add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); Lucknow news – sachkiawaz.com https://sachkiawaz.com Tue, 15 Sep 2026 14:00:05 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.9 اکھلیش یادو سے آر روشن بیگ کی اہم ملاقات https://sachkiawaz.com/%d8%a7%da%a9%da%be%d9%84%db%8c%d8%b4-%db%8c%d8%a7%d8%af%d9%88-%d8%b3%db%92-%d8%a2%d8%b1-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86-%d8%a8%db%8c%da%af-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%81%d9%85-%d9%85%d9%84%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%aa/ https://sachkiawaz.com/%d8%a7%da%a9%da%be%d9%84%db%8c%d8%b4-%db%8c%d8%a7%d8%af%d9%88-%d8%b3%db%92-%d8%a2%d8%b1-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86-%d8%a8%db%8c%da%af-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%81%d9%85-%d9%85%d9%84%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%aa/#respond Tue, 15 Sep 2026 14:00:05 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=11059 لکھنؤ: کرناٹک کے سابق وزیر اور سینئر سیاسی رہنما آر روشن بیگ نے اترپردیش کے دورے کے دوران مختلف مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور ریاست کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے دیوہ شریف اور مجگاوں شریف سمیت مختلف مقدس مقامات پر حاضری دے کر عقیدت کا اظہار کیا۔آر روشن بیگ نے دیوہ شریف میں حضرت حاجی وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے دربار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی، جبکہ مجگاوں شریف میں حضرت مخدوم شیخ سارنگ چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر بھی حاضری دے کر عقیدت پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے ملک میں امن، بھائی چارے، سماجی ہم آہنگی اور عوام کی خوشحالی کے لیے دعا کی۔
دورے کے دوران آر روشن بیگ نے اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال، بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ ماحول کے خدشات، عوامی مسائل اور حالاتِ حاضرہ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں سہارنپور کے مسجد سے متعلق معاملے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس کے علاوہ ریاست میں مختلف طبقات کے درمیان پیدا ہونے والی بے چینی، امن و امان کی صورتحال اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ حالات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے عوامی مفادات سے متعلق مسائل پر گفتگو کی۔ملاقات کا ایک اہم موضوع اترپردیش میں عنقریب ہونے والے اسمبلی انتخابات بھی رہا۔ آر روشن بیگ اور اکھلیش یادو نے انتخابات کے ممکنہ سیاسی منظرنامے، عوامی توقعات اور مختلف طبقات کے سیاسی رجحانات پر تبادلۂ خیال کیا۔ خاص طور پر مسلمانوں کی توقعات، سیاسی ترجیحات اور انہیں درپیش خدشات کے علاوہ ریاست میں ان کے سماجی، تعلیمی اور سیاسی مسائل بھی گفتگو کا حصہ رہے۔
آر روشن بیگ نے اپنے دورۂ اترپردیش کے دوران سینئر صحافیوں اور دانشوروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ریاست کے موجودہ حالات، سیاسی تبدیلیوں، سماجی مسائل اور ملک میں رونما ہونے والی اہم پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ صحافتی اور دانشورانہ حلقوں کے ساتھ بات چیت میں عوامی مسائل کو وسیع تناظر میں سمجھنے اور مختلف نقطۂ نظر جاننے پر بھی توجہ رہی۔سیاسی مبصرین کے مطابق اترپردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیوں میں بتدریج تیزی آرہی ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں عوامی مسائل اور مختلف سماجی طبقات کی توقعات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں آر روشن بیگ کی سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور دانشوروں سے ملاقاتوں کو ریاست کے موجودہ حالات کا جائزہ لینے اور مختلف حلقوں کے خیالات جاننے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔آر روشن بیگ کے دورے میں مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی سطح پر رابطوں کو بھی اہمیت دی گئی۔ دیوہ شریف اور مجگاوں شریف میں روحانی شخصیات کے مزارات پر حاضری کے علاوہ اکھلیش یادو اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتوں کے ذریعے انہوں نے اترپردیش کی سیاسی، سماجی اور عوامی صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%da%a9%da%be%d9%84%db%8c%d8%b4-%db%8c%d8%a7%d8%af%d9%88-%d8%b3%db%92-%d8%a2%d8%b1-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86-%d8%a8%db%8c%da%af-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%81%d9%85-%d9%85%d9%84%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%aa/feed/ 0
امیرالمؤمنین حضرت عمرؓ رسولؐ کی مخصوص دعا کا ثمرہ :قاری محمّد صدّیق https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%a4%d9%85%d9%86%db%8c%d9%86-%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d8%b9%d9%85%d8%b1%d8%93-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84%d8%90-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%ae%d8%b5%d9%88%d8%b5/ https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%a4%d9%85%d9%86%db%8c%d9%86-%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d8%b9%d9%85%d8%b1%d8%93-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84%d8%90-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%ae%d8%b5%d9%88%d8%b5/#respond Wed, 17 Jun 2026 12:28:52 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=7791 لکھنؤ: شہر کی تاریخی یکمنارہ مسجد اکبری گیٹ میں مرکزی جمعۃالحفّاظ کی جانب سے حسب دستور قدیم ہونے والے دس روزہ تذکرۂ شہدائے کرام کا پہلا جلسہ یوم عمرؓ استاذ الحفّاظ حافظ عبدالرّشید صدر مرکزی جمعۃالحفّاظ وقاری محمد حزقیل امام مسجد ایکمنارہ کی زیر نگرانی وسیّد محمّد اقبال کے زیر انتظام منعقد ہوا جس کا آغاز مدرسہ عالیہ فرقانیہ چوک کے قاری محمّد یوشع وقاری محمد عبداللہ کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا جلسے کو خطاب کرتے ہوئے ادارۂ دارالمبلّغین ۰۰پاٹانالہ چوک کےسینئر استاذ مولانا قاری محمد صدّیق امام و خطیب مسجد سبحانیہ پاٹانالہ چوک لکھنؤ نے مراد رسولؐ امیرالمؤمنین سیّدنا حضرت عمر ابن الخطّابؓ کی خلافت وشہادت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت عمرؓ امام الانبیاء حضرت محمّد مصطفٰی ﷺ کی مخصوص دعا کا ثمرہ ہیں۔
