add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
Jamia Millia Islamia – sachkiawaz.com
https://sachkiawaz.com
Thu, 10 Sep 2026 12:22:46 +0000en-US
hourly
1 https://wordpress.org/?v=6.9.9جامعہ ملیہ اسلامیہ میںمنایا گیاعالمی فیزیو تھیراپی ڈے
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba%d9%85%d9%86%d8%a7%db%8c%d8%a7-%da%af%db%8c%d8%a7%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c/
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba%d9%85%d9%86%d8%a7%db%8c%d8%a7-%da%af%db%8c%d8%a7%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c/#respondThu, 10 Sep 2026 12:22:02 +0000https://sachkiawaz.com/?p=10905(پی این این)
نئی دہلی : سینٹر فار فزیوتھیرپی اینڈ ری ہیبیلی ٹیشن سائنسز ( سی پی آر ایس)جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’عالمی یومِ فزیوتھیرپی ‘ دوہزار چھبیس‘ کے موقع پر مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ ان سرگرمیوں کا مرکزی موضوع’’قلبی امراض اور فالج کی روک تھام، انتظام اور بحالی میں فزیوتھیراپی اور جسمانی سرگرمی کا کردار تھا‘‘۔
ان تقریبات کے سلسلے میں، سی پی آر ایس نے ’ابوالفضل آر ڈبلیو اے کے اشتراک سے پانچ ستمبر دوہزارچھبیس کو اوکھلا، نئی دہلی کے جامعہ نگر (ڈی-بلاک) میں واقع آرڈبلیو اے کے دفتر میں کمیونٹی کی سطح پر ایک مفت فزیوتھیراپی کیمپ منعقد کیا۔ اس کیمپ کا مقصد کمیونٹی کے اراکین میںدل کی صحت، فالج سے بچاؤ، جسمانی سرگرمی اور صحت و عملی خود مختاری کو برقرار رکھنے میں فزیوتھیرپی کے کردار کے بارے میں بیداری پیدا کرنا تھا۔ واضح ہو کہ یہ کیمپ ڈاکٹر معظم حسین خان کی نگرانی میں منعقد کیا گیا تھا۔تقریبات میں سات ستمبر دوہزار چھبیس کو کھیلوں کی سرگرمیاں بھی شامل تھیں، جن کا مقصد شرکا میں جسمانی سرگرمی اور دل کی صحت کو فروغ دینا تھا۔ جسمانی طور پر فعال رہنے کے لیے شرکا کو تحریک دی گئی جس کے لیے ان سے کہا گیا کہ وہ صحت مندانہ مقابلوں میں حصہ لیں۔
اس سلسلے میں بیڈمنٹن، والی بال، ریلے ریس، رسہ کشی، کھو-کھو اور بازو کی کشتی (آرم ریسلنگ) جیسی سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جن سے شرکا کو اپنی جسمانی تندرستی وصحت، باہمی ہم آہنگی، قوتِ برداشت اور ٹیم ورک کو بہتر بنانے کے مواقع ملے۔ پروفیسر سورج کمار اور ڈاکٹر محمد شاہد رضا نے کھیلوں کاپروگرام کوآرڈی نیٹ کیا تھا۔ پروگرام کا اختتام آٹھ ستمبر دوہزار چھبیس کو یونیورسٹی پولی ٹیکنک آڈیٹوریم ،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ ایک سیمینار کے ساتھ ہوا، جس میں قلبی امراض اور فالج کی روک تھام، انتظام اور بحالی میں فزیوتھیرپی اور جسمانی سرگرمی کے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس لیکچر پروگرام میں طب اور فزیوتھیرپی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین نے شرکت کی۔
سر گنگا رام اسپتال کے سینئر کنسلٹنٹ فزیشن اور صدرِ ہند کے سابق معالج، ڈاکٹر محسن ولی (پدم شری) نے شرکا سے خطاب کیا۔ آئی ایس آئی سی ملٹی اسپیشلٹی اسپتال کی اسسٹنٹ پروفیسر اور آپریشنز ہیڈ ڈاکٹر رمشہ صدیقی، اور اپولو نالج کی کارڈیو ریسپائریٹری فزیوتھراپسٹ اور اسسٹنٹ ڈین ڈاکٹر برنالی بھٹاچاریہ نے بھی قلبی صحت، جسمانی سرگرمی اور بحالی سے متعلق اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔ اس پروگرام کا انعقاد ڈاکٹر اقصی مجددی،اسسٹنٹ پروفیسر ، سی پی آر ایس،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروگرام انچارچ کی رہنمائی میں کیا گیا۔عالمی یومِ فزیوتھیرپی کی تقریبات کا انعقاد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سی پی آر ایس کے ڈائریکٹر، پروفیسر مجومی ایم نوہو کی رہنمائی میں ہوا۔ان اقدامات کے ذریعے ، سی پی آر ایس،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے قلبی امراض کی روک تھام، فالج کے خطرے کو کم کرنے اور صحت یابی و بحالی میں معاونت کے لیے باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور عوامی آگاہی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba%d9%85%d9%86%d8%a7%db%8c%d8%a7-%da%af%db%8c%d8%a7%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c/feed/0جامعہ کے فیکلٹی رکن ممتازڈاکٹر امن چودھری’ ڈینٹل ایجوکیٹر‘ انعام سے سرفراز
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%db%92-%d9%81%db%8c%da%a9%d9%84%d9%b9%db%8c-%d8%b1%da%a9%d9%86-%d9%85%d9%85%d8%aa%d8%a7%d8%b2%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d9%86-%da%86%d9%88%d8%af/
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%db%92-%d9%81%db%8c%da%a9%d9%84%d9%b9%db%8c-%d8%b1%da%a9%d9%86-%d9%85%d9%85%d8%aa%d8%a7%d8%b2%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d9%86-%da%86%d9%88%d8%af/#respondTue, 09 Jun 2026 12:42:46 +0000https://sachkiawaz.com/?p=7494(پی این این)
نئی دہلی :ڈاکٹر امن چودھری، پروفیسر، فیکلٹی آف ڈینٹسٹری، جامعہ ملیہ اسلامیہ، کو پیرے فوچارڈ اکیڈمی نے فورینزک اوڈونٹولوجی، ڈینٹل ایجوکیشن، تحقیق اور رہنمائی میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں دوہزار چھبیس کے بہترین ڈینٹل ایجوکیٹر انعام سے نوازا ہے۔
انہیں یہ اعزاز مورخہ چھ جون دوہزار چھبیس کو فرید آباد کے مانو رچنا ڈینٹل کالج میں منعقدہ ایک باوقار تعلیمی پروگرام کے دوران پیش کیا گیا۔
ڈاکٹر چوہدری کو اس اعزاز یافتگی پر مبارک باد دیتے ہوئے ڈاکٹر ندیم یونس، ڈین، فیکلٹی آف ڈینٹسٹری،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ یہ اعزاز فیکلٹی آف ڈینسٹری کی روز افزوں علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے نیز سائنس کو فروغ دینے کے تئیں اس کے فیکلٹی اراکین کی لگن اور ان کے جذبے کو بھی نشان زد کرتا ہے۔
