add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); Jamiat Ulema-e-Hind – sachkiawaz.com https://sachkiawaz.com Tue, 12 May 2026 10:45:44 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.9 جمیعت علماء ارریہ کے زیر اہتمام ارریہ میں ضلع کے اربابِ مکاتب و مدارس کے لئے منفرد اور تاریخی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد۔ https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d9%85%db%8c%d8%b9%d8%aa-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a7%db%81%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c%db%81-%d9%85/ https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d9%85%db%8c%d8%b9%d8%aa-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a7%db%81%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c%db%81-%d9%85/#respond Tue, 12 May 2026 10:44:27 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=6551
ارریہ:گزشتہ روز بعد نماز ظہرتا نماز عصر،دینی تعلیمی و تربیتی اور معروف ومشہور ادارہ مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ کے وسیع و عریض کیمپس میں جمعیت علماء کے زیر اہتمام، ڈاکٹر عابد حسین صدر جمعیت علماء ارریہ کی صدارت، مولانا  مفتی جاوید اقبال صدر جمعیت علماء بہار کی سرپرستی، مولانا مفتی اطہر القاسمی، نائب صدر جمیعت علماء بہار و جنرل سیکرٹری جمعیت علماءارریہ کی حسن نظامت، مولانا شاہد عادل قاسمی نائب صدر جمعیت علماء ارریہ و پرنسپل مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ کی نگرانی میں مدارس اسلامیہ ضلع ارریہ کے تمام نظماء، مہتممین، منتظمین، اساتذۂ کرام،ائمہ مساجد، حفاظ و معلمین مکاتب اور درد دل رکھنے والے دانشوران قوم و ملت کی تربیت اور گائیڈ کے کے لئے بڑے تزک و احتشام کے ساتھ ایک پروقار منفرد اور تاریخی خصوصی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔ اس پروقار اور منفرد ورک شاپ کا بابرکت آغاز قاری مطیع الرحمن صاحب کی تلاوت سے ہوا جبکہ قاری قمر الزماں قمر نعمانی اور مولانا فیاض راہی نے نعتوں کا گلدستہ پیش کیا اور اس پروقار اور خصوصی ورکشاپ میں مہمان خصوصی عالم ربانی، فاضل جلیل اور فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مہمان خصوصی کی حیثیت سےجبکہ مہمان اعزازی کی حیثیت سے، مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدرآباد و مفتی عمیر انور مظاہری امام و خطیب قطب شاہی و ڈائریکٹر سدرہ ایجوکیشن اکیڈمی حیدراباد سمیت ملت اسلامیہ کی عظیم شخصیات اور دیگر معززین نے شرکت فرماکر اس منفرد ورکشاپ کے حسن کو دو بالا کر دیا اور اس خصوصی ورکشاپ میں مہمان خصوصی حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مہمان اعزازی مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدرآباد، مہمان اعزازی مولانا مفتی جاوید اقبال صدر جمیعت علماء بہار نے ضلع ارریہ کے تمام  مہتممین، اساتذہ کرام، ائمہ مساجد، حفاظ و معلمین مکاتب اور دانشوران قوم و ملت کو ملک کی موجودہ حالات کے پیش نظر مدارس اسلامیہ کا نظام کیسے چلائیں؟ مدارس اسلامیہ کی استقامت اور اس کی بقا کے لئے کیا کیا لائے عمل درکار ہیں؟ اور زمینی سطح پر کن کن دستاویزات سمیت دیگر کیا کیا ضروری چیزیں حقیقیق طور پر از حد لازمی ہیں؟، اس کے متعلق پوری تفصیل کے ساتھ جانکاریاں دیں۔  ضلع بھر کے علمائے کرام اور ائمۂ مساجد سے خطاب کرتے ہوئے  مہمان خصوصی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ ہمیں اپنی زندگیاں اسلامی اصولوں کے مطابق گزارنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء دین اسلام کے پاور ہاؤس ہیں، علماء کے ذریعہ اللہ اور رسول کے کلام دین اسلام کے پیروکاروں تک پہنچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں دینی مدارس اسلام کے تحفظ کے قلعے ہیں، اس لئے اس کی حفاظت ضروری ہے۔ مولانا نے کہا کہ آپسی اختلافات کے وقت غیر ضروری قانونی چارہ جوئی سے گریز کریں اور مل بیٹھ کر مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ علماء حضرات کو تعلیمی بیداری اور قومی یکجہتی میں اہم کردار ادا کرنا چاہیئے۔  آپ نے یہ بھی کہا کہ عام لوگ تو اپنے لئے جیتے ہیں مگر ہم علماء کو لوگوں کے لئے جینا ہے، ان کے لئے پریشانیاں اٹھانی ہیں۔ آپ نے کہا امام ضامن ہے، یعنی امام کی نماز صحیح ہوگی تو مقتدیوں کی نماز بھی صحیح ہوگی اور مساجد کے ائمۂ حضرات اپنے آپ کو صرف نماز کا امام نہ گردانیں بلکہ اپنے آپ کو  لوگوں کے ایمان کا بھی امام سمجھیں!، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کی نماز کی فکر تھی، ان کے ایمان کی فکر تھی، ان کے معاملات کی فکر تھی، ویسے ہی فکر ہمیں بھی اوڑھنی چاہیے اور اس کو عملی جامہ پہناناچاہیے پھر آپ نے ایک صحابی کی نماز صحیح نہیں ہونے کے واقعہ کو تفصیل سے بتایا اور اس ضمن میں آپ نے کہا کہ مقتدی کی نماز میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور ان کی نمازیں درست ہوں، یہ امام کی ذمہ داری ہے، آپ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا ہم مسجدوں میں اپنے مقتدی کے لئے اور مدرسوں میں ہم اساتذہ طلباء کے لئے توقف کرتے ہیں؟ آپ نے کہا عالم کا کردار یہ ہے کہ بغیر اشتہار اور بغیر دعوت نامہ کی فریقین کے معاملے کو دیکھیں اور اس کا تصفیہ شریعت کی روشنی میں کریں! یہ انتظار نہ کریں کہ ہم کو مدعو کریں گے۔ بلکہ خود سے پہنچ کر فریقین کے درمیان مصالحت کروائیں اور مصالحت کروانے میں فریقین کی عزت نفس کا پورا پورا خیال رکھیں! آپ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج تو ہم امامت کے لئے جھگڑا کرتے ہیں پھر آپ نے یہاں پر بھی ایک صحابی کا نام لیا جو امامت کر رہے تھے اور حضور کی آہٹ پاکر کر پیچھے ہٹ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے منع فرما دیا۔ دیکھئے وہاں اللہ کے رسول نے ایسا نمونہ پیش کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی آپ نے اماموں سے کہا کہ جس طرح حضورؐ نے اپنی حیات طیبہ میں صرف صحابہ کی نمازوں کی فکر نہیں کی تھی بلکہ آپ نے معاشرے کے معاملات کی بھی فکر کی تھی آپ نے ہندوستان کے ایک وکیل کا تذکرہ کرتے ہوئے اور ایک جج کی بات کو رکھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ آپ اپنا مقدمہ لائیں گے تو ہم اپنے قانون کے حساب سے فیصلہ کریں گے۔ جب عدالت میں ہمارے مقدمات پہنچے تو حکومت کو ہمارے معاملات میں مداخلت کا راستہ مل گیا۔ اس لئے امت کے اختلافات کو علماء ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین تک پہنچ کر، ان کےآپسی اختلافات کو ختم کراکر دم لیں! فی الوقت کے حالات کے پیش نظر ضرورت ہے کہ لوگ اپنے مقدمات کا فیصلہ علماء سے کرائیں!، علماء کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی معیشت کی بھی فکر کریں اپنی دولت کی حفاظت کریں ورنہ آئندہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ روپیہ بھر کے لے جائیں اور آپ کو زمین اور مکان نہ ملے۔ آپ نے کہا بازاروں میں جن سامانوں  کی رسد اور ڈیمانڈ زیادہ ہوتی ہےتو ان چیزوں کی قیمت بھی زیادہ ہو جاتی ہے اور جب ڈیمانڈ کم ہوتی ہے تو قیمت کم ہو جاتی۔  