حضرت عمر ابن خطابؓ نے اپنی خلافت میں جس قدر خدمت و اشاعت دین کی کیں اور جیسی عظیم الشان فتوحات حاصل کیں ان کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی قاری محمد صدّیق نے کہا کہ حضرت عمر قاروقؓ میں تواضع کی صفت اس قدر تھی کہ جس کا اندازہ کرنے سے عقل عاجز ہے ۔
حضرت عمرؓ کی عبادت کا یہ حال تھا کہ نماز اور جماعت کا بڑا اہتمام کرتے تھے تمام صوبوں کے حکّام کے نام نماز کے متعلّق فرمان بھی جاری کرتے تھے حضرت عمرؓ اپنی خلافت کے زمانے میں رسولؐ کے نواسوں حضرت حسنؓ وحضرت حسینؓ کا بڑا خیال رکھتے تھے امیرالمؤمنین سیّدنا حضرت عمر ؓ اپنی رعایا سے با خبر رہنے کے لئے راتوں کو اٹھ کر گشت بھی کیا کرتے تھے،قاری محمّد صدّیق نے کہا کہ اگر رسول اللہؐ کے بعد نبوّت کا سلسلہ جاری ھوتا تو حضرت عمرؓ نبی ہوتے قاری موصوف نے کہا کہ حضرت عمرؓکی نیکیاں آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں۔
حضرت عمرؓ نے دس سال چھ مہینے پانچ لدن تخت خلافت کو زینت بخشی فجر کی نماز میں ابو لولو فیروز مجوسی کے ہاتھ سے شھید ھوے روضۂ نبویؐ میں مدفن پایا یکم محرّم کو مسلمانوں کا اقبال بھی ان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گیا شاعر نعت ومدح صحابہ خلیل اختر شبو محمّد کیف مدرسہ عالیہ فرقانیہ کے قاری محمّد طہ محمّد وصفی محمّد مذکر نے نعت ومنقبت کا منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔
جلسے میں محمّد معروف خان گہنا پیلس ذیشان جویلرس قاری سیّد افضال وغیرہ موجود تھے جلسے کا اختتام قاری محمّد صدّیق کی دعا پر ھوا *** منجانب اراکین مرکزی جمعۃالحفّاظ اکبری گیٹ چوک لکھنؤ ***

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%a4%d9%85%d9%86%db%8c%d9%86-%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d8%b9%d9%85%d8%b1%d8%93-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84%d8%90-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%ae%d8%b5%d9%88%d8%b5/feed/ 0
مسجد یکمنارہ اکبری گیٹ میں جلسہ استقبال سال نو ہجری کا انعقاد https://sachkiawaz.com/%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af-%db%8c%da%a9%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%b1%db%81-%d8%a7%da%a9%d8%a8%d8%b1%db%8c-%da%af%db%8c%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d9%84%d8%b3%db%81-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d8%a7/ https://sachkiawaz.com/%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af-%db%8c%da%a9%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%b1%db%81-%d8%a7%da%a9%d8%a8%d8%b1%db%8c-%da%af%db%8c%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d9%84%d8%b3%db%81-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d8%a7/#respond Tue, 16 Jun 2026 15:13:15 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=7766 لکھنؤ:شہر کی تاریخی ایکمنارہ مسجد اکبری گیٹ میں مرکزی جمعۃالحفّاظ کی جانب سے سالہائے گزشتہ کی طرح اس سال بھی جلسہ استقبال سال نو ھجری 1448 استاذ الحفّاظ حافظ عبدالرّشید صدر مرکزی جمعۃالحفّاظ کی سر پر ستی وقاری محمد حزقیل امام مسجد یکمنارہ کی نگرانی وسیّد محمّد اقبال کے زیر انتظام منعقد ہوا جس کا آغاز مدرسہ عالیہ فرقانیہ کے قاری محمّد ابراہیم وقاری ابوذر کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا جلسے کو خطاب کرتے ہوئے ادارۂ دارالمبلّغین کے سینئر استاذ قاری محمّد صدّیق نے کہا کہ اسلامی سال نو ھجری امام الانبیاء حضرت محمّد مصطفٰی ﷺ کی ہجرت سے مقرّر ہوا ۔
اسی لیے اس کو ہجری لکھا جاتا ہے رسول اللہؐ کی وفات کے بعد خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین سیّدنا عمر ابن الخطّابؓ کے دور خلافت میں اسلامی سال کے سلسلہ میں حضرات صحابۂ کرامؓ کا باہم مشورہ ہوا اور رسول پاکؐ کی ھجرت سے اس کو شروع کیا گیا سیّدنا حضرت عمر فاروقؓ کے کارناموں میں سے سنّ ہجری کے تقرّر کا کارنامہ بھی شمار کیا جاتا ہے۔
قاری محمّد صدّیق نے کہا کہ مسلمانوں کو اسلامی سال یاد رکھنا چاہیے اور اپنی تحریروں میں ھجری تاریخ لکھنا چاہئے عیسوی سن اسلامی سن نہیں ھے اور ماہ محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہےجو انتہائی بابرکت اور محترم ھے۔
قاری موصوف نے کہا کہ اس مبارک مہینے میں خلاف شریعت امور کو اختیار کرنا انتہائی بے دینی ہے اور حسینی کردار اختیار کر نے میں ہی فلاح ھے۔ قاری محمد طہ، وقاری محمد وصفی، نے نعت ومدح صحابہ کا منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا، جلسے میں محمد معروف خاں گہنہ پیلس ،قاری،ابوبکر، ،سیّد آفاق، ارشد خان، حاجی حسین، جمّو میاں، بابو بھائی ،وغیرہ موجود تھے ، جلسے کا اختتام قاری محمّد صدّیق کی دعا پر ھوا ۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af-%db%8c%da%a9%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%b1%db%81-%d8%a7%da%a9%d8%a8%d8%b1%db%8c-%da%af%db%8c%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d9%84%d8%b3%db%81-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d8%a7/feed/ 0
