add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
JamiatUlemaeHind – sachkiawaz.com
https://sachkiawaz.com
Fri, 17 Apr 2026 13:04:57 +0000en-US
hourly
1 https://wordpress.org/?v=6.9.9مدرسوں کو بند کرنے یا نظام میں مداخلت کی کوشش ناقابل قبول:جمعیۃ علماء ہند
https://sachkiawaz.com/%d9%85%d8%af%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%a8%d9%86%d8%af-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%db%8c%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%8c/
https://sachkiawaz.com/%d9%85%d8%af%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%a8%d9%86%d8%af-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%db%8c%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%8c/#respondFri, 17 Apr 2026 13:04:57 +0000https://sachkiawaz.com/?p=6348(پی این این)
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا دوروزہ اجلاس، مولانا محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کے زیر صدارت نئی دہلی میں منعقدہواجس میں ملک و ملت کے اہم مسائل پر تفصیل سے تبادلہ ٔ خیال ہوا۔ مجلس عاملہ نے جمعیۃ علماء ہند کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیےمجلس قائمہ کی سفارشات کے مطابق نئےشعبوں:شعبۂ تربیت، ماڈل ولیج (جن وکاس سیوا) ، شعبۂ تجارت و صنعت کاری ،شعبۂ مثالی مسجد،شعبۂ رفیق وغیرہ کے قیام کی منظوری دی ۔
اجلاس میں مدارس کے تحفظ، یکساں سول کوڈ، اصلاحِ معاشرہ اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال سے متعلق واضح اور دوٹوک موقف بھی اختیار کیا گیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں مدارسِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مجلس عاملہ نے اپنی تجویز میں واضح کیا کہ مدارس کی آزادی میں مداخلت دستورِ ہند کی دفعات 25، 26، 29 اور 30 کی خلاف ورزی ہے۔ اجلاس نے مدرسوں کو بند کرنے یا ان کے نظام میں مداخلت کی ہرکوشش کی مذمت کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اس سلسلے میںہر سطح پر قانونی چارہ جوئی اور آئینی جدوجہد کی جائے گی۔ نیز ارباب مدارس سے گزارش کی گئی کہ وہ اپنی دستاویزات اور حساب و کتاب کی مضبوط تیاری کریں تاکہ کسی بھی قانونی چیلنج کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔مجلس عاملہ نے اتراکھنڈ میں مدرسہ چلانے کے لیے عائدہ کردہ بعض شرائط کو مسترد کرتے ہوئے ان کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔ مجلسِ عاملہ نے واضح کیا کہ مدارس کو کسی تعلیمی بورڈ سے لازمی الحاق پر مجبور کرنااور اساتذہ کی تقرری کے حوالے سے غیر ضروری پابندیاں عائد کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
مجلسِ عاملہ نے اتراکھنڈ ، گجرات وغیرہ کے یکساں سول کوڈ کو مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیتے ہوئےپرامن اور جمہوری جدوجہد کا اعلان کیا۔ اس ضمن میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملی تنظیموں اور اقلیتی اداروں کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے، قومی سطح پر کنونشن منعقد کرنے، عدالتوں سے رجوع کرنے اور صدرِ جمہوریہ و دیگر ذمہ داران کو میمورنڈ م دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ساتھ ہی مسلمانوں سے بھی یہ اپیل کی گئی وہ شریعتِ اسلامیہ پر مضبوطی سے قائم رہیں خصوصاً خواتین کے حقوق کے معاملے میں اسلامی تعلیمات کے مطابق مکمل انصاف کو یقینی بنائیں۔وراثت کی تقسیم میں عورتوں کے ساتھ ناانصافی کا خاتمہ کریں اور طلاق ، نان و نفقہ جیسے معاملات میں شرعی اُصولوں پر عمل پیرا ہوں ۔
اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے مجلسِ عاملہ نے اپنی تجویز میں نئی نسل میں بڑھتی ہوئی دینی و اخلاقی کمزوریوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے متعدد عملی اقدامات کی تجویز پیش کی۔ ان میں لازمی مکاتب کے قیام، زیادہ سے زیادہ معیاری اسکولوں کا قیام، لڑکیوں کے لیے علیحدہ تعلیمی اداروں اور دینی ماحول سے آراستہ ہاسٹلز کی فراہمی، مسلمانوں کے زیرِ انتظام اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے نصاب میں اسلامیات، سیرتِ نبوی ﷺ، اسلامی تاریخ، عقائد، اخلاقیات اور معاشرتی تعلیم کی شمولیت، کوچنگ سینٹروں کا قیام، نیز سیرت کوئز اور مختلف تعلیمی و تربیتی پروگراموں کا انعقاد شامل ہے۔مزید برآں والدین کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے قابل بنانے کے لیے شادی سے قبل اور بعد میں کونسلنگ اور تربیتی ورکشاپ کے انعقاد پر زور دیا گیا۔ ہمدردانِ ملت سے پُرزور اپیل کی گئی کہ جو بچیاں تعلیم کی غرض سے دوسرے شہروں کا رخ کرتی ہیں، ان کے ایمان و عقائد کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اور مؤثر تدبیر اختیار کی جائے۔
