add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
Culture and Arts – sachkiawaz.com
https://sachkiawaz.com
Wed, 03 Jun 2026 10:53:01 +0000en-US
hourly
1 https://wordpress.org/?v=6.9.9اردو اکادمی کی اختتامی تقریب، 266طلبا نے تربیتی سرگرمیوں میں لیا حصہ
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d8%aa%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8%d8%8c-266%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%d9%86%db%92/
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d8%aa%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8%d8%8c-266%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%d9%86%db%92/#respondWed, 03 Jun 2026 10:53:01 +0000https://sachkiawaz.com/?p=7255نئی دہلی:اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام اور محکمۂ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی کے تعاون 14 مئی تا 2جون 2026 منعقدہ ’’سمر کیمپ‘‘ کی اختتامی تقریب آج نہایت شاندار انداز میں منعقد ہوئی۔ اس بامقصد پروگرام میں چوتھی سے بارہویں جماعت تک کے تقریباً266 طلبا نے شرکت کی۔سمر کیمپ کا بنیادی مقصد نئی نسل میں اردو زبان و ادب سے دلچسپی پیدا کرنا، ان کی تخلیقی و فنی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور انھیں مثبت و تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا تھا۔ کیمپ میں خطاطی، غزل گائیکی، پینٹنگ، داستان گوئی، پرسنالٹی ڈیولپمنٹ اور اردو زبان دانی سمیت مختلف شعبوں میں ماہر اساتذہ نے طلبا کو عملی و نظری تربیت فراہم کی۔ طلبا کو جونیئر اور سینئر زمروں میں تقسیم کیا گیا تھا تاکہ ان کی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں نکھارا جا سکے۔اختتامی تقریب میں پرسنالٹی ڈیولپمنٹ ، اردو زبان دانی اور داستان گوئی کے طلبا نے اپنی شاندار کارکردگی پیش کی۔ طلبا نے اعتمادِ نفس، مؤثر اظہارِ خیال اور اردو زبان پر اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔اس موقع پر فائن آرٹ اور اردو کیلی گرافی کی تربیت حاصل کرنے والے طلبا کے تیار کردہ فن پاروں اور خطاطی کے نمونوں کی نمائش بھی منعقد کی گئی، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا اور طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں کی بھرپور تحسین کی۔
تقریب کے اختتام پر سکریٹری اردو اکادمی، دہلی جناب لیکھ راج اور اکاؤنٹ آفیسر جناب انل کمار کامرہ نے سمر کیمپ میں شرکت کرنے والے طلبا میں اسناد (سرٹیفکیٹس) تقسیم کیے۔ اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سکریٹری اکادمی نے سمر کیمپ کے کامیاب انعقاد پر حکومتِ دہلی، محکمۂ فن، ثقافت و السنہ اور وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ جناب کپل مشرا کے تعاون اور سرپرستی کا شکریہ ادا کیا۔ طلبا کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انھوں نے مستقبل میں بھی علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔انھوں نے پرسنالٹی ڈیولپمنٹ کی انسٹرکٹر محترمہ اقرا قریشی، غزل گائیکی کے استاد جناب ذیشان ضمیر، کیلی گرافی کے استاد ڈاکٹر شمیم احمد، داستان گوئی کے استاد جناب ساحل آغا، اردو زبان دانی کے استاد ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی اور فائن آرٹ کے استاد جناب پرسون پودار اور ان کے ساتھیوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان اساتذہ نے طلبا کی تربیت و رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث طلبا نے مختصر مدت میں قابلِ قدر پیش رفت کی اور اختتامی تقریب میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔اس موقع پر طلبا، اساتذہ اور والدین نے اردو اکادمی، دہلی کی اس کاوش کو نہایت مفید اور قابلِ ستائش قرار دیا۔ والدین نے اپنے تاثرات میں کہا کہ اکادمی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ایسے تربیتی اور تعلیمی پروگرام بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے، ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے اور اردو زبان و ادب سے وابستگی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انھوں نے اردو اکادمی، دہلی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے معیاری اور بامقصد پروگراموں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔
]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d8%aa%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8%d8%8c-266%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%d9%86%db%92/feed/0اردو اکادمی کا سمر کیمپ: نئی نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے کی کامیاب کوشش
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d9%85%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%85%d9%be-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%86%d8%b3%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ae%d9%84%db%8c/
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d9%85%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%85%d9%be-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%86%d8%b3%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ae%d9%84%db%8c/#respondSun, 31 May 2026 11:54:32 +0000https://sachkiawaz.com/?p=7158
نئی دہلی :اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام اور محکمہ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی کے خصوصی تعاون سے 14 مئی تا 3 جون 2026 جاری ’’سمر کیمپ‘‘ کامیابی کے ساتھ جاری ہے، جس میں چوتھی سے بارہویں جماعت تک کے تقریباً 230 طلبہ و طالبات سرگرمِ عمل ہیں۔ اس بامقصد پروگرام کے انعقاد میں حکومتِ دہلی، بالخصوص اکادمی کے چیئرمین اور وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ جناب کپل مشرا کی سرپرستی اور تعاون کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ اردو اکادمی، دہلی اس بھرپور تعاون پر حکومتِ دہلی اور جناب کپل مشرا کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتی ہے۔
سمر کیمپ کا بنیادی مقصد نئی نسل میں اردو زبان و ادب سے دلچسپی پیدا کرنا، ان کی تخلیقی و فنی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور انہیں مثبت و تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے۔ کیمپ میں خطاطی، غزل گائیکی، پینٹنگ، داستان گوئی، شخصیت سازی اور اردو زبان دانی سمیت مختلف موضوعات پر تربیتی کلاسیں منعقد کی جا رہی ہیں، جن میں ماہر اساتذہ طلبہ کو عملی اور نظری تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ طلباکو جونیئر اور سینئر زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ان کی تعلیمی اور تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں نکھارا جا سکے۔
بچوں اور ان کے سرپرستوں کی دلچسپی کے پیشِ نظر گزشتہ روز اور آج محفلِ غزل، محفلِ قوالی اور داستان گوئی کی خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔ گزشتہ روز نوجوان غزل گلوکار ارمان علی نے منتخب غزلیں اور صوفیانہ کلام پیش کیا۔ بعد ازاں سمر کیمپ میں غزل گائیکی کی تربیت حاصل کرنے والے طلبا نے بھی اپنی غزلیں پیش کیں،جنھیں والدین اور حاضرین نے بے حد سراہا۔آج صبح نو بجے معروف قوال گلوکارہ ناز وارثی نے محفلِ قوالی میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دلکش قوالیاں پیش کیں۔ اس کے بعد جناب جاوید کی ہدایت کاری چھوٹے بچوں کے ذریعہ تیار کیا گیا مزاحیہ ڈراما ’’اندھیر نگری‘‘ پیش کیا گیا، جسے حاضرین نے خوب پسند کیا اور فن کاروں کی کارکردگی کو بھرپور داد دی۔بعد ازاں پرتھم ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے وابستہ معروف ٹرینر اور لرننگ اینڈ ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ جناب فیصل قدوسی نے طلبا، والدین اور اساتذہ سے خطاب کیا۔ انھوں نے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نئی مہارتوں کے حصول، مسلسل سیکھنے کی اہمیت، مصنوعی ذہانت کے مثبت اور مؤثر استعمال، خود اعتمادی، مؤثر ابلاغ اور شخصیت سازی جیسے اہم موضوعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔انھوں نے طلبا کو اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو دریافت کرنے اور انھیں عملی جامہ پہنانے کے لیے محنت، مستقل مزاجی اور لگن کو اپنا معمول بنانے کی تلقین کی۔ اس موقع پر انھوں نے والدین پر بھی زور دیا کہ وہ بچوں کی تخلیقی، فکری اور تعلیمی نشوونما کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں اور ان کی صلاحیتوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں۔ان کی فکر انگیز، معلوماتی اور مؤثر گفتگو سے شرکا نے بھرپور استفادہ کیا اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کے حوالے سے مفید رہنمائی حاصل کی۔
اس کے بعد ساحل آغا کی ہدایت کاری میں موہنی اور دلکش تیواری نے دلچسپ داستانیں پیش کیں۔ بعد ازاں سمر کیمپ کے طلبا نے بھی داستان گوئی کی تربیت کے دوران تیار کی گئی اپنی داستانیں حاضرین کے سامنے پیش کیں، جنہیں بھرپور داد و تحسین سے نوازا گیا۔واضح رہے کہ سمر کیمپ کا اختتامی پروگرام 3 جون 2026 کو منعقد ہوگا، جس میں طلبہ و طالبات کو شرکت اور کامیاب تکمیل کے سرٹیفکیٹس تقسیم کیے جائیں گے۔ اس موقع پر کیمپ کے دوران تیار کردہ تخلیقی و فنی سرگرمیوں کی جھلک بھی پیش کی جائے گی۔اردو اکادمی، دہلی کو یقین ہے کہ اس نوعیت کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیاں نئی نسل کی فکری، ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے میں مؤثر کردار ادا کریں گی اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گی۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d9%85%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%85%d9%be-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%86%d8%b3%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ae%d9%84%db%8c/feed/0اردو اکادمی دہلی کے ’’ سمر کیمپ‘‘ میں محفلِ غزل اور داستان گوئی کی دلکش پیشکش
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d9%85%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%85%d9%be-%d9%85%db%8c%da%ba/
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d9%85%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%85%d9%be-%d9%85%db%8c%da%ba/#respondSun, 24 May 2026 10:07:11 +0000https://sachkiawaz.com/?p=6979نئی دہلی:اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام اور محکمہ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی کے خصوصی تعاون سے 14 مئی تا 2 جون 2026 جاری ’’سمر کیمپ‘‘ میں چوتھی سے بارہویں جماعت تک کے تقریباً 230 طلبا سرگرمِ عمل ہیں۔ اس بامقصد پروگرام کے انعقاد میں دہلی سرکار، بالخصوص اکادمی کے چیئرمین اور وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ جناب کپل مشرا کے تعاون اور سرپرستی کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ اردو اکادمی، دہلی اس بھرپور تعاون پر حکومتِ دہلی اور جناب کپل مشرا کا تہہِ دل سے اظہارِ تشکر کرتی ہے۔سمر کیمپ کا مقصد نئی نسل میں اردو زبان و ادب سے دلچسپی پیدا کرنا، ان کی تخلیقی و فنی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور انھیں مثبت و تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے۔ کیمپ میں خطاطی، غزل گائیکی، پینٹنگ، داستان گوئی، شخصیت سازی اور اردو زبان دانی جیسے مختلف موضوعات شامل ہیں، جن میں ماہر اساتذہ طلبا کو عملی و نظری تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ طلبا کو جونیئر اور سینئر زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ان کی تعلیمی اور تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں نکھارا جا سکے۔