خواجہ یونیورسٹی میں اودھی زبان کو نصاب میں شامل کرنے کا اعلا ن https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%af%da%be%db%8c-%d8%b2%d8%a8%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%86%d8%b5%d8%a7%d8%a8/ https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%af%da%be%db%8c-%d8%b2%d8%a8%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%86%d8%b5%d8%a7%d8%a8/#respond Mon, 19 Jan 2026 11:35:11 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5711 (پی این این )
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں اودھی ریسرچ چیئر کی پہلا اجلاس نہایت کامیابی کے ساتھ انعقاد ہوا۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد اودھی زبان، اس کے ادب اور لوک ثقافت کے تحفظ، فروغ اور تعلیمی ارتقا کو ایک منظم اور مؤثر سمت دینا تھا۔میٹنگ کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے کی۔
اس موقع پر انھوں نے اودھی زبان کی تاریخی، ثقافتی اور سماجی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اودھی ہماری تہذیبی وراثت کی ایک طاقتور اور زندہ علامت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یونیورسٹی جلد ہی اودھی زبان کو ایک مستقل اور باقاعدہ مضمون کے طور پر نصاب میں شامل کرے گی، تاکہ طلبہ و طالبات کو اپنی لوک زبان میں تعلیم اور تحقیق کے بہتر مواقع حاصل ہو سکیں۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ اودھی زبان کے ذریعے لوک ثقافت، ادب اور سماج کے درمیان گہرے اور مضبوط رشتے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت یونیورسٹی اودھی سے متعلق تحقیقی منصوبوں، سمیناروں، ورکشاپس اور دیگر علمی و ادبی سرگرمیوں کو خصوصی ترجیح دے گی۔
اجلاس میں اودھی ریسرچ چیئر کے اراکین، پروفیسر سوریہ پرتاپ دکشت، پروفیسر ودیا بندھو سنگھ، ڈاکٹر رام بہادر مشرا اور ڈاکٹر سرویش استھانا نے شرکت کی۔ تمام اراکین نے اودھی زبان کے تحفظ، اس کی دستاویز سازی، ادبی تحقیق اور نئی نسل تک اس کے فروغ کے حوالے سے قیمتی تجاویز پیش کیں اور اودھی ادب کو علمی و تحقیقی سطح پر مستحکم کرنے کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی وضع کرنے پر زور دیا۔اس موقع پر اودھی ریسرچ چیئر کے کنوینر ڈاکٹر نیرج شکلا کے ساتھ ڈاکٹر یوگیندر سنگھ، ڈاکٹر آرادھنا استھانا اور ڈاکٹر ہمانشو گنگوار بطور معاون کنوینر موجود رہے۔
کنوینر منڈل نے چیئر کی آئندہ عملی منصوبہ بندی، تحقیقی موضوعات کے انتخاب، اشاعتی سرگرمیوں اور مجوزہ تعلیمی پروگراموں پر تفصیلی غور و خوض کیا۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اودھی زبان اور ثقافت سے متعلق خصوصی کورسز، سرٹیفکیٹ پروگرام، تحقیقی منصوبے اور ثقافتی تقاریب منعقد کی جائیں گی، تاکہ طلبہ کو تعلیمی کے ساتھ ساتھ عملی سطح پر بھی فائدہ پہنچایا جا سکے۔ مزید برآں اودھی ادب، لوک گیتوں، لوک ناٹک اور روایتی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل آرکائیو تیار کرنے کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا گیا۔
میٹنگ کے اختتام پر تمام اراکین نے متفقہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ اودھی زبان کو قومی سطح پر شناخت دلانے اور اسے علمی و ادبی منظرنامے میں نمایاں مقام عطا کرنے کے لیے یونیورسٹی کی کوششوں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے گا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%af%da%be%db%8c-%d8%b2%d8%a8%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%86%d8%b5%d8%a7%d8%a8/feed/ 0
خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں نئے پی ایچ ڈی مقالہ نگاروں کے لیے جامع اوریئنٹیشن پروگرام کا انعقاد https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%85%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%da%86%d8%b4%d8%aa%db%8c-%d9%84%db%8c%d9%86%da%af%d9%88%db%8c%d8%ac-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3-6/ https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%85%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%da%86%d8%b4%d8%aa%db%8c-%d9%84%db%8c%d9%86%da%af%d9%88%db%8c%d8%ac-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3-6/#respond Fri, 28 Nov 2025 10:55:31 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5421 (پی این این)
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں نئے داخلہ یافتہ پی ایچ ڈی تحقیق کاروں کے لیے ایک مربوط، منظم اور معلوماتی اوریئنٹیشن پروگرام کا انعقاد اٹل ہال میں کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد تحقیق کاروں کو جامعہ کی پالیسیوں، تحقیقی ڈھانچے، علمی وسائل اور قوانین سے واقف کرانا تھا، تاکہ وہ اپنی تحقیقی زندگی کا آغاز باشعور اور منظم انداز میں کرسکیں۔
اس پروگرام کے آغاز میں ریسرچ کوارڈینیٹر پروفیسر چندنا ڈے نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے اس موضوع کی اہمیت و معنی خیزیت اور ضرورت پر اظہار خیال کیا۔ مختصر استقبالیہ کلمات کے بعد یونیورسٹی کےوائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں اس پروگرام کو تحقیق کے نئے سفر کا نقطۂ آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ابتدائی مرحلہ تحقیق کاروں کو علمی دنیا کے بنیادی اصولوں، تحقیقی عمل کی باریکیوں اور اس شعبے کی مخصوص ذمہ داریوں سے روشناس کراتا ہے۔پروفیسر اجےتنیجا نے واضح کیا کہ تحقیق کسی بھی شعبے کی ترقی کا بنیادی ستون ہے اور محققین ہی مستقبل کی سمت متعین کرنے والے ’’سنگِ میل‘‘ ثابت ہوتے ہیں۔ انھوںنے نئے اسکالرز کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے تحقیقی موضوعات کا انتخاب کریں جو بدلتی ہوئی سماجی ضروریات اور جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔
