add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
BiharGovernment – sachkiawaz.com
https://sachkiawaz.com
Wed, 22 Apr 2026 13:16:54 +0000en-US
hourly
1 https://wordpress.org/?v=6.9.9ارریہ ضلع کی 211 پنچایتوں میں پی ڈی ایس دکانوں کی جانچ شروع
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c%db%81-%d8%b6%d9%84%d8%b9-%da%a9%db%8c-211-%d9%be%d9%86%da%86%d8%a7%db%8c%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%8c-%da%88%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%af%da%a9%d8%a7/
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c%db%81-%d8%b6%d9%84%d8%b9-%da%a9%db%8c-211-%d9%be%d9%86%da%86%d8%a7%db%8c%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%8c-%da%88%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%af%da%a9%d8%a7/#respondWed, 22 Apr 2026 13:16:54 +0000https://sachkiawaz.com/?p=6411(پی این این)
ارریہ: ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن کی ہدایات پر ضلع کی تمام 211 پنچایتوں میں عوامی تقسیم کے نظام (پی ڈی ایس) کی دکانوں کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد سرکاری اسکیموں کے موثر نفاذ، شفافیت اور مستحقین تک اناج کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی متعلقہ پنچایتوں میں چلنے والی پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (PDS) دکانوں کا معائنہ کریں اور مقررہ فارمیٹ کے مطابق تفصیلی معائنہ رپورٹ تیار کریں۔
معائنہ کے دوران، دکانوں کی باقاعدگی، اسٹاک کی دستیابی، قیمت کی فہرست کی نمائش، فائدہ مندوں کو اناج کی تقسیم کی حیثیت، اور ای پی او ایس مشین کے کام کاج سمیت دیگر اہم نکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ دکاندار مقررہ معیارات پر عمل پیرا ہوں۔
ضلع مجسٹریٹ نے تمام متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ معائنہ کو سنجیدگی سے لیں اور مقررہ مدت کے اندر رپورٹ ڈسٹرکٹ سپلائی برانچ کو پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر چھان بین کے دوران کوئی بے ضابطگی پائی گئی تو متعلقہ پبلک ڈسٹری بیوشن فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ جامع تحقیقاتی مہم مزید مضبوط اور ضلع میں عوامی تقسیم کے نظام کو مزید شفاف بنائے گی۔
]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c%db%81-%d8%b6%d9%84%d8%b9-%da%a9%db%8c-211-%d9%be%d9%86%da%86%d8%a7%db%8c%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%8c-%da%88%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%af%da%a9%d8%a7/feed/0بہارمیں شراب بندی کے معاملے پر مانجھی نے اپنی ہی حکومت کوبنایا نشانہ
https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a8-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84%db%92-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%86%d8%ac%da%be%db%8c-%d9%86/
https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a8-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84%db%92-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%86%d8%ac%da%be%db%8c-%d9%86/#respondSun, 19 Apr 2026 13:35:13 +0000https://sachkiawaz.com/?p=6383(پی این این)
پٹنہ:بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور ’ہم‘ پارٹی کے سرپرست جیتن رام مانجھی نے ریاست میں نافذ شراب بندی کے قانون کے حوالے سے ایک بار پھر اپنی صاف گوئی کا اظہار کیا ہے۔
پٹنہ ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بہار میں شراب بندی کی پالیسی تو درست ہے، لیکن اس کو عملی طور پر نافذ کرنے کے طریقے میں بڑی خرابیاں ہیں۔ مانجھی کے مطابق اس قانون کا سب سے زیادہ نقصان معاشرے کے غریب طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
مانجھی نے کہا کہ شراب بندی کے باعث غریب طبقے کو دو طرح کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پہلا یہ کہ اس قانون کی آڑ میں بڑی تعداد میں غریب لوگ قانونی پیچیدگیوں اور پولیس کارروائیوں میں پھنس رہے ہیں، جس سے ان کی معاشی اور سماجی حالت بگڑ رہی ہے۔ دوسرا یہ کہ ریاست میں شراب بندی کے باوجود غیر قانونی شراب کا کاروبار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مافیا عناصر جلد بازی میں یوریا اور دیگر خطرناک کیمیکل ملا کر زہریلی شراب تیار کر رہے ہیں، جس کے استعمال سے غریب لوگ 50 سے 60 سال کی عمر میں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ریاست میں حالیہ اقتدار کی تبدیلی اور سمراٹ چودھری کے وزیرِ اعلیٰ بننے پر مانجھی نے کہا کہ انہیں بڑے فیصلے لینے میں کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت شراب بندی کے قانون کو ختم کرنے پر غور کرے گی۔ مانجھی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شراب بندی کی پالیسی پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے۔ جو خرابیاں موجود ہیں انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ریاست کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو اور غریبوں کو بلاوجہ کی اذیت سے بچایا جا سکے۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a8-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84%db%92-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%86%d8%ac%da%be%db%8c-%d9%86/feed/0زیرِ زمین پانی کے پائیدار اور بہتر انتظام پر ریاستی سطح کی ورکشاپ کا وزیر سنجے سنگھ کے ہاتھوں افتتاح
https://sachkiawaz.com/%d8%b2%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%be%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8/
https://sachkiawaz.com/%d8%b2%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%be%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8/#respondSat, 11 Apr 2026 15:44:19 +0000https://sachkiawaz.com/?p=6294(پی این این )
حاجی پور: محکمۂ صحتِ عامہ انجینئرنگ حکومتِ بہار کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زیرِ زمین پانی کے انتظام کے موضوع پر منعقد ریاستی سطح کی ورکشاپ کا افتتاح وزیر سنجے کمار سنگھ نے کیا۔ یہ ورکشاپ ریاست میں محفوظ اور پائیدار پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
اپنے افتتاحی خطاب میں وزیر سنجے کمار سنگھ نے کہا کہ “ہر گھر نل کا جل” اسکیم کے تحت ریاست کے کروڑوں دیہی خاندانوں تک صاف پینے کا پانی پہنچایا گیا ہے۔ جو حکومتِ بہار کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات اور غیر متوازن بارش کی وجہ سے زیرِ زمین پانی پر بڑھتا ہوا دباؤ مستقبل کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے، اس لیے پانی کے تحفظ اور اس کے بہتر انتظام کو اولین ترجیح دینا ضروری ہے۔
وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پینے کے پانی کی فراہمی کی اسکیموں کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین پانی کے تحفظ، سطحی پانی پر مبنی منصوبوں، بین محکمہ جاتی تال میل اور عوامی شراکت داری کو بھی فروغ دینا ہوگا، تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے آبی وسائل کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ اس ورکشاپ میں مختلف محکموں کے سینئر افسران، انجینئرز، سائنسدانوں اور ترقیاتی شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس دوران زیرِ زمین پانی کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، آبی وسائل کے استحکام اور طویل مدتی آبی تحفظ سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پروگرام کے دوران ماہرین نے تکنیکی سیشنز کے ذریعے زیرِ زمین پانی کے سائنسی اور عملی پہلوؤں پر غور و خوض کیا اور ریاست میں آبی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔اس ورکشاپ کا مقصد ریاست میں موسمی حالات سے ہم آہنگ، مضبوط اور پائیدار پینے کے پانی کے انتظام کا نظام تیار کرنا ہے، تاکہ عوام کو مسلسل اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%b2%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%be%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8/feed/0ہر وارڈ میں لگیں گے 10 اسٹریٹ لائٹس، ارریہ ڈی ایم نے اسکیم کی پیش رفت کالیا جائزہ
https://sachkiawaz.com/%db%81%d8%b1-%d9%88%d8%a7%d8%b1%da%88-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%84%da%af%db%8c%da%ba-%da%af%db%92-10-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%b9-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%b9%d8%b3%d8%8c-%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c/
https://sachkiawaz.com/%db%81%d8%b1-%d9%88%d8%a7%d8%b1%da%88-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%84%da%af%db%8c%da%ba-%da%af%db%92-10-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%b9-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%b9%d8%b3%d8%8c-%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c/#respondFri, 10 Apr 2026 13:31:59 +0000https://sachkiawaz.com/?p=6290(پی این این)
