add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); Congress – sachkiawaz.com https://sachkiawaz.com Wed, 29 Apr 2026 13:28:41 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.9 پرویش واہی بنے دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر https://sachkiawaz.com/%d9%be%d8%b1%d9%88%db%8c%d8%b4-%d9%88%d8%a7%db%81%db%8c-%d8%a8%d9%86%db%92-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%d9%85%db%8c%d9%88%d9%86%d8%b3%d9%be%d9%84-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86/ https://sachkiawaz.com/%d9%be%d8%b1%d9%88%db%8c%d8%b4-%d9%88%d8%a7%db%81%db%8c-%d8%a8%d9%86%db%92-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%d9%85%db%8c%d9%88%d9%86%d8%b3%d9%be%d9%84-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86/#respond Wed, 29 Apr 2026 13:27:32 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=6481 (پی این این)
نئی دہلی:دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر کے انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ سینئر کونسلر پرویش واہی کو دہلی کا نیا میئر منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کانگریس امیدوار ظہیر کو بڑے فرق سے شکست دی۔ میئر کے انتخاب میں کل 165 ایم پیز، ایم ایل ایز اور کونسلروں نے ووٹ دیا۔ تمام ووٹ درست پائے گئے۔ پرویش واہی کو 156 ووٹ ملے جبکہ کانگریس امیدوار ظہیر کو صرف 9 ووٹ ملے۔ اس طرح پرویش واہی نے 147 ووٹوں کے بھاری فرق سے کامیابی حاصل کی۔ ڈپٹی میئر کے عہدے کے لیے الگ سے کوئی الیکشن نہیں ہوا تھا اور اس عہدے کے لیے بی جے پی کی مونیکا پنت بلا مقابلہ منتخب ہو گئی تھیں۔
پرویش واہی روہنی ای وارڈ سے تین بار منتخب ہونے والے کونسلر ہیں اور اس وقت میونسپل کارپوریشن میں لیڈر آف ہاؤس کی ذمہ داری بھی سنبھال رہے تھے۔ بی جے پی نے 23 اپریل کو نامزدگی کے آخری دن انہیں میئر کے امیدوار کے طور پر اعلان کیا تھا۔ اسی کے ساتھ مونیکا پنت کو نائب میئر کے لیے امیدوار بنایا گیا تھا۔نامزدگی داخل کرتے وقت پرویش واہی نے پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دہلی کو صاف، خوبصورت اور بہتر بنانے کے لیے پوری لگن کے ساتھ کام کریں گے۔ ان کے مطابق شہری سہولیات کو بہتر بنانا اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%be%d8%b1%d9%88%db%8c%d8%b4-%d9%88%d8%a7%db%81%db%8c-%d8%a8%d9%86%db%92-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%d9%85%db%8c%d9%88%d9%86%d8%b3%d9%be%d9%84-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86/feed/ 0
مودی سرکار کی پالیسیاں مزدور مخالف:ادت راج https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c%d8%a7%da%ba-%d9%85%d8%b2%d8%af%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ae%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%a7%d8%af%d8%aa/ https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c%d8%a7%da%ba-%d9%85%d8%b2%d8%af%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ae%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%a7%d8%af%d8%aa/#respond Wed, 22 Apr 2026 13:12:19 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=6408 (پی این این)
نئی دہلی: نئی دہلی میں آج غیر منظم مزدور و ملازمین کانگریس (کے کے سی) کے قومی چیئرمین ڈاکٹر ادت راج کی قیادت میں انڈین نیشنل کانگریس کے مرکزی دفتر میں ایک اہم تیاری میٹنگ منعقد کی گئی۔ یہ میٹنگ آئندہ یومِ مزدور (یکم مئی) کے موقع پر اے آئی سی سی اندرا بھون میں ہونے والے ‘مزدور بچاؤ دیوس’ پروگرام کے حوالے سے کی گئی۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ یہ پروگرام بنیادی طور پر کے کے سی کی دہلی یونٹ کی جانب سے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں دہلی-این سی آر کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مزدور بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ ان میں کنسٹرکشن ورکرز، ریہڑی پٹری والے، آٹو-ٹیکسی ڈرائیور، منریگا مزدور، آشا ورکرز، گھریلو ملازمین نیز فیکٹری اور کنٹریکٹ ورکرز شامل ہوں گے۔
میٹنگ میں ڈاکٹر ادت راج کے علاوہ کے کے سی کے قومی سکریٹری شاہد علی، قومی وائس چیئرمین سنجے گابا، علاقائی کوآرڈینیٹر انشو انتھونی، قومی کوآرڈینیٹر آدتیہ راجپوت اور دہلی پردیش صدر ونود پوار سمیت کئی عہدیداران موجود تھے۔ میٹنگ کی صدارت بھی ڈاکٹر ادت راج نے کی۔
اس موقع پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ یکم مئی کو ‘مزدور حقوق بچاؤ دیوس’ کے طور پر منایا جائے گا۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر ادت راج نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پالیسیاں مزدور مخالف ہیں اور غیر منظم شعبے کے مزدوروں کے حقوق کا مسلسل استحصال ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مزدوروں کے مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
میٹنگ میں قومی سکریٹری شاہد علی اور دیگر نے کہا کہ کے کے سی کا مقصد غیر منظم مزدوروں کو متحد کرنا اور ان کے حقوق کے لیے زمینی سطح پر جدوجہد کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزدوروں کی آواز کو دبانے کی کوششیں اب برداشت نہیں کی جائیں گی اور ان کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد کو تیز کیا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے تمام مزدوروں سے اپیل کی کہ وہ یکم مئی کے پروگرام میں بڑی تعداد میں شرکت کر کے اپنی یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے میٹنگ میں مختلف کمیٹیوں کی تشکیل بھی عمل میں لائی گئی، جن میں انوائٹیشن کمیٹی، ریسپشن کمیٹی اور ایڈورٹائزنگ کمیٹی شامل ہیں، تاکہ ‘مزدور بچاؤ دیوس’ کو مؤثر اور وسیع پیمانے پر منعقد کیا جا سکے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%85%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c%d8%a7%da%ba-%d9%85%d8%b2%d8%af%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ae%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%a7%d8%af%d8%aa/feed/ 0