اس اورینٹیشن پروگرام کے مہمان خصوصی اورلکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ تعلیم کے صدر پروفیسر دنیش کمار نے اپنے خطاب میں ریسرچ اسکالرز کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی تحقیقی مقالے کے موضوع کے تعین سے پہلے نہ صرف اپنی دلچسپی کے مضامین کا مطالعہ ضروری ہے بلکہ تازہ ریسرچ جرنلز، میگزینز اور ڈیجیٹل رپوزیٹریز کا باقاعدہ جائزہ بھی انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق ایک اچھی تحقیق کی بنیاد اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب طالبِ علم یہ سمجھ سکے کہ اس موضوع پر پہلے سے کتنا کام ہو چکا ہے اور موجودہ عہد کے مطابق کون سا پہلو نیا یا قابلِ تحقیق ہے۔
انھوں نےطلبہ کو تفصیلی رہنمائی دیتے ہوئے کہا کہ موضوع کی ابتدا بہتر طور پر کلیدی الفاظ طے کرنے سے ہونی چاہیے۔ ان ہی الفاظ کی مدد سے شعبہ جاتی ڈیٹابیسز میں ابتدائی تلاش کی جا سکتی ہے۔ اگر کسی موضوع پر متعدد تازہ تحقیقات ملتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس پر خاصا کام موجود ہےتاہم طالب علم انھیں مطالعات کے اندر موجود خلا کو تحقیق کے ذریعے اپنا نیا زاویہ طے کر سکتا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ریسرچ اسکالرز کو لٹریچر ریویو کے دورا ن قدیم و جدید حوالہ جات، پی ایچ ڈی تھیسسز اور کانفرنس پروسیڈنگز کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیےجس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ موضوع کن جہات سے مکمل ہے اور کہاں مزید تحقیق کی گنجائش باقی ہے۔تبدیل ہو تے وقت اور ڈیجیٹل عہد کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے انھوں نے مشورہ دیا کہ طلبہ اپنے موضوع کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ٹیکنالوجیکل، سماجی یا انڈسٹری بیسڈ پہلو شامل کریں۔اساتذہ نے مزید کہا کہ اگر کسی موضوع پر پہلے سے بہت زیادہ کام موجود ہو تو طلبہ اسکوب کو محدود کر کے (مثلاً مخصوص علاقے، گروہ یا ٹیکنالوجی تک)، نئی میتھوڈولوجی اختیار کر کے یا تقابلی مطالعہ شامل کر کے اپنے مقالے کو منفرد بنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کرنا ضروری ہےجو یہ بتائے کہ طالب علم کا مطالعہ کیوں منفرد اور عصرِ حاضر سے ہم آہنگ ہے۔
آخر میں انھوں اس بات پربھی زور دیا کہ موضوع طے کرنے کے فوراً بعد طلبہ کو اپنے سپروائزر کے ساتھ ابتدائی نتائج، تلاش شدہ حوالہ جات اور ممکنہ تحقیقی مسائل شیئر کرنا چاہیے تاکہ مقالے کی سمت درست رکھی جا سکے۔ان کے مطابق ایک کامیاب ریسرچ وہی ہے جو موجودہ علمی مباحث، سماجی ضرورت اور نئے فنی رجحانات کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔اس پروگرام کی نظامت اور شکریے کے الفاظ ڈاکٹر روچیتا سجائے نے ادا کیا۔اس موقع پر اساتذہ کے علاوہ سبھی شعبہ جات کے ریسرچ اسکالرس موجود رہے اور ان ریسرچ اسکالرس نےپروفیسر دنیش کمار سے بہت سے سولات بھی کئے جس کاانھوں نے تشفی بخش جوابات دیا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%85%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%da%86%d8%b4%d8%aa%db%8c-%d9%84%db%8c%d9%86%da%af%d9%88%db%8c%d8%ac-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3-6/feed/ 0
تعاون اور ہم آہنگی سے ملتی ہےعملی زندگی میں کامیابی: پروفیسر ثوبان سعید https://sachkiawaz.com/%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%88%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a2%db%81%d9%86%da%af%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92%d8%b9%d9%85%d9%84%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/ https://sachkiawaz.com/%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%88%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a2%db%81%d9%86%da%af%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92%d8%b9%d9%85%d9%84%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/#respond Thu, 20 Nov 2025 10:42:46 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5386 لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں نو وارد طلبہ کے لیےاستقبالیہ تقریب
(پی این این)
لکھنؤ: خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبہ ٔ اردو میں نو وارد طلبہ کے لیے استقبالیہ تقریب کا انعقاد بزم ادب کی جانب سے کیا گیا۔ اس تقریب میں بی اے سال اول اور ایم سال اول کا استقبال کیا گیا ۔ اس استقبالیہ تقریب میںپی ایچ ڈی کے طالب علم اور بزم ادب کے سکریٹری محمد نسیم نے طلبہ اور اساتذہ کا خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ تقریب کچھ تاخیر سے منعقد ہو رہی ہے مگر دیر آید درست آیدکے مصداق یہ ایک خوشگوار موقع ہے۔انھوں نے اپنے اسقبالیہ کلمات میں اردو زبان و ادب میں بی اے اور ایم اے کرنے والے طلبہ ان معنوں میں خوش نصیب ہیں کہ انھیں ادبی نگارشات کے توسط سے حیات و کائنات کے ایسے اسرار سےآگہی ہوتی ہے جو زندگی کے پر پیچ مراحل سے سرخرو گزرنے میں ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں ۔