آپ نے کہا مکئی کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ اس میں کولسٹرول نہیں ہوتی ہے آپ مکئی کی فصل میں محنت کرتے ہیں مگر آپ کو  قیمت کم ملتی ہے۔ اسلام دین فطرت اور فطری قوانین پر عمل ضروری ہے علماء کا کام کسی ایک شعبہ سے جڑا ہوا نہیں ہونا چاہیے! اور علماء منکرات پر انگلیاں رکھیں۔ پھر آپ نے ملیشیا میں نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکیوں کے ورک شاپ کے انعقاد کاذکر کیا اور کہا کہ ملیشیا میں نکاح سے قبل پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے پاس ورک شاپ کی سند ہے یا نہیں اگر سند ہوتی ہے تو اس کی شادی ہوتی ہے ورنہ نہیں۔ آپ نے کہا کہ زوجین کے اختلافات کو ان کے بچوں کی موجودگی میں ان کی کفالت اور دیگر ممتا کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے درمیان کے اختلافات کو ختم کروانا علماء کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ علماء کو تو مسلمانوں کے تمام مسائل کی فکر ہونی چاہیے اگر اس کی فکر نہیں ہے تو گویا آپ علماء کو اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کی کوئی فکر نہیں ہے جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس عالم کو اپنے عوام کی فکر نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ آخر میں آپ نے مدارس کے اساتذہ سے کہا کہ طلباء کو جسمانی سزادینے سے گریز کریں! یہ شرعا بھی جائز نہیں ہے اور نہ ہی قانوناً درست ہے، خاص کر آج کے ماحول کے پیشِ نظر بچوں کو جسمانی سزا دینے کو حرام سمجھیں۔ آپ نے کہا مدرسوں کی تعمیر سے زیادہ اس کی سیفٹی کی ضرورت ہے۔ جب کہ مولانا مفتی جاوید اقبال نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ارباب مدارس اپنے مدرسوں کے لئے تین کام کو فوقیت دیں نمبر ایک اپنے اپنے مدرسوں کی زمین کو مدرسے کے نام سے تبدیل کریں! اور دو نمبر پر ٹرسٹ یا سوسائٹی بنائیں اور نمبر تین مدرسے کی آمدنی اور خرچ کی اوڈٹ کرائیں!،  تعمیراتی عمل کے اسٹیمیٹ کو نگر پریشد یا پنچایت سے پاس کرائیں! کیونکہ آپ کی خامی کی وجہ سے آپ کا ادارہ بند ہو سکتا ہے، ایسے کوئی مدرسہ بند نہیں ہوگا، مدرسوں کی آمدنی پبلک کی چیز ہے اور پبلک کی چیز کا حساب انہیں دینا ضروری ہے۔آپ نے یہ بھی کہا کہ عام طور پر مدرسوں کی مشترکہ بینک میں کھاتہ نہیں ہوتا ہے اس لئے اس جانب پہل کریں! اور جوائنٹ کھاتا کھلوائیں خاص کر سرحدی علاقے کے ارباب مدارس اپنے دستاویزات درست کر لیں اور ارباب مدارس جذبات سے نہیں حکمت سے کام کریں! ڈرنے اور خوف کھانےکی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ جمعیت علماء ضرورت پڑنے پر آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی، آپ کی اعانت کے لئے ہر وقت تیار ہے اور رہے گی اوراس ورکشاپ کے مہمان اعزازی مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدر آبادنے بھی مدارس کے کاغذات اور دستاویزات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی قانون کو ہلکے میں نہ لیں!، ورنہ بعد میں یہی آپ کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ فی الوقت ملک ہندوستان میں رائی کو پہاڑ اور پہاڑ کو رائی بنانے کا کام ہورہاہے۔ اس لئے مدارس کے ذمہ داران یہ بات نوٹ کر لیں کہ جس جس شعبے میں کمیاں اور کمزوریاں ہیں تو ان کمزوریوں کا ازالہ کریں! اور اپنی نافعیت برقرار رکھیں انشاءاللہ آپ خراب حالات کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر لیں گے اور آپ کے ادارے کا بال بھی بانکا نہیں ہوگا۔ آپ نے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا مومنین کو یقین دلانا ہے کہ انہیں دنیاوی زندگی میں خوف، بھوک، مالی نقصانات، جانوں کے زیاں (شہادت یا موت) اور پیداوار کی کمی جیسی آزمائشوں سے گزارا جائے گا تاکہ صبر کرنے والے اور سچے ایمان والے الگ ہو سکیں۔ آپنے اخیر میں کہا جو ادارے صحیح نہج پر چلتے ہیں ان کے ساتھ خدا کی نصرت ہوتی ہے۔ آپ نے کہا جب آپ کا ادارہ نافعیت اور ثمر آور درخت کی طرح ہوگا تو یقینا نصرت خداوندی آپ کے ادارے پر ہوں گی ، اس لئے مدارس کی نافعیت کے ہمیشہ ملحوظ نگاہ رکھیں! آپ علماء کرام دین کے معمار ہیں اور آپ پرجو فرائض منصبی عائد ہیں،  اس کی تکمیل ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ کریں! واضح رہے کہ ارریہ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر علمائے کرام کے لئے تعلیم اور قومی اتحاد پر ایک تاریخی تربیتی ورکشاپ کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس سے قبل مہمانوں کی شال پوشی کرکے انہیں اعزاز بخشا گیا پھر ورکشاپ کی شتہ اور ادبی انداز میں نظامت کے فرائض انجام دے رہے مولانا مفتی محمد اطہرالقاسمی نے مہمان خصوصی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی علمی، ادبی اور ملی خدمات پر مشتمل سپاس نامہ پڑھ کرسنایا اور ان کی ملی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ پھر اس ممتاز، منفرد اور تاریخی خصوصی تربیتی ورکشاپ کے نگران مولانا شاہد عادل قاسمی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمان خصوصی، مہمانانِ اعزازی اور ضلع کے تمات ارباب مدارس، ائمہ مساجد، حفاظ ومعلمین مکاتب اور مختلف اخبارات کے نمائندوں کا شاندار استقبال کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا اور آپ نے فرمایا کہ ارریہ کی سرزمین اپنے علماء، صلحا اور اکابرین کی بڑی قدر کرتی ہے اپنی قدر کی بقا کے لیے ہم علماء کو چاہیے کہ ہم اپنے وقار کو کبھی مجروح نہ ہونے دیں آپ نے یہ بھی کہا کہ آج کا پروگرام اصلاحی پروگرام ہے ہم لوگ اپنی اصلاح کے لیے اکٹھا ہوئے اور ملک میں جمہوریت کی بقا اور اس کی سالمیت کے لئے ہم ہمیشہ پیش پیش رہیں
 اس تاریخ ساز منفرد خصوصی تربیتی ورکشاپ کو کامیاب بنانے میں جمعیت علماء کے اراکین سمیت تمام رضاکاروں نے اہم کردار ادا کیا جن میں پونے سے تشریف فرما قاری ڈاکٹر محمد طالب صدیقی بانی و مہتمم المعہد الاسلامی مولوی ٹولہ ڈوریا سوناپور، مولانا اکبر صادق ندوی امام وخطیب جامع مسجد یتیم خانہ ارریہ، مولانا مبارک صدیقی، مفتی محمد خالد قاسمی، مفتی ہمایوں اقبال ندوی، مولانا مصور عالم ندوی، مولانا دانش احمد قاسمی، مولانا عمر فاروق قاسمی، مفتی محمد ثاقب قاسمی اور مولانا غلام مجتبیٰ رشادی،
مولانا محمد فاروق مظہری ،مولانا محمد فیروز نعمانی ،مولانا آس محمد مظاہری ،مولانا غیاث الدین نعمانی ،مولانا عبد الجبار ندوی ،مفتی نعیم الدین ندوی ،مفتی دلشاد احمد نعمانی ،مفتی جاوید اختر مظاہری ،قاری حسیب الرحمان رحمانی ،مولانا محمد سفیان قاسمی ،مولانا اکبر صادق ندوی ،ڈاکٹر محمد معیز عالم ،مولانا وثیق الرحمن قاسمی ،قاری امیتاز احمد کاشفی ،مولانا کاشف نسیم ،مولانا ارشد جمال سبیلی ،مفتی محمد نعمان ابراہیمی ،مولانا ہلال مفتاحی ،مولانا اکرام الدین نعمانی ،مفتی محمد ثاقب قاسمی، الحاج محمد اسعد، الحاج رضی احمد ،ماسٹر شاکر رضا ،مفتی محمد خالد قاسمی ،حافظ نعمان اسلم ،مولانا محمد آصف قاسمی ،مولانا دانش احمد قاسمی ،مولانا عامر قاسمی ودیگر جمعیت علماء کے ضلع، بلاک اور پنچایتوں کے تمام اراکین کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d9%85%db%8c%d8%b9%d8%aa-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a7%db%81%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c%db%81-%d9%85/feed/ 0
خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی گئی رمضان المبارک کے دوسرے جمعہ کی نماز https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d8%b4%d9%88%d8%b9-%d9%88-%d8%ae%d8%b6%d9%88%d8%b9-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%aa%da%be-%d8%a7%d8%af%d8%a7-%da%a9%db%8c-%da%af%d8%a6%db%8c-%d8%b1%d9%85%d8%b6%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%84%d9%85/ https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d8%b4%d9%88%d8%b9-%d9%88-%d8%ae%d8%b6%d9%88%d8%b9-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%aa%da%be-%d8%a7%d8%af%d8%a7-%da%a9%db%8c-%da%af%d8%a6%db%8c-%d8%b1%d9%85%d8%b6%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%84%d9%85/#respond Fri, 27 Feb 2026 12:32:56 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5950 (پی این این)
دیوبند:ماہِ مبارک کے دوسرے جمعہ کو روزہ داروں نے دیوبند کی متعدد مساجد میں پہنچ کر نماز جمعہ ادا کی ۔مسجد رشید کے باہر نماز جمعہ کے بعد بھیم آرمی آزاد سماج پارٹی کارکنان نے نمازیوں پر پھول بر ساکرانکا استقبال کیا اور اتحاد کی مثال پیش کی۔ دارالعلوم دیوبند کی مسجد چھتہ میں نماز جمعہ کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے قائد اور معروف عالم دین مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے خطاب کے دوران اللہ کی رحمت و مغفرت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت دنیا میں آنے والی سب سے آخری امت ہے، لیکن قیامت کے دن یہ امت سب سے آگے ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بس ایک فکر کرنی ہے کہ ہمیں رزق حلال کی تلاش کرتے رہنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ جو ہم کماتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اس کا ہمیں جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ہوگا سمجھو وہ کامیاب ہے اور جس کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں ہوگا اس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جمعہ کا دن خاص ہے اور اس میں مومن کو کوئی بھی لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔ اللہ کو یاد کرتے ہوئے اپنے دل میں آخرت کے خوف کو رکھنا چاہئے۔ انہوں نے دوسرے عشرہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہاکہ یقینا انسان بڑاگناہ گار ہے لیکن اللہ رحمت و مغفرت بہت بڑی ہے اسلئے ہمیںگناہوں سے اجتناب کرکے اللہ کی رحمت طلب کرنی چاہئے،اللہ تعالیٰ بہت بڑارحمت و مغفرت کرنے والا ہے۔مولانا مدنی نے کہاکہ رمضان کادوسراعشرہ مغفرت ہے اسلئے ہمیںاللہ کی عبادت و ریاضت کے ذریعہ اللہ کو راضی کرنا چاہئے اور اپنی مغفرت کرانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک اورجمعہ دونوں بڑے قیمتی ہیں اسلئے اس پورے ماہ میں اور خاص طور پر جمعہ کے روز زیادہ سے زیادہ عبادت میں مشغول رہنا چاہئے۔
مولانا ارشد مدنی نے کثرت سے عبادت اور ذکر واذکار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت کے کام آنے والوں اور نیکی کے راستہ پر چلنے والوں کو ہی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اجر عظیم سے نوازتے ہیں ۔دارالعلوم دیوبند کی مسجد رشید میں معروف عالم دین مولانا مفتی سید عفان منصورپوری نے نماز جمعہ ادا کرائی ،بعد ازیںمفتی عفان منصورپوری نے اپنے خطاب کے دوران کہاکہ یکھتے دیکھتے ماہ مبارک رمضان کا پہلا عشرہ رخصت ہورہاہے ۔ اس عشرے میں ہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ، ان دنوں میں اگر ہمارے اندر کوئی تبدیلی آئی ہے تو یہ عشرہ ہمارے لئے کامیابی کا ذریعہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان دنوںمیں بھی ہمارے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی تو آنے والے دنوں کو غنیمت جانتے ہوئے اپنی آخرت کی فکر کرنی ہوگی ۔ مفتی عفان منصورپوری نے کہا کہ رمضان کا قرآن کریم کے ساتھ مقدس رشتہ ہے ، ہمیں چاہئے کہ ہم اس میں زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی تلاوت کریں ۔ ایک دن میں کم از کم تین سپاروں کی تلاوت لازمی ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں ہمیں اس چیز پر بھی غور کرنا ہوگا کہ ہم گناہوں سے کتنی دور ہوئے ہیں۔
دارالعلوم وقف دیوبند کی اطیب المساجد میں پیش امام نے مرکزی جامع مسجد میں حافظ رافعہ نے دارالعلوم وقف کے قریب واقع سید کالونی کی مسجد صغیر مسجد میں دارالعلوم وقف کے استاذمفتی عارف قاسمی نے نماز دوگانہ ادا کرائی۔ اس کے علاوہ جامع مسجد پٹھانپورہ ،مسجد خانقاہ،مسجد عالی شان،مسجد کمال شاہ،قاضی مسجد اور قدیم مسجد سمیت سبھی مساجد میں نہایت عقیدت واحترام کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی گئی اور ملک کی ترقی ،خوشحالی اور امن وسلامتی کی دعائیں کی گئیں۔وہیں دوسری جانب دیوبند کے قرب وجوار و دیہی علاقوں کی مساجد میں بھی نماز جمعہ اداکی گئی۔نماز کے بعد روزہ داروں اور عقیدت مندوں نے دیوبند کے بازاروں میں پہنچ کر جم کر خریداری کی ،جس سے بازاررونق رہے۔میونسپل بورڈ کی جانب سے مساجد کے آس پاس صفائی اور چونا چھڑکنے کا اہتمام کیا گیا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d8%b4%d9%88%d8%b9-%d9%88-%d8%ae%d8%b6%d9%88%d8%b9-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%aa%da%be-%d8%a7%d8%af%d8%a7-%da%a9%db%8c-%da%af%d8%a6%db%8c-%d8%b1%d9%85%d8%b6%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%84%d9%85/feed/ 0
میوات ماب لنچنگ کے ملزم کی پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں ضمانت عرضی خارج https://sachkiawaz.com/%d9%85%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%a7%d8%a8-%d9%84%d9%86%da%86%d9%86%da%af-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%db%81%d8%b1%db%8c%d8%a7%d9%86/ https://sachkiawaz.com/%d9%85%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%a7%d8%a8-%d9%84%d9%86%da%86%d9%86%da%af-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%db%81%d8%b1%db%8c%d8%a7%d9%86/#respond Wed, 25 Feb 2026 13:11:56 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5933 (پی این این)
نئی دہلی :پلوَل ضلع ہریانہ کے ایک نہایت حساس موب لنچنگ مقدمہ میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے ملزم نربیر عرف نرویر کی ضمانت کی عرضی مسترد کر دی ہے۔ جسٹس سوریہ پرتاپ سنگھ نے کریمنل کیس نمبر /2025 68227 کی سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کیا ہے۔ آج عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی طرف سے مقرر کردہ وکیل ایڈوکیٹ روزی خاں نے جم کر بحث کی جو ماب لنچنگ میں شہید یوسف اور متاثرہ ڈرائیور روی کی طرف سے ہائی کورٹ میں اس مقدمے میں تعاون کررہی ہیں ۔
واضح ہو کہ 24 جنوری 2025 کو گاؤں اورنگ آباد میں دو گائے اور ایک بچھڑے کو ایک منی ٹرک کے ذریعے لے جایا جا رہا تھا۔ اسی دوران ایک ہجوم نے ٹرک ڈرائیور ’روی‘ اور ’یوسف‘ کو گھیر کر مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید زخموں کے باعث ’یوسف‘ کی موت واقع ہوگئی۔اس سلسلے میں تھانہ منڈکٹی، ضلع پلوَل میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ۔ اس مقدمہ میں کل نو ملزمان نامزد ہیںاور بقید ہیں۔
