add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); Eid-ul-Fitr – sachkiawaz.com https://sachkiawaz.com Thu, 19 Mar 2026 14:31:08 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.9 ارریہ:عید الفطر اور رام نومی میں امن و امان کی بحالی کیلئے امن کمیٹی کی میٹنگ منعقد https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c%db%81%d8%b9%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%b7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d9%85-%d9%86%d9%88%d9%85%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d9%88-%d8%a7/ https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c%db%81%d8%b9%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%b7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d9%85-%d9%86%d9%88%d9%85%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d9%88-%d8%a7/#respond Thu, 19 Mar 2026 14:31:08 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=6085 (پی این این)
ارریہ :بہار کے ارریہ ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دہن کی صدارت میں پرمان آڈیٹوریم، ارریہ میں الوداع جمعہ، عید الفطر اور رام نومی میں امن و امان کی بحالی کےلئےضلع مند کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں 20 مارچ 2026 کو منائی جانے والی عید الفطر اور 27 مارچ 2026 کو ہونے والی رام نومی کے پرامن اور ہم آہنگی کے جشن کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ضلع مجسٹریٹ نے امن و امان کو برقرار رکھنے کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ تہوار کے دوران کسی بھی قسم کی غیر سماجی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور حساس مقامات پر خصوصی چوکسی برقرار رکھی جائے گی۔ انہوں نے پولیس اور انتظامی اہلکاروں کو مشترکہ طور پر گشت بڑھانے اور چوکس رہنے کی ہدایت کی۔ امن کمیٹی کے ارکان اور عوامی نمائندوں نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔ اراکین نے باہمی ہم آہنگی برقرار رکھنے، افواہوں کو نظر انداز کرنے اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن پیغامات کے پھیلاؤ کو روکنے پر زور دیا۔
انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تہوار کے دوران ڈی جے کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔ مزید برآں جلوس کے راستوں کی پہلے سے تصدیق کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ میٹنگ میں ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر، ارریہ، سب ڈویژنل افسران، ارریہ اور فوربس گنج، سول سرجن، ارریہ، ضلع سطح کی امن کمیٹی کے تمام اراکین، اور معزز عوامی نمائندے موجود تھے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c%db%81%d8%b9%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%b7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d9%85-%d9%86%d9%88%d9%85%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d9%88-%d8%a7/feed/ 0
عید الفطر رمضان کی برکتوں کو سنبھالنے اور امت کی ذمہ داریوں کو یاد رکھنے کا وقت:امیرشریعت https://sachkiawaz.com/%d8%b9%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%b7%d8%b1-%d8%b1%d9%85%d8%b6%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b1%da%a9%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%b3%d9%86%d8%a8%da%be%d8%a7%d9%84%d9%86%db%92-%d8%a7/ https://sachkiawaz.com/%d8%b9%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%b7%d8%b1-%d8%b1%d9%85%d8%b6%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b1%da%a9%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%b3%d9%86%d8%a8%da%be%d8%a7%d9%84%d9%86%db%92-%d8%a7/#respond Thu, 19 Mar 2026 14:25:32 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=6082 (پی این این)
پٹنہ:عید الفطر کی آمد کے موقع پر امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نے ملک اور دنیا بھر کے مسلمانوں اور تمام اہلِ خیر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کا بابرکت مہینہ دراصل اپنے اندر تقوی، پرہیزگاری، ایمان کی مضبوطی ، صبر و اخوت اور ہمدردی جیسی اعلیٰ صفات پیدا کرنے کا موقع تھا؛ لہذا اس بابرکت مہینہ میں صوم و صلوٰۃ ، اذکار و عبادات، تلاوت،تقوی و پرہیزگاری اور نوافل کی جو عادتیں ہمارے اندر پیدا ہوئی ہیں، انہیں عید کے بعد بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھنا چاہیے۔