سال دوہزار سات میں، فورینزک اوڈونٹولوجی کو ہندوستان کے انڈرگریجویٹ بیچلر آف ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) پروگرام میں باضابطہ طور پر شامل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر امن چوہدری اس وقت سے اس شعبے میں سرگرم عمل ہیں، اس کی توسیع اور ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
اپنے رفقائے کار ڈاکٹر پرینکا کپور اور ڈاکٹر دیپیکا بی پوپلی کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے، انہوں نے تربیت، تحقیق، تدریس اور صلاحیت سازی کے پروگراموں کے توسط سے ملک بھر میں اس نئے اور انتہائی مہارت والے شعبے کی ترقی میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔
ڈاکٹر چودھری اور ان کی ٹیم ڈینٹل انتھروپولوجی میں ڈینٹل سائنسز کے اطلاقی پہلو پر مرکوز ہے، ڈینٹل پروفائلنگ (بشمول دانتوں کی عمر کا تخمینہ)، فورنزک چہرے کا تخمینہ اور زبانی اور پیرا اورل ڈھانچے پر مشتمل دیگر فرانزک تحقیقات۔ تحقیقی اشاعتوں، علمی تعاون، اور طلبہ اور نوجوان محققین کی رہنمائی کے ذریعے، انہوں نے ہندوستان میں دانتوں کی جدید سائنس کے ایک لازمی جزو کے طور پر فرانزک اوڈونٹولوجی کے فروغ میں اہم رول ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر چودھری نے اس موقع پر مبارک بادیوں کا شکریہ کرتے ہوئے کہا انہوں نے اس اعزاز کو اپنے اساتذہ، رفقائے کار، طلبہ اور خاندان کے اراکین کے نام معنون کیا جن کی اہم حوصلہ افزائی اور حمایت انہیں تعلیمی سفر کے دوران حاصل رہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز انہیں ڈینٹل ایجوکیشن، فرانزک اوڈونٹولوجی ریسرچ، اور پروفیشنل مینٹرشپ میں مزید بہتر کرنے کے لیے محرک ثابت ہوگا۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%db%92-%d9%81%db%8c%da%a9%d9%84%d9%b9%db%8c-%d8%b1%da%a9%d9%86-%d9%85%d9%85%d8%aa%d8%a7%d8%b2%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d9%86-%da%86%d9%88%d8%af/feed/0جامعہ ملیہ میں’عہد حاضر میں تدریس و آموزش کے تقاضے‘کے موضوع پرقومی سمینار کا انعقاد
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba%d8%b9%db%81%d8%af-%d8%ad%d8%a7%d8%b6%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d9%88-%d8%a2%d9%85/
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba%d8%b9%db%81%d8%af-%d8%ad%d8%a7%d8%b6%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d9%88-%d8%a2%d9%85/#respondTue, 17 Feb 2026 10:41:42 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5875(پی این این)
نئی دہلی :اکادمی برائے فروغ استعداد اردو میڈیم اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’عہد حاضر میں تدریس و آموزش کے تقاضے‘ کے موضوع پر کامیابی کے ساتھ یک روزہ قومی سمینار منعقد کیا۔سمینار کا افتتاح میر انیس ہال، دیار میر تقی میر ،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوا۔پروگرام میں ملک بھر سے شامل ممتاز علمی ہستیوں، محققین ماہرین اور طلبہ کا استقبال کیا گیا جنہوں نے اردو میڈیم کے خصوصی حوالے سے تدریس و آموزش کے عمل میں معاصر چیلنجیز اور ابھرتے رجحانات پر اظہار خیا ل کیا۔
شکیل الرحمان رسرچ اسکالر کی تلاوت کلام پاک سے افتتاحی اجلاس کا آغاز ہوا جس کے بعد جامعہ کا ترانہ پیش کیا گیا۔سمینار کے منتظم سیکریٹری ڈاکٹر عبد الواحد کے خیر مقدمی کلمات سے سمینار کے لیے مناسب فضا تیار ہوئی۔عزت و ستائش کی نشانی کے طورپر مندوبین کی خدمت میں مومینٹو پیش کیے گئے اس کے بعد شال پوشی کی رسم سے معزز مہمانا ن کی والہانہ موجودگی کا اعتراف کیا گیا۔ اس موقع پر معزز مہمانان نے، سال گزشتہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے یوم تاسیس کے موقع پر اکادمی کے زیر اہتمام منعقدہ موضوعی مشاعرے میں پیش کی گئی نظموں کے مجموعہ ’گلدستہ موضوعی مشاعرہ ’جامعہ کی کہانی شاعروں کی زبانی‘ کا اجرا بھی کیا۔
پروفیسر جسیم احمد، اعزازی ڈائریکٹر اے پی ڈی یو ایم ٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ و سمینار کنوینر نے حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے سمینار کے ابتدائی مراحل میں پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے حاصل رہنمائی کے لیے ان کی خدمت میں ہدیہ تشکر پیش کیا۔ سمینار میں تعاون کے لیے انہوں نے ہولسٹک ٹرسٹ اور ا ردو اکادمی دہلی کابھی شکریہ اد اکیا۔ پروفیسر احمد نے سمینار میں مہمانان اور شرکا کاوالہانہ استقبال کیا۔انہوں نے ’کلاس روم کی قسمت کو اساتذہ سمت دیتے ہیں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زوردیا کہ اسکولی تعلیم بہترین ملک کی بنیاد ہوتی ہے۔انہوں نے تدریس و آموزش کے معاصر طریقوں پر اظہار خیال کے سلسلے میں سمینار کے موضوع کی معنویت بھی اجاگر کی۔
پروفیسر سارہ بیگم، کارگزار ڈین، فیکلٹی آف ایجوکیشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ ہردور میں تدریس و آموزش کے تقاضے سماجی تناظر میں کس طرح تبدیل ہوتے ہیں۔ڈاکٹر واحد نظیر نے کلیدی خطبہ کے مہمان خطیب ڈاکٹر ندیم احمد،شعبہ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ کا استقبال کیا۔ڈاکٹر ندیم احمد نے خطبہ میں موجودہ زمانے میں اساتذہ کے رول پر زور دیا اور طلبہ کی آموزش کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ان کو میسروسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کی اہمیت پر گفتگو کے ساتھ ساتھ طلبہ کو ان کی پیشہ ورانہ ملازمت کے لیے تیار کرنے کے سلسلے میں قومی تعلیمی پالیسیوں، ڈیجیٹل ٹیچنگ لرننگ ریسورسیزاینڈ ایمپ پر بھی بات کی۔