ملزم نربیر نے BNSS کی دفعہ 483 کے تحت ہائی کورٹ میں اپنی ضمانت عرضی دائر کی تھی۔ دفاعی فریق کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں ہے اور اگرچہ CCTV فوٹیج میں اس کی موجودگی نظر آتی ہے، لیکن وہ مارپیٹ میں براہ راست ملوث دکھائی نہیں دیتا۔
دوسری طرف جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مقرر کردہ وکیل روزی خاں نے مضبوط دلائل کے ساتھ ضمانت کی مخالفت کی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر دستیاب شواہد کی روشنی میں بادی النظر میں ملزم کی شمولیت ظاہر ہوتی ہے اور جرم کی نوعیت انتہائی سنگین ہے، اس لیے ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
اس حساس مقدمہ کی قانونی پیروی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی سرپرستی میں انجام دی جا رہی ہے۔ضلع و سیشن عدالت پلوَل میں جمعیۃ کی جانب سے ایڈوکیٹ ایشور سنگھ سورین مقدمہ کی پیروی کر رہے ہیں، جبکہ ہائی کورٹ چندی گڑھ میں ملزم کی ضمانت کی مخالفت کے لیے ایڈوکیٹ روزی خاں پیش ہوئیں۔ پورے مقدمہ کی قانونی حکمتِ عملی جمعیۃ علماءہند کے قانونی امور کے ذمہ دار نیاز احمد فاروقی کی رہنمائی میں مرتب کی جا رہی ہے۔ جب کہ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی اور ریاستی جمعیۃ علماء کے ذمہ داروں بالخصوص مولانا یحیٰ کریمی ناظم اعلی جمعیۃعلماء ہریانہ، پنجاب و ہماچل وغیرہ نے اس سانحہ کے بعد اہل خانہ سے ملاقات کرکے ہر ممکن تعاون کی یقین دہائی کرائی تھی بعد یہ مقدمہ اس وقت ضلع و سیشن عدالت پلوَل میں زیرِ سماعت ہے اور گواہی کا مرحلہ جاری ہے۔ تمام نو ملزمان عدالتی حراست میں ہیں۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%85%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%a7%d8%a8-%d9%84%d9%86%da%86%d9%86%da%af-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%db%81%d8%b1%db%8c%d8%a7%d9%86/feed/ 0
متبادل رہائش کے بغیر انہدامی کارروائی نہیں،ہلدوانی ریلوے کالونی معاملہ میں سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ https://sachkiawaz.com/%d9%85%d8%aa%d8%a8%d8%a7%d8%af%d9%84-%d8%b1%db%81%d8%a7%d8%a6%d8%b4-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%86%db%81%d8%af%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%8c/ https://sachkiawaz.com/%d9%85%d8%aa%d8%a8%d8%a7%d8%af%d9%84-%d8%b1%db%81%d8%a7%d8%a6%d8%b4-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%86%db%81%d8%af%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%8c/#respond Tue, 24 Feb 2026 13:12:42 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5929 (پی این این)
نئی دہلی:ہلدوانی کے ریلوے کالونی سے متعلق طویل عرصے سے جاری مقدمے میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ متعلقہ زمین ریلوے کی ملکیت ہے اور اس کے استعمال کا فیصلہ کرنے کا حق ریلوے کے پاس ہے ، تاہم عدالت نے اس معاملے کے انسانی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت، ریلوے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بے دخلی سے متاثر ہونے والے خاندانوں کی شناخت کرکے انہیں منظم طریقے سے بازآبادکاری کے عمل میں شامل کیا جائے تاکہ کوئی بھی خاندان بے یار و مددگار نہ رہ جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اپریل میں اگلی سماعت ہوگی ، اس وقت کوئی انہدامی کارروائی نہ کی جائے ۔
عدالت نے یہ فیصلہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر متاثرہ کالونی کے29 /افراد کی طرف سے دائر کردہ ایس ایل پی نمبر 804/2023مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے دیا ہے۔واضح ہو کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں ریلوے کالونی کے متاثرہ خاندانوں کی جانب سے جنوری 2023 کو دائر کیا تھا جس پر عدالت نے 5 ؍ جنوری 2023 کو ابتدائی مرحلے میں ہی اسٹے جاری کیا تھا۔ آج کورٹ میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے سینئر وکیل روؤف رحیم، ایڈوکیٹ منصور علی خاں اور ایڈوکیٹ روبینہ جاوید موجود تھیں جب کہ مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مقدمے کی نگرانی ایڈوکیٹ مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند کر رہے تھے۔
آج عدالت عظمیٰ نے سماعت کے دوران یہ بھی کہا کہ چوں کہ یہ معاملہ بڑی آبادی سے جڑا ہوا ہے اور ہزاروں خاندان اس سے متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے انتظامیہ کو ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ نینی تال ضلع انتظامیہ اور ہلدوانی کی مقامی انتظامیہ کیمپ لگائے، جن کے ذریعے متاثرہ خاندانوں کا رجسٹریشن کیا جائے اور اہل افراد کو پردھان منتری آواس یوجنا (EWS) کے تحت درخواست دینے کا موقع فراہم کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ رمضان المبارک اور عید کے پیش نظر رجسٹریشن کیمپ 19 مارچ کے بعد لگائے جائیں تاکہ لوگ سکون کے ساتھ اس عمل میں شریک ہو سکیں اور ان کو رمضان میں کسی طرح پریشان نہ کیا جائے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ایک ہفتہ تک کیمپ چلا کر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر متاثرہ خاندان کا ذمہ دار فرد وہاں آکر اندراج کرائے اور ہاؤسنگ اسکیموں کے فارم جمع کرا سکے۔
یہ بھی فیصلہ ہوا کہ بے دخلی کی صورت میں ریلوے اور ریاستی حکومت مشترکہ طور پر منتقل ہونے والے خاندانوں کو چھ ماہ تک ماہانہ مالی امداد فراہم کریں گے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ ریلوے لائن کی توسیع ناگزیر ہے اور یہ زمین ریلوے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیوں کہ آگے پہاڑی علاقہ شروع ہو جاتا ہے اور توسیع کے امکانات محدود ہیں۔ دوسری طرف جمعیۃ کے وکیل کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ علاقے میں تقریباً پچاس ہزار افراد رہتے ہیں اور ایک ساتھ ہزاروں خاندانوں کی بازآبادکاری عملی طور پر آسان نہیں، نیز یہ بھی کہا گیا کہ ریلوے نے مکمل توسیعی منصوبہ واضح نہیں کیا۔ عدالت نے اس بحث کے دوران واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں زمین کے استعمال کا آخری فیصلہ قبضہ کرنے والے افراد نہیں بلکہ متعلقہ ادارہ ہی کرے گا، تاہم حکومت کو انسانی بنیادوں پر مؤثر بازآبادکاری یقینی بنانا ہوگی۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%85%d8%aa%d8%a8%d8%a7%d8%af%d9%84-%d8%b1%db%81%d8%a7%d8%a6%d8%b4-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%86%db%81%d8%af%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%8c/feed/ 0
جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ادھم پور سیلاب متاثرین میں تقسیم کی گئیں 15مکانات کی چابیاں https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%8c%db%83-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%db%81%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%af%da%be%d9%85-%d9%be%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7/ https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%8c%db%83-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%db%81%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%af%da%be%d9%85-%d9%be%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7/#respond Fri, 06 Feb 2026 11:00:06 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5805 ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ظالموں کے گلے میں زنجیریں ہوں گی اور ملک ایک بار پھر پیار، محبت اور انصاف کے سائے میں ترقی کرے گا:مولانا ارشد مدنی
