add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); Emirates Shariah Bihar Odisha Jharkhand – sachkiawaz.com https://sachkiawaz.com Tue, 16 Dec 2025 13:09:11 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.9 حجاب کی توہین پرامارت شرعیہ سمیت دیگر ملی تنظیموں کی جانب سےسخت اعتراض ، نتیش کمار سے معافی کا مطالبہ https://sachkiawaz.com/%d8%ad%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%b1%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c%db%81-%d8%b3%d9%85%db%8c%d8%aa-%d8%af%db%8c%da%af%d8%b1-%d9%85/ https://sachkiawaz.com/%d8%ad%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%b1%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c%db%81-%d8%b3%d9%85%db%8c%d8%aa-%d8%af%db%8c%da%af%d8%b1-%d9%85/#respond Tue, 16 Dec 2025 13:09:11 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5549 (پی این این)
پٹنہ: وزیراعلیٰ نتیش کے ذریعہ بھری محفل میں ایک مسلم آیوش ڈاکٹر کو بے حجاب کئے جانے پر بہار کی موقر دینی و ملی جماعتوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ نے پیر کوسی ایم سکریٹریٹ میں نو تقرر آیوش ڈاکٹر وں کے درمیان تقرری نامہ تقسیم کرنے کے دوران ایک مسلم خاتون ڈا کٹر کے چہرے سے حجاب کھینچ دیا تھا۔ اس وقت نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری، وزیر صحت منگل پانڈے، وزیر وجے کمار چودھری، کئی اعلیٰ افسران اور نو تقرر آیوش ڈاکٹر س موجود تھے۔
اس واقعہ کی ویڈیو فوٹیج جو عوامی سطح پر زیر گردش ہے،جس نے بہار کے امن پسند شہریوں کے دلوں میں بے چینی، اضطراب اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔دینی و ملی جماعتوں نے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ خاتون کی پختہ شناخت کے بعد ہی تقرری نامہ حاصل کرنے کے لئے انہیں وزیر اعلیٰ کے سامنےلایا گیا ہوگا۔ اس لئے یہ معاملہ کہیں سے بھی شناخت یا سیکوریٹی کا نہیں ہے۔ یہ معاملہ جہاں توہین حجاب کا ہے، وہیں ایک خاتون کے وقار اور عفت کابھی ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ مسلم خواتین کے لئے حجاب محض ایک لباس نہیں، بلکہ ان کی مذہبی شناخت، ذاتی وقار اور باطنی حسن کا اظہار ہے۔ کسی سرکاری تقریب اور عوامی پلیٹ فارم پر اس میں مداخلت خواہ کسی بھی فرد اور شخصیت کی طرف سے ہو، مسلمانوں کو کسی بھی حال میں پسند نہیں ہے۔ اس لئے وزیر اعلیٰ کو نہ صرف مذکورہ خاتون سے، بلکہ بہار کی تمام آدھی آبادی سےمعافی مانگنی چاہئے کیوں کہ اس طرح کی حرکت سے تمام عورتوں کا وقار مجروح ہواہے۔ یہ معاملہ کسی اختلاف یا محاذ آرائی کا نہیں ہے، بلکہ انسانی وقار، خواتین کا احترام اور مذہبی آزادی کا ہے۔ ایسے واقعات کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اجتماعی شعور اور تحفظ کے احساس کو متاثر کرتا ہے۔
دینی و ملی جماعتوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی اس نازیبا حرکت سے ان عناصر کو شہ مل سکتی ہے جو خاتون کے وقار کو مجروح کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ دینی و ملی جماعتوں نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس قسم کے واقعات لاء اینڈ آرڈر کے لئے مسئلہ بن سکتے ہیں،دینی و ملی جماعتوں نے کہا کہ کسی بھی مہذب سماج میں اس قسم کا رویہ باعث تشویش ہے۔ بیان جاری کرنے والی تنظیموں میں امارت شرعیہ، بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ،جماعت اسلامی ہند،بہار،جمعیت العلماء ہند، بہار (الف)، جمعت علماء ہند، بہار (میم) ادارہ شرعیہ (ڈاکٹر فریدامان اللہ )آل انڈیا مومن کانفرنس بہار، اورمجلس علماء خطباء امامیہ(اہل تشیع) شامل ہیں۔

 

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ad%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%b1%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c%db%81-%d8%b3%d9%85%db%8c%d8%aa-%d8%af%db%8c%da%af%d8%b1-%d9%85/feed/ 0