افتتاحی اجلاس کی ایک اہم بات پروفیسر ایم۔اختر صدیقی کا خطبہ تھا جنہوں نے زبان کی بنیا دپر طلبہ کے درمیان تنوع اور فرق کے مسئلے سے نمٹنے کی ضرورت کے سلسلے میں اپنے بیش قیمت تجربات و مشاہدات ساجھا کیے۔انہوں نے یہ سوال بھی پوچھا کہ اساتذہ کلاس روم میں ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں طلبہ کی مختلف سطحوں سے کس طرح نمٹتے ہیں اور آموزش کی الگ الگ رفتار کے تناظر میں تمام طلبہ پر کس طرح توجہ دیتے ہیں۔ڈاکٹر حنا آفرین کے اظہار تشکر اور سمینار کے تکنیکی اجلاسوں کے متعلق اشارے کے ساتھ افتتاحی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba%d8%b9%db%81%d8%af-%d8%ad%d8%a7%d8%b6%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d9%88-%d8%a2%d9%85/feed/0پریم چنداور کبیرکاادبی سرمایہ ہندوستانی تہذیب کابیش قیمت ورثہ: پروفیسر مظہر آصف
https://sachkiawaz.com/%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%86%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a8%db%8c%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa/
https://sachkiawaz.com/%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%86%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a8%db%8c%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa/#respondWed, 11 Feb 2026 13:25:17 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5845جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈلٹریری سنٹر،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر صغیر افراہیم کاپریم چندیادگاری خطبہ
(پی این این)
نئی دہلی :پریم چند اور کبیرکاادبی سرمایہ ہندوستانی ادب کابیش قیمت ورثہ ہے۔یہ دونوں مایہ نازادیب ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کے علمبردار ہیں۔ان کے ادب سے میری گہری دلچسپی اور خاص شغف ہے۔ان خیالات کااظہارجامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈ لٹریری سنٹر کے زیراہتمام منعقدہ نویں پریم چند یادگاری خطبے کے موقع پراپنے صدارتی خطبے میں کیا۔انھوں نے فرمایاکہ جامعہ کے اس ادبی مرکز جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈ لٹریری سنٹر کومزید فعال ہونے کی ضرورت ہے۔ یہاں تواتر کے ساتھ ادبی پروگرام کاانعقاد ہوناچاہیے۔پروفیسر مظہر آصف نے پریم چندکی ادبی خدمات پر بھرپور روشنی ڈالی اور موجود ہ عہد میں اس کی اہمیت پر اساتذہ طلبہ اور ریسرچ اسکالر ز کی توجہ مبذول کرائی۔
پریم چندیادگاری خطبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے استاد سابق صدر شعبۂ اردو،ماہر پریم چندپروفیسر صغیرافراہیم نے پیش کیا۔اپنے خطبے میں پروفیسر صغیر افراہیم نے پریم چند کے فن کی امتیازی خصوصیات کو بیان کیا۔انھوں نے پریم چند کے فکشن کے موضوعات،اسلوب اورتکنیک پر روشنی ڈالی۔پروفیسر صغیر افراہیم نے پریم چند کے بیشتر ناولوں اور متعدد افسانوں کاتجزیہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ پریم چند نے ہمارے فکشن کو نئے موضوعات،نئے اسالیب اور نئی فکری سمت عطا کی ہے۔ان کے ناولوں اور افسانوں کے متون پر نئے فن پارے تخلیق کیے گئے ہیں۔پریم چند نے اپنے بیانیہ کو پر اثر بنایااور دلکش مکالموں کے ذریعہ کرداروں کی ذہنی کشمکش کو پیش کیا۔انھوں نے یہ بھی فرمایاکہ پریم چند کی تمام افسانوی اور غیر افسانوی تحریریں اس کی گواہ ہیں کہ وہ تہذیب وتمدن کے ساتھ ساتھ جدید علوم وفنون خصوصاًفکشن کی ہیئت، ساخت اور فنی نکات متعارف کرانے کے خواہاں تھے۔
اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر اقتدار محمدخاں ڈین فیکلٹی آف ہیومنیٹیزاینڈلنگویجزجامعہ ملیہ اسلامیہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پریم چند کے گہر ے رشتے کاذکر کیاکہ جامعہ کی خدمات کو پریم چند نے بے حد محبت سے سراہاتھااور اس ادار ے کو ہندوستان کاعظیم سیکولر ادارہ قرار دیاتھا۔انھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پریم چند کا افسانہ ’’کفن‘‘ پہلی بار رسالہ جامعہ میں شائع ہوا تھا۔اس جلسے کے مہمانان اعزازی پروفیسر کوثر مظہر ی صدر شعبۂ اردواور پروفیسر نیرج کمار صدرشعبۂ ہندی جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی خطاب کیا۔ان دونوں مہمانان نے پریم چند کے فن کی خوبیوں اور ان کی ادبی خدمات کامفصل ذکر کیا۔پروفیسر کوثر مظہری نے اس خواہش کااظہار کیاکہ جامعہ کے اس مرکز میں پریم چند کے تعلق سے مختلف زبانوں کی تمام کتابوں کو جمع کیاجاناچاہیے تاکہ پریم چند کے محققین اور شیدائی یہاں رجوع کر سکیں۔
اس موقع پر جامعہ پریم چندآرکائیوز اینڈلٹریری سنٹر کے ڈائرکٹرپروفیسر شہزاد انجم نے فرمایاکہ پریم چند کاجامعہ سے گہرارشتہ رہاہے۔ جامعہ کے بزرگوں نے اس ادار ے کانام پریم چند کے نام پر رکھا۔پریم چند کی تخلیقات رسالہ’’ جامعہ‘‘ میں چھپیں اور ان کے کئی ناول مکتبہ جامعہ سے شائع ہوئے۔پریم چند نے 8مارچ 1936عیسوی کو جامعہ میں’’ہندوستانی سبھا‘‘کاقیام کیا۔اس موقعے پر انہوںنے ہندی او ر اردو کے ادیبوں کو جمع کیااور ان سے یہ فرمایاکہ ہندی اور اردو کے ادیبوں کو ایک ساتھ جمع ہوناچاہیے۔ایک دوسرے کی تخلیقات اور تحریروں کو پڑھنااو ر سنناچاہیے۔اس سے آپسی رنجشیں اور کدورتیں دور ہوں گی اور ملک میںخوشگوار محبت کی فضاقائم ہوگی۔پروفیسر شہزاد انجم نے مزید فرمایاکہ اس سینٹر کی خدمات بیش بہاہیں۔اسے مزید فعال کیاجائے گااور اسے ادیبوں کاایک بڑامرکز بنایاجائے گا،جہاں تمام زبانوں کے ادیبوں،اساتذہ،ریسرچ اسکالرز اور طلبہ اور طالبات کو اظہار خیال کاموقع ملے گااور پریم چند کے خوابوں کی تعبیر کی جائے گی۔جلسے کاآغاز جامعہ کی روایت کے مطابق تلاوت کلام پاک سے ہواجسے ڈاکٹرمحمد شاہ نواز فیاض نے پیش کیا۔منشی پریم چند اورخطیب پروفیسر صغیر افراہیم کاتعارف محترمہ شردھاشنکر صاحبہ نے پیش کیاجبکہ جلسے کے آخر میں محترمہ اسگندھارائے نے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف،جامعہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم،ڈین پروفیسر اقتدار محمد خاں،مہمانان اعزازی پروفیسر کوثر مظہری،پروفیسر نیرج کمار،جامعہ کے تمام اراکین،لائبریرین، اساتذہ،ریسرچ اسکالرز،طلبہ و طالبات اور سینٹر کے تمام ملازمین کاشکریہ اداکیا،جن کے بھر پور تعاون سے یہ جلسہ کامیاب ہوا۔