add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
حاجی پور:وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کچّی درگاہ–بدوپور 6 لین گنگا پل منصوبہ کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر افسران نے معزز وزیرِ اعلیٰ کو آگاہ کیا کہ اس منصوبہ پر تعمیراتی کام تیز رفتاری سے جاری ہے اور باقی ماندہ کام کو اپریل ماہ تک مکمل کر لیا جائے گا۔معائنہ کے دوران معزز وزیرِ اعلیٰ نے افسران کو ہدایت دی کہ منصوبہ کے باقی ماندہ تعمیراتی کاموں کو جلد از جلد مکمل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ رسائی راستہ (اپروچ روڈ) کا تعمیراتی کام بھی مکمل کرنے کی ہدایت دی تاکہ آمد و رفت بلا رکاوٹ اور ہموار طریقے سے ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ کچّی درگاہ–بدوپور 6 لین گنگا پل منصوبہ کی تکمیل سے اس علاقے کے لوگوں کو راجدھانی پٹنہ سے بلا تعطل سڑک رابطہ حاصل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ کے مکمل ہونے سے اس علاقے میں زراعت، صنعت اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کو مزید فروغ ملے گا۔ ہنگامی طبی حالات میں مریضوں کو علاج کے لیے پٹنہ پہنچنے میں بھی بڑی سہولت حاصل ہوگی۔ معزز وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ کچّی درگاہ–بدوپور 6 لین گنگا پل منصوبہ کے پہلے مرحلے کے افتتاح کے بعد پٹنہ سے راگھوپور تک رابطہ بحال ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس منصوبہ کے تعمیراتی کام کا باقاعدہ معائنہ کرتے رہے ہیں اور اسے جلد مکمل کرنے کے لیے افسران کو مسلسل ہدایات دیتے رہے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اس منصوبہ کی تکمیل سے مہاتما گاندھی پل پر ٹریفک کا بوجھ کم ہوگا اور شمالی بہار و جنوبی بہار کے درمیان رابطہ کے لیے لوگوں کو ایک متبادل راستہ دستیاب ہوگا، جس سے آمد و رفت مزید آسان ہو جائے گی۔ اس پل کی تعمیر سے پٹنہ شہر کے باہر سے ہی لوگ شمالی بہار کے مختلف مقامات تک آسانی سے سفر کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آمس–دربھنگہ ایکسپریس وے کو کچّی درگاہ–بدوپور 6 لین گنگا پل منصوبہ سے جوڑا جائے گا، جس سے سمستی پور، دربھنگہ اور مدھوبنی جانے والے لوگوں کو خاصی سہولت حاصل ہوگی اور وقت کی بچت بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں معیاری سڑکوں اور پلوں کی مسلسل تعمیر کے ذریعے آمد و رفت کو مزید سہل بنایا جا رہا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ وزیرِ اعلیٰ نے 23 جون 2025 کو کچّی درگاہ (پٹنہ) سے راگھوپور دیارا (ویشالی) تک نو تعمیر سڑک حصے کا افتتاح کیا تھا۔ پٹنہ ضلع میں واقع قومی شاہراہ نمبر 30 پر واقع کچّی درگاہ اور ویشالی ضلع میں واقع قومی شاہراہ نمبر 103 پر واقع بدوپور کے درمیان دریائے گنگا پر کل 19.76 کلومیٹر طویل 6 لین گرین فیلڈ پل منصوبہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت 9.76 کلومیٹر طویل پل اور 10 کلومیٹر طویل رسائی راستوں کی تعمیر شامل ہے۔ پہلے مرحلے میں کچّی درگاہ، پٹنہ سے راغھوپور دیارا، ویشالی (کل لمبائی 4.57 کلومیٹر) کا افتتاح ہو چکا ہے۔ دوسرے مرحلے میں حاجی پور–مہنار سڑک (این ایچ-122 بی) سے چک سکندر (این ایچ-322) تک، جبکہ تیسرے مرحلے میں راگھوپور دیارا سے حاجی پور–مہنار سڑک (این ایچ-122 بی) تک تعمیراتی کام جاری ہے۔
معائنہ کے دوران جنتا دل یونائیٹڈ کے قومی کارگزار صدر و رکنِ پارلیمنٹ سنجے کمار جھا، محکمۂ تعمیرِ سڑک کے سکریٹری پنکج کمار پال، وزیرِ اعلیٰ کے سکریٹری کمار روی، وزیرِ اعلیٰ کے سکریٹری ڈاکٹر چندر شیکھر سنگھ، بہار اسٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ترشت کپِل اشوک، پٹنہ ضلع کے ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر تیاگ راجن ایس ایم، ویشالی ضلع کی ضلع مجسٹریٹ ورشا سنگھ، پٹنہ کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ کارتکیہ کے شرما، ویشالی ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ وکرم سہاگ سمیت دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔
نئی دہلی: ملک میں جمہوریت کی بنیاد سمجھی جانے والی ووٹر لسٹ کی تصدیق کے سلسلے میں آج سب کی نظریں سپریم کورٹ پر تھیں۔ بہار کی ووٹر لسٹ تصدیق کیس میں الیکشن کمیشن کو آج سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے، فی الحال ووٹر لسٹ کی گہرائی سے نظرثانی پہلے کی طرح جاری رہے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم آئینی ادارے کا کام نہیں روک سکتے۔ تاہم سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن سے کئی سوالات پوچھے۔ عدالت نے اس فیصلے کے وقت پر بھی سوالات اٹھائے۔
جسٹس دھولیا نے کہا کہ ہماری رائے میں پہلی نظر میں تین سوالات ہیں – پہلا – الیکشن کمیشن آف انڈیا کے انتخابات کرانے کے اختیارات، دوسرا – اختیارات کے استعمال کا عمل اور تیسرا وقت کی حد جو بہت مختصر ہے اور نومبر میں ختم ہو جائے گی اور نوٹیفکیشن اس سے پہلے آئے گا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم آئینی ادارے کا کام نہیں روک سکتے
تاہم جسٹس دھولیا نے کہا کہ کیس کی سماعت ضروری ہے۔ اسے 28 جولائی کو مناسب عدالت میں درج کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جوابی پٹیشن 21 جولائی یا اس سے پہلے ایک ہفتے کے اندر دائر کی جائے اور 28 جولائی سے پہلے جواب دیا جائے۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو 11 دستاویزات میں آدھار، ای سی آئی سی اور راشن کارڈ کو شامل کرنے کا مشورہ بھی دیا۔
جسٹس سدھانشو دھولیا اور جویمالیہ باغچی کی بنچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے درخواست گزاروں سے بھی سوال کیا۔ بنچ نے درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل گوپال شنکر نارائنن سے کہا کہ آپ خود بتائیں کہ الیکشن کمیشن کیا کر رہا ہے اس میں کیا غلط ہے۔

بہار میں الیکشن کمیشن کا ووٹر لسٹ کی تصدیق کا کام
بہار میں ووٹروں پر نظرثان ی کے معاملے نے جس طرح سے ملک میں سیاسی گرما گرمی پکڑی ہے، اب وہی معاملہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کی دہلیز پر پہنچ گیا ہے۔ تمام الزامات، جوابی الزامات، شکوک و شبہات اور سیاسی شور کے درمیان سپریم کورٹ نے آج اس اہم معاملے پر سماعت کی، سماعت میں فریقین اور اپوزیشن کی جانب سے کئی دلائل دیے گئے۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو آدھار، ای سی آئی سی اور راشن کارڈ کو 11 دستاویزات میں شامل کرنے کا مشورہ دیا۔ اب اس معاملے کی سماعت 28 جولائی کو ہوگی۔
الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی نئی درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جن میں کانگریس، این سی پی (ایس پی)، شیوسینا (یو بی ٹی)، سماج وادی پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) اور سی پی آئی- مارکسسٹ لیننسٹ (ایم ایم اے) کے رہنماؤں کی مشترکہ عرضی بھی شامل ہے۔
]]>چھپرہ:مظفر پور کے کڈھنی میں نو سالہ دلت لڑکی کی عصمت دری اور موت کے خلاف ریاستی قیادت کی ہدایت پر ضلع کانگریس نے مشتعل احتجاج کیا اور شہر کے نگر پالیکا چوک پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور وزیر صحت منگل پانڈے کا پتلا جلایا۔قبل ازیں کانگریسیوں نے سرکٹ ہاؤس سے سڑک پر مارچ کرکے مظاہرہ کیا۔
مظاہرین میونسپل چوک پہنچے جہاں مقررین نے کہا کہ کڈھنی کے مظلوم کو فوری انصاف ملنا چاہیے۔نتیش حکومت میں قتل،عصمت دری،ڈکیتی کا ایک نیا ماڈل قائم کیا جا رہا ہے۔جو آئے روز نئے ریکارڈ بنا رہا ہے۔انہوں نے علاج کے دوران پی ایم سی ایچ میں عصمت دری متاثرہ کی موت پر کئی سوالات اٹھائے۔منگل پانڈے پر صحت کے نظام کی خراب حالت کا الزام عائد کیا۔
اس موقع پر ضلع صدر بچو پرساد ویرو،ریاستی نگراں سنیل کمار سنگھ،پروفیسر سنیل کمار،راجیو وہنگم،ڈاکٹر شنکر چودھری،فیروز اقبال،حیدر علی،مانک یادو،رفیع اللہ قریشی،سندیپ روشن،فیصل انور،یسین آزاد،انیل سنگھ،دیپک شرما،کشن سنگھ،ومل کمار،برجندر کمار،میجر سنگھ،راجیو کمار شرما،سابق ضلع صدر انیل کمار سنگھ،ترون تیواری،کملیش کمار پاٹھک،مکینک پرساد،کنہیا گری،للن پرساد سنگھ،کملیش کمار سنگھ،راہل یادو،کنہیا مشرا،انیل کمار سنگھ،شوکت علی،امیت نین،سریش رام وغیرہ موجود تھے۔