آپ نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ صدقہ فطر کا نکالنا بھی ایک اہم دینی فریضہ ہے لہذا عید سے قبل ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہم صدقۂ فطر ادا کردیں تاکہ ہمارے ضرورت مند بھائی بہن بھی اس خوشی میں برابر کے شریک ہو سکیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ مسلمان ایمان، صبر، حکمت اور اتحاد کے ساتھ حالات کا مقابلہ کریں، اپنی صفوں میں ہم آہنگی پیدا کریں اور اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امت کے اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں۔
اس موقع پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ عید کے دن نظم و ضبط، امن و امان اور قانون کی پاسداری کا مکمل خیال رکھیں، ہر ایسی سرگرمی سے اجتناب کریں جو دوسروں کے لیے تکلیف یا پریشانی کا سبب بنے، سڑکوں کو بلا وجہ بند نہ کریں، اگر عیدگاہ میں جگہ کم ہو تو اضافی جماعتوں کا اہتمام کریں، اور اپنی خوشیوں میں برادرانِ وطن کو بھی شریک کریں۔انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی، نعرہ بازی یا بدامنی سے دور رہیں اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں۔ اگر کہیں کوئی مشکوک صورتحال ہو تو فوراً امارت شرعیہ اور پولیس انتظامیہ کو اطلاع دیں۔
انہوں نے خاص طور پر نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ لغویات سے پرہیز کریں ، شریعت کے دائرے میں رہ کر عید کی خوشی منائیں،دینِ اسلام کی تعلیمات سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رہیں، اپنے اخلاق و کردار کو سنواریں اور سوشل میڈیا کا مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال کریں، تاکہ وہ خود بھی معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں اور امت کا سرمایہ بن سکیں۔انہوں نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ گھروں میں دینی ماحول کو فروغ دیں اور نئی نسل کی اسلامی تربیت کا فریضہ انجام دیں، کیونکہ ایک صالح معاشرے کی بنیاد ایک باکردار اور باشعور خاندان سے ہی مضبوط ہوتی ہے۔
انہوں نے امتِ مسلمہ کو درپیش عالمی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بالخصوص مظلوم مسلمانوں کے لیے دعا کی اپیل کی اور کہا کہ ہمیں عید کے موقع پر بھی اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کو یاد رکھنا چاہیے جو مختلف خطوں میں ظلم و ستم کا شکار ہیں، اور ان کے لیے خصوصیت کے ساتھ دعا اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عید کی خوشیوں کے موقع پر صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے، عیدگاہوں، مساجد اور عوامی مقامات کو صاف ستھرا رکھا جائے اور ماحول کو آلودہ کرنے والی سرگرمیوں سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ اس عید کو سادگی، شکرگزاری اور باہمی محبت کے ساتھ منائیں اور اپنے معاشرے میں خیر و بھلائی کو فروغ دینے کا عزم کریں۔آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس عید کو امتِ مسلمہ کے لیے خیر و برکت، اتحاد و اتفاق اور امن و سلامتی کا ذریعہ بنائے، اور پوری انسانیت کو حقیقی خوشیوں سے نوازے۔

 

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%b9%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%b7%d8%b1-%d8%b1%d9%85%d8%b6%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b1%da%a9%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%b3%d9%86%d8%a8%da%be%d8%a7%d9%84%d9%86%db%92-%d8%a7/feed/ 0
آزاد میدان میں نمازِ عیدین کی روایت تعطل کا شکار https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2%d9%90-%d8%b9%db%8c%d8%af%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%a7%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d8%b9%d8%b7/ https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2%d9%90-%d8%b9%db%8c%d8%af%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%a7%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d8%b9%d8%b7/#respond Wed, 18 Mar 2026 14:39:57 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=6076 جاوید جمال الدین
ممبئی:ممبئی میں عیدالفطر کی صبح ہمیشہ سے ایک روحانی، سماجی اور تہذیبی منظر پیش کرتی رہی ہے۔ سفید لباس میں ملبوس مرد، رنگین کپڑوں میں بچے اور گھروں سے نکلتے خاندان جب عید کی نماز کے لیے رواں دواں ہوتے ہیں تو شہر کی فضا ایک خاص سرور میں ڈوب جاتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جنوبی ممبئی میں واقع آزاد میدان اس عظیم اجتماع کا سب سے بڑا مرکز ہوا کرتا تھا، جہاں دور دراز علاقوں سے مسلمان نمازِ عیدین ادا کرنے آتے تھے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں یہ صدیوں پرانی روایت تعطل کا شکار ہو کر تقریباً ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔یہ تبدیلی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ مختلف عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں اجازت کے پیچیدہ مراحل، تنظیمی انتشار، انتظامیہ کا عدم اعتماد اور شہری ترقیاتی دباؤ نمایاں ہیں۔