انھوں نے زبان اور کلچر کے ربط باہم کے تناظر میں اردو پڑھنے کی اہمیت کو بیان کیا اور نووارد طلبہ سے کہا کہ اس شعبے کی انفرادیت یہ ہے کہ یہاں کے اساتذہ کلاس روم کی تدریس کے ساتھ طلبہ کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت میں ہر وقت ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔محمد نسیم کے استقبالیہ کلمات کے بعد نو واردریسرچ اسکالرس ،ایم اے سال اول اور بی اے سال اول کے طلبہ نے اپنا تعارف پیش کیا اور کہا کہ اس یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد وہ ایک ذمہ دار شہری بننے کی کوشش کریں گے تاکہ اپنے سماج اور ملک کی ترقی و خوشحالی میں تعاون کر سکیں۔ ان طلبہ نے اساتذہ کو یہ یقین دلایا کہ وہ پوری محنت اور دیانت داری کے ساتھ تعلیم حاصل کریں گے تاکہ زبان اور کلچر کے تحفظ میں فعال کردار ادا کر سکیں۔
اس استقبالیہ تقریب میں شعبہ ٔ اردو کے صدر پروفیسر ثوبان سعیدپنے اپنے خطاب میں نو وارد طلبہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی زندگی محض کتابی علم تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ انسانی شخصیت، سوچ اور صلاحیتوں کو نکھارنے کا سنہرا دور ہوتا ہے۔ انھوں نے طلبہ کو یقین دلایا کہ شعبۂ اردو کے اساتذہ اور سینئر طلبہ ہر مرحلے پر ان کی رہنمائی، مدد اور حوصلہ افزائی کے لیے موجود رہیں گے تاکہ تعلیمی سفر ان کے لیے آسان اور بامقصد بن سکے۔انھوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ یونیورسٹی کے ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، نظم و ضبط اور وقت کی قدر کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، خود اعتمادی کو مضبوط رکھیں اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ پیدا کریں۔ پروفیسر ثوبان سعید نے اس بات پر زور دیا کہ عملی زندگی میں کامیابی اُسی کو ملتی ہے جو تعاون، ہم آہنگی اور اتفاق کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ آخر میں انھوں نے طلبہ کے روشن، کامیاب اور باوقار مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر پروفیسر فخر عالم نے استقبالیہ تقریب کے کامیاب انعقاد پر بزمِ ادب کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شعبۂ اردو کی یہ روایت نہایت قابلِ قدر ہے کہ وہ ہر سال نو وارد طلبہ کے لیے اس نوعیت کے پروگرام منعقد کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بزمِ ادب محض ایک ادبی انجمن نہیںبلکہ یہ طلبہ کی فکری تربیت، تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری اور ادبی ذوق کی نشوونما کا اہم پلیٹ فارم ہے۔
پروفیسر فخر عالم نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ایسی تقریبات طلبہ میں اعتماد، بیان کی مہارت، تخلیقی شعور اور علمی وابستگی کے جذبات کو مضبوط کرتی ہیں۔انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ شعبۂ اردو کے اساتذہ بزمِ ادب کی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کو کلاس روم سے باہر ایک وسیع علمی فضا فراہم کرتے ہیںجہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو آزما سکتے ہیں اور اپنی شخصیت کو بہتر طور پر نکھار سکتے ہیں۔ اس تقریب میں طلبہ نے غزلیں ،نظمیں ،مزاحیہ تقاریر،ادبی لطائف اور دیگر تخلیقی مظاہرے پیش کئے۔اس کے ساتھ ہی بزم ادب کے زیر اہتمام مقابلہ جاتی نشست منعقد ہوئی جس میں طلبہ نے بھرپور حصہ لیا۔اس تقریب کی نظامت ریسرچ اسکالر حسن اکبر اور شکریے کے کلمات ریسرچ اسکالر عبداللہ نے ادا کئے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%88%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a2%db%81%d9%86%da%af%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92%d8%b9%d9%85%d9%84%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/feed/ 0
خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں ” جی 20 اعلامیہ اور ہندوستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا فروغ : مسائل و امکانات ” میں 2رزہ سیمینارکا آغاز https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%85%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%da%86%d8%b4%d8%aa%db%8c-%d9%84%db%8c%d9%86%da%af%d9%88%db%8c%d8%ac-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3-5/ https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%85%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%da%86%d8%b4%d8%aa%db%8c-%d9%84%db%8c%d9%86%da%af%d9%88%db%8c%d8%ac-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3-5/#respond Fri, 07 Nov 2025 12:50:57 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5302 (پی این این)
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں” جی 20 اعلامیہ اور ہندوستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا فروغ : مسائل و امکانات ” دو روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔آج سیمینار کے پہلے دن افتتاحی اجلاس کے ساتھ دو تکنیکی اجلاس منعقد کیا گیا ۔اس سیمینار کے آغاز میں ڈاکٹر نلنی مشرا نے مہمانوں کا شکریے ادا کرتے ہوئے سیمینار کے موضوع اور اس کی اہمیت و معنی خیزیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نہایت اہم اور بر وقت موضوع ہے۔ آج جب دنیا ایک نئے عالمی نظم کی تشکیل کے مرحلے سے گزر رہی ہے تو ہندوستانی نوجوان اس تبدیلی کے محور بن کر ابھر رہے ہیں۔ جی-20 کے اعلامیے نے ترقی، پائیداری، شمولیت اور اختراع کو جس طرح مرکزِ توجہ بنایا ہے وہ براہِ راست نوجوان نسل کی توانائی، فکر اور قیادت سے جڑا ہوا ہے۔ہندوستان اپنی آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی نوجوان قوم ہے اور یہی نوجوان اس ملک کی حقیقی طاقت اور امکانات کے امین ہیں۔ مگر ان کی صلاحیتوں کے فروغ میں کئی چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ایسے وقت میں یہ ضروری ہے کہ ہم نہ صرف نوجوانوں کے سامنے موجود مسائل کو سمجھیں بلکہ ان امکانات کی بھی نشاندہی کریں جو ان کی توانائی کو صحیح سمت دے سکیں۔