اس جلسے میں خصوصی طور پر پروفیسر مشتاق احمد گنائی،ڈاکٹرمحی الدین زور (کشمیر)،پروفیسر شہپر رسول،ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی،پروفیسر سرور الہدی،پروفیسر ممتاز احمد،ڈاکٹرمشتاق احمد تجاوری،ڈپٹی لائبریرین سفیان احمد،ڈاکٹرخالد مبشر،ڈاکٹر محمد عامر،ڈاکٹر مشیر احمد،ڈاکٹر سید تنویر حسین،ڈاکٹرمحمدمقیم،ڈاکٹر جاوید حسن،ڈاکٹر راہین شمع،ڈاکٹرمحمدآدم،ڈاکٹر ثاقب عمران،ڈاکٹر شاداب تبسم،ڈاکٹر نوشاد منظر،ڈاکٹر مخمور صدری،ڈاکٹر ثاقب فریدی،ڈاکٹر راحت افزا،ڈاکٹر خان محمد رضوان اور بڑی تعداد میںہندی،اردواور دیگر زبانوں کے ریسرچ اسکالرزاور طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%86%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a8%db%8c%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa/feed/0جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہیکاتھون مقابلہ ’ہیک۔جے ایم آئی‘ کا افتتاح
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%81%db%8c%da%a9%d8%a7%d8%aa%da%be%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84/
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%81%db%8c%da%a9%d8%a7%d8%aa%da%be%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84/#respondTue, 10 Feb 2026 12:04:26 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5831(پی این این)
نئی دہلی:آئی ای ای ای،جے ایم آئی اسٹوڈینٹ برانچ کے چوتھے ہیک جے ایم آئی کے افتتاح کے ساتھ ہی جدت و اختراعیت،مسئلے کے حل اور اشتراکی آموزش کے دلچسپ سفر کا آغاز ہوا۔ہیک جے ایم آئی پروگرام کا افتتاح مہمان خصوصی پرو فیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کیا۔
اپنی تقریرمیں پروفیسر رضوی نے چوتھی مرتبہ پروگرام کے انعقاد کے لیے آئی ای ای ای جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طلبہ ٹیم اور فیکلٹی مشیر کو مبارک باد دی۔پروفیسر رضوی نے کہاکہ اس نوع کے پروگرام اور مقابلے کی دعو ت سے ہماری روز مرہ کی زندگی سے منسلک مسائل کے اختراعی حل کی فراہمی کے سلسلے میں نئے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا ہوگا۔انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ سائبر کے خطرات، توانائی اور کمیپس سیکوریٹی کے معاملات میں جامعہ کو زیادہ خودکار بنانے کے لیے اختراعی حل لے کر سامنے آئیں۔
پروفیسر احتشام الحق،برانچ کونسلر،آئی ای ای ای جامعہ ملیہ اسلامیہ اور کارگزار کنٹرولر امتحانات نے مہمان خصوصی اور فیکلٹی اراکین و طلبہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اورپروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے اس نوعیت کے پروگرام منعقد کرنے کے سلسلے میں سازگار اور مناسب علمی ماحول کی فراہمی کے لیے ان کے قائدانہ رول کی تعریف کی۔پروفیسر حق نے بتایاکہ مقابلہ ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر دونوں ہی فارم میں اوپن ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد شریف،ڈین،فیکلٹی آف انجینئرنگ پروگرام کے مہمان اعزازی تھے۔اپنی گفتگو میں انہوں نے بھی اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔پروفیسر شبانہ محفوظ،سی پی آئی او، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروفیسر شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ نے طلبہ کے لیے نیک خواہشات کے اظہار کے ساتھ چند اہم کوڈنگ اشارے بھی بتائے۔پروفیسر شکیب اے خان،پرووسٹ بوائز ہاسٹل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہاکہ طلبہ کی ترقی کے لیے کلاس روم ٹیچنگ سے ماورا اطلاقی پروگراموں کی کافی اہمیت ہے۔پروفیسر صائمہ بانو،پروفیسر انچارچ آر سی اے اور صدر شعبہ نفسیات نے منتظمین کی کوششوں کی تعریف کی۔
پروگرام میں پروفیسر امینہ حسین، سی پی آئی او (امتحانات) جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اسسٹنٹ پروفیسر،سروجنی نائیڈو سینٹر فار وومین اسٹڈیز،ڈاکٹر مشیر احمد،اعزازی کنٹرولر آف امتحانات اور ایسو سی ایٹ پروفیسر شعبہ کمپوٹر انجینئرنگ بھی شریک ہوئے۔ان کی بصیرت اور تعاون نے جدت و اختراعیت،بین علومی اشتراک اور طلبہ کے ذریعے چلنے والے تکنیکی اقدامات کوا جاگر کیا۔ہیک جے ایم آئی ایک متحرک پلیٹ فارم کے طورپر ارتقا پذیر ہے جو موثر حل تیار کرنے کے لیے تخلیقی ذہنوں کو ایک ساتھ لاتاہے اور جو کوڈنگ سے ماورا ڈیزائن تھنکنگ، ٹیم ورک اور حقیقی دنیا کے مسائل کو حل کرنے کے رویے کو فروغ دیتاہے۔مقابلے میں شرکت کے لیے درخواست دینے کی آخری تاریخ 24 فروری 2026 ہے۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%81%db%8c%da%a9%d8%a7%d8%aa%da%be%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84/feed/0جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’اسلامی قانون کے ارتقا اور مسلم خواتین کی حالت کی تبدیلی‘ کے موضوع پر خطبے کا انعقاد
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86/
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86/#respondFri, 06 Feb 2026 11:07:31 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5808(پی این این)
نئی دہلی :انڈیا عرب کلچر سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’دورجاہلیہ سے قانونی اصلاحات تک:اسلامی قانونی اور مسلم خواتین کی تبدیل ہوتی حالت‘ کے موضوع پرسینٹر کے کانفرنس روم میں توسیعی خطبے کا اہتمام کیا۔پروگرام کی صدارت سینٹر آف ویسٹ ایشین اسٹڈیز کے ڈائریکٹر پروفیسر ہمایوں اختر نجمی نے کی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد آفتاب نے انجام دیے۔