دہلی کے اسکولوں میں ریلز اور ویڈیوز بنانے پر پابندی عائد https://sachkiawaz.com/%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d9%84%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%88%db%8c%da%88%db%8c%d9%88%d8%b2-%d8%a8%d9%86%d8%a7/ https://sachkiawaz.com/%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d9%84%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%88%db%8c%da%88%db%8c%d9%88%d8%b2-%d8%a8%d9%86%d8%a7/#respond Fri, 27 Mar 2026 14:23:57 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=6125 (پی این این)
نئی دہلی :دہلی حکومت نے دارالحکومت کے تمام اسکولوں کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ سکول کے اوقات میں ریلز اور مختصر ویڈیوز بنانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ان ہدایات کا اطلاق طلباء کے ساتھ اساتذہ اور عملے کے دیگر ارکان پر بھی ہوگا۔ حکومت نے تمام اسکولوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ طلباء، اساتذہ اور عملہ اسکول کے احاطے میں خاص طور پر پڑھائی کے اوقات میں ریلیز اور مختصر ویڈیوز نہ بنائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تفریح یا سوشل میڈیا کے لیے ویڈیوز بنانا اب دارالحکومت بھر کے اسکولوں میں سختی سے ممنوع ہے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ایسی سرگرمیاں تعلیمی کام، نظم و ضبط یا ادارے کے وقار کو متاثر کرتی ہیں۔دہلی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (DoE) نے اس سلسلے میں ایک سرکلر جاری کیا ہے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ اسکول کے احاطے میں تفریح کے لیے مختصر ویڈیوز (ریلز) بنائی جا رہی ہیں۔
اسکول انتظامیہ کو مطالعہ کے اوقات میں اس کی سختی سے ممانعت کرنی چاہیے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ایسی سرگرمیاں مطالعہ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اسکولوں کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی توجہ ہٹانے والی سرگرمیوں سے منع کریں اور تعلیمی اداروں کے وقار کو برقرار رکھیں۔ سرکلر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر کسی کی توجہ پڑھائی پر مرکوز ہونی چاہیے۔محکمہ نے کہا کہ تعلیمی، ثقافتی یا بیداری کے موضوعات پر ویڈیو حکام سے اجازت لینے کے بعد ہی بنائی جا سکتی ہے۔ ایسی ویڈیوز اساتذہ کی نگرانی میں بنائی جائیں۔ مزید برآں، اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ مطالعہ میں خلل نہ پڑے اور بچوں کی حفاظت اور رازداری کو برقرار رکھا جائے۔ سرکلر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکول کے احاطے میں کوئی نامناسب، غیر تعلیمی یا تشہیری مواد ریکارڈ نہیں کیا جانا چاہیے۔
سرکلر میں کہا گیا ہے کہ تمام اسکولوں، اساتذہ اور طلباء کو اس ہدایت سے آگاہ کیا جائے۔ یہ ان پر زور دیتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہدایت کی خلاف ورزی نہ ہو۔ سرکلر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہدایت کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔حکومت نے محسوس کیا تھا کہ ریلز اور مختصر ویڈیوز بنانے سے اسکول کے کیمپس میں تعلیمی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔ طلباء کو پڑھائی سے ہٹایا جا رہا تھا۔ تعلیمی اداروں کے وقار اور نظم و ضبط کو پامال کیا جا رہا تھا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d9%84%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%88%db%8c%da%88%db%8c%d9%88%d8%b2-%d8%a8%d9%86%d8%a7/feed/ 0
گیا کی سیاست: تھکے ہوئے ہاتھوں سے نئی امید تک https://sachkiawaz.com/%da%af%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d8%aa%da%be%da%a9%db%92-%db%81%d9%88%d8%a6%db%92-%db%81%d8%a7%d8%aa%da%be%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%85/ https://sachkiawaz.com/%da%af%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d8%aa%da%be%da%a9%db%92-%db%81%d9%88%d8%a6%db%92-%db%81%d8%a7%d8%aa%da%be%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%85/#respond Tue, 16 Sep 2025 11:22:12 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4936 (پی این این)
گیا: گیا، جو ایک طرف بدھ کے گیان اور روشن خیالی کی دھرتی کے طور پر اور دوسری طرف وشنو پد مندر اور پنددان کی صدیوں پرانی روایت کے لیے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے، آج بھی ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہے۔ ہر سال لاکھوں ملکی و غیر ملکی سیاح یہاں آتے ہیں—چاہے بدھ بھکشو ہوں یا ہندو عقیدت مند—مگر ٹوٹی سڑکیں، بدنظمی سے بھرا ٹریفک، صفائی کی ابتر حالت اور روزگار کی کمی اس شہر کی پہچان بن چکی ہیں۔
مقامی نوجوانوں کا کہنا ہے:اتنی بڑی صلاحیتوں کے باوجود گیا آج بھی پسماندہ ہے۔ عوام پوچھ رہی ہے—آخر 35 سال کے قیادت نے کیا دیا؟تھکا ہوا قیادت اور عوام کی ناراضگی:گیا کی سیاست پچھلے تین دہائیوں سے ایک ہی چہرے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ قیادت نہ صرف کمزور اور تھکی ہوئی نظر آتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی کھو چکی ہے۔
جیسا کہ عوام کا کہنا ہے:تھکا ہوا ہاتھ ترقی کی گاڑی کو آگے نہیں بڑھا سکتا۔