اس افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے لینگویج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے کہا کہ ہندوستان نے جی 20 اعلامیےاعلامیے کوایک زمین، ایک خاندان اور ایک مستقبل کے پیغام کے ساتھ نئی روح عطا کی اور یہ پیغام محض ایک سیاسی نعرہ نہیںبلکہ ایک تہذیبی تصور ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی ترقی کی اصل بنیاد نوجوان نسل کی صلاحیتوں پر استوار ہے۔لکھنؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور مہمان خصوصی پروفیسر منوکا کھنہ نے اس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے نوجوان آج اس عہد کے سب سے بڑے سرمایےہیں اور ایک ایسی قوت جو تخلیق بھی کر سکتی ہے، قیادت بھی کر سکتی ہےاور دنیا کو نئی سمت بھی دے سکتی ہے۔ہمارے نوجوان آج سائنس، ٹیکنالوجی، فنون، ادب اور معیشت کے ہر میدان میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔یہی وہ نسل ہے جو اپنے عزم و ارادے سے ہندوستان کو عالمی برادری میں قیادت کی صفِ اوّل میں کھڑا کر سکتی ہے۔انھوں نےمزید کہا کہ جی 20 کی روح اجتماعیت، اشتراک اور شمولیت پر مبنی ہےاور ہندوستان نے اس فورم کو صرف ایک سیاسی یا معاشی اتحاد کے طور پر نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی تحریک کی شکل میں پیش کیا ہے۔
ایک اہم مقرر اور مہمان ذی وقار پروفیسر لو کش مشرانے جی 20 کی تاریخی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی 20 صرف ایک اقتصادی یا سفارتی فورم نہیںبلکہ عالمی ہم آہنگی، اجتماعی ترقی اور انسانی فلاح کا ایسا پلیٹ فارم ہے جس نے دنیا کو ایک نئی فکری سمت عطا کی ہے۔انھوں نے کہا کہ جی 20 کے قیام سے لے کر آج تک اس نے دنیا کی معیشت کو استحکام بخشنے، غربت کے خاتمے، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔اس افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر نیرج شکلا نے کی ۔
اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے جی 20 اعلامیے نے نوجوانوں کو عالمی ترقی کے مرکزی ستون کے طور پر تسلیم کیا ہے۔یہ اعلامیہ صرف اقتصادی یا سیاسی مفادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا فکری منشور ہے جو مساوات، اشتراک، اجتماعیت اور پائیدار ترقی کے اصولوں پر استوار ہے۔پروفیسر سنتوش گوڈ( جواہر لال نہرو میموریل پی جی کالج بارہ بنکی ) اور پروفیسر دیپالی سنگھ( مہیلا مہا ودیالیہ پی جی کالج کانپور)نےاس اہم موضوع کے دوسرے حصے مسائل اور امکانات پر تفصیل سے گفتگو کی۔اس دوسرے تکنیکی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر محمد اکمل کی ۔اس سیمینار کے دونوں تکنیکی اجلاس میں اس اہم موضوع کے تعلق سے مقالہ نگاروں نے اپنے مقالے پیش کئے جن پر سوالات بھی قائم کئے گئے اور مقالہ نگاروں نے ان کے تشفی بخش جوابات بھی دیئے۔اس سیمینار مختلف شعبوں کے اساتذہ کے علاوہ طلبہ نے بھی کثرت کے ساتھ شرکت کی۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%85%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%da%86%d8%b4%d8%aa%db%8c-%d9%84%db%8c%d9%86%da%af%d9%88%db%8c%d8%ac-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3-5/feed/ 0
خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کی جینتی پر’رن فار یونٹی‘ کا انعقاد https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%85%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%da%86%d8%b4%d8%aa%db%8c-%d9%84%db%8c%d9%86%da%af%d9%88%db%8c%d8%ac-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3-4/ https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%85%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%da%86%d8%b4%d8%aa%db%8c-%d9%84%db%8c%d9%86%da%af%d9%88%db%8c%d8%ac-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3-4/#respond Fri, 31 Oct 2025 12:56:50 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5248 (پی این این)
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں سردار ولبھ بھائی پٹیل جینتی نہایت جوش و خروش اور قومی جذبے کے ساتھ منائی گئی۔ اترپردیش کی گورنر اور یونیورسٹی کی چانسلر آنندی بین پٹیل کی ہدایات کے مطابق شعبۂ جغرافیہ کے زیرِ اہتمام ” سردار پٹیل اور قومی یکجہتی ” کے عنوان سے ایک خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کی قومی خدمات اور ان کی قیادت کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔پروگرام کے اختتام کے ” اتحاد دوڑ” (Run for Unity) کا انعقاد کیا گیا جس کا آغاز ابوالکلام آزاد اکیڈمک بلاک سے ہوا اور دوڑ کا اختتام یونیورسٹی کیمپس سے باہر واقع تھینکیو گیٹ پر ہوا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے ہری جھنڈی دکھا کر دوڑ کا آغاز کیا۔
اپنے خطاب میں پروفیسر اجے تنیجا نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی ہمہ جہت شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:“سردار ولبھ بھائی پٹیل نہ صرف ایک عظیم سیاست داں تھے بلکہ وہ جدید ہندوستان کے معماروں میں سے ایک تھے۔ اُن کی عملی سوچ، مضبوط ارادہ، اور غیر متزلزل عزم نے آزاد ہندوستان کی بنیادوں کو مستحکم کیا۔ اُنہوں نے جس تدبر اور جرأت مندی کے ساتھ مختلف ریاستوں کو ایک متحد ہندوستان کی شکل میں جوڑا، وہ تاریخ کا ناقابلِ فراموش کارنامہ ہے۔ اُن کی شخصیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچا قائد وہی ہے جو قوم کو جوڑتا ہے، توڑتا نہیں۔”پروفیسر تنیجا نے طلبہ و طالبات کو پیغام دیتے ہوئے مزید کہا کہ قومی یکجہتی کا جذبہ صرف تقریروں یا تقریبات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے عملی زندگی کا حصہ بنانا ہی سردار پٹیل کو سچا خراجِ عقیدت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ:“آئیے ہم سب مل کر سردار پٹیل کے خوابوں کا ہندوستان بنانے کے لیے عزم کریںاور ایسا ہندوستان جو متحد، مضبوط اور ترقی یافتہ ہو۔ یہی وکست بھارت 2047’ کا حقیقی مقصد ہے، اور اسی میں سردار پٹیل کے نظریات کی روح پوشیدہ ہے۔