سینٹر کے ڈائریکٹر،ڈاکٹر محمد آفتاب نے اس نوع کے علمی پروگرام کے لیے جو طلبہ اور فیکلٹیز میں بامعنی بحث و مباحثے کی راہیں ہموار کرتا ہے اس کے انعقاد کی منظوری دینے اور تعاون و سرپرستی کے لیے شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف اور مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے پروگرام کی صدارت کی دعوت قبول کرنے اور طلبہ کو اپنے علمی تجربات سے مستفید کرنے کے لیے پروفیسر ہمایوں اختر نجمی کا بھی شکریہ اداکیا۔سینٹر کے ڈائریکٹر نے توسیعی خطبے کے موضوع کے ساتھ ساتھ خطیبہ ڈاکٹر علیشہ خاتون،فیکلٹی آف لا کا تعارف بھی پیش کیا اور خطاب کے لیے آمادگی پر ان کا شکریہ بھی اد اکیا۔
صدر اجلاس پروفیسر ایچ۔اے۔نجمی نے سامعین کو موضوع سے متعار ف کراتے ہوئے قبل اسلام عرب سوسائٹی کی سماجی وتہذیبی نیز سیاسی صور ت حال کا عمومی اور خواتین کی صور ت حال کا خصوصی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ اسلام کی آمد کے بعد صور ت حال یکسر تبدیل ہوگئی لیکن عہد حاضر کے تناظر میں متعدد ایسی باتیں ہیں جن کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ معاصر سماج سے متعلقہ ضرورتوں اور تقاضوں سے عہدہ برآں ہوا جاسکے۔
پروگرام کی خطیبہ ڈاکٹر علیشہ خاتون نے اسلامی دنیا میں طویل تاریخی ارتقا، قبل اسلام(دور جاہلیہ) سے اسلامی قانون (شریعہ) اور شریعہ سے موجودہ قانونی اصلاحات تک مسلم خواتین کی صور ت حال کا جائزہ پیش کیا۔دور جاہلیہ جو عام طورپر سماجی رسوم و روایات سے عبار ت ہے اس نے خواتین کو حاشیے پر ڈال دیا تھا،ابتدائی اسلامی تعلیمات نے انقلاب آفریں تبدیلیاں پیدا کیں،خواتین کو شادی،میراث اور معاشی زندگی میں حقوق دیے گئے۔ صدیوں پر پھیلی اسلامی تاریخ میں فقہ اور سماجی و تہذیبی رسوم نے مسلم معاشرے میں خواتین کی حالت کو متاثر کیا ہے۔آج کے زمانے میں قانونی اصلاحات کو عام طور پر نوآبادیات سے رابطے میں آنے،قومیت، اور خواتین کے حقوق سے متعلق تحریکات سے اثر پذیر ی نے خواتین کے حقوق اور ان کی حالت کو مزید نئی سمت دی ہے۔
قبل اسلام سے لے کر اسلامی قانونی اصلاحات کا ارتقا مسلم خواتین کے حقوق کے وسیع ہوتے دائرے کے نقطہ اتصال کو بتاتاہے جس کے پس پشت تاریخی، تہذیبی و ثقافتی اور سیاسی وجوہات رہی ہیں۔اوائل اسلامی قانون نے خواتین کو اہم تحفظات اور حقوق عطا کیے۔صدیوں تک فقہی تشریحات اور سماجی اصولوں نے چند آزادیوں کو محدود کرکے رکھا۔قومی مقننہ اور خواتین کی تحریکات سے زیر اثر موجودہ قانونی اصلاحات نے خواتین کے مقام و مرتبے اور حالت کو مزید تبدیل کیاہے اور عصری انسانی حقوق کے نظریات کے ساتھ مذہبی و دینی اصولوں کو ہم آہنگ کیا ہے۔جاری بحث و مباحثے مسلم معاشروں میں روایت، اصلا ح اور صنفی انصاف کے باہمی متحرک رشتے کو ظاہر کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ذوالفقار علی انصاری،اے آئی سی سی،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اظہار تشکر پر پروگرام اختتام پذیرہوا۔انہوں نے پروفیسر ایچ۔اے نجمی،ویسٹ ایشیا کے ساتھ ساتھ پروفیسر ناصر رضا خان، آئی اے سی سی،ڈاکٹر محمد آفتاب احمد،اور ویسٹ ایشیا اور عرب کلچر سینٹر کے تمام فیکلٹی اراکین کاشکریہ ادا کیا۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86/feed/0پروفیسر شاہد اختر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل میں نامزد
https://sachkiawaz.com/%d9%be%d8%b1%d9%88%d9%81%db%8c%d8%b3%d8%b1-%d8%b4%d8%a7%db%81%d8%af-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d8%b1-%d8%b9%d9%84%db%8c-%da%af%da%91%da%be-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3/
https://sachkiawaz.com/%d9%be%d8%b1%d9%88%d9%81%db%8c%d8%b3%d8%b1-%d8%b4%d8%a7%db%81%d8%af-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d8%b1-%d8%b9%d9%84%db%8c-%da%af%da%91%da%be-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3/#respondThu, 22 Jan 2026 13:17:45 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5719(پی این این)
نئی دہلی:صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو نے پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی ایگزیکٹو کونسل میں نامزد کیا ہے۔ اس اقدام کو علمی حلقوں میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے اور مختلف طبقات کی جانب سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے۔پروفیسر شاہد اختر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ انتظامیات سے وابستہ ہیں اور انتظامی علوم، پیشہ ورانہ تعلیم اور اخلاقی نظم و نسق میں گہری مہارت رکھتے ہیں۔ وہ قومی اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کمیشن (این سی ایم ای آئی) کے رکن اور قائم مقام چیئرمین کے طور پر اپنے نمایاں دورِ کار سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ان کے وسیع تجربے نے انہیں اقلیتی تعلیمی حقوق اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو شکل دینے والے قانونی و آئینی ڈھانچے کی عملی سمجھ سے آراستہ کیا ہے۔اس عہد میں جب تعلیمی اقدار، انتظامی موثریت اور روزگار سے وابستگی کے درمیان توازن کی ضرورت شدت اختیار کرچکی ہے، پروفیسر شاہد اختر کا دوراندیش نقطہ نظر انتظامی نظام کو مؤثر بنانے، اے ایم یو کے متنوع تعلیمی پروگراموں میں پیشہ ورانہ معنویت بڑھانے اور حکمت عملی پر مبنی نظم و نسق کو مضبوط سمت فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