طلبا اور والدین کی دلچسپی کے پیشِ نظر آج ایک خصوصی محفلِ غزل کا انعقاد کیا گیا، جس میں دہلی گھرانے کے معروف غزل گلوکار جناب غلام صابر نے اپنے فن کا دلکش مظاہرہ پیش کیا اور طلبا کی فرمائش پر مقبول غزلیں سنائیں۔ اس کے بعد داستان گو تسنیم اور آستھا نے ’’آدھا آدھا‘‘ اور ’’جنت کی سیر‘‘ کے عنوان سے دلچسپ داستانیں پیش کیں، جنھیں حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ بعد ازاں سمر کیمپ میں داستان گوئی سیکھنے والے چند طلبا نے بھی مختصر داستانیں پیش کرکے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر طلبا اور والدین نے اردو اکادمی، دہلی کی اس کاوش کو نہایت مفید اور حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام بچوں کی ذہنی و تخلیقی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سمر کیمپ میں شریک طلبا نہ صرف اردو زبان و ادب سے واقفیت حاصل کر رہے ہیں بلکہ فنونِ لطیفہ، اظہارِ خیال اور سماجی اقدار سے بھی عملی طور پر آشنا ہو رہے ہیں۔ اکادمی کی جانب سے تربیتی ماحول، نظم و ضبط اور بچوں کی سہولت کا خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے، جس کے باعث کیمپ میں طلبا کی دلچسپی روز بروز بڑھ رہی ہے۔سمر کیمپ کو طلبا اور والدین کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے طلبا کو ریفریشمنٹ اور ضروری تدریسی سامان مفت فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ اختتام پر شرکا میں اسناد بھی تقسیم کی جائیں گی۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d9%85%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%85%d9%be-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/0اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام جلسۂ تقسیمِ انعامات پروگرام منعقد
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%a7%db%81%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%ac%d9%84%d8%b3%db%82-%d8%aa%d9%82/
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%a7%db%81%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%ac%d9%84%d8%b3%db%82-%d8%aa%d9%82/#respondWed, 25 Feb 2026 13:24:32 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5939(پی این این)
نئی دہلی: اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام سال 2025ء کے تعلیمی و ثقافتی مقابلوں میں کامیاب طلبہ کے اعزاز میں ایوانِ غالب، ماتا سندری لین، نئی دہلی میں جلسۂ تقسیمِ انعامات منعقد ہوا۔ تقریب میں دہلی کے مختلف اسکولوں کے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور والدین نے شرکت کی۔یہ تعلیمی مقابلے20اگست تا8ستمبر2025ء اردو اسکولوں کے طلبا و طالبات کے درمیان منعقد کیے گئے تھے، جن میں تحریری امتحانات ، مضمون نویسی،تقریری، کوئز، غزل سرائی، اردو ڈراما، بیت بازی، گروپ سانگ ، بلند خوانی اور امنگ پینٹنگ جیسے متنوع مقابلے شامل تھے، جن تقریباً 1663 طلبا وطالبات نیان مقابلوں میں حصہ لیا تھا، جن میں سے 265 طلبہ مختلف زمروں میں کامیاب قرار پائے گئے تھے۔
اس موقع پر محکمۂ فن، ثقافت و السنہ، حکومت دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو نہ صرف ایک دلنشیں زبان ہے بلکہ باوقار تہذیب کی نمائندہ بھی ہے۔ انہوں نے تعلیمی و ثقافتی مقابلوں میں طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکت کو نئی نسل میں اردو کے بڑھتے شوق کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے انعام یافتہ طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی محنت اور لگن کے ساتھ تعلیمی و ادبی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کریں گے۔ انھوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ آئندہ مقابلوں کے زمروں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو اظہار کا موقع مل سکے۔