(پی این این)
نئی دہلی :آج پہلے مرحلے میں ادھم پور جموں و کشمیر میں15 نئے تعمیر شدہ مکانات کی تقسیم کے دوران سیلاب متاثرین جن میں 7 عدد بیوہ خواتین بھی شامل ہیں کو چابیاں تقسیم کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے پنجاب ہماچل اور جموں و کشمیر میں سیلاب کی وجہ سے آئی تباہی پر کہا کہ ہم مالک کائنات کے بندے ہیں ،چنانچہ اس کے ہر فیصلے پہ سر تسلیم خم کرتے ہیں۔کیوں کہ ہماری بندگی کا تقاضا بھی یہی ہے اور وہی ہے جو ہر پریشانی کا مداوا کر سکتا ہے ،تاہم اسباب کے طور پر جمعیۃعلما ہند اور اس کے خدام اور اس کی شاخیں تا بحد امکان متاثرین کی مدد کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مصیبت یہ پوچھ کر نہیں آتی یہ کون ہندو ہے کون مسلمان ہے جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو ایک ساتھ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں اسی طریقے سے ان متاثرین میں ہر مذہب کے ماننے والے شامل ہیں اور جمعیۃ علماء ہند بلا تفریق مذہب ملت سب کی مدد کر رہی ہے کیونکہ کہ انسانیت کی خدمت ہی اس کا نصب العین ہے ۔
آج چابیا ں وصول کرنے بعد مجموعی طور پر متاثرین نے کہا کہ لوگ آئے دلاسہ دے کر چلے گئے مگر کام جمعیۃ علماء ہند نے کیا۔ یہ مجموعی تاثر جموں و کشمیر کے ان سیلاب متاثرین کا ہے جن 15 لوگوں کو جمعیۃ علماء راجستھان کے تعاون سے نئے تعمیر شدہ مکانات کی چابیاں دی گئی ہیں۔ان میں سے کچھ لوگ اس قدر جذباتی ہوگئے جب ان سے ان کے تاثرات جاننے کی کوشش کی گئی تو زبان سے کچھ نہ کہہ سکے البتہ ان کی آنکھیں مارے خوشی سے چھلک پڑیں اور کہا کہ اللہ تعالی مولانا مدنی کو سلامت رکھے اور عمر وصحت میں برکت دے۔ انہوں نے ہمارے درد کو محسوس کیا۔
مولانا مدنی نے ویڈیو کانفرنسینگ کے ذریعہ مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت ہمارامشترکہ ورثہ ہے اس کا تحفظ ملک کے تمام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اگر ہم نے یہ ذمہ داری ادانہ کی تو یادرکھیں اس کوتاہی کے لئے ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریگی، مولانا مدنی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کچھ ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جو انتہائی امیدافزاکہے جاسکتے ہیں اس طرح کے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ اب اکثریت فرقہ کے لوگ بھی نفرت کی سیاست کے خلاف بیدارہورہے ہیں ، یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ نفرت کی سیاست کے پیچھے جو کالاسچ چھپاہواہے لوگ اسے سمجھ چکے ہیں ہمیں مکمل یقین ہے کہ ایک دن نفرت محبت سے ہارجائے گی ، انہوں نے تقریب میں موجودلوگوں سے یہ بھی کہا کہ اگر اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو بے گھر ہوچکے ہیں ہم کوشش کریں گے کہ مسلمانوں کے ساتھ برادران وطن کوبھی نیامکان بنواکر دیں ، آپ یقین رکھیں جمعیۃعلماء ہند نہ صرف آپ کے دکھ دردمیں شریک رہے گی بلکہ مصیبت میں آپ کو ہرطرح کی مددبھی مہیاکرائے گی، انہوں نے لوگوں سے تلقین کی کہ وہ ہر قیمت پر اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کریں کیونکہ آج اس طرح کے حالات ہیں اس سے مقابلہ کے لئے تعلیم ہی سب سے بڑاہتھیارہے انہوں نے کہا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی بہت ضروری ہے واضح ہوکہ آج پہلے مرحلہ میں جن 15لوگوں کو نئے مکان کی چابیاں دی گئی ہیں ان میں سات عدد بیوہ خواتین بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ 148ضرورت مند لوگوں میں راشن کٹ اوردیگر گھریلو سامان بھی تقسیم کیا گیا ان میں تیس غیر مسلم بھی شامل ہیں ۔
انہوں نے کہا فرقہ پرستوں کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہو پائے گی۔سیکولرزم اور دستور ہند کے تحفظ کے لئے جمعیۃ علماء ہندآخری دم تک جدوجہد جاری رکھے گی۔تاریخ بتاتی ہے جو قوم اپنی شناخت، تہذیب اور مذہب کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہے اسے قربانی دینی پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنا ملک کو تقسیم کرنا ہے، جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہمیں مجبور ہوکر کہنا پڑ رہا ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں اسلام اور مسلمان دونوں کو مٹانے کے درپہ ہیں۔مگر انہیں شاید یہ معلوم نہیں کہ اسلام کا یہ چراغ کبھی نہیں بجھے گا اور جن لوگوں نے اسے بجھانے کی کوشش کی وہ خود بجھ گئے۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور زندہ قومیں مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے اپنی فہم و فراست، تدبر اور حکمت عملی سے اپنی کامیابی ایک نئی تاریخ رقم کرتی رہی ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ مو جودہ حالات سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے جو حالات آج ہیں وہ ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ ہر دن کے بعد سورج طلوع ہوتا ہے، اور وہ دن بھی آئے گا جب امن، بھائی چارہ اور محبت کا سورج طلوع ہوگا اور نفرت و فرقہ پرستی کا سورج غروب ہو جائے گا، کیونکہ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ صبحِ روشن قریب ہوتی ہے، اور ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ظالموں کے گلے میں زنجیریں ہوں گی اور یہ ملک ایک بار پھر پیار، محبت اور انصاف کے سائے میں ترقی کرے گا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%8c%db%83-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%db%81%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%af%da%be%d9%85-%d9%be%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7/feed/ 0
آسام کے وزیر اعلیٰ کامسلمانوں کے خلاف زہر افشانی،جمعیۃ علماء ہند کی سپریم کورٹ میں عرضی داخل https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d8%b3%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%d8%a7%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%b2/ https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d8%b3%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%d8%a7%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%b2/#respond Mon, 02 Feb 2026 12:26:53 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5786 (پی این این)