اس موقع پرمہمان خصوصی ڈاکٹر منجول ترویدی نے” سردار ولبھ بھائی پٹیل کے ایک متحد و اکھنڈ بھارت کے تصور” کے موضوع پر اپنا کلیدی خطبہ پیش کیا۔ انھوںنے اپنے کلیدی خطبے کا آغاز سردار ولبھ بھائی پٹیل کی مختصر سیرت اور ان کے دورِ قیادت کے تاریخی پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ سردار پٹیل نے جس عملی بصیرت، نظمِ عمل اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ آزاد ہندوستان کے خطرے میں پڑے ہوئے سیاسی اور جغرافیائی تانے بانے کو جوڑاوہ کسی محض نظریاتی قائدے سے بڑھ کر ایک عہدِ عمل کی مثال ہے۔انھوں نے بتایا کہ پٹیل نے جہاں ضرورت پڑی سخت موقف اختیار کیا وہیں مذاکرات اور سمجھوتے کے ذریعے بھی بہت سی ریاستوں کو مرکز کے ساتھ جوڑا۔ اس توازن کو انھوں نے نرمی کے ساتھ مضبوطی قرار دیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر راہل مشرا نے وکست بھارت پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی اور ان پالیسیوں کو بھی اجاگر کیا جن کے ذریعے نئے بھارت کی تعمیر ممکن ہوسکے گی۔پروفیسر حیدر علی نے بھی اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی ۔اس پروگرام کی نظامت ڈاکٹر پریا دیوی اور شکریے کے کلمات ڈاکٹر نلنی مشرا نے ادا کیا۔اس پروگرام کے آخر میں ہندوستان کو متحد رکھنے کا حلف بھی لیا گیا۔اس موقع پر تمام اساتذہ اور طلبہ کثیر تعداد میں موجود تھے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%85%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%da%86%d8%b4%d8%aa%db%8c-%d9%84%db%8c%d9%86%da%af%d9%88%db%8c%d8%ac-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3-4/feed/ 0
غذا ایک قیمتی وسیلہ ، اس کے ضیاع کاروکنا ہر شہری کی ذمہ داری: ڈاکٹر نلنی مشرا https://sachkiawaz.com/%d8%ba%d8%b0%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%db%8c-%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%84%db%81-%d8%8c-%d8%a7%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%b6%db%8c%d8%a7%d8%b9-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%a9%d9%86%d8%a7/ https://sachkiawaz.com/%d8%ba%d8%b0%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%db%8c-%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%84%db%81-%d8%8c-%d8%a7%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%b6%db%8c%d8%a7%d8%b9-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%a9%d9%86%d8%a7/#respond Sat, 18 Oct 2025 12:41:20 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5184 خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں خوراک کے ضیاع کے انتظام پر بیداری مہم پروگرام کا انعقاد
(پی این این)
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں ہاسٹل کےطلبہ کے درمیان پرتھوی انوویشنز کے تعاون سے ماحولیاتی شعور اور پائیدار طرزِ زندگی کو فروغ دینے کے مقصد سے ’’خوراک کے ضیاع کے انتظام (Food Waste Management)‘‘ کے موضوع پر ایک بیداری مہم اور شجرکاری پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔جس کا مقصد نوجوانوں کو غذاکے ذمہ دارانہ استعمال اور ماحولیاتی تحفظ کی سمت بیدار کرنا تھا۔اس موقع پر طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نلنی مشرا نے کہا کہ غذا ایک قیمتی قدرتی وسیلہ ہےجو صرف ہماری ذاتی ضرورت نہیں بلکہ انسانی بقا اور ماحولیاتی توازن کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ غذا کا ضیاع صرف سماجی یا معاشی نقصان نہیں بلکہ ماحولیات کے لیے ایک سنگین خطرہ ہےلہذا اس کے ضیاع کا روکنا طلبہ کے ساتھ ہر شہری کی بھی ذمہ داری ہے ۔
ڈاکٹر نلنی مشرا نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ روزمرہ کی زندگی میں غذاکے مؤثر استعمال کو عادت بنائیں، کھانے کے وقت ضرورت سے زیادہ مقدار نہ لیں اور ضائع ہونے والی خوراک کو نامیاتی کھاد یا کمپوسٹ کے طور پر استعمال کریں۔انھوںنے کہا کہ لینگویج یونیورسٹی کا مقصد طلبہ کو صرف علمی میدان میں آگے بڑھانا نہیں بلکہ انہیں ماحولیاتی طور پر حساس اور ذمہ دار شہری بنانا بھی ہے۔اس موقع پرمہمان مقرر انورادھا گپتا نے خوراک کے سائنسی، سماجی اور عملی نظم و نسق کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انھوںنے بتایا کہ اگر غذا کی باقیات کو منظم طریقے سے استعمال کیا جائے تو اسے نامیاتی کھاد یا توانائی کے متبادل ذرائع کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پرلینگویج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے غذاکے ضیاع کے انتظام (Food Waste Management) پر منعقدہ بیداری مہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غذا صرف جسمانی ضرورت نہیں بلکہ قدرت کا انمول تحفہ اور ایک قیمتی وسیلہ ہے۔ اس کا احترام اور درست استعمال ایک تہذیبی رویہ ہے۔ کھانےکا ضیاع نہ صرف اخلاقی کمی کی علامت ہے بلکہ یہ ماحولیاتی اور معاشی توازن کو بھی متاثر کرتا ہے۔انھوںنے اس بات پر زور دیا کہ آج کے دور میںجب دنیا کے مختلف حصوں میں لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہیں، وہیں کچھ ممالک میں روزانہ لاکھوں ٹن غذائیں ضائع کر دی جاتی ہے۔یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسانیت کو اپنے رویّوں پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر اجے تنیجا نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی اصل پہچان صرف علمی ترقی سے نہیں بلکہ اس کے طلبہ کے شعور، حساسیت اور ذمہ داری کے احساس سے ہوتی ہے۔ ہم اپنے طلبہ کو صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ ان کے اندر سماجی ذمہ داری، ماحولیاتی شعور اور اخلاقی خود احتسابی کو بھی فروغ دینا چاہتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے اجتماعی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہر طالب علم اپنی روزمرہ زندگی میں خوراک کے استعمال کے وقت “ضرورت کے مطابق” اصول پر عمل کرے تو اس عادت سے ایک بڑا سماجی انقلاب لایا جا سکتا ہے۔اسی جذبے کے تحت بیداری مہم کے بعدانمول واٹیکا کے نام سے شجر کاری کی گئی جس کے تحت ایک سو ایک پھل دار پودے لگائے گئے۔اس موقع پر ڈاکٹر اودھم سنگھ،ڈاکٹر منیش کماراور ڈاکٹر کوشلیندر شاہ کے علاوہ ہاسٹل کے دیگر طلبہ بھی موجود تھے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ba%d8%b0%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%db%8c-%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%84%db%81-%d8%8c-%d8%a7%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%b6%db%8c%d8%a7%d8%b9-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%a9%d9%86%d8%a7/feed/ 0
آنگن باڑی بچے کی بنیادی نشوونما کا پہلا زینہ: مونیکا تنیجا https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d9%86%da%af%d9%86-%d8%a8%d8%a7%da%91%db%8c-%d8%a8%da%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%86%d8%b4%d9%88%d9%88%d9%86%d9%85%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7/ https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d9%86%da%af%d9%86-%d8%a8%d8%a7%da%91%db%8c-%d8%a8%da%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%86%d8%b4%d9%88%d9%88%d9%86%d9%85%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7/#respond Mon, 08 Sep 2025 11:03:06 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4887 دکشو تسو کے موقع پر گود لیے گئے گاؤں کے آنگن باڑی مراکز کا کیاگیامعائنہ
(پی این این)
لکھنؤ:آج خواجہ معین الدین لینگویج یونیورسٹی کے ذریعے گود لئے گاؤں میں آنگن باڑی مراکز کااترپردیش کی گورنر اور یونیورسٹی کی چانسلر کے ہدایات کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی رہنمائی میں معائنہ کیا گیا اس معائنہ ٹیم کی قیادٹ این ایس ایس کوارڈینیٹر اور کلچرل کمیٹی کی چیرپرسن ڈاکٹر نلنی مشرا نے کی ۔اس ٹیم میں مونیکا تنیجااور ڈاکٹر راج کمار شامل تھے۔ اس جائزے کا بنیادی مقصد بچوں کی نگہداشت، تعلیم اور آنگن باڑی کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کا اندازہ لگانا تھاتاکہ جائزے کے بعد کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر گود لئے گئے گاؤں کے آنگن باڑی مراکز کی بہتری کے لئے ایک لائحۂ عمل تیار کیا جاسکے۔آنگن باڑی مراکز کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے جن معیارات کو بنیاد بنایا گیا ان میں بالخصوص مراکز کی صفائی ستھرائی، بچوں کی باقاعدہ حاضری، صحت اور تغذیہ کی صورتحال، ذاتی و اجتماعی صفائی کے انتظامات اور بچوں کے لیے ماحول کی دوستانہ فضا کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا۔اس موقع پر کمیٹی کے اراکین نے مراکز میں موجود بچوں سے گفتگو بھی کی اور ان کی تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا۔
اس موقع پرمونیکا تنیجا نے کہا کہ آنگن باڑی بچے کی بنیادی نشوونما کا پہلا زینہ ہےاس لیے ان اداروں کی مضبوطی دراصل سماج کے مستقبل کی مضبوطی ہے۔ اگر یہ مراکز بہتر ہوں تو بچوں کی تعلیمی، ذہنی اور جسمانی ترقی بھی یقینی ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ آنگن باڑی کارکنان کو جدید تربیت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ نئے تدریسی طریقوں اور صحت سے متعلق آگاہی کے پروگراموں کو بہتر طور پر نافذ کر سکیں۔ ساتھ ہی، والدین کو بھی وقتاً فوقتاً آگاہی ورکشاپس میں شامل کیا جائے تاکہ وہ بچوں کی صحت اور تعلیم میں فعال کردار ادا کریں۔اس موقع پر ڈاکٹر راج کمار سنگھ نے آنگن باڑی مراکز کو مقامی تاریخ اور ثقافت سے جوڑنے کی تجویز پیش کی۔آخر میںڈاکٹر نلنی مشرا نے صفائی اور صحت کے حوالے سے بیداری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صفائی اور صحت کے معیار پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر آنگن باڑی مراکز میں متوازن غذا اور صحت کی جانچ باقاعدگی سے ہو تو یہ بچے مستقبل میں بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ آنگن باڑی میں روزانہ ہاتھ دھونے، صاف پانی پینے اور صفائی کے بنیادی اصولوں کو عملی طور پر سکھایا جانا چاہیے تاکہ بچے کم عمری ہی سے صحت مند عادات اپنا سکیں۔”انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر آنگن باڑی مرکز میں ایک صحت ریکارڈ رجسٹر ہونا چاہیے جس میں ہر بچے کی نشوونما، وزن اور قد کا باقاعدہ اندراج کیا جائے۔ اس سے نہ صرف بچوں کی جسمانی حالت پر نظر رکھی جا سکے گی بلکہ غذائی قلت جیسے مسائل کی بروقت نشاندہی بھی ہو سکے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہیونیورسٹی اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ آنگن باڑی مراکز میں تعلیم، صحت اور صفائی کے شعبوں میں نئی پہل کی جائے۔ اس کے تحت اساتذہ، طلبہ اور مقامی کمیونٹی کو ساتھ لے کر ایک مربوط ماڈل تیار کیا جائے گا تاکہ یہ مراکز مستقبل میں رول ماڈل کے طور پر سامنے آئیں۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d9%86%da%af%d9%86-%d8%a8%d8%a7%da%91%db%8c-%d8%a8%da%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%86%d8%b4%d9%88%d9%88%d9%86%d9%85%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7/feed/ 0