]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%85%d8%af%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%a8%d9%86%d8%af-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%db%8c%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%8c/feed/0گجرات یکساں سول کوڈ کے خلاف جمعیۃ عدالت سےکرے گی رجوع : مولانا محمود اسعد مدنی
https://sachkiawaz.com/%da%af%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%db%8c%da%a9%d8%b3%d8%a7%da%ba-%d8%b3%d9%88%d9%84-%da%a9%d9%88%da%88-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%8c%db%83-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa/
https://sachkiawaz.com/%da%af%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%db%8c%da%a9%d8%b3%d8%a7%da%ba-%d8%b3%d9%88%d9%84-%da%a9%d9%88%da%88-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%8c%db%83-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa/#respondFri, 27 Mar 2026 14:52:00 +0000https://sachkiawaz.com/?p=6128(پی این این)
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے گجرات اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ یکساں سول کوڈ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے اُن عائلی و شخصی قوانین بالخصوص حق وراثت کی واضح شکلوں کو عملاً ختم کرنے کی کوشش ہے جو آئینِ ہند کے تحت تسلیم شدہ ہیں اور قرآن و سنت سے ماخوذ ہونے کی بنا پر محض سماجی ضابطے نہیں بلکہ لازمی دینی احکام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کسی بھی حکومت کو مذہبی عقائد اور شرعی احکام میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں۔ مزید برآں یکساں سول کوڈ کے نام پر مذہبی شخصی قوانین کا خاتمہ legislative overreach ہے جو ملک کی بڑی عدالت میں سخت آئینی جانچ پر پورا نہیں اترتا۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدرمحترم نے یہ بیان جمعیۃ کے وکلاء پینل کے ذریعہ اس قانون کے مطالعے کے بعد دیا ہے۔
جمعیۃ کے وکلاء پینل کی جانب سے بل کے جامع مطالعے کے بعد یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ اس قانون میں خاص طور پر تین ایسے بنیادی پہلو شامل ہیں جو صریح طور پر اسلامی احکام کی واضح ہدایات سے متصادم ہیں۔ ان میں سرفہرست اسلامی نظامِ وراثت ہے، جس کے حصے قرآنِ کریم میں نہایت صراحت کے ساتھ متعین اور ناقابلِ ترمیم قرار دیے گئے ہیں۔ہر ایک وارث کا حصہ علیحدہ طور پر بیان کیا گیا ہے اور اسے حدود اللہ قرار دے کر تجاوز کرنے والوں کو ظالم کہا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ محض مسلم پرسنل لا کا حصہ نہیں بلکہ صریح احکامِ الٰہی ہیں، جن پر عمل ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لہٰذا اس قانون کے ذریعے ان احکام کو ختم یا غیر مؤثر بنانے کی کوشش نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ عدل کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی اور مسلمانوں کے ساتھ آئین سازوں کے کیے گئے عہد کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
اسی طرح تعددِ ازدواج پر کلی پابندی عائد کر کے ایک مسلمہ شرعی اجازت کو غیر قانونی قرار دینا بھی مذہبی آزادی میں مداخلت ہے۔ مزید برآں، عدالت سے ماورا طلاق کی تمام صورتوں پر مکمل پابندی عائد کرنا اور اس پر تین سال تک کی سزا مقرر کرنا، نیز ساٹھ دن کے اندر نکاح کی رجسٹریشن نہ کرنے پر ساٹھ ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے سے متعلق دفعات نہ تو آئینی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں اور نہ ہی اخلاقی و قانونی معیارات پر پورا اترتی ہیں۔ یہ اقدامات غیر متناسب ہیں بلکہ شہری (سول) معاملات کو بلا جواز فوجداری دائرے میں لے آنے کی ایک سنگین مثال بھی ہیں۔