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند نے اپنے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کے توسط سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں آج ایک مفصل عرضی داخل کرتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے حالیہ عوامی بیان کو سنگین نفرت انگیز، فرقہ وارانہ اشتعال اور آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔عرضی میں آسام کے وزیر اعلیٰ کی 27 جنوری 2026 کو دی گئی اس بیان کا خصوصی طور پر حوالہ دیا گیا ہےجس میں انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ’’چار سے پانچ لاکھ ’مِیاں‘ ووٹروں کو انتخابی فہرستوں سے خارج کیا جائے گا‘‘ اور یہ بھی کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی ’’براہِ راست مِیاؤں کے خلاف ہیں‘‘۔عرضی کے مطابق لفظ’ مِیاں‘ آسام میں مسلمانوں کے لیے تحقیر آمیز اور توہین آمیز انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔
عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ کی مذکورہ تقریر، اس تناظر میں کہ وہ ایک اعلیٰ آئینی منصب پر فائز ہیں، کسی بھی طرح سے محض رائے کے اظہار کے دائرے میں نہیں آتی، بلکہ اس کا واحد اور بنیادی مقصد ایک کمیونٹی کے خلاف نفرت، عداوت اور بدخواہی کو فروغ دینا ہے۔ ایسے بیانات سے سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا ہے اور ایک مخصوص برادری کو اجتماعی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے جو اپنے عہدے کی مریاد ا سے غداری ہے۔جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ وہ آئینی عہدوں پر فائز افراد کی تقاریر کے لیے سخت ضابطہ اخلاق مقرر کرے ، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی شخص آئینی منصب کی آڑ میں فرقہ وارانہ نفرت، اشتعال انگیزی یا کسی کمیونٹی کو بدنام کرنے کا اختیار نہ رکھتا ہو۔ ایسے ضابطے اس اصول کو مضبوط کریں گے کہ آئین اور قانون سے کوئی بالاتر نہیں اور یہی تصور رول آ ف لاءکی بنیاد ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات آئین ہند میں دی گئی مساوات، اخوت ، سیکولرازم اور وقارِ انسانی کی ضمانتوں کو براہِ راست مجروح کرتے ہیں اور اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کے تحت نہیں آ سکتے۔ جمعیۃ نے اس امر کی بھی نشاندہی کی ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نفرت انگیز ی کے خلاف ازخود کارروائی (Suo Motu) سے متعلق واضح ہدایات کے باوجود ایسے بیانات کا تسلسل تشویشناک ہے۔
واضح رہے کہ یہ گزارش ، جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سپریم کورٹ میں پہلے سے زیرِ سماعت نفرت انگیز ی اور اہانت رسول ﷺ کے خلاف رٹ پٹیشن نمبر1265/2021 میں شامل کی گئی ہے ۔ اس مقدمے کی چار سالہ سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے، فیصلہ سنانے سے قبل جمعیۃ علماء ہند کے سینئر وکیل جناب ایم۔ آر۔ شمشاد اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ فرخ رشید سے چند اہم نکاتی مشورے طلب کیے ہیں کہ ان کے نزدیک ملک میں نفرت انگیزی کو روکنے کے لیے کون سے مؤثر اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔لہِذ ا یہ عرضی اس معنی میں بہت ہے کہ اس وقت سپریم کورٹ ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر، آئینی عہدوں کے غلط استعمال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے امتیازی طرزِ عمل جیسے سنگین مسائل کے آئینی و قانونی پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d8%b3%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%d8%a7%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%b2/feed/ 0
ہلدوانی ریلوے زمین معاملہ:سپریم کورٹ 17متاثرین کی عرضداشت پرسماعت کیلئے تیار https://sachkiawaz.com/%db%81%d9%84%d8%af%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b1%db%8c%d9%84%d9%88%db%92-%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84%db%81%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-17%d9%85/ https://sachkiawaz.com/%db%81%d9%84%d8%af%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b1%db%8c%d9%84%d9%88%db%92-%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84%db%81%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-17%d9%85/#respond Mon, 12 Jan 2026 13:05:34 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5660 (پی این این)
نئی دہلی:اتراکھنڈ کے مسلم آبادی والے ضلع ہلدوانی میں آزادی سے قبل سے ریلوے کی مبینہ زمین پر آباد مسلم بستی کو ہٹانے والے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے فیصلے کو جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہلدوانی نے متاثرین کی مدد سے سپریم کورٹ میں چیلنج کیاہے۔آج اس اہم مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس آف آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوئیمالا باگچی کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو بتایا کہ مفاد عامہ کی پٹیشن کی سماعت کے دوران اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے 20/ دسمبر 2022کو ایک یک طرفہ فیصلہ صادر کرتے ہوئے ریلوے کی مبینہ زمین پر آباد پچاس ہزار سے زائد مکینوں کو بستی خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اترا کھنڈ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ غیر آئینی ہے کیونکہ ہائیکورٹ نے بستی میں رہنے والوں کو اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع نہیں دیا تھا۔
سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے مزید بتایا کہ ریلوے کی مبینہ زمین کی دعوی داری کے خلاف ریلوے عدالت سے رجوع نہیں ہوئی تھی بلکہ ایک مقامی سوشل ورکر نے پٹیشن داخل کی تھی جس پر ہائی کورٹ نے اتنا بڑا فیصلہ دیا تھا۔ سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو مزید بتایا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف داخل پٹیشن سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہذا اس پٹیشن کو بھی سماعت کے لیئے قبول کیاجائے اور پہلے سے داخل پٹیشن کے ساتھ منسلک کردیا جائے۔ سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال کے دلائل کی سماعت کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا نے پٹیشن کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے دیگر عرضداشتوں کے ساتھ منسلک کردیا۔
دوران سماعت چیف جسٹس آف انڈیا نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا ایشوریہ بھاٹی کو ہدایت دی کہ وہ عرض گذاروں کے تعلق سے عدالت میں رپورٹ پیش کرے، عدالت یہ جاننا چاہتی کہ آیا عرض گذار اسی علاقے میں رہتے ہیں یا نہیں۔دوران سماعت عدالت نے سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال سے سوال کیا کہ وہ اتنی تاخیرسے عدالت سے کیوں رجوع ہوئے ہیں جس پر سینئر ایڈوکیٹ نے بتایا کہ یہ بات درست ہے وہ عدالت میں تاخیر سے آئے ہیں لیکن انہیں اتراکھنڈ سرکار کی جانب سے نوٹس تاخیر سے ملی تھی۔دوران سماعت سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال کی معاونت ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ مجاہداحمد، ایڈوکیٹ پنکج ودیگر نے کی جبکہ پٹیشن کو ایڈوکیٹ آن ریکاردچاند قریشی نے داخل کیا ہے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے فیصلے کے داخل پٹیشن میں عرض گذار فیصل صدیقی، شرافت اللہ صدیقی، شفاعت حسین، جاوید حسین، یامین، عبدالرشید، جلیس احمد، محمد حسین، عشرت بیگم، صابرہ بیگم، نعیم عشرت، ذاکر علی، محمد جاوید، نزاکت احمد، تہور احمد اورمسعود احمد ہیں۔