پروفیسر شاہد اختر علمی، انتظامی اور سماجی میدانوں میں ایک ہمہ جہت اور باوقار شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ علمی اعتبار سے وہ انتظامی علوم، کاروباری تعلیم اور اخلاقی نظم و نسق کے شعبوں میں گہری بصیرت رکھتے ہیں، اور ان کی تدریسی و تحقیقی خدمات نے طلبہ کی فکری تربیت اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ قیادت کی پرورش میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔انتظامی سطح پر ان کے فیصلوں میں آئینی شعور، قانونی فہم اور زمینی حقائق کا متوازن امتزاج نظر آتا ہے، جس کے باعث اقلیتی تعلیمی اداروں کے حقوق کے تحفظ اور ادارہ جاتی استحکام کو تقویت ملی۔ سماجی خدمات کے اعتبار سے، وہ تعلیم کو سماجی انصاف، شمولیت اور بااختیار بنانے کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ نوجوانوں کی رہنمائی، اقلیتی طبقات کی تعلیمی ترقی اور ادارہ جاتی شفافیت کے فروغ میں ان کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔ پروفیسر شاہد اختر کی علمی، انتظامی اور سماجی خدمات کا امتزاج انہیں عصر حاضر کے ممتاز ماہرین میں نمایاں مقام عطا کرتا ہے، اور اے ایم یو کے انتظامی اور تعلیمی معیار کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d9%be%d8%b1%d9%88%d9%81%db%8c%d8%b3%d8%b1-%d8%b4%d8%a7%db%81%d8%af-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d8%b1-%d8%b9%d9%84%db%8c-%da%af%da%91%da%be-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3/feed/0ورلڈ عربک ڈے کے موقع پر دہلی یونیورسٹی میں شاندار پروگرام کاانعقاد
https://sachkiawaz.com/%d9%88%d8%b1%d9%84%da%88-%d8%b9%d8%b1%d8%a8%da%a9-%da%88%db%92-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%88%d9%82%d8%b9-%d9%be%d8%b1-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%85/
https://sachkiawaz.com/%d9%88%d8%b1%d9%84%da%88-%d8%b9%d8%b1%d8%a8%da%a9-%da%88%db%92-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%88%d9%82%d8%b9-%d9%be%d8%b1-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%85/#respondWed, 14 Jan 2026 12:27:03 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5680(پی این این)
نئی دہلی :عربی زبان کے عالمی دن کے موقع پر شعبۂ عربی، دہلی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام دو روزہ مسابقاتی و ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا، جس کے تحت پانچ مسابقاتی پروگرام اور ایک عربی ڈرامہ پیش کیا گیا۔ اس دو روزہ پروگرام کے دوران یونیورسٹی انتظامیہ کے سینئر ذمہ داران اور مختلف یونیورسٹیوں سے آئے ہوئے عربی کے اساتذہ نے عربی زبان کی دھمک اور اس کی مہک کو محسوس کرتے ہوئے شعبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو خوب سراہا۔
پروگرام کے پہلے دن شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی، ذاکر حسین کالج، سینٹ اسٹیفن کالج، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے مابین جونیئر اور سینئر زمروں میں تقریری مقابلے، خطاطی، عربی بیت بازی اور عربی نغمات کے مسابقے منعقد کیے گئے۔ان مسابقاتی پروگراموں میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پروفیسر رضوان الرحمن اور پروفیسر اشفاق احمد، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پروفیسر نسیم اختر اور پروفیسر فوزان احمد، اگنو سے پروفیسر محمد سلیم اور دہلی یونیورسٹی سے پروفیسر نعیم الحسن،ڈاکٹر مجیب اختر اور ڈاکٹر محمد اکرم نے بطور حکم (ججز) فرائض انجام دیے۔ ججز نے طلبہ کی کارکردگی، عربی زبان سے ان کی وابستگی اور ہندوستانی تہذیب کو عربی زبان کے ذریعے عالمی سطح پر پیش کرنے کے جذبے کو سراہا۔
قابلِ ذکر ہے کہ ان مسابقاتی پروگراموں میں بڑی تعداد میں شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی کے پارٹ ٹائم کورسیز سرٹیفکیٹ، ڈپلومہ اور ایڈوانس ڈپلومہ سے وابستہ طلبہ و طالبات نے شرکت کی اور نمایاں پوزیشن حاصل کیں۔ مختلف زمروں میں ضیاء القمر، تاجدار احمد، محمد آفاق، محمد زکریا، محبوب عالم اور جویریہ (دہلی یونیورسٹی) نے ’’مصنوعی ذہانت اور عربی زبان‘‘ اور ’’موجودہ دور میں عربی زبان: مواقع اور چیلنجز‘‘ کے عنوان سے عربی تقریر میں ، محمد مونس، محمد عاصم، محمد اسجد علی، فیض احمد اور محمد سعد (جامعہ ملیہ اسلامیہ) کی ٹیم نے بیت بازی میں ، تزکیہ ازکی، آفرین اور ارم یامین (دہلی یونیورسٹی) نے خطاطی میں جبکہ حافظ محمد شارق (ذاکر حسین کالج)، محمد مونس (جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور نمرہ (سینٹ اسٹیفن کالج) نے عربی نغمات کے مقابلے میں بالترتیب اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کی۔ تمام کامیاب طلبہ کو نقد انعامات اورمولانا محمد یوسف اصلاحی ،مولانا سیدمحمد عبادت،پروفیسر ولی اختر ندوی اور پروفیسر نثار احمدفاروقی کے نام سے موسوم تشجیعی اسناد سے نوازا گیا۔ پہلے دن کے سیشن کی نظامت پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر اصغر محمود نے کی، جبکہ اظہارِ تشکر شعبہ کے استاد ڈاکٹر محمد اکرم نے ادا کیا۔
دوسرے دن منعقدہ تقریبِ تقسیمِ انعامات سے قبل شعبۂ عربی کے صدر پروفیسر سید حسنین اختر نے افتتاحی گفتگو میں عربی زبان کی لسانی و ثقافتی روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شعبۂ عربی گزشتہ دو برسوں سے عالمی یومِ عربی کے موقع پر مسابقاتی پروگرام منعقد کر رہا ہے اور ہر سال اس کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان پروگراموں کا بنیادی مقصد طلبہ کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ ججز کے تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ پارٹ ٹائم کورسز کے طلبہ کی کارکردگی دیگر جامعات کے لیے ایک نمونہ بن کر سامنے آئی ہے۔