اپوزیشن کی کمزوریاں:لوگ اب نظریں اپوزیشن پر ٹکائے ہوئے ہیں، مگر کانگریس نے بار بار وہی پرانی غلطی دہرائی ہے۔ ایسے امیدواروں کو ٹکٹ دیا گیا جو اپنی وارڈ کی سیٹ بھی نہیں بچا سکے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق:اگر کانگریس نے پھر یہی غلطی کی تو یہ اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا۔کیوں چاہیے نیا چہرہ؟گیا کو آج ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے:جس کی شبیہ صاف ستھری اور ایماندار ہو۔جو پڑھا لکھا اور نوجوان ہو۔جو عوام کے مسائل کو سمجھے اور زمین سے جڑا ہوا ہو۔جو صرف مذہبی شناخت پر نہیں بلکہ گیا کو تعلیم، سیاحت اور سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کا وژن رکھتا ہو۔
کنال اگروال: امید کی کرن:اپوزیشن کے ممکنہ امیدواروں میں سب سے نمایاں نام کنال اگروال کا سامنے آ رہا ہے۔کنال کی شبیہ شفاف اور ایماندار مانی جاتی ہے۔وہ نوجوانوں میں خاصے مقبول ہیں اور سماجی خدمت میں سرگرم رہے ہیں۔انہوں نے کئی بار گیا کی سڑک، صفائی، تعلیم اور صحت کے مسائل پر آواز بلند کی ہے۔وبا کے دوران غریبوں کو راشن اور دوائیاں پہنچا کر عوامی جڑت کا ثبوت دیا۔ کنال اگروال، سماجی کارکن و ممکنہ امیدوارنے کہاکہ گیا صرف بدھ دھرم کا گیان استھل نہیں، بلکہ ہندو دھرم کی آستھا اور پنددان کی روایت کا مرکز بھی ہے۔ یہ شہر دنیا بھر کے عقیدت مندوں اور سیاحوں کو جوڑتا ہے۔ میرا خواب ہے کہ گیا کو محض مذہبی پہچان تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے تعلیم، سیاحت اور روزگار کا نیا مرکز بنایا جائے۔ یہاں کی نوجوان طاقت اور ثقافتی ورثہ ہمیں نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے، بشرطیکہ ہم ایمانداری اور دور اندیشی کے ساتھ کام کریں۔
کانگریس کے لیے فیصلہ کن لمحہ:کانگریس کے سامنے آج تاریخی موقع ہے۔ اگر پارٹی واقعی بہار اور خاص طور پر گیا میں اپنی جڑیں مضبوط کرنا چاہتی ہے تو اسے نیا اور باصلاحیت چہرہ سامنے لانا ہوگا۔جیسا کہ مقامی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے:عوام اب تبدیلی چاہتی ہے، کانگریس کو بھی تبدیلی کا پیغام دینا ہوگا۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%da%af%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d8%aa%da%be%da%a9%db%92-%db%81%d9%88%d8%a6%db%92-%db%81%d8%a7%d8%aa%da%be%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%85/feed/ 0
مہاگٹھ بندھن کی حکومت خواتین کوبنائے گی خودکفیل:ثروت جہاں فاطم https://sachkiawaz.com/%d9%85%db%81%d8%a7%da%af%d9%b9%da%be-%d8%a8%d9%86%d8%af%da%be%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86-%da%a9%d9%88%d8%a8%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%92-%da%af/ https://sachkiawaz.com/%d9%85%db%81%d8%a7%da%af%d9%b9%da%be-%d8%a8%d9%86%d8%af%da%be%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86-%da%a9%d9%88%d8%a8%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%92-%da%af/#respond Sun, 14 Sep 2025 11:04:29 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4928 (پی این این)
پٹنہ:بہار ریاستی خواتین کانگریس کی صدر ثروت جہاں فاطمہ نے کہا ہے کہ بہار میں اگلی حکومت کانگریس کی قیادت والی مہاگٹھ بندھن کی حکومت بننے والی ہے، جس کے بعد مائی بہن مان یوجنا کو نافذ کیا جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت ہر ماہ اہل خواتین کے کھاتوں میں 2500 روپے بھیجے جائیں گے۔
ثروت جہاں نے کہا کہ یہ اسکیم بہار کی خواتین کو خود انحصار اور بااختیار بنائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خواتین کو عزت دینے کا بی جے پی کا اعلان محض ایک نعرہ ثابت ہوا ہے جبکہ کانگریس نے ہمیشہ اپنا وعدہ پورا کیا ہے اور مستقبل میں بھی پارٹی بہار میں خواتین کو عزت دینے اور انہیں معاشی اور سماجی طور پر مضبوط بنانے کے لئے پوری طرح پابند عہد ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ ملک کی خواتین کے حقوق اور بااختیار بنانے کو اولین ترجیح دی ہے۔
ثروت جہاں فاطمہ نے مرکز کی مودی حکومت کو جملوں کی حکومت قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی جھوٹی ضمانتیں دے کر اقتدار میں آئی ہے اور اقتدار میں آتے ہی اپنی تمام ضمانتوں کو کوڑے دان میں پھینک دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام جان چکے ہیں کہ کانگریس پارٹی اپنے تمام وعدوں کو عملی جامہ پہناتی ہے اور بی جے پی کی طرح جمعبازی میں ملوث نہیں ہے۔
مرکز اور بہار کی این ڈی اے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ثروت جہاں نے کہا کہ ان حکومتوں نے مہنگائی کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں، کانگریس پارٹی وعدہ کرتی ہے کہ بہار میں مہاگٹھ بندھن کی حکومت بنتے ہی نہ صرف خواتین کو بااختیار بنایا جائے گا بلکہ عام لوگوں کو معاشی بحران سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%85%db%81%d8%a7%da%af%d9%b9%da%be-%d8%a8%d9%86%d8%af%da%be%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86-%da%a9%d9%88%d8%a8%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%92-%da%af/feed/ 0
بہار اسمبلی الیکشن 2025: کم ووٹوں سے جیتی گئی3درجن سیٹوں پر ہوں گی سب کی نظریں https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a8%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%84%db%8c%da%a9%d8%b4%d9%86-2025-%da%a9%d9%85-%d9%88%d9%88%d9%b9%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%ac%db%8c%d8%aa%db%8c-%da%af%d8%a6/ https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a8%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%84%db%8c%da%a9%d8%b4%d9%86-2025-%da%a9%d9%85-%d9%88%d9%88%d9%b9%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%ac%db%8c%d8%aa%db%8c-%da%af%d8%a6/#respond Mon, 01 Sep 2025 10:30:07 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4856 ڈاکٹر سید اصدر علی