ارریہ :بہار کے ارریہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ونود دوہان نے اپنے دفتر میں وزیراعلیٰ دیہی سولر اسٹریٹ لائٹ اسکیم کے تحت ضلع سطح کی کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت کی۔ اجلاس میں سکیم کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور باقی کام کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
جائزہ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ارریہ ضلع کے لیے 30,980 سولر اسٹریٹ لائٹس لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ اس مینڈیٹ میں ضلع کی 211 گرام پنچایتوں کے 2,887 وارڈوں میں سے ہر ایک میں 10 اسٹریٹ لائٹس لگانا شامل ہے۔ اس اسکیم کو چار مرحلوں میں مکمل کیا جانا تھا جس میں سے تین مراحل کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔ چوتھے مرحلے میں 5,890 اسٹریٹ لائٹس کو تبدیل کرنے کا ہدف ہے، جن میں سے اب تک 3,580 کو تبدیل کیا جا چکا ہے، جب کہ بقیہ کام ابھی باقی ہے۔
ضلع مجسٹریٹ نے بقیہ اسٹریٹ لائٹس کو تیزی سے لگانے کو یقینی بنانے کی واضح ہدایات دیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدے کی شرائط کے مطابق کام میں تاخیر کرنے والی ایجنسیوں کے خلاف جرمانے کا تعین کیا جانا چاہیے۔ ضلع پنچایت راج افسر ارریہ، ایگزیکٹیو آفیسر، بجلی سپلائی ڈویژن، ارریہ، اور دیگر متعلقہ افسران میٹنگ میں موجود تھے۔
]]>https://sachkiawaz.com/%db%81%d8%b1-%d9%88%d8%a7%d8%b1%da%88-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%84%da%af%db%8c%da%ba-%da%af%db%92-10-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%b9-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%b9%d8%b3%d8%8c-%d8%a7%d8%b1%d8%b1%db%8c/feed/0آن لائن اپلائی میں اردو کو نظرانداز کرنے کے بعد بہارحکومت کا یوٹرن، ماڈل اسکولوں میں اردو بھی شامل
https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d8%a7%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%da%a9%d9%88-%d9%86%d8%b8%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2-%da%a9%d8%b1%d9%86/
https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d8%a7%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%da%a9%d9%88-%d9%86%d8%b8%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2-%da%a9%d8%b1%d9%86/#respondTue, 07 Apr 2026 13:13:00 +0000https://sachkiawaz.com/?p=6251(پی این این)
پٹنہ :ریاست بھر کے 534 ماڈل اسکولوں میں مختلف مضامین کے لیے جاری آن لائن درخواست کے عمل میں اردو مضمون کو شامل کیے جانے پر بہار اسٹیٹ اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن (بسوٹا) کے ریاستی صدر قمر مصباحی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بہار، وزیر تعلیم اور محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سکریٹری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے اردو زبان کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
تفصیلات کے مطابق، جب ماڈل اسکولوں کے لیے آن لائن درخواستیں طلب کی گئیں تو اس میں اردو مضمون کا آپشن شامل نہیں تھا، جس پر اردو اساتذہ میں شدید ناراضگی پائی گئی۔ بسوٹا نے اس معاملے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کو نشانۂ تنقید بنایا اور اسے یا تو تکنیکی خامی فوری درست کرنے یا پھر سازش مانتے ہوئے تحریک چلانے کی وارننگ دی تھی۔قمر مصباحی نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ اردو کو ریاست میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، اس کے باوجود اردو کے ساتھ اس طرح کا امتیازی سلوک ناقابل قبول ہے، خاص طور پر جب معاملہ اساتذہ کی تقرری اور تبادلہ سے متعلق ہو۔
بالآخر حکومت نے 6 مارچ 2026 کو اردو مضمون کو ماڈل اسکولوں کے لیے شامل کر کے اس غلطی کی اصلاح کر دی، جس کے بعد اردو اساتذہ میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس فیصلے کو اردو طبقے کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔آخر میں قمر مصباحی نے ریاست بھر کے ان اردو اساتذہ سے اپیل کی ہے جو ماڈل اسکولوں میں تبادلہ کے خواہشمند ہیں کہ وہ ای-شکشا پورٹل پر جلد از جلد آن لائن فارم پُر کر کے اپنی امیدواری یقینی بنائیں۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%a2%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d8%a7%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%da%a9%d9%88-%d9%86%d8%b8%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2-%da%a9%d8%b1%d9%86/feed/0