تقریب کی صدارت کررہے ڈین کلچر کونسل، دہلی یونیورسٹی پروفیسر رویندر سنگھ نے اپنے صدارتی خطاب میں شعبۂ عربی کی ثقافتی و ادبی سرگرمیوں اور پروگرام میں پیش کی گئی تقریروں کے موضوعات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ موضوعات نہایت اہم اور حساس ہیں،چنانچہ مصنوعی ذہانت نے تقریباً تمام زبانوں کو متاثر کیا ہے،انھوں نےہندوستانی ثقافت و مختلف زبانوں کے کلاسیکی متون کو عربی زبان میں منتقل کیے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عربی زبان کی صوتی نغمگی کو ایک نظم کے ذریعے پیش کیا۔پروگرام کی مہمانِ خصوصی پروفیسر نیرا اگنی مترا، چیئرپرسن شعبۂ بین الاقوامی تعلقات، دہلی یونیورسٹی نے شعبۂ عربی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جامعات کی عالمی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے عربی زبان اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی اور عرب ممالک کی جامعات کے درمیان تعلیمی معاہدات پر بھی زور دیا۔ اس سے قبل شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر محمد نعمان خان نے عالمی دن برائے عربی زبان کے ابتدائی دنوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک کو اگر چھوڑدیا جائے تو ہندوستان میں جس انداز، سرگرمی اور دلچسپی کے ساتھ شعبۂ عربی، دہلی یونیورسٹی اس دن کو مناتا ہے، اس کی مثال دیگر جامعات کے شعبۂ عربی میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے یہاں کے طلبہ کی مؤثر کارکردگی پر انہیں مبارکباد پیش کی اور شعبۂ عربی سے اپنے دیرینہ تعلقات کا بھی اعادہ کیا۔تقریب کی نظامت ڈاکٹر مجیب اختر نے کی جبکہ اظہارِ تشکر ڈاکٹر اصغر محمود نے ادا کیا۔ پروگرام میں شعبۂ فارسی کے سینئر استاد پروفیسر علیم اشرف، ڈاکٹر ضیاء الرحمن، کشمیر سے آئے ڈاکٹر ریاض احمد، ڈاکٹر شمیم احمد، ڈاکٹر مشتاق (سینٹ اسٹیفن کالج)، ڈاکٹر آصف اقبال، ڈاکٹر ابو تراب، پریتی بھارتی، محمد اسامہ اور دیگر گیسٹ فیکلٹیز کے علاوہ بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d9%88%d8%b1%d9%84%da%88-%d8%b9%d8%b1%d8%a8%da%a9-%da%88%db%92-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%88%d9%82%d8%b9-%d9%be%d8%b1-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%85/feed/0جامعہ میں اینٹی مائیکروبائیل ریسسٹینس کے موضوع پر قومی کانفرنس کا انعقاد
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%85%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%d8%b1%db%8c%d8%b3%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%86/
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%85%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%d8%b1%db%8c%d8%b3%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%86/#respondMon, 10 Nov 2025 12:52:30 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5318(پی این این)
نئی دہلی :سینٹر فار انٹر ڈسپلنری ریسرچ ان بیسک سائنس (سی آئی آر بی ایس سی)فیکلٹی آف لائف سائنس،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’فرنٹیئرس ان اینٹی مائیکروبائیل ریسسٹینس (اے ایم آر)رسرچ،پالیسی اینڈ پریکٹس‘ کے موضوع پر دوروزہ قومی کانفرنس منعقد کیا۔ اس پروگرام کا انعقاد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک سو پانچویں یوم تاسیس تقریبات کے حصے کے طورپر ہوا تھا۔
اینٹی مائیکروبائیل ریسسٹینس یا اے ایم آر اکیسویں صدی کے سب سے خطرناک عالمی صحت چیلنجز میں سے ایک ہے۔مزاحم روگ دائی میں خطرناک حد تک اضافے نے دہائیوں کی طبی پیش رفت کو ناکافی بتانے کا اشارہ ہے اور عوامی صحت،زراعت اور ماحولیایت کے لیے یکساں طورپر بڑا خطرہ ہے۔یہ کانفرنس دانشورانہ مذاکرات اور اشتراکی لین دین کے لیے ایک پلیٹ فارم کا م کررہی ہے جس میں محققین، معالجین،سائنس داں، علمی ہستیاں،پالیسی ساز اور متعلقین ایک ساتھ اے ایم آر رسرچ، معائنہ،عمل اور اہم پالیسی تیاری کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہورہے ہیں۔کانفرنس کا افتتاحی پروگرام چھ نومبر دوہزار پچیس کو منعقد ہوا۔کانفرنس کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا جس کے بعد جامعہ کا ترانہ پیش کیا گیا۔بعد ازاں معزز اور باوقار مہمانان کی خدمت میں بطور تہنیت مومینٹو اور شال پیش کی گئی۔پروفیسر مظہر آصف (شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،(مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ) پروگرام میں شریک ہوئے، مہمان خصوصی(پروفیسر آر۔سی کوہاد،وائس چانسلر،سوامی وویکانند یونیورسٹی، ککراجھار، آسام) مہمان اعزازی (پروفیسر ایس۔کے سریواستو،وائس چانسلر،بابو بنارسی داس یونیورسٹی، لکھنؤ، اتر پردیش) اور کلیدی خطبہ کے مقرر (پروفیسر راجیو سود،وائس چانسلر بابا فرید یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسس،فرید کوٹ، پنجاب) شریک ہوئے۔پروفیسر زاہد اشرف (ڈین،فیکلٹی آف لائف سائنسس) پروفیسر رنجن پٹیل،(چیئر مین و ڈائریکٹر سی آئی آر بی ایس سی) پروفیسر تنوجا (ڈین،اکیڈمک افیئرز،جامعہ ملیہ اسلامیہ و کانفرنس کنوینر)پروفیسر شمع پروین (منتظم سیکریٹری)فیکلٹی اراکین اوررسرچ اسکالروں اور شرکا افتتاحی اجلاس میں موجود تھے۔ ایسے اہم پروگرام کے انعقاد کے لیے مندوبین نے منتظمہ کمیٹی کی تعریف کی۔
افتتاحی اجلاس میں پروفیسر شمع پروین نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بتائے۔پروفیسر رنجن پٹیل نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور سی آئی آر بی ایس سی میں جاری بین علومی تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کیا۔پروفیسر زاہد اشرف نے اے ایم آر اور تحقیق پر مبنی فیکلٹی آف لائف سائنس کی دیگر حصولیابیوں سے سامعین و حاضرین کو آگاہ کرایا۔ پروفیسر تنوجا نے تعلیمی افضلیت اور برادری پر مبنی تعلیم کے فروغ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کردار پر زور دیا۔پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے سامعین سے خطاب کیا اور بامعنی تعلیمی پلیٹ فارم تیار کرنے کے لیے منتظمہ کمیٹی کی کوششوں کو سراہا۔نیز انہو ں نے اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ کانفرنس سے در آمد اہم باتیں اور تحقیقی ماحصل عوامی بیداری اور تعلیمی حصولیابی میں معاون و مددگار ثابت ہوں کانفرنس کے دوران زیر بحث آئی بصیر ت افروز باتوں کو زیادہ لوگوں تک پہنچانے اور انہیں عام کرنے کی اہمیت بتائی۔پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے صدارتی گفتگو کرتے ہوئے اے ایم آر سے نمٹنے کے لیے موثر تحقیق اور اختراعیت کو فروغ دینے کے سلسلے میں تعلیمی اداروں کی اہمیت اجاگر کی۔ انہو ں نے اے ایم آر سے نمٹنے کے لیے کمیونیٹی بیداری اور اشتراکی سائنسی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔نیز انہو ں نے انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے اور اے ایم آر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صحت مند طرز زندگی کے بطور تدارکی تدبیر اختیار کرنے کی بات کہی۔پروفیسر کوہاد نے اشتراکی تحقیق، عوامی بیداری،معقول اینٹی بایوٹک استعمال اور فعال پالیسی میکانزم کے ضرورت و اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دنیا بھر میں اینٹی مائیکروبائل ریسسٹینس کے بڑھتے خطرے کو اجاگرکیا۔ پورے ملک میں علمی معلومات کی موثر ترویج کے لیے قومی تعلیمی پالیسی دوہزار بیس کے نفاذ پر توجہ مرکوز رکھی۔