پٹنہ: 2020 کے بہار اسمبلی انتخابات میں 3 درجن سے زیادہ سیٹیں ایسی تھیں جن پر جیت اور ہار کا فیصلہ بہت کم فرق سے ہوا تھا۔ اس بار بھی ان تمام درجنوں نشستوں پر سخت مقابلے کے ساتھ ساتھ فیصلے میں بڑی تبدیلی کا امکان ہے۔
بہار میں تقریباً 35 سے 37 سیٹیں ہیں، یہ ایسی سیٹیں ہیں، جن پر جیت اور ہار کا فیصلہ تقریباً ڈھائی سے تین ہزار یا اس سے بھی کم ووٹوں کے فرق سے کیا جاتا تھا، جن میں سے 19 سیٹیں این ڈی اے نے جیتی تھیں، جب کہ 17 سیٹوں پر گرینڈ الائنس کامیاب ہوا تھا اور ایک سیٹ پر، آزاد امیدوار سمیت سنگھ چکئی سے کامیاب ہوئے تھے، جو بعد میں جموئی کی سیٹ سے این ڈی اے میں شامل ہوئے ہیں۔ یعنی کم فرق سے جیتی گئی کل 37 سیٹوں میں سے 20 سیٹیں اب این ڈی اے کے پاس ہیں۔
37 سیٹوں پر جیت یا ہار بہت اہم ہے، جو کسی بھی حکومت کی تشکیل میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس لیے اس بار تمام سیاسی پارٹیوں کی ان سیٹوں پر خاص نظر رہے گی، کیونکہ بہار میں بننے والی اگلی حکومت کی قسمت بھی ان کے فیصلوں پر منحصر ہو سکتی ہے۔
کم فرق سے جیتی گئی 37 سیٹوں میں سب سے کم ووٹوں کا فرق نوادہ کی ہلسا اسمبلی سیٹ پر رہا، جس میں جے ڈی یو کے کرشنا مراری شرن نے آر جے ڈی کے شکتی سنگھ یادو کو صرف 12 ووٹوں سے شکست دی، جس کے بعد آر جے ڈی نے انتخابی نتائج میں دھاندلی کا الزام لگایا۔
سمری بختیار پور میں وکاسیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے سربراہ مکیش ساہنی کو آر جے ڈی کے یوسف صلاح الدین نے صرف 1759 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ اسی طرح سگولی میں آر جے ڈی کے ششی بھوشن سنگھ نے وکاسیل انسان پارٹی کے رام چندر ساہنی کو 3447 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ اب مکیش ساہنی کے وی آئی پی عظیم اتحاد کا حصہ ہیں اور این ڈی اے کے خلاف مقابلہ کرنے جا رہے ہیں۔
مہاگٹھ بندھن کی دیگر سیٹیں جو ووٹوں کے کم فرق سے جیتی ہیں وہ یہ ہیں: کشن گنج- اظہار الحق- کانگریس-138، ڈیہری آن سون- فتح بہادر کشواہا- آر جے ڈی-464، بکری- سوریہ کانت پاسوان- سی پی آئی-777، بھاگلپور- اجیت شرما- کانگریس- 1113، منڈی-1113 یادو-1197، راجاپاکر- پرتیما داس- کانگریس 1746، سیوان- اودھ بہاری چودھری- آر جے ڈی-1973، مہاراج گنج- وجے شنکر دوبے- کانگریس-1976، اورنگ آباد- آنند شنکر سنگھ- کانگریس-2243، سکتہ- وریندر پرساد، سی پی آئی 2020 مکیش یادو- آر جے ڈی- 2704، الاؤلی سے آر جے ڈی کے رام ورکش سدا نے 2773 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی، کھگڑیا سے کانگریس کے چھترپتی سنگھ یادو نے 3000 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی جبکہ دربھنگہ دیہی سے آر جے ڈی کے للت یادو نے 2141 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے اس وقت کے جے ڈی یو امیدوار فراز فاطمی کو 712 ووٹوں سے شکست دی تھی۔ اب فراز فاطمی اور ان کے والد اشرف علی فاطمی دونوں جے ڈی یو چھوڑ کر آر جے ڈی میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس لیے اس بار فراز فاطمی کو دربھنگہ کی کسی اور سیٹ سے امیدوار بنایا جا سکتا ہے۔
آر جے ڈی کے سدھاکر سنگھ رام گڑھ اسمبلی سیٹ سے بی ایس پی کی امبیکا سنگھ کو صرف 189 ووٹوں کے فرق سے ہرانے میں کامیاب رہے۔ سدھاکر سنگھ بعد میں بکسر سے لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور رام گڑھ سیٹ ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے پاس گئی۔ سدھاکر سنگھ آر جے ڈی کے سابق ریاستی صدر جگدانند سنگھ کے بیٹے ہیں۔ رام گڑھ کی طرح کدھنی اسمبلی سیٹ بھی ضمنی انتخاب میں آر جے ڈی کے ہاتھ سے نکل گئی۔ 2020 میں، آر جے ڈی کے انل ساہنی کدھنی سیٹ سے 712 ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے، لیکن قانونی عمل میں ان کی رکنیت ختم کر دی گئی اور یہ سیٹ بھی ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے کھاتے میں گئی۔
اب ان سیٹوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں جہاں این ڈی اے بہت کم مارجن سے جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ 5 اسمبلی سیٹیں ایسی تھیں جہاں این ڈی اے کے امیدوار 1000 سے کم ووٹوں سے جیتنے میں کامیاب رہے۔ ان میں سے، چراغ پاسوان کی ایل جے پی کے راج کمار سنگھ نے بیگوسرائے ضلع کی متھیانی اسمبلی سیٹ سے جے ڈی یو کے نریندر کمار سنگھ کو 333 ووٹوں سے شکست دی۔ بدلی ہوئی سیاسی تصویر میں راج کمار سنگھ اب جے ڈی یو میں ہیں، جب کہ نریندر کمار سنگھ جے ڈی یو چھوڑ کر آر جے ڈی میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ پورہ ضلع کی باربیگھا سیٹ سے جے ڈی یو کے سدرشن کمار صرف 113 ووٹوں سے کامیاب ہوئے، جب کہ جے ڈی یو کے سنیل کمار گوپال گنج کے بھورے سے 462 ووٹوں سے کامیاب ہوئے اور بچھواڑہ سے سریش مہتا-بی جے پی-484 اور جے ڈی یو کے سنجیو کمار 9 اسمبلی سیٹ پربا سے 5 ووٹوں سے جیتنے میں کامیاب رہے۔
این ڈی اے نے جو اسمبلی سیٹیں 1000 سے 3000 ووٹوں سے جیتی ہیں وہ اس طرح ہیں – بی جے پی کے پرنو کمار داس نے مونگیر سیٹ سے صرف 1244 ووٹوں سے الیکشن جیتا جبکہ بی جے پی کی گایتری دیوی نے سیتامڑھی کی پریہار سیٹ سے 1569 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح ساکرا سے اشوک چودھری جے ڈی یو- 1537 اور جھجا سے جے ڈی یو کے دامودر راوت 1679 ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔ رانی گنج سے جے ڈی یو کے اچمیت سدا کو 2304 ووٹوں سے، بہادر پور سے جے ڈی یو کے مدن ساہنی کو 2629 ووٹوں سے اور گیا کے ٹکاری سے جیتن رام مانجھی کی پارٹی ایچ اے ایم کے انیل کمار کو 2630 ووٹوں سے کامیابی ملی۔ پرانپور سے بی جے پی کی نشا سنگھ نے 2972 ووٹوں سے، حاجی پور سے بی جے پی کے اودھیش سنگھ نے 2990 ووٹوں سے، بی جے پی کے آرا کے امریندر پرتاپ سنگھ نے 3002 ووٹوں سے اور بی جے پی کے مشری لال یادو نے دربھنگا ضلع کی علی نگر اسمبلی سیٹ سے 3101 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔
دونوں اتحاد اس اسمبلی الیکشن میں کم مارجن سے جیتی گئی ان تمام سیٹوں پر گہری نظر رکھیں گے۔ این ڈی اے اور مہاگٹھ بندھن دونوں ہی زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے کی کوشش کریں گے تاکہ بہار میں اگلی حکومت بنانے کا راستہ آسان ہو۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a8%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%84%db%8c%da%a9%d8%b4%d9%86-2025-%da%a9%d9%85-%d9%88%d9%88%d9%b9%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%ac%db%8c%d8%aa%db%8c-%da%af%d8%a6/feed/ 0
SIR: بہار میں ووٹر لسٹ سے 65.64 لاکھ سے زیادہ ووٹروں کے نام نکالے گئے https://sachkiawaz.com/sir-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%84%d8%b3%d9%b9-%d8%b3%db%92-65-64-%d9%84%d8%a7%da%a9%da%be-%d8%b3%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%88%d9%88%d9%b9/ https://sachkiawaz.com/sir-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%84%d8%b3%d9%b9-%d8%b3%db%92-65-64-%d9%84%d8%a7%da%a9%da%be-%d8%b3%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%88%d9%88%d9%b9/#respond Sat, 02 Aug 2025 10:39:51 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4627 پٹنہ- الیکشن کمیشن نے بہار میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے بعد ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری کی ہے۔ ریاست بھر میں ووٹر لسٹ سے 65.64 لاکھ سے زیادہ ووٹروں کے نام ہٹا دیے گئے ہیں، جس کے بعد ریاست میں اہل ووٹروں کی تعداد کم ہو کر 7.24 کروڑ رہ گئی ہے۔ پہلے یہ تعداد 7.89 کروڑ تھی۔