عرضداشت میں تحریر کیا گیا ہے کہ مبینہ ریلوے کی زمین پر آزادی کے پہلے سے لوگ بسے ہوئے ہیں جن کے پاس رہائشی ثبوت، الیکٹرک سٹی بل، نل پٹی و دیگر دستاویزات ہیں نیز ماضی میں اتراکھنڈ سرکار نے سرو ے کرکے مکینوں کو رہنے کی اجازت بھی دی تھی اس کے باوجود ہائی کور ٹ نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہو ئے بستی اجاڑنے کا حکم دیا ہے۔عرض داشت میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ ریاستی حکومت اور ریلوے محکمہ نے ہائیکورٹ میں اس بستی کے تعلق سے حقائق پیش نہیں کیئے، ماضی کی پالیسی عمل کرنے کی بجائے مبینہ سیاسی دباؤ میں بستی اجاڑنے کے حق میں حلف نامہ داخل کیا گیا جسے ہائی کورٹ نے منظور کرلیا۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت ہے اور سپریم کورٹ آف انڈیا نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر اسٹے دیا ہوا ہے، موجود پٹیشن اس وجہ سے داخل کی گئی ہے کیونکہ دیگر مکین سپریم کورٹ میں دستاویزاتی ثبوت پیش کرنا چاہتے ہیں۔مقامی جمعیہ علماء کے ذمہ داران مولانا مقیم قاسمی (صدر جمعیۃ علماء ضلع نینی تال)، مولانا محمد قاسم(ناظم اعلی جمعیۃ علماء ضلع نینی تال)، مولانا محمد عاصم (شہر صدرجمعیۃ علماء ہلدوانی)،مفتی لقمان،ڈاکٹر عدنان، عبدالحسیب و دیگر نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے میں متاثرین کی مدد کی ہے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%db%81%d9%84%d8%af%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b1%db%8c%d9%84%d9%88%db%92-%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84%db%81%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-17%d9%85/feed/ 0
ماب لنچنگ معاملہ:اطہر حسین کے ورثاکو انصاف دلانے کیلئے جمعیۃعلماء ہند نےتشکیل دیا لیگل پینل https://sachkiawaz.com/5554/ https://sachkiawaz.com/5554/#respond Wed, 17 Dec 2025 12:36:31 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5554 (پی این این)
پٹنہ:بہارماب لنچنگ میں مارے گئے اطہر حسین کی بیوہ کی درخواست اور جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی کی ایماپر جمعیۃعلماء قانونی امدادکمیٹی اس مقدمہ میں قانونی امدادفراہم کرنے کے لئے تیارہوچکی ہے اس مقدمہ میں وہ ایک مداخلت کارکے طورپر پٹیشن داخل کریگی اس سلسلہ میں جمعیۃعلماء ہند کی لیگل ٹیم تجربہ کار،کریمنل وکلاء کا باقاعدہ طورپر ایک پینل تشکیل دینے جارہی ہے، تاکہ ورثاکو نہ صرف یہ کہ انصاف دلایاجاسکے بلکہ قاتلوں کو ان کے کیفرکردارتک پہنچایاجاسکے۔
قابل ذکرہے کہ 6 دسمبر 2025 کو مقتول کی اہلیہ نے ایف آئی آر درج کروائی تھی جس میں، دس لوگوں کو نامزد ملزم بنایا گیاتھا اور دس سے پندرہ نا معلوم افراد کے خلاف شکایت درج کرائی گئی تھی۔اس معاملہ اب تک 11 نامزد ملزمین کی گرفتاری ہو چکی ہے،جمعیۃ علماء بہار کی جانب سے جزوی مالی مددبھی پیش کی گئی ہے اور ہر ممکن مدد کا یقین بھی دلایا گیاہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روزبہارجمعیۃعلماء کاایک وفد نوادہ کے ضلع کلکٹر اور پولس کپتان ابھینو دھامی سے مل چکاہے اورمقامی ایس پی کواس سلسلہ میں ایک میمورنڈم بھی دے چکاہے۔ڈی ایم نوادہ روی پرکاش نے اس موقع پر وفد کویہ یقین دلایا کہ مقتول کے ساتھ انصاف ہوگا یہ انتہائی غیر انسانی فعل ہے اور میں خود اس کیس پر نظر رکھ رہا ہوں۔
اس وحشیانہ واقعہ پر اپنے سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی سوال کیا کہ بہارکے نالندہ میں ایک غریب پھیری والے اطہرحسین کو نام اورمذہب پوچھ کر مارڈالاگیا تواب ملک کامتعصب میڈیاچپ کیوں ہے؟ کیا اس لئے کہ مرنے والا مسلمان ہے،یہ دوہراکردارکیوں؟ انہوں نے کہا کہ ظلم ظلم ہی ہوتاہے وہ ہندویا مسلمان نہیں ہوتا،ظلم کسی پر بھی ہواگر ہم انسان ہونے کا دعوی کرتے ہیں توہمیں ہر طرح کے ظلم کے خلاف آوازاٹھانی چاہئے مولانامدنی نے کہاکہ سپریم کورٹ کی سخت شرزنس کے بعد اس طرح کے واقعات کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں ان کو سیاسی تحفظ اور پشت پناہی حاصل ہے اس لئے ان کے حوصلے بلند ہیں، انہوں نے اس بات پر بھی سخت افسوس کا اظہارکیا کہ اطہر حسین کے قاتلوں کے خلاف پولیس نے معمولی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جبکہ اطہر حسین اسپتال میں اپنا بیان قلم بند کرواچکاہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند کے ذمہ داروں کے دباؤپر اب 302کی دفعہ جڑگئی ہے، لیکن اس سے حکومت کا چہرہ اجاگرہوگیا اوریہ بات صاف ہوگئی کہ جن کی نظرمیں اقتدارہی سب کچھ ہوان کی نظرمیں انسانی زندگی کی اب کوئی قیمت نہیں رہ گئی ہے، انہوں نے آگے کہا کہ گزشتہ نوبرسوں کے دوران دوسوسے زیادہ ماب لنچنگ کے واقعات ہوچکے ہیں اورسپریم کورٹ کے سخت رویہ کے باوجود اس کولیکر ریاستی حکومتوں کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ رہاہے انہوں نے کہا کہ ماب لنچنگ فرقہ پرستوں کی نفرت کی اس سیاست کا نتیجہ ہے جو ملک میں کھلے عام ہورہی ہے،مولانا مدنی نے اخیرمیں کہاکہ ان حالات میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے اگر عزم مضبوط ہو تو مایوسی کے اندھیروں سے امید کی نئی شمع روشن ہو سکتی ہے کیونکہ اس ملک کی مٹی میں محبت کا خمیر شامل ہے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/5554/feed/ 0
ہلدوانی تشدد:اترا کھنڈ ہائی کورٹ نے مزید ایک ملزم کودی ضمانت https://sachkiawaz.com/%db%81%d9%84%d8%af%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%a7-%da%a9%da%be%d9%86%da%88-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d9%85%d8%b2%db%8c/ https://sachkiawaz.com/%db%81%d9%84%d8%af%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%a7-%da%a9%da%be%d9%86%da%88-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d9%85%d8%b2%db%8c/#respond Tue, 04 Nov 2025 12:46:29 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5281 (پی این این)
نینی تال:ہلدوانی تشدد معاملے میں گذشتہ تقریباً دو دسالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ایک غریب پھل فروش کو ضمانت پر رہا کئے جانے کا ہائی کورٹ نے حکم دیا۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں تحریرکیا ہے کہ ملزم کے خلاف کوئی ڈائرکٹ ثبوت نہیں ہے حالانکہ ملزم سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھائی دے رہا ہے۔ عدالت نے مزید تحریر کیا کہ چونکہ ملزم کا تعلق اسی علاقے سے ہے جہاں پر مبینہ تشدد ہوا تھا لہذا ملزم سی سی ٹی وی فوٹیج میں آگیا ہوگا لیکن ملزم کسی بھی طرح کے تشدد میں شامل دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
اتراکھنڈ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس پنکج پروہت اور جسٹس منوج کمار تیواری نے گذشتہ ہفتہ سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کی بحث کے اختتام کے بعد ضمانت عرضداشت پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے آج سنایا گیا۔سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم کا نام ایف آئی آر میں درج نہیں ہے اور نہ ہی پولس نے ملزم کے قبضے سے کسی طرح کا ہتھیار ضبط کیا ہے نیز یو اے پی اے قانون کا اطلاق مشکوک ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ نے عدالت کو مزید بتایا تھا کہ ملزمین کو ضمانت سے محروم رکھنے کے لیئے تشدد کے مقدمہ میں دہشت گردی کی روک تھام کرنے والے سخت قانون یو اے پی اے کا اطلاق کیا گیا۔
