add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
Dr. Nalini Mishra – sachkiawaz.com
https://sachkiawaz.com
Fri, 07 Nov 2025 12:50:57 +0000en-US
hourly
1 https://wordpress.org/?v=6.9.9خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں ” جی 20 اعلامیہ اور ہندوستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا فروغ : مسائل و امکانات ” میں 2رزہ سیمینارکا آغاز
https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%85%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%da%86%d8%b4%d8%aa%db%8c-%d9%84%db%8c%d9%86%da%af%d9%88%db%8c%d8%ac-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3-5/
https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%85%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%da%86%d8%b4%d8%aa%db%8c-%d9%84%db%8c%d9%86%da%af%d9%88%db%8c%d8%ac-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3-5/#respondFri, 07 Nov 2025 12:50:57 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5302(پی این این)
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں” جی 20 اعلامیہ اور ہندوستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا فروغ : مسائل و امکانات ” دو روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔آج سیمینار کے پہلے دن افتتاحی اجلاس کے ساتھ دو تکنیکی اجلاس منعقد کیا گیا ۔اس سیمینار کے آغاز میں ڈاکٹر نلنی مشرا نے مہمانوں کا شکریے ادا کرتے ہوئے سیمینار کے موضوع اور اس کی اہمیت و معنی خیزیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نہایت اہم اور بر وقت موضوع ہے۔ آج جب دنیا ایک نئے عالمی نظم کی تشکیل کے مرحلے سے گزر رہی ہے تو ہندوستانی نوجوان اس تبدیلی کے محور بن کر ابھر رہے ہیں۔ جی-20 کے اعلامیے نے ترقی، پائیداری، شمولیت اور اختراع کو جس طرح مرکزِ توجہ بنایا ہے وہ براہِ راست نوجوان نسل کی توانائی، فکر اور قیادت سے جڑا ہوا ہے۔ہندوستان اپنی آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی نوجوان قوم ہے اور یہی نوجوان اس ملک کی حقیقی طاقت اور امکانات کے امین ہیں۔ مگر ان کی صلاحیتوں کے فروغ میں کئی چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ایسے وقت میں یہ ضروری ہے کہ ہم نہ صرف نوجوانوں کے سامنے موجود مسائل کو سمجھیں بلکہ ان امکانات کی بھی نشاندہی کریں جو ان کی توانائی کو صحیح سمت دے سکیں۔
اس افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے لینگویج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے کہا کہ ہندوستان نے جی 20 اعلامیےاعلامیے کوایک زمین، ایک خاندان اور ایک مستقبل کے پیغام کے ساتھ نئی روح عطا کی اور یہ پیغام محض ایک سیاسی نعرہ نہیںبلکہ ایک تہذیبی تصور ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی ترقی کی اصل بنیاد نوجوان نسل کی صلاحیتوں پر استوار ہے۔لکھنؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور مہمان خصوصی پروفیسر منوکا کھنہ نے اس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے نوجوان آج اس عہد کے سب سے بڑے سرمایےہیں اور ایک ایسی قوت جو تخلیق بھی کر سکتی ہے، قیادت بھی کر سکتی ہےاور دنیا کو نئی سمت بھی دے سکتی ہے۔ہمارے نوجوان آج سائنس، ٹیکنالوجی، فنون، ادب اور معیشت کے ہر میدان میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔یہی وہ نسل ہے جو اپنے عزم و ارادے سے ہندوستان کو عالمی برادری میں قیادت کی صفِ اوّل میں کھڑا کر سکتی ہے۔انھوں نےمزید کہا کہ جی 20 کی روح اجتماعیت، اشتراک اور شمولیت پر مبنی ہےاور ہندوستان نے اس فورم کو صرف ایک سیاسی یا معاشی اتحاد کے طور پر نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی تحریک کی شکل میں پیش کیا ہے۔
ایک اہم مقرر اور مہمان ذی وقار پروفیسر لو کش مشرانے جی 20 کی تاریخی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی 20 صرف ایک اقتصادی یا سفارتی فورم نہیںبلکہ عالمی ہم آہنگی، اجتماعی ترقی اور انسانی فلاح کا ایسا پلیٹ فارم ہے جس نے دنیا کو ایک نئی فکری سمت عطا کی ہے۔انھوں نے کہا کہ جی 20 کے قیام سے لے کر آج تک اس نے دنیا کی معیشت کو استحکام بخشنے، غربت کے خاتمے، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔اس افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر نیرج شکلا نے کی ۔
اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے جی 20 اعلامیے نے نوجوانوں کو عالمی ترقی کے مرکزی ستون کے طور پر تسلیم کیا ہے۔یہ اعلامیہ صرف اقتصادی یا سیاسی مفادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا فکری منشور ہے جو مساوات، اشتراک، اجتماعیت اور پائیدار ترقی کے اصولوں پر استوار ہے۔پروفیسر سنتوش گوڈ( جواہر لال نہرو میموریل پی جی کالج بارہ بنکی ) اور پروفیسر دیپالی سنگھ( مہیلا مہا ودیالیہ پی جی کالج کانپور)نےاس اہم موضوع کے دوسرے حصے مسائل اور امکانات پر تفصیل سے گفتگو کی۔اس دوسرے تکنیکی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر محمد اکمل کی ۔اس سیمینار کے دونوں تکنیکی اجلاس میں اس اہم موضوع کے تعلق سے مقالہ نگاروں نے اپنے مقالے پیش کئے جن پر سوالات بھی قائم کئے گئے اور مقالہ نگاروں نے ان کے تشفی بخش جوابات بھی دیئے۔اس سیمینار مختلف شعبوں کے اساتذہ کے علاوہ طلبہ نے بھی کثرت کے ساتھ شرکت کی۔
]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%85%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%da%86%d8%b4%d8%aa%db%8c-%d9%84%db%8c%d9%86%da%af%d9%88%db%8c%d8%ac-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3-5/feed/0غذا ایک قیمتی وسیلہ ، اس کے ضیاع کاروکنا ہر شہری کی ذمہ داری: ڈاکٹر نلنی مشرا
https://sachkiawaz.com/%d8%ba%d8%b0%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%db%8c-%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%84%db%81-%d8%8c-%d8%a7%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%b6%db%8c%d8%a7%d8%b9-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%a9%d9%86%d8%a7/
https://sachkiawaz.com/%d8%ba%d8%b0%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%db%8c-%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%84%db%81-%d8%8c-%d8%a7%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%b6%db%8c%d8%a7%d8%b9-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%a9%d9%86%d8%a7/#respondSat, 18 Oct 2025 12:41:20 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5184خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں خوراک کے ضیاع کے انتظام پر بیداری مہم پروگرام کا انعقاد
(پی این این)
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں ہاسٹل کےطلبہ کے درمیان پرتھوی انوویشنز کے تعاون سے ماحولیاتی شعور اور پائیدار طرزِ زندگی کو فروغ دینے کے مقصد سے ’’خوراک کے ضیاع کے انتظام (Food Waste Management)‘‘ کے موضوع پر ایک بیداری مہم اور شجرکاری پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔جس کا مقصد نوجوانوں کو غذاکے ذمہ دارانہ استعمال اور ماحولیاتی تحفظ کی سمت بیدار کرنا تھا۔اس موقع پر طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نلنی مشرا نے کہا کہ غذا ایک قیمتی قدرتی وسیلہ ہےجو صرف ہماری ذاتی ضرورت نہیں بلکہ انسانی بقا اور ماحولیاتی توازن کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ غذا کا ضیاع صرف سماجی یا معاشی نقصان نہیں بلکہ ماحولیات کے لیے ایک سنگین خطرہ ہےلہذا اس کے ضیاع کا روکنا طلبہ کے ساتھ ہر شہری کی بھی ذمہ داری ہے ۔
ڈاکٹر نلنی مشرا نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ روزمرہ کی زندگی میں غذاکے مؤثر استعمال کو عادت بنائیں، کھانے کے وقت ضرورت سے زیادہ مقدار نہ لیں اور ضائع ہونے والی خوراک کو نامیاتی کھاد یا کمپوسٹ کے طور پر استعمال کریں۔انھوںنے کہا کہ لینگویج یونیورسٹی کا مقصد طلبہ کو صرف علمی میدان میں آگے بڑھانا نہیں بلکہ انہیں ماحولیاتی طور پر حساس اور ذمہ دار شہری بنانا بھی ہے۔اس موقع پرمہمان مقرر انورادھا گپتا نے خوراک کے سائنسی، سماجی اور عملی نظم و نسق کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انھوںنے بتایا کہ اگر غذا کی باقیات کو منظم طریقے سے استعمال کیا جائے تو اسے نامیاتی کھاد یا توانائی کے متبادل ذرائع کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پرلینگویج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے غذاکے ضیاع کے انتظام (Food Waste Management) پر منعقدہ بیداری مہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غذا صرف جسمانی ضرورت نہیں بلکہ قدرت کا انمول تحفہ اور ایک قیمتی وسیلہ ہے۔ اس کا احترام اور درست استعمال ایک تہذیبی رویہ ہے۔ کھانےکا ضیاع نہ صرف اخلاقی کمی کی علامت ہے بلکہ یہ ماحولیاتی اور معاشی توازن کو بھی متاثر کرتا ہے۔انھوںنے اس بات پر زور دیا کہ آج کے دور میںجب دنیا کے مختلف حصوں میں لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہیں، وہیں کچھ ممالک میں روزانہ لاکھوں ٹن غذائیں ضائع کر دی جاتی ہے۔یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسانیت کو اپنے رویّوں پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر اجے تنیجا نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی اصل پہچان صرف علمی ترقی سے نہیں بلکہ اس کے طلبہ کے شعور، حساسیت اور ذمہ داری کے احساس سے ہوتی ہے۔ ہم اپنے طلبہ کو صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ ان کے اندر سماجی ذمہ داری، ماحولیاتی شعور اور اخلاقی خود احتسابی کو بھی فروغ دینا چاہتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے اجتماعی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہر طالب علم اپنی روزمرہ زندگی میں خوراک کے استعمال کے وقت “ضرورت کے مطابق” اصول پر عمل کرے تو اس عادت سے ایک بڑا سماجی انقلاب لایا جا سکتا ہے۔اسی جذبے کے تحت بیداری مہم کے بعدانمول واٹیکا کے نام سے شجر کاری کی گئی جس کے تحت ایک سو ایک پھل دار پودے لگائے گئے۔اس موقع پر ڈاکٹر اودھم سنگھ،ڈاکٹر منیش کماراور ڈاکٹر کوشلیندر شاہ کے علاوہ ہاسٹل کے دیگر طلبہ بھی موجود تھے۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%ba%d8%b0%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%db%8c-%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%84%db%81-%d8%8c-%d8%a7%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%b6%db%8c%d8%a7%d8%b9-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%a9%d9%86%d8%a7/feed/0یوگا صرف جسمانی ورزش نہیں بلکہ یہ زندگی کی ہمہ گیر ترقی کا وسیلہ :ڈاکٹر نلنی مشرا
https://sachkiawaz.com/%db%8c%d9%88%da%af%d8%a7-%d8%b5%d8%b1%d9%81-%d8%ac%d8%b3%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%88%d8%b1%d8%b2%d8%b4-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%a8%d9%84%da%a9%db%81-%db%8c%db%81-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/
https://sachkiawaz.com/%db%8c%d9%88%da%af%d8%a7-%d8%b5%d8%b1%d9%81-%d8%ac%d8%b3%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%88%d8%b1%d8%b2%d8%b4-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%a8%d9%84%da%a9%db%81-%db%8c%db%81-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/#respondThu, 22 May 2025 07:28:37 +0000https://sachkiawaz.com/?p=3760(پی این این)
لکھنو :آج خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں دسویں بین الاقوامی یوگا ڈے کا لینگویج یونیورسٹی کےشعبہ فزیکل ایجوکیشن میں وائس چانسلرپروفیسر اجے تنیجا کی زیر نگرانی اہتمام کیا گیا۔
اس پروگرام کا اہتمام فزیکل ایجوکیشن،این ایس ایس اور سپورٹ کلب کے اشتراک سے گورنر اترپردیش اور چانسلرآنندی بین پٹیل کے ہدایت پر کیا گیا ہے۔ا اس خصوصی موقعے پر این ایس ایس کوارڈینیٹر ڈاکٹر نلنی مشرانے کہا کہ یوگا صرف جسمانی ورزش نہیں بلکہ یہ زندگی کی ہمہ گیر ترقی کا وسیلہ ہے۔
ساتھ ہی ساتھ انھوں نے یوگا کی تہذیبی و ثقافتی اہمیت اور جسمانی و ذہنی افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوگا نہ صرف ہندوستان ایسا قیمتی تہذیبی اور ثقافتی ورثہ ہے جس نے پوری دنیا میں صحت اور تندرستی کے نئے منظروں کو منور کررہا ہے بلکہ اس کے ذریعے اس صارفی عہد اور بھاگتی ہوئی زندگی میں جسمانی ،ذہنی اور روحانی سکون حاصل کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ یوگا ایک جسمانی کثرت اور سرگرمی کے ساتھ ساتھ ایک قدیم جسمانی،ذہنی اور روحانی عمل ہے جس سے زندگی میں مثبت عناصر کا ظہور ہوتا ہے اور اس کے ذریعے سے بہت سے امراض سے بچا جاسکتا ہے۔
روزانہ یوگا کرنے سے کسی بھی طرح کے دباو سے بچا جاسکتا ہےگویا متوازن زندگی گزارنے کے لئے یوگا بہت ضروری ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ یوگا ایک جسمانی،ذہنی اور روحانی مشق ہے اور صحتمند زندگی اور معاشرے کی تعمیر کے لئے اس کو جاری رکھنا ضروری ہے۔شعبہ فزیکل ایجوکیشن کے انچارج ڈاکٹر محمد شارق نے طلبہ سے کہا کہ یوگا صرف آپ کے جسم کو توانائی ہی نہیں بخشتا ہے بلکہ یوگ کرنے والے کے ذہن کو بھی طاقت اور قوت عطا کرتا ہےاور اس سے بہت سی جسمانی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ یوگا ایک دن کا عمل نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کو صحت مند بنانے کا ایک مسلسل عمل ہے لہذا ہم سبھی لوگوں کو یوگا کو اپنی زندگی کا اٹوٹ حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔اس پروگرام میںفزیکل ایجوکیشن کے شعبے کے طلبہ اور این ایس ایس کے رضا کاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور یوگا کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا حلف بھی لیا۔آخر میں ڈاکٹر حسن مہدی نے سبھی شرکا کا شکریہ ادا کیا۔
]]>https://sachkiawaz.com/%db%8c%d9%88%da%af%d8%a7-%d8%b5%d8%b1%d9%81-%d8%ac%d8%b3%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%88%d8%b1%d8%b2%d8%b4-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%a8%d9%84%da%a9%db%81-%db%8c%db%81-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/feed/0