سب سے زیادہ نام پٹنہ، گوپال گنج، سارن، مظفر پور اور بھاگلپور اضلاع میں حذف کیے گئے ہیں۔ کئی اضلاع میں دو لاکھ سے زیادہ ووٹروں کے نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ ڈرافٹ کے جاری ہونے کے بعد کئی طرح کے سوالات سامنے آرہے ہیں، جیسے کہ میرا نام فہرست میں ہے یا نہیں، نام حذف ہونے کی صورت میں کیا کرنا ہے، نام کیسے اور کب تک شامل کیا جاسکتا ہے، اور کن دستاویزات کی ضرورت ہوگی۔

آپ کو ان تمام سوالات کے جوابات ذیل میں دیے گئے FAQ (اکثر پوچھے جانے والے سوالات) وضاحت کنندہ میں مل جائیں گے۔ یہ معلومات (FAQs) ان تمام ووٹرز کے لیے اہم ہیں جن کے نام اس مسودہ فہرست سے نکالے گئے ہیں یا جو نئے ووٹرز کے طور پر اپنے نام شامل کروانا چاہتے ہیں۔

بہار میں ووٹر لسٹ پر نظرثانی (SIR) کے بعد یکم اگست کو ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری کی گئی ہے۔ اس نظرثانی کے دوران کل 65 لاکھ 63 ہزار 75 ووٹروں کے ناموں کو حذف کر دیا گیا ہے۔ ان ناموں کو ہٹانے کے بعد اب بہار میں اہل ووٹروں کی کل تعداد 7.24 کروڑ ہے۔