پروگرام میں پروفیسر ایس۔کے۔سریواستو کا بھی استقبال کیا گیا جنہوں نے اے ایم آر کو پھیلنے سے روکنے کے لیے تدارکی تدابیر اور بین ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔پروفیسر راجیو سود نے اے ایم آر کے طبی مضمرات، مریضوں کی نگہ داشت کے چیلنجز اور قومی و ادارہ جاتی سطحوں پر اینٹی مائیکروبائل ایسٹورڈشپ پروگرام کو مضبو ط کرنے سے متعلق کلیدی خطبہ دیا۔ اس موقع پر پروفیسر مظہر آصف نے آئی آئی ٹی روپرکے ممتاز سائنس داں اور مشہور ماہر مامونیات پروفیسر جاوید اگریوالا کاشال پوشی کرکے ان کا خیر مقدم اور استقبال کیا۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%85%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%d8%b1%db%8c%d8%b3%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%86/feed/0جامعہ ملیہ اسلامیہ میں نکالاگیا’ترنگا یاترا‘
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%da%a9%d8%a7%d9%84%d8%a7%da%af%db%8c%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d9%86%da%af/
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%da%a9%d8%a7%d9%84%d8%a7%da%af%db%8c%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d9%86%da%af/#respondThu, 14 Aug 2025 10:39:49 +0000https://sachkiawaz.com/?p=4729(پی این این)
نئی دہلی: پروفیسر مظہر آصف شیخ الجامعہ اور پروفیسر محمد مہتا ب عالم رضوی،مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے آزادی کاامرت مہتسو‘ کے حصے کے طورپر جسے2اگست سے 15 اگست کے درمیان منایا جارہاہے۔ سرکار کی ہر گھر ترنگا (ایچ جی ٹی) مہم منانے کے لیے آج ’ترنگا یاترا‘ کی ایک بڑی ریلی کو ہری جھنڈی دکھائی جس میں ہزاروں کی تعداد میں جامعہ کے اسٹاف اورطلبہ نے شرکت کی۔آج یہاں جاری ریلیز کے مطابق یہ ترنگا ریلی اس مقصد سے نکالی گئی کہ اس سے لوگوں کواس بات کی تحریک ملے کہ وہ ترنگا اپنے گھروں میں لے جائیں اور فخر کے ساتھ ہندوستان کی آزادی منانے کے لیے گھروں میں ترنگا لہرائیں۔ ریلی یونیورسٹی گیٹ نمبر پندرہ سے شروع ہوئی اور یونیورسٹی کے مین روڈ کا چکر کاٹ کر انصاری آڈیٹوریم کے سبزہ زار پرختم ہوئی۔
فیکلٹیز کے ڈینز،ڈی ایس ڈبلیو،صدور شعبہ جات، مراکز کے ڈائریکٹر،یونیورسٹی لائبریرین، چیف پراکٹر پروفیسر اسد ملک، جامعہ اسکول کے پرنسپلس اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں فیکلٹی،طلبہ اور جامعہ کے اسٹاف نے ریلی کو پرکشش بنانے کے لیے انتہائی دلچسپی سے ترنگے کے اسکارف،دوپٹے اور دوسری آرائش کی چیزیں لگا کرریلی میں حصہ لیا۔
پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنی تقریر ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ کے مصرعے سے شروع کی اور کہا ’ترنگا یاترا صر ف ہمارے جذبہ حب الوطنی اور مادر وطن سے محبت وعقیدت کا اظہار نہیں بلکہ یہ ہمیں آپس میں جوڑتا اور متحد رکھتاہے خاص طورپر ہمارے نوجوانوں کو۔“پروفیسر آصف نے مزید کہاکہ ’ترنگا یاترا صرف ملک کو ہمارا سلام نہیں بلکہ ساتھ ساتھ چلنے اور ملک کی ترقی و بہبود میں اور اس کے تئیں ہماری ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا بھی ایک اہم موقع ہے۔ترنگا یاترا میں شریک ہوکر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے فیکلٹی،اسٹاف اور طلبہ نے ان لوگوں کی امنگوں کے تئیں جنھوں نے ملک کو آزاد کرانے میں اپنی زندگیاں قربان کی ہیں اپنے عہد کی تجدید کی ہے۔
پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ’ملک کے تئیں اس نوع کے جذبہ حب الوطنی کا اظہار قابل دید تھا۔اساتذہ، اسٹاف اور طلبہ نے ہر گھر ترنگا میں غیر معمولی دلچسپی اور گہرے شغف کے ساتھ حصہ لیا۔ایچ جی ٹی مہم ہمیں ان شہیدان وطن کے متعلق بتاتی ہے جنھوں نے آزاد ی کے حصول کے لیے اپنی جانیں نثار کیں۔اناسی برسوں کے بعد آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ جن لوگوں نے ملک کی آزادی میں اپنی زندگیاں قربان کی ہیں ان کے نقش قدم پر چل کر ہم ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرسکیں۔ ترنگا یاترا ہم مستقبل میں بھی منائیں گے تاکہ ہماری آئندہ نسل مجاہدین آزادی کو فراموش نہ کردے۔“پروفیسر رضوی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے این سی سی کیڈٹس اور این ایس ایس رضاکاروں اورپروفیسر نیلوفر افضل، ڈی ایس ڈبلیو پروفیسر اقتدار محمد خان،ڈین،ہیومنی ٹیز اور این سی سی کوآرڈی نیٹر،جناب وقار حسین صدیقی،این ایس ایس کو آر ڈی نیٹر کی انتھک کوششوں کا شکریہ ادا کیا جن کے نتیجے میں شان دار ترنگا ریلی نکالنا ممکن ہوسکا اور انھوں نے اپنی تقریر کا اختتام ’جے ہند‘ سے کیا۔ترنگا یاترا قومی ترانے کی نغمہ سرائی اور جذبہ حب الوطنی کے شدید احساس کے ساتھ ختم ہوئی اور فضا میں ’جے ہند‘ کی صدائے بازگشت سے یونیورسٹی کا کشادہ سبزہ زار بھرگیا۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%d9%85%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%da%a9%d8%a7%d9%84%d8%a7%da%af%db%8c%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d9%86%da%af/feed/0