عالم و فاضل کی ڈگریوں کو تسلیم کرکے اپنے سیکولر کردار کو قائم رکھے جھارکھنڈ حکومت :امیر شریعت https://sachkiawaz.com/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d9%88-%d9%81%d8%a7%d8%b6%d9%84-%da%a9%db%8c-%da%88%da%af%d8%b1%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%aa%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%d8%b1%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92/ https://sachkiawaz.com/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d9%88-%d9%81%d8%a7%d8%b6%d9%84-%da%a9%db%8c-%da%88%da%af%d8%b1%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%aa%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%d8%b1%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92/#respond Sun, 19 Oct 2025 13:02:24 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=5192 (پی این این)
پھلواری شریف: امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے حکومت جھارکھنڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ عالم وفاضل کی ڈگریوں کو دوبارہ تسلیم کرکے اپنے سیکولر کردار کوبحال رکھے ورنہ ریاست کے اقلیتی طبقات خاص کر مسلمانوں کا اعتماد حکومت جھارکھنڈ سے ٹوٹ جائے گا دراصل حالیہ دنوں میں جھارکھنڈ کی وزارات تعلیم کے چیف سکریٹری اوماشنکر سنگھ نے اپنے ایک سرکولر کے ذریعہ عالم و فاضل کی اسناد کو کالعدم قرار دے کر ایک نئے فتنہ کو جنم دیدیا ہے ،اگر اس فتنہ کے دروازے کو بند نہیں کیا گیا تو طلبہ وطالبات کے اندر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی پھر ریاست کا تعلیمی ماحول بھی بگڑ ے گا،مسلم طلبہ و طالبات مایوسی کے شکار ہوں گے اسلئے عالم وفاضل کی ڈگریوں کو تسلیم کرکے بچوں کے مستقبل کوروشن و تابناک بنایا جائے۔
امیر شریعت نے کہا کہ غیر منقسم بہار میں ملحقہ مدارس کے عالم وفاضل کے درجات کے امتحانات بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ذریعہ ہوا کرتے رہے اور یہاں سے کامیاب ہونے والے طلبہ کالجزویونیورسیٹوں میں داخلہ لیتے رہے ہیں جب مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسیٹی قائم ہوئی تو عالم وفاضل کے امتحانات یونیورسیٹی کے ذریعہ لئے جانے لگے ،اس کا فائدہ یہ ہوا کہ عالم کو گریجویشن اور فاضل کو پوسٹ گریجویشن کا درجہ حاصل ہوگیااس کے بعد NEETاورJEEکے امتحانات میں بھی شریک ہورہے ہیں جس سے بچوں کا مستقبل روشن ہونے لگا،لیکن جب 2000ء میں جھارکھنڈ کے نام سے مستقل ریاست تشکیل پائی تو وہاں کی حکومت نے 2003 میں جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل کے ذریعہ عالم و فاضل کے امتحانات لینی شروع کی جس کی بنیاد پر سرکاری ملازمت بھی ملتی رہی ،لیکن اب اس نئے سرکولر کے ذریعہ مسلم بچوں کے مستقبل کو تاریک بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے تعلیم یافتہ طبقہ میں بے چینی و اضطراب کی لہر ڈور گئی ہے ویسے یہ بھی دستور کے خلاف ہے ،اس لئے حکومت جھارکھنڈ اس مسئلہ پر نہایت ہی سنجیدگی سے غور کرے اور اس کو ماضی کی طرح بحال رکھے ۔
امیر شریعت نے مزید کہا کہ جھارکھنڈ ریاست کی تشکیل کے بعد بھی بہت سے اقلیتی وفلاحی اور تعلیمی ادارے تعطل کے شکار ہیں ،اردو کو اب تک دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہیں ہو ا ،ریاست کے بہت سے پرائمری اردو اسکو ل بند پڑے ہوئے ہیں جس سے بڑی مایوسی ہورہی ہے ،اسلئے حکومت جھارکھنڈ سے ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ وہ تمام اقلیتی تعلیمی و فلاحی محکمے جو غیر منقسم بہار میں رہے ہیں انہیں جھارکھنڈ میں بھی قائم کیا جائے تاکہ ریاست کے ہر طبقہ کو ترقی کرنے کے مواقع میسر ہوں۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d9%88-%d9%81%d8%a7%d8%b6%d9%84-%da%a9%db%8c-%da%88%da%af%d8%b1%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%aa%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%d8%b1%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92/feed/ 0