add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
پٹنہ:بہار میں طلبہ تحریک کے دوران طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کے معاملے میں اب تک کارروائی نہ ہونے پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ آر جے ڈی 19 اگست کو ویرچند پٹیل پتھ واقع پارٹی دفتر سے لوک بھون تک مارچ کرے گی۔ قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے کل نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ مارچ میں پارٹی کے تمام ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی، ارکانِ قانون ساز کونسل اور پارٹی کارکنان شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کو پولیس کی حکمرانی والی ریاست نہیں بننے دیا جائے گا۔
بہار کے قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ اس مارچ کے سلسلے میں اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔ انہیں بھی بہار میں طلبہ کو انصاف دلانے کے لیے اس مارچ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک یہ جاننا چاہتا ہے کہ طلبہ پر فائرنگ کس کے حکم پر کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے آواز اٹھائے جانے کے بعد ایک سپاہی کو معطل کر دیا گیا، لیکن اب تک ایس پی کو معطل کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھانے پر راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کا شکریہ بھی ادا کیا۔
تیجسوی یادو نے اس کے ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر داخلہ نے اس معاملے پر آج تک ایک لفظ تک نہیں کہا۔ وزیر اعلیٰ یا کسی نائب وزیر اعلیٰ نے زخمی طلبہ سے ملاقات کرنے تک کی زحمت نہیں کی۔ اگر ان معصوم طلبہ کی جان چلی جاتی تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟ پریس کانفرنس میں رکنِ پارلیمنٹ میسا بھارتی، ابھے کشواہا اور سریندر یادو بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے اس سے قبل اگست ہی میں بہار کے پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) ونے کمار سے ملاقات کی تھی اور 25 جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران اے کے-47 رائفل کے مبینہ استعمال کے معاملے میں سیوان کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور دیگر سینئر افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو کی قیادت میں وفد نے کہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ طلبہ کے خلاف اس طرح کی رائفل استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا۔ آر جے ڈی لیڈر نے صحافیوں سے کہا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اے کے-47 کا استعمال صرف وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری یا مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حکم پر ہی کیا جا سکتا تھا۔ اس معاملے پر دونوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور کچھ بھی نہیں کہہ رہے ہیں۔ متعلقہ پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) اور دیگر سینئر افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔
راجدھانی پٹنہ کے سری کرشنا میموریل آڈیٹوریم میں منعقدہ تاڑی بزنس مین مہاجُٹان پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ بہار کے کئی علاقوں میں تاڑی کا کاروبار ہوتا ہے۔ اگر اس سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں عظیم اتحاد کی حکومت بنتی ہے تو اس کاروبار کو صنعت کا درجہ دے دیا جائے گا۔
سابق نائب وزیر اعلیٰ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ حکومت میں تھے تو انہوں نے پارٹی سربراہ لالو پرساد یادو سے کئی بار تاڑی کے کاروبار کو شراب بندی قانون سے الگ کرنے کے بارے میں بات کی تھی، لیکن وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ضد کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا، ’’آنے والے الیکشن میں ہماری حکومت بنی تو تاڑی کو شراب بندی سے باہر کر دیا جائے گا۔‘‘
تیجسوی یادو نے کہا کہ آج شراب بندی قانون کی وجہ سے سب سے زیادہ ظلم پاسی برادری کو ہوا ہے۔ کئی لوگوں نے اس بارے میں شکایت بھی کی ہے۔ لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ان کا آبائی پیشہ بند کر دیا گیا ہے۔ اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری میں پاسی برادری کی آبادی ایک فیصد ہے اور پاسی برادری کے 76 فیصد لوگ بے زمین ہیں۔آر جے ڈی لیڈر نے شراب بندی قانون پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت پسماندہ، انتہائی پسماندہ، دلت اور قبائلی طبقے کے لوگوں کو نشانہ بنا کر جیل بھیجا جا رہا ہے۔ حالات یہ ہو گئے ہیں کہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کئی لوگ ضمانت بھی نہیں کروا پا رہے ہیں۔ پولیس بھی شراب کے نام پر گھروں میں گھس کر لوگوں کا استحصال کر رہی ہے۔ بہار حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی ’نیرا‘ اسکیم بھی فلاپ ہو گئی ہے۔
تیجسوی یادو نے پاسی برادری کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اب ووٹوں سے حکومت کو نشانہ بنانے اور عظیم اتحاد کی حکومت بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کا درجہ ملنے سے اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہوگی۔ اس موقع پر تیجسوی یادو نے لبنی (تاڑی کو ذخیرہ کرنے والا مٹی کا برتن) بھی اٹھایا۔
]]>