تاریخی پس منظر: ایک تہذیبی علامت:آزاد میدان میں عیدین کی نماز ایک صدی سے زائد پرانی روایت رہی ہے۔ برطانوی دور میں یہ میدان فوجی مشقوں اور عوامی اجتماعات کے لیے استعمال ہوتا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ ممبئی کے مسلمانوں کی اجتماعی شناخت بن گیا۔ماضی میں یہاں نماز کا انتظام ایک باقاعدہ کمیٹی کے تحت ہوتا تھا۔ اس دور میں مولانا ضیاء الدین بخاری جیسے جید عالم خطبہ دیتے تھے۔ ان کی پُراثر تقریر اور رقت آمیز دعا کے باعث نمازیوں کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی تھیں۔ وہ نہ صرف مذہبی رہنما تھے بلکہ سیاسی میدان میں بھی سرگرم رہے اور مسلم لیگ سے وابستہ ہو کر ایم ایل اے منتخب ہوئے۔اس کمیٹی میں خلیفہ ضیاء الدین، ہارون موزے والا اور بابائے قوم یوسف پٹیل جیسے سرکردہ افراد شامل تھے، جنہوں نے اس روایت کو منظم انداز میں برقرار رکھا۔
اجازت کا پیچیدہ نظام:ممبئی امن کمیٹی کے صدر فرید شیخ کے مطابق عیدگاہ کے لیے اجازت حاصل کرنا ایک کثیر سطحی اور پیچیدہ عمل ہے۔ان کے مطابق: یہ پرمیشن کوئی ایک ادارہ نہیں دیتا، بلکہ پولیس کمشنر، مقامی ڈی سی پی اور دیگر سرکاری محکمے اس میں شامل ہوتے ہیں۔ آزاد میدان چونکہ پی ڈبلیو ڈی کے تحت آتا ہے، اس لیے وہاں کی اجازت بھی ضروری ہوتی ہے، لیکن اصل فیصلہ کمشنر کا ہوتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ بظاہر یہ ایک رسمی کارروائی لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ مکمل طور پر انتظامیہ کے اعتماد اور حالات پر منحصر ہوتی ہے۔
تنظیمی انتشار اور اعتماد کا بحران:مقامی ذمہ داران کے مطابق اس روایت کے تعطل کی ایک بڑی وجہ تنظیمی کمزوری ہے۔فرید شیخ کے مطابق: پہلے تجربہ کار لوگ تھے، جن کا ایک مضبوط ریکارڈ تھا، مگر اب نئے لوگ بغیر تیاری کے سامنے آ جاتے ہیں۔ کچھ غیر سنجیدہ کوششوں نے پورا معاملہ بگاڑ دیا اور انتظامیہ کا اعتماد مجروح ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ جب ایک ہی معاملے پر مختلف گروپس الگ الگ کوشش کریں تو نہ صرف اتحاد متاثر ہوتا ہے بلکہ حکام کے لیے بھی فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف اور سیکورٹی خدشات:پولیس اور انتظامیہ کے مطابق بڑے اجتماعات کے لیے اجازت دیتے وقت شہری سلامتی کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق اگر کسی گروپ کی تنظیمی صلاحیت یا سنجیدگی پر شبہ ہو تو اجازت دینے میں احتیاط برتی جاتی ہے۔ ایک افسر کے مطابق: اگر کسی بڑے اجتماع میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو صورتحال کو سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے ہمیں مکمل تیاری اور اعتماد درکار ہوتا ہے۔
شہری ترقی اور محدود ہوتی جگہ:ممبئی میٹرو کے تحت جاری تعمیراتی کاموں نے بھی آزاد میدان کے استعمال کو متاثر کیا ہے۔کھدائی، محدود جگہ اور دیگر سرکاری سرگرمیوں کے باعث بڑے پیمانے پر اجتماع کا انعقاد مشکل ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑے شہروں میں کھلی جگہوں کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
متبادل انتظام: مساجد اور محدود گنجائش:آزاد میدان میں نماز نہ ہونے کی صورت میں نمازیوں کا رخ قریبی مساجد کی طرف ہو جاتا ہے، جن میں نمایاں جمعہ مسجد ممبئی ہے۔ اس کے علاوہ انجمن اسلام کے میدان میں بھی نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔یہاں عید کے دن ایک کے بجائے کئی جماعتیں منعقد کی جاتی ہیں، تاہم اس سے نئی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
جگہ کی کمی:عوامی ردعمل:عوام اس تبدیلی کو ایک نقصان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک مقامی شہری عابد شیخ کے مطابق: آزاد میدان میں جو وسعت اور سکون تھا، وہ کہیں اور ممکن نہیں۔ وہاں سب ایک ساتھ ہوتے تھے، یہاں ہم مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں، جو اس روایت کی روح کے خلاف ہے۔