سب سے زیادہ نام پٹنہ ضلع سے ہٹائے گئے ہیں جو کہ 3.95 لاکھ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شیوہر سے سب سے کم نام ہٹائے گئے ہیں، جو 28,166 ہیں۔ پٹنہ کے بعد دیگر بڑے اضلاع مدھوبنی (3.52 لاکھ)، مشرقی چمپارن (3.16 لاکھ)، اور گوپال گنج (3.10 لاکھ) ہیں۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی اہل ووٹر کا نام غلطی سے ہٹا دیا گیا ہے تو وہ اپنا نام دوبارہ شامل کرانے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے لیے آپ آن لائن اور آف لائن دونوں طریقے استعمال کر سکتے ہیں۔

آپ اپنا نام شامل کرنے، اسے حذف کرنے یا کسی بھی معلومات کو درست کرنے کے لیے 1 اگست سے 1 ستمبر تک درخواست دے سکتے ہیں۔ یہ آخری تاریخ بہت اہم ہے، اس لیے اس میں تاخیر نہ کریں۔

نیا نام شامل کرنے کے لیے: آپ کو فارم 6 پُر کرنا ہوگا۔ معلومات کو درست کرنے کے لیے (جیسے پتہ، نام، تاریخ پیدائش) یا نام حذف کرنا: آپ کو فارم 8 پُر کرنا ہوگا۔

درخواست کے لیے، آپ کو اپنی شناخت اور پتہ کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔ اس کے لیے چند ضروری دستاویزات درج ذیل ہیں:

آدھار کارڈ، پیدائش کا سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس یا کوئی اور درست سرکاری شناختی کارڈ۔ اگر آپ 1987 اور 2003 کے درمیان پیدا ہوئے ہیں، تو جائے پیدائش اور والدین کے کاغذات بھی درکار ہو سکتے ہیں۔

آن لائن درخواست دینے کے لیے: NVSP پورٹل (نیشنل ووٹرز سروس پورٹل) یا ووٹر ہیلپ لائن ایپ کے ذریعے اور آف لائن: فارم کو پُر کریں اور اپنے علاقے کے بوتھ لیول آفیسر (BLO) کو یا براہ راست الیکشن آفس میں جمع کرائیں۔

الیکشن کمیشن 2 اگست سے 1 ستمبر تک تمام بلاک دفاتر اور میونسپل باڈیز میں خصوصی کیمپ لگائے گا جہاں آپ فارم جمع کر سکتے ہیں۔ ہر بوتھ پر کم از کم دو اہلکار (بشمول ایک کمپیوٹر آپریٹر) موجود ہوں گے۔

اگر آپ کو آن لائن عمل میں پریشانی ہو رہی ہے تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے علاقے کے BLO سے رابطہ کریں۔ BLO آپ کی مدد کرے گا اور فارم بھرنے میں بھی مدد کرے گا۔ دیویانگ اور بزرگ ووٹرز کے لیے، BLO گھر گھر جا کر فارم بھی جمع کر سکتا ہے۔

آپ آن لائن NVSP پورٹل پر اپنی درخواست کا اسٹیٹس چیک کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ آپ اپنے BLO یا الیکشن آفس سے بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کا نام غلط طریقے سے ہٹا دیا گیا ہے یا آپ نے فارم جمع کرایا ہے لیکن آپ کا نام شامل نہیں کیا گیا ہے، تو آپ اپنے اسمبلی حلقے کے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) یا اسسٹنٹ رجسٹریشن آفیسر (AERO) سے رابطہ کر کے شکایت درج کر سکتے ہیں۔

تمام قسم کے دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کا عمل مکمل ہونے کے بعد حتمی ووٹر لسٹ 30 ستمبر کو شائع کی جائے گی۔