جلسہ تقسیم انعامات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میںنقد انعامات، اسناد اور مومنٹو تقسیم کیے گئے۔ اس سال بہترین شرکت کا ایوارڈ ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل اسکول، جعفرآباد کو دیا گیا، جبکہ بہترین کارکردگی کا ایوارڈ سید عابد حسین جامعہ اسکول نے حاصل کیا۔ دونوں اسکولوں کو 21، 21 ہزار روپے نقد انعام، مومنٹو اور سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ اس طرح اسناد، مومنٹو اور شیلڈز کے ساتھ نقد انعامات کی مجموعی رقم تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ روپے تقسیم کی گئی۔پروگرام کی نظامت ریشما فاروقی نے کی۔ اختتام پر کامیاب طلبہ کو مبارکباد پیش کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اکادمی آئندہ بھی علمی و ادبی سرگرمیوں کے ذریعے نئی نسل کی صلاحیتوں کو فروغ دیتی رہے گی۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%a7%db%81%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%ac%d9%84%d8%b3%db%82-%d8%aa%d9%82/feed/0اردو اکادمی ،دہلی کے زیر اہتمام 4 روزہ’’جشن اردو‘‘ کا آغاز
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%d8%8c%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a7%db%81%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-4-%d8%b1%d9%88%d8%b2%db%81/
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%d8%8c%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a7%db%81%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-4-%d8%b1%d9%88%d8%b2%db%81/#respondFri, 31 Oct 2025 13:01:40 +0000https://sachkiawaz.com/?p=5251(پی این این)
نئی دہلی:اردو زبان میں جو مٹھاس ہے، وہ دنیا کی دیگر زبانوں میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ یہ ایک ایسی زبان ہے جس نے محبتوں کی خوشبو اور تہذیبوں کے رنگ لیے ہوئے دنیا کے ہر خطے میں اپنی پہچان مستحکم کی ہے۔ اردو کی یہی حلاوت غیر اردو داں طبقے کو اردو زبان و ادب سے قریب کرتی ہے اور اس کی چاشنی سے ہر کوئی سرشار ہونا چاہتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ عہد میں اردو زبان و ادب کے فروغ و ترقی کے سلسلے میں اردو اکادمی، دہلی کی کوششیں لافانی و لاثانی رہی ہیں۔ اکادمی نے گزشتہ کچھ سالوں سے اردو کو اس کے ورثے اور ثقافتی قدروں کے ساتھ ادبی محفلوں کے ذریعے نئی نسل تک پہنچانے کی کامیاب اور مؤثر کوشش کی ہے۔چنانچہ ہر سال کی طرح امسال بھی اردو اکادمی، دہلی نے وزارتِ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی کے زیرِ اہتمام چار روزہ عظیم الشان ’’جشنِ اردو‘‘ کا انعقاد سندر نرسری (عظیم باغ) میں کیا۔ یہ جشن 30 اکتوبر سے شروع ہو کر 2 نومبر تک ہمایوں کے مقبرے کے قریب سندر نرسری کے ایمفی تھیٹر میں جاری ہے۔اس جشن کے تحت روزانہ دوپہر بارہ بجے سے رات آٹھ بجے تک مختلف پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں، جن میں عالمی شہرت یافتہ فنکاروں کو سننے اور طلبہ کے ادبی مقابلوں کو دیکھنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
اس وراثتی میلے میں اردو زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے پروگراموں کے علاوہ کتابوں، کیلی گرافی، پینٹنگز، ہاتھ کی دستکاری اور دیگر اشیاء کے اسٹالز بھی لگائے گئے ہیں۔پہلے دن کا پہلا پروگرام ’’غزل سرائی‘‘ کے مقابلے کا تھا، جس میں دہلی کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات نے معروف شعرا کی منتخب غزلوں کو اپنی مترنم آواز میں پیش کیا۔ ججوں کی حیثیت سے پروفیسر ابوبکر عباد اور ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی شامل تھے۔ انھوں نے اس مقابلے میں ہارون رشید (جامعہ ملیہ اسلامیہ) کو اول، زینب اشفاق (دہلی یونیورسٹی) کو دوم، رفیق طلحہ (دہلی یونیورسٹی) کو سوم، جبکہ اریبہ خانم (دہلی یونیورسٹی) کو اعزازی انعام کا حقدار قرار دیا۔اس پروگرام سے لے کر آخری پروگرام تک نظامت کی ذمہ داری ریشما فاروقی، اطہر سعید اور سلمان سعید نے بخوبی نبھائی۔غزل سرائی کے بعد دوسرا پروگرام ’’صوفی نغمے‘‘ کے عنوان سے تھا، جس میں دہلی گھرانے کی معروف فنکارہ ناز وارثی نے مختلف نغموں کو بڑے خوبصورت اور مترنم انداز میں پیش کیا۔ انھوں نے ’’دل دیا ہے سرور بھی دے دیا، آنکھ دیا ہے تو نور بھی دے دیا‘‘ سے محفل کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انھوں نے کئی معروف قوالیاں اور روحانی نغمے پیش کیے۔صوفی نغموں کے بعد ’’بہارِ غزل‘‘ کے موضوع پر تیسری محفل سجائی گئی، جس میں دہلی کی معروف فنکارہ ڈاکٹر اوشین بھاٹیہ نے جدید و قدیم غزلوں کو اپنی مترنم آواز میں پیش کیا۔
انھوں نے اپنے پروگرام کا آغاز معروف شاعر ناصر کاظمی کی غزل ’’وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں، مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں‘‘ سے کیا۔ ان کی مخمور و مسحور آواز نے سامعین کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔ علاوہ ازیں انھوں نے احمد فراز کی غزل ’’رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ، آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ‘‘ اور امیر خسرو کی مشہور غزل ’’چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نیناں ملا کے‘‘ بھی پیش کیں۔غزل کے بعد ’’صوفی محفل‘‘ کے عنوان سے چوتھے پروگرام کا اہتمام کیا گیا، جس میں دہلی گھرانے کے معروف قوال گروپ ایم ایس نظامی برادران نے مشہور زمانہ قوالیاں اور نغمات گا کر سماں باندھ دیا۔ انھوں نے پروگرام کا آغاز معروف قوالی ’’بھر دو جھولی میری یا محمدؐ، لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی‘‘ سے کیا۔ اس کے بعد انھوں نے مختلف کلام پیش کر کے سامعین کو محظوظ و مسحور کر دیا۔شام ڈھلتے ہی سامعین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہونے لگا۔ اسی دوران بالی وُڈ کے معروف گلوکار سریش واڈیکر کی فنکاری میں پانچویں پروگرام ’’سرمئی شام‘‘ کا آغاز ہوا۔ سریش واڈیکر نے اپنی مخملی اور پر کیف آواز میں نہایت خوبصورت غزلیں اور نغمات پیش کیے۔ ان کی پیشکش عمدہ اور آواز مخمور و مسحور تھی، جس نے سامعین کو آخر تک محوِ توجہ رکھا۔سریش واڈیکر کے بعد شام کی محفلِ ساز و آہنگ کو آگے بڑھاتے ہوئے ’’صوفیانہ کلام‘‘ کے عنوان سے چھٹی محفل کا آغاز کیا گیا، جس میں ممبئی سے تشریف لائے کیرانہ گھرانے کے معروف نوجوان فنکار رئیس انیس صابری نے قوالیاں اور نغمے پیش کیے، جنہیں سامعین نے بے حد پسند کیا۔رات آٹھ بجے پہلے دن کی آخری محفل ’’عالمِ کیف‘‘ کا اہتمام کیا گیا، جس کے روحِ رواں ممبئی کے معروف گلوکار سلمان علی تھے۔ اس وقت تک سامعین کی تعداد کافی بڑھ چکی تھی؛ بیٹھنے کے لیے کرسیاں اور پیر رکھنے کے لیے زمین بھی کم پڑ چکی تھی، لیکن ہر کوئی ان لمحات سے پوری طرح لطف اندوز ہونا چاہتا تھا۔
سلمان علی کا پروگرام پہلے دن کا سب سے کامیاب اور مؤثر پروگرام رہا۔ انھوں نے اپنے پروگرام کا آغاز پرنم الہ آبادی کی مشہور غزل ’’تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی، محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو‘‘ سے کیا۔ اس کے بعد انھوں نے ایک سے بڑھ کر ایک صوفیانہ کلام گا کر شرکاء کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔ پروگرام میں جہاں نوجوان جذب و مستی میں نظر آئے، وہیں بوڑھے اور بچے بھی موسیقی پر تھرکتے دکھائی دیے۔ یہ آخری پروگرام رات دس بجے تک جاری رہا۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%af%d9%85%db%8c-%d8%8c%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a7%db%81%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-4-%d8%b1%d9%88%d8%b2%db%81/feed/0