ہلدوانی تشدد معاملے میں پولس زیادتیوں کے شکار ملزمین کو صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر قانونی امداد فراہم کی جارہی ہے، یو اے پی اے جیسے سخت قانون کے تحت گرفتار 76/ ملزمین کی ابتک ضمانت منظور ہوچکی ہے۔گذشتہ سماعت پر ملزمین عبدالرحمن،محمد ناظم،ضیاء الرحمن کی ضمانت عرضداشتوں پر سرکاری وکیل کے اعتراض کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے انہیں سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا تھا۔عدالت نے کہاتھا کہ دونوں ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں مقررہ وقت میں داخل نہیں کیئے جانے کی وجہ سے ہائی کورٹ سماعت نہیں کرسکتی کیونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق ان دونوں ملزمین کے لیئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جارہا ہے۔ اسی طرح دیگر چار ملزمین جنید، رئیس احمد انصاری، دانش ملک اور ایاز احمد کی ضمانت عرضداشتوں کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے عدالت نے سرکاری وکیل کو اعتراض داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ ملزمین کے مقدمات کی پیروی جمعیۃ علماء ہلدوانی صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر کررہی ہے۔ جمعیۃ علماء قانونی امدادکمیٹی کی پیروی کے نتیجے میں پہلے مرحلے میں 50/ اور دوسرے مرحلے میں 22/ ملزمین کی ڈیفالٹ ضمانت ہائی کورٹ سے منظورہوئی تھی جس میں چھ خواتین کی ڈیفالٹ ضمانتیں بھی شامل ہیں۔ 8/ فروری 2024 / کو اتراکھنڈ کے ہلدوانی شہر کے مسلم اکثریتی علاقے بن بھولپورہ میں اس وقت بد امنی پھیل گئی تھی جب مبینہ طور غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ مسجداورمدرسے کا انہدام کرنے کے لیئے پولس پہنچی تھی، انہدامی کارروائی سے قبل پولس اور علاقے کے لوگوں میں جھڑپ ہوگئی جس کے بعد پولس فائرنگ میں پانچ مسلم نوجوانوں کی موت ہوگئی تھی۔اس واقع کے بعد بن بھولپورہ پولس نے 101/ مسلم مر د و خواتین کے خلاف تین مقدمات درج کیئے تھے اور ان پر سخت قانون یو اے پی اے کا اطلاق بھی کیا تھا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%db%81%d9%84%d8%af%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%a7-%da%a9%da%be%d9%86%da%88-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d9%85%d8%b2%db%8c/feed/ 0
حکومت یو سی سی میں کیا ترمیم کرنے جارہی ہے، اس کی مکمل وضاحت کرے :اتراکھنڈ ہائی کورٹ https://sachkiawaz.com/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%db%8c%d9%88-%d8%b3%db%8c-%d8%b3%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d8%ac%d8%a7%d8%b1%db%81%db%8c/ https://sachkiawaz.com/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%db%8c%d9%88-%d8%b3%db%8c-%d8%b3%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d8%ac%d8%a7%d8%b1%db%81%db%8c/#respond Wed, 15 Oct 2025 12:57:48 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5171 (پی این این)
نینی تال:اتراکھنڈمیں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے خلاف صدرجمعیۃعلماء ہند مولاناارشدمدنی کی ہدایت پر داخل کی گئی اہم پٹیشن پر آج اتراکھنڈہائی کورٹ میں سماعت عمل میں آئی، جس کے دوران جمعیۃ علماء کی جانب سے پیش ہوئے ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہماری پٹیشن کے خلاف داخل حلف نامہ کی نقل انہیں سماعت سے محض پانچ منٹ پہلے فراہم کی گئی۔ وکیل نے ریاستی حکومت کے وکلاء کے اس اقدام پر عدالت کے سامنے سخت اعتراض کیا اور کہا کہ 70 صفحات پر مشتمل جوابی حلف نامہ میں ریاستی حکومت نے کیا تحریر کیا ہے اس کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی اس کا جواب دیا جاسکے گا یا پھر بحث کی جاسکے گی۔ اس پر اتراکھنڈہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے تمام عرضی گزاروں سے کہا کہ جو حکومت نے حلف نامہ داخل کیاہے اسے دیکھ لیجئے کس حدتک ترمیم کررہی ہے، اور اس سے آپ کی شکایت کا ازلہ ہورہاہے یا نہیں، اس پر جمعیۃعلماء ہند کی وکیل نے کہا کہ ہم نے مکمل یکساں سول قانون کو ختم کرنے کے لئے پٹیشن داخل کی ہے، آج چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ جتنے لوگوں نے یوسی سی قانون کے خلاف پٹیشن داخل کی ہے وہ ایک دوسرے کواپنی پٹیشن شیئرکردیں تاکہ اس سے سنوائی میں آسانی ہو۔
چیف جسٹس نے ریاستی حکومت کی پیروی کرنے والے وکلاء سے کہا کہ آپ ترمیم کے بارے میں سوچ رہے ہیں اورکس طرح کی ترمیم کرنے جارہے ہیں اس کی صاف صاف وضاحت کریں، اس پر حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ تمام ترمیمات کے بارے میں ہمارے حلف نامہ میں تفصیلات موجودہ ہیں۔ اسی درمیان چیف جسٹس اتراکھنڈہائی کورٹ جسٹس جی نریندراورجسٹس سبھاش اپادھیائے نے ریاستی حکومت کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ نٹراجن سے کہا کہ اگلی سماعت سے قبل ریاستی حکومت قانون میں کیا ترمیمات کرنے والی ہے اسے واضح کرے۔عدالت نے اس مقدمہ کی مزید سماعت 10 نومبر کو کئیے جانے کا حکم جاری کیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کی سماعت کے دوران جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے بینچ کے سامنے دواہم باتیں رکھی تھیں، پہلی یہ کہ لسٹ تھری انٹری 5کے تحت کسی صوبائی حکومت کو یکساں سول کوڈبنانے اوراسے نافذ کرنے کا اختیارنہیں ہے یہاں تک کہ دفعہ 44بھی کسی صوبائی حکومت کو اس طرح کی قانون سازی کی اجازت نہیں دیتی ہے، دوسری اہم بات انہوں نے یہ کہی تھی کہ اس قانون سے شہریوں کے ان بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے جو آئین کی دفعہ 14،19، 21اور25میں دیئے گئے ہیں، واضح ہوکہ اتراکھنڈاسمبلی میں یکساں سول کوڈکی منظوری کے تقریبا ایک سال بعد گزشتہ 27جنوری 2025کو وزیراعظم نریندرمودی کی موجودگی میں اسے نافذ کردیا گیا ہے، اس طرح اتراکھنڈملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے والی پہلی ریاست بن گئی ہے،جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی کی ہدایت پر جمعیۃعلماء ہند نے اس فیصلہ کو اتراکھنڈہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے، اپنے موقف کے دفاع کے لئے جمعیۃعلماء ہند نے ملک کے سینئروکلاء کی خدمات حاصل کی ہیں۔
جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے آج کی قانونی پیش رفت پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ عدالت اس معاملہ میں مثبت فیصلہ دے گی، اس لئے کہ یکساں سول کوڈکا نفاذ شہریوں کو آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کے سراسرخلاف ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے قانون کے نفاذ سے شہریوں اورخاص طورپر مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی منصوبہ بند کوشش کی گئی ہے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%db%8c%d9%88-%d8%b3%db%8c-%d8%b3%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d8%ac%d8%a7%d8%b1%db%81%db%8c/feed/ 0