]]>
https://sachkiawaz.com/sir-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%84%d8%b3%d9%b9-%d8%b3%db%92-65-64-%d9%84%d8%a7%da%a9%da%be-%d8%b3%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%88%d9%88%d9%b9/feed/ 0
بہار میں 70 ہزار کروڑ کاہوا گھوٹالہ :پون کھیڑا https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-70-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d9%88%da%91-%da%a9%d8%a7%db%81%d9%88%d8%a7-%da%af%da%be%d9%88%d9%b9%d8%a7%d9%84%db%81-%d9%be%d9%88%d9%86-%da%a9/ https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-70-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d9%88%da%91-%da%a9%d8%a7%db%81%d9%88%d8%a7-%da%af%da%be%d9%88%d9%b9%d8%a7%d9%84%db%81-%d9%be%d9%88%d9%86-%da%a9/#respond Thu, 31 Jul 2025 06:29:29 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4600 (پی این این)
پٹنہ:آج میں بہار کے عوام کے لیے ایک ایسی “خوشخبری” لایا ہوں، جس کی انہیں خود بھی خبر نہیں۔ بہار میں ترقی ہو چکی ہے، پل بن چکے ہیں، 24 گھنٹے بجلی ملنے لگی ہے، تع​لیم اور روزگار دستیاب ہیں—لیکن بہار کے عام لوگوں کو اس کا پتا ہی نہیں ہے، کیونکہ حکومت کے پاس اس خرچ کا کوئی حساب نہیں ہے۔ یہ انکشاف حال ہی میں کیگ (CAG) کی رپورٹ سے ہوا ہے۔
کیگ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بہار میں 70 ہزار کروڑ روپے کی خردبرد ہوئی ہے، جو نریندر مودی اور نتیش کمار کی حکومتوںنے مل کر کی۔ یہ بات آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے میڈیا اور پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین، پون کھیڑا نے کانگریس کے ریاستی ہیڈکوارٹر، صداقت آشرم میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں کہی۔پون کھیڑا نے کہا کہ بہار کے کل بجٹ کا تقریباً ایک تہائی یعنی 70 ہزار کروڑ روپے غائب ہیں، جن سے ریاست میں کئی ترقیاتی کام ہو سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے ٹوٹے پھوٹے پل، خستہ حال سرکاری عمارتیں اور تباہ حال نظام دیکھ کر یاد رکھنا کہ یہ سب 70 ہزار کروڑ کے گھپلے کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 31 مارچ 2024 تک بہار حکومت کے مختلف محکموں کی جانب سے 49,649 یُٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ (UCs) فراہم نہیں کیے گئے، جن کی مجموعی رقم 70,877.61 کروڑ ہے۔ آزاد بھارت کی تاریخ میں اتنا بڑا ڈاکا پہلے کبھی نہیں ڈالا گیا، جتنا بہار میں بی جے پی-جے ڈی یو حکومت نے غریبوں کے حق پر ڈالا ہے۔کیگ نے حال ہی میں اپنی اسٹیٹ فنانس رپورٹ نمبر-1، 2025 بہار اسمبلی میں پیش کی ہے، جس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ غریبوں کے نام پر چلنے والی مختلف اسکیموں میں 70,877.61 کروڑ کا گھپلا ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، حکومت کے پاس یہ کوئی حساب نہیں ہے کہ یہ رقم کہاں خرچ کی گئی۔ 49,649 یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ اب تک دستیاب نہیں ہیں، جنہیں قانوناً گرانٹ حاصل کرنے کے 18 ماہ کے اندر جمع کرانا لازم ہوتا ہے، مگر کئی معاملات میں 10 سال سے بھی زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔
اسی پر بس نہیں، پچھلے پانچ برسوں میں بہار حکومت نے اپنے کل بجٹ میں سے ₹3,59,667 کروڑ کی رقم خرچ ہی نہیں کی، جس میں تقریباً 40% حصہ مرکز کی اسپانسر شدہ اسکیموں کا ہے، جو براہِ راست سماج کے پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے تھیں۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-70-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d9%88%da%91-%da%a9%d8%a7%db%81%d9%88%d8%a7-%da%af%da%be%d9%88%d9%b9%d8%a7%d9%84%db%81-%d9%be%d9%88%d9%86-%da%a9/feed/ 0
بہار میں ECI کا ووٹر لسٹ کی تصدیق کا کام رہے گا جاری، SC کا روک سے انکار https://sachkiawaz.com/%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%b1%da%a9%db%92-%da%af%d8%a7-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%84%d8%b3%d9%b9-%d8%aa%d8%b5%d8%af%db%8c%d9%82-%da%a9%d8%a7-%da%a9/ https://sachkiawaz.com/%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%b1%da%a9%db%92-%da%af%d8%a7-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%84%d8%b3%d9%b9-%d8%aa%d8%b5%d8%af%db%8c%d9%82-%da%a9%d8%a7-%da%a9/#respond Thu, 10 Jul 2025 10:30:38 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4331 آدھار، ووٹر آئی ڈی، راشن کارڈ کو بھی ثبوت کے طور پر ماننا ہوگا۔             

نئی دہلی: ملک میں جمہوریت کی بنیاد سمجھی جانے والی ووٹر لسٹ کی تصدیق کے سلسلے میں آج سب کی نظریں سپریم کورٹ پر تھیں۔ بہار کی ووٹر لسٹ تصدیق کیس میں الیکشن کمیشن کو آج سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے، فی الحال ووٹر لسٹ کی گہرائی سے نظرثانی پہلے کی طرح جاری رہے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم آئینی ادارے کا کام نہیں روک سکتے۔ تاہم سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن سے کئی سوالات پوچھے۔ عدالت نے اس فیصلے کے وقت پر بھی سوالات اٹھائے۔