موجودہ صورتحال اور ممکنہ حل:اس وقت صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ چار سے پانچ برسوں سے آزاد میدان میں باقاعدہ نماز نہیں ہو رہی، اور کوئی مضبوط متفقہ قیادت بھی سامنے نہیں آئی۔ماہرین اور مقامی ذمہ داران کے مطابق اس مسئلے کا حل ممکن ہے، بشرطیکہ:ایک متحد اور منظم کمیٹی تشکیل دی جائے،تجربہ کار افراد کو شامل کیا جائے،پیشگی منصوبہ بندی کے ساتھ اجازت حاصل کی جائے،انتظامیہ کے ساتھ اعتماد بحال کیا جائے۔آزاد میدان میں نمازِ عیدین کا تعطل صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی خلا کی علامت ہے۔ یہ روایت ممبئی کے مسلمانوں کی اجتماعی شناخت اور شہر کی مشترکہ ثقافت کا اہم حصہ رہی ہے۔اگرچہ سیکورٹی خدشات اور شہری دباؤ اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کے ساتھ توازن قائم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ یہ روایت مکمل طور پر ختم نہ ہو۔عید کی نماز محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی تجربہ ہے، جو دلوں کو جوڑتا ہے۔ آزاد میدان اس تجربے کی ایک مضبوط علامت رہا ہے۔اب سوال یہی ہے کہ کیا اس تاریخی روایت کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کر کے دوبارہ زندہ کیا جا سکے گا، یا یہ ماضی کی ایک خوبصورت یاد بن کر رہ جائے گی۔یہ فیصلہ صرف انتظامیہ کا نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کے اجتماعی شعور، اتحاد اور سنجیدگی پر منحصر ہے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2%d9%90-%d8%b9%db%8c%d8%af%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%a7%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d8%b9%d8%b7/feed/ 0
ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد کا عید الفطر پر مکمل انتظامات کا مطالبہ https://sachkiawaz.com/%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d9%81%d8%aa%db%8c-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%85%da%a9%d8%b1%d9%85-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%b9%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%b7%d8%b1-%d9%be/ https://sachkiawaz.com/%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d9%81%d8%aa%db%8c-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%85%da%a9%d8%b1%d9%85-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%b9%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%b7%d8%b1-%d9%be/#respond Fri, 13 Mar 2026 11:16:22 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=6026 (پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمدنے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے پرزور اپیل کی کہ شب قدر میں والہانہ طور پر عبادت کریں اور عید الفطر کی تیاریوں میں اسراف سے پرہیز کریں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھیں ۔ صدقہ فطر ہر مسلمان آزاد مالک نصاب پر عید کے دن صبح صادق ہوتے ہی واجب ہو جاتا ہے عمر بھر اس کا وقت ہے لیکن سنت یہ ہے کہ عید کی نماز سے پہلے دے دیا جائے۔ اس کی مقدار فی کس دو کلو 50 گرام گیہوں یا اس کا آٹا یا اس کی قیمت ہے اگر صدقہ فطر میں کھجور یا جو دینا چاہیں تو فی کس چار کلو 100 گرام دیا جائے جس قیمت کا گیہوں خود استعمال کرتے ہیں اس کے حساب سے صدقہ فطر دیا جائے۔ مسکین اور ضرورت مندوں کو تلاش کر کے دیں۔
مفتی مکرم نے دہلی کے اتم نگر علاقے میں ہولی کے دن تشدد کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ ایک غیر مسلم نوجوان کی موت واقع ہو گئی اس کا بھی ہمیں شدید افسوس ہے اور پسماندگان کے ساتھ ہمدردی کا ہم اظہار کرتے ہیں۔ ہولی کے دن چونکہ رنگ کھیلنے کے بعد شراب پینے کا رواج ہے حملہ آورنشے میں تھے یہ جھگڑا ہندو مسلم فرقہ کا نہیں تھا دو پڑسیوں کا تنازعہ تھا ترن نے باہر کے لوگوں کو بلا کر حملہ کر دیا اور دونوں طرف کے لوگ شدید زخمی ہوئے اگر باہر کے حملہ آور نہ ہوتے تو شاید یہ جھگڑا اتنا طول نہ پکڑتا پولیس نے کچھ اقلیتی فرقہ کے افراد کو گرفتار کیا ہے اور ایک مکان کو بھی بلڈوزر سے منہدم کیا ہے کچھ فرقہ پرست لیڈر ویڈیو بنا کر وائرل کر رہے ہیں اور عید الفطر پر بدامنی پھیلانے کا چیلنج کر رہے ہیں ان کے بیانات شدید قابل اعتراض اور غیر قانونی ہیں ان پر ایکشن ہونا چاہیے ۔ملزمان کو سزا ملے لیکن بلڈوزر گھر کے بچوں عورتوں پر ظلم ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے اور عید الفطر کے موقع پر مکمل انتظامات کیے جائیں تاکہ شر پسند کسی سازش میں کامیاب نہ ہو سکیں ۔جمعہ کی نماز کے بعد یوم القدس پروگرام ہوا جس میں قبلہ اول کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور صیہونی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d9%81%d8%aa%db%8c-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%85%da%a9%d8%b1%d9%85-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%b9%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%b7%d8%b1-%d9%be/feed/ 0