مولانا مدنی نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے اس بیان کو بھی مضحکہ خیز قرار دیا کہ’’ ایک ملک ہے تو ایک قانون ہونا چاہیے‘‘، اور کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر شیڈولڈ ٹرائبس کو اس قانون سے مستثنیٰ کیوں رکھا گیا؟ کیا وہ ملک کا حصہ نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا عملی امتیاز آئین کے آرٹیکل 14 (حقِ مساوات) کی سنگین خلاف ورزی ہے۔مولانا مدنی نے اعلان کیا کہ جمعیۃ علماء ہند اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرے گی اور اس مقصد کے لیے تمام آئینی و قانونی ذرائع اختیار کیے جائیں گے تاکہ مسلمانوں کے مذہبی و آئینی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور شریعتِ اسلامی کے لازمی احکام کو کسی بھی صورت میں متاثر نہ ہونے دیا جائے۔
]]>https://sachkiawaz.com/%da%af%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%db%8c%da%a9%d8%b3%d8%a7%da%ba-%d8%b3%d9%88%d9%84-%da%a9%d9%88%da%88-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%8c%db%83-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa/feed/0وندے ماترم کسی پر لازم نہیں، سپریم کورٹ کی وضاحت
https://sachkiawaz.com/%d9%88%d9%86%d8%af%db%92-%d9%85%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d9%85-%da%a9%d8%b3%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba%d8%8c-%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9/
https://sachkiawaz.com/%d9%88%d9%86%d8%af%db%92-%d9%85%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d9%85-%da%a9%d8%b3%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba%d8%8c-%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9/#respondWed, 25 Mar 2026 14:01:32 +0000https://sachkiawaz.com/?p=6114(پی این این)
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے وندے ماترم سے متعلق سپریم کورٹ آف انڈیا کے ذریعہ آج ظاہر کردہ موقف پر ردِّعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا یہ واضح اور اصولی موقف ہے کہ وندے ماترم ہمارے بنیادی عقیدۂ توحید کے خلاف ہے، اس لیے کسی بھی حکم یا ہدایت کے ذریعے اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ کسی شہری کو اس کے مذہب، عقیدہ اور ضمیر کے خلاف کسی عمل پر مجبور کرنا نہ صرف آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے پر براہِ راست حملہ ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ بھارت کا آئین ہر شہری کو ضمیر اور مذہب کی آزادی کا مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، جسے کسی بھی انتظامی ہدایت، سرکاری دباؤ یا سماجی جبر کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آج ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے یہ حقیقت دوٹوک انداز میں بیان کی ہے کہ 28؍جنوری 2026 کو وندے ماترم سے متعلق سرکاری گائیڈلائن محض ایک ’’مشورہ‘‘ ہے اور اس کی کوئی لازمی حیثیت نہیں ہے، نیز اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کوئی تعزیری کارروائی بھی مقرر نہیں۔
مولانا مدنی نے خبردار کیا کہ اگر ملک کے کسی بھی حصے میں کسی فرد، طالب علم یا ادارے کو اس معاملے میں مجبور کیا گیا، یا اس کے مذہبی و آئینی حقوق کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی، تو جیسا کہ سپریم کورٹ نے آج خود واضح کیا ہے، جمعیۃ علماء ہند عدالت سے رجوع کرے گی اور ہر ممکن قانونی جنگ لڑے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ وقت ملک میں آئین کی بالادستی کو مضبوط کرنے کا ہے، نہ کہ ایسے اقدامات کو فروغ دینے کا جو شہریوں کے درمیان خوف، دباؤ اور تفریق کو جنم دیں۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس معاملے میں واضح ہدایات جاری کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ کسی بھی سطح پر کسی شہری کے ساتھ جبر، امتیاز یا زیادتی نہ ہو۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d9%88%d9%86%d8%af%db%92-%d9%85%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d9%85-%da%a9%d8%b3%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba%d8%8c-%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9/feed/0