جسٹس دھولیا نے کہا کہ ہماری رائے میں پہلی نظر میں تین سوالات ہیں – پہلا – الیکشن کمیشن آف انڈیا کے انتخابات کرانے کے اختیارات، دوسرا – اختیارات کے استعمال کا عمل اور تیسرا وقت کی حد جو بہت مختصر ہے اور نومبر میں ختم ہو جائے گی اور نوٹیفکیشن اس سے پہلے آئے گا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم آئینی ادارے کا کام نہیں روک سکتے

تاہم جسٹس دھولیا نے کہا کہ کیس کی سماعت ضروری ہے۔ اسے 28 جولائی کو مناسب عدالت میں درج کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جوابی پٹیشن 21 جولائی یا اس سے پہلے ایک ہفتے کے اندر دائر کی جائے اور 28 جولائی سے پہلے جواب دیا جائے۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو 11 دستاویزات میں آدھار، ای سی آئی سی اور راشن کارڈ کو شامل کرنے کا مشورہ بھی دیا۔

جسٹس سدھانشو دھولیا اور جویمالیہ باغچی کی بنچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے درخواست گزاروں سے بھی سوال کیا۔ بنچ نے درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل گوپال شنکر نارائنن سے کہا کہ آپ خود بتائیں کہ الیکشن کمیشن کیا کر رہا ہے اس میں کیا غلط ہے۔

بہار میں الیکشن کمیشن کا ووٹر لسٹ کی تصدیق کا کام

بہار میں ووٹروں پر نظرثان ی کے معاملے نے جس طرح سے ملک میں سیاسی گرما گرمی پکڑی ہے، اب وہی معاملہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کی دہلیز پر پہنچ گیا ہے۔ تمام الزامات، جوابی الزامات، شکوک و شبہات اور سیاسی شور کے درمیان سپریم کورٹ نے آج اس اہم معاملے پر سماعت کی، سماعت میں فریقین اور اپوزیشن کی جانب سے کئی دلائل دیے گئے۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو آدھار، ای سی آئی سی اور راشن کارڈ کو 11 دستاویزات میں شامل کرنے کا مشورہ دیا۔ اب اس معاملے کی سماعت 28 جولائی کو ہوگی۔

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی نئی درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جن میں کانگریس، این سی پی (ایس پی)، شیوسینا (یو بی ٹی)، سماج وادی پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) اور سی پی آئی- مارکسسٹ لیننسٹ (ایم ایم اے) کے رہنماؤں کی مشترکہ عرضی بھی شامل ہے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%b1%da%a9%db%92-%da%af%d8%a7-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%84%d8%b3%d9%b9-%d8%aa%d8%b5%d8%af%db%8c%d9%82-%da%a9%d8%a7-%da%a9/feed/ 0
جوش و خروش سے منائی گئی راہل گاندھی کی سالگرہ https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d9%88%d8%b4-%d9%88-%d8%ae%d8%b1%d9%88%d8%b4-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%af%d8%a6%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%84-%da%af%d8%a7%d9%86%d8%af%da%be%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b3/ https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d9%88%d8%b4-%d9%88-%d8%ae%d8%b1%d9%88%d8%b4-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%af%d8%a6%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%84-%da%af%d8%a7%d9%86%d8%af%da%be%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b3/#respond Fri, 20 Jun 2025 12:48:22 +0000 https://sachkiawaz.com/?p=4135 (پی این این)
چھپرہ :کانگریس کے سابق قومی صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی سالگرہ کا انعقاد کانگریس لیڈران نے تزک و اہتشام کے ساتھ کیا۔چھپرہ سٹی کانگریس کے صدر فیروز اقبال نے شہر کے پرانی گڑ ہٹی واقع دلت بستی میں جشن سالگرہ کا انعقاد کیا۔انہوں نے بچوں کے درمیان چاکلیٹ،کتاب اور کاپیاں تقسیم کیں۔موقع پر انہوں نے راہل گاندھی کے خوابوں کا ہندوستان بنانے کا عزم دہرایا۔
اس موقع پر فیصل انور،سنیل کمار،بابر علی سمیت کانگریس کے دیگر اراکین کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔دوسری جانب کانگریس او بی سی ڈپارٹمنٹ کے زیراہتمام کیک کاٹ کر یوم پیدائش منایا گیا۔وہاں موجود لوگوں نے متفقہ طور پر راہل گاندھی کی لمبی زندگی اور اچھی صحت کی خواہش کی۔
اس موقع پر ضلع نائب صدر دھرمیندر کمار دھرم نے کہا کہ راہل گاندھی موجودہ دور میں ملک کے سب سے سنجیدہ لیڈر ہیں۔راہل جیسا کوئی دوسرا لیڈر سماج کے تمام طبقات،اداروں اور آئین کے تئیں حساس نہیں ہے۔اس دوران رام سوروپ رائے،گورو یادو،ملائم سنگھ یادو،پرنس یادو،آرین اپادھیائے،ریتک رجک،سنی رام،صلاح الدین خان،ابھیراج کمار،آیوش کمار،انوج سنگھ،پنکی دیوی،نیلم دیوی،راگنی کماری،نشا کماری وغیرہ موجود تھے۔

]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%ac%d9%88%d8%b4-%d9%88-%d8%ae%d8%b1%d9%88%d8%b4-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%af%d8%a6%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%84-%da%af%d8%a7%d9%86%d8%af%da%be%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b3/feed/ 0