کی جانب سے بل کے جامع مطالعے کے بعد یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ اس قانون میں خاص طور پر تین ایسے بنیادی پہلو شامل ہیں جو صریح طور پر اسلامی احکام کی واضح ہدایات سے متصادم ہیں۔ ان میں سرفہرست اسلامی نظامِ وراثت ہے، جس کے حصے قرآنِ کریم میں نہایت صراحت کے ساتھ متعین اور ناقابلِ ترمیم قرار دیے گئے ہیں۔ہر ایک وارث کا حصہ علیحدہ طور پر بیان کیا گیا ہے اور اسے حدود اللہ قرار دے کر تجاوز کرنے والوں کو ظالم کہا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ محض مسلم پرسنل لا کا حصہ نہیں بلکہ صریح احکامِ الٰہی ہیں، جن پر عمل ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لہٰذا اس قانون کے ذریعے ان احکام کو ختم یا غیر مؤثر بنانے کی کوشش نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ عدل کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی اور مسلمانوں کے ساتھ آئین سازوں کے کیے گئے عہد کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
اسی طرح تعددِ ازدواج پر کلی پابندی عائد کر کے ایک مسلمہ شرعی اجازت کو غیر قانونی قرار دینا بھی مذہبی آزادی میں مداخلت ہے۔ مزید برآں، عدالت سے ماورا طلاق کی تمام صورتوں پر مکمل پابندی عائد کرنا اور اس پر تین سال تک کی سزا مقرر کرنا، نیز ساٹھ دن کے اندر نکاح کی رجسٹریشن نہ کرنے پر ساٹھ ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے سے متعلق دفعات نہ تو آئینی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں اور نہ ہی اخلاقی و قانونی معیارات پر پورا اترتی ہیں۔ یہ اقدامات غیر متناسب ہیں بلکہ شہری (سول) معاملات کو بلا جواز فوجداری دائرے میں لے آنے کی ایک سنگین مثال بھی ہیں۔
مولانا مدنی نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے اس بیان کو بھی مضحکہ خیز قرار دیا کہ’’ ایک ملک ہے تو ایک قانون ہونا چاہیے‘‘، اور کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر شیڈولڈ ٹرائبس کو اس قانون سے مستثنیٰ کیوں رکھا گیا؟ کیا وہ ملک کا حصہ نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا عملی امتیاز آئین کے آرٹیکل 14 (حقِ مساوات) کی سنگین خلاف ورزی ہے۔مولانا مدنی نے اعلان کیا کہ جمعیۃ علماء ہند اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرے گی اور اس مقصد کے لیے تمام آئینی و قانونی ذرائع اختیار کیے جائیں گے تاکہ مسلمانوں کے مذہبی و آئینی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور شریعتِ اسلامی کے لازمی احکام کو کسی بھی صورت میں متاثر نہ ہونے دیا جائے۔
]]>
https://sachkiawaz.com/%da%af%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%db%8c%da%a9%d8%b3%d8%a7%da%ba-%d8%b3%d9%88%d9%84-%da%a9%d9%88%da%88-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%8c%db%83-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa/feed/0وندے ماترم کسی پر لازم نہیں، سپریم کورٹ کی وضاحت
https://sachkiawaz.com/%d9%88%d9%86%d8%af%db%92-%d9%85%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d9%85-%da%a9%d8%b3%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba%d8%8c-%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9/
https://sachkiawaz.com/%d9%88%d9%86%d8%af%db%92-%d9%85%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d9%85-%da%a9%d8%b3%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba%d8%8c-%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9/#respondWed, 25 Mar 2026 14:01:32 +0000https://sachkiawaz.com/?p=6114(پی این این)
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے وندے ماترم سے متعلق سپریم کورٹ آف انڈیا کے ذریعہ آج ظاہر کردہ موقف پر ردِّعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا یہ واضح اور اصولی موقف ہے کہ وندے ماترم ہمارے بنیادی عقیدۂ توحید کے خلاف ہے، اس لیے کسی بھی حکم یا ہدایت کے ذریعے اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ کسی شہری کو اس کے مذہب، عقیدہ اور ضمیر کے خلاف کسی عمل پر مجبور کرنا نہ صرف آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے پر براہِ راست حملہ ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ بھارت کا آئین ہر شہری کو ضمیر اور مذہب کی آزادی کا مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، جسے کسی بھی انتظامی ہدایت، سرکاری دباؤ یا سماجی جبر کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آج ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے یہ حقیقت دوٹوک انداز میں بیان کی ہے کہ 28؍جنوری 2026 کو وندے ماترم سے متعلق سرکاری گائیڈلائن محض ایک ’’مشورہ‘‘ ہے اور اس کی کوئی لازمی حیثیت نہیں ہے، نیز اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کوئی تعزیری کارروائی بھی مقرر نہیں۔
مولانا مدنی نے خبردار کیا کہ اگر ملک کے کسی بھی حصے میں کسی فرد، طالب علم یا ادارے کو اس معاملے میں مجبور کیا گیا، یا اس کے مذہبی و آئینی حقوق کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی، تو جیسا کہ سپریم کورٹ نے آج خود واضح کیا ہے، جمعیۃ علماء ہند عدالت سے رجوع کرے گی اور ہر ممکن قانونی جنگ لڑے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ وقت ملک میں آئین کی بالادستی کو مضبوط کرنے کا ہے، نہ کہ ایسے اقدامات کو فروغ دینے کا جو شہریوں کے درمیان خوف، دباؤ اور تفریق کو جنم دیں۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس معاملے میں واضح ہدایات جاری کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ کسی بھی سطح پر کسی شہری کے ساتھ جبر، امتیاز یا زیادتی نہ ہو۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d9%88%d9%86%d8%af%db%92-%d9%85%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d9%85-%da%a9%d8%b3%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba%d8%8c-%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9/feed/0