add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99);
دیش – sachkiawaz.com
https://sachkiawaz.com
Sat, 19 Sep 2026 15:17:38 +0000en-US
hourly
1 https://wordpress.org/?v=6.9.8سسٹم نہیں چاہتا طلبا پوچھیں سوال
https://sachkiawaz.com/%d8%b3%d8%b3%d9%b9%d9%85-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%da%86%d8%a7%db%81%d8%aa%d8%a7-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%d9%be%d9%88%da%86%da%be%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84/
https://sachkiawaz.com/%d8%b3%d8%b3%d9%b9%d9%85-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%da%86%d8%a7%db%81%d8%aa%d8%a7-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%d9%be%d9%88%da%86%da%be%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84/#respondSat, 19 Sep 2026 15:17:38 +0000https://sachkiawaz.com/?p=11171اندور:راہل گاندھی نے آج اندور میں چھاتروں کی گونج پروگرام میں کہا کہ سوال پوچھنا حکومت کو گراں گزرتا ہے۔ سسٹم نہیں چاہتا کہ طلبا سوال کریں،یہ خاموشی ہی اندھ بھکت پیدا کرتی ہے۔اس دوران راہل گاندھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سسٹم کو اسٹوڈنٹس سے خطرہ ہے، کیونکہ وہ سوال پوچھتا ہے۔ اسٹوڈنٹس پوچھتا ہے کہ امت شاہ کے بیٹے آئی سی سی کے چیئرمین کیسے بن گئے؟ ملک کے پورے بزنس کو 2 لوگوں نے کیسے کیپچر کر لیا؟ عدلیہ سمیت باقی ادارے اپنا کام کیوں نہیں کر رہے؟ الیکشن کمیشن اپنا کام کیوں نہیں کر رہا ہے؟
اندور میں ایک طالبہ نے راہل گاندھی کے سامنے اسٹوڈنٹس کے مسائل سامنے رکھنے کے ساتھ ساتھ سرکاری عہدوں پر تقرری روکے جانے کا سنگین مسئلہ بھی اٹھایا۔ انھوں نے مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں سسٹم کی زبردست ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’راہل گاندھی جی، آپ انصاف کے جنگجو ہیں۔ آپ مدھیہ پردیش کے اسٹوڈنٹس کو بھی انصاف دلائیں۔‘‘
راہل گاندھی نے کہا کہ امتحان کے دوران کچھ امیدواروں سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن کہیں نہ کہیں ان کا سسٹم پر بھروسہ ختم ہو گیا ہے۔ یہ سن کر تقریب میں موجود کچھ طلبا نے کہا کہ ’’سر، ہم سسٹم سے ہار گئے۔‘‘ طلبا کی بات سننے کے بعد راہل گاندھی کہتے ہیں کہ ’’سسٹم کے اندر بیٹھے کچھ لوگ بدعنوان ہو جاتے ہیں۔ پیسوں کے لالچ میں پیپر لیک کر دیتے ہیں اور لاکھوں طلبا کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اگر بدعنوان لوگ امتحان سسٹم کا حصہ بنے رہیں گے اور امتحان کا طریقہ ہی بدعنوانی پر مبنی ہوگا تو اس کا نقصان طلبا کو اٹھانا پڑے گا۔
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی ’بھارت جوڑو میدان‘ پہنچ چکے ہیں، اور ہزاروں طلبا کی بھیڑ نے زوردار نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ راہل گاندھی نے اسٹیج پر پہنچنے کے بعد طلبا اور نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ نے میرا جس طرح استقبال کیا، اس کے لیے شکریہ۔ میں یہاں آ کر بہت خوش ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم ہر شہر میں پروگرام کے دوران طلبا سے جڑے ایشوز اور ان کے مستقبل کو لے کر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ ان میں پیپر لیک، تنظیمی ناکامی، انفراسٹرکچر کی کمی، تعلیم کے بڑھتے خرچ اور نجکاری جیسے ایشوز شامل ہیں۔‘‘
راہل گاندھی نے اندور کے پروگرام کا موضوع ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اندور میں ہم نے طے کیا ہے کہ آج کا موضوع ’سسٹم بنام اسٹوڈنٹس‘ ہوگا۔ طلبا بتائیں گے کہ سسٹم کیا ہے، وہ طلبا کو کس طرح متاثر کر رہا ہے اور ان کے مستقبل کے سامنے کس طرح کے چیلنجز کھڑے ہو رہے ہیں۔‘‘ راہل گاندھی یہ بھی کہتے ہیں کہ پروگرام میں کئی نوجوان اسٹیج پر پہنچ کر اپنی بات بے باکی کے ساتھ رکھیں گے۔
اندور کے ’بھارت جوڑو میدان‘ میں راہل گاندھی 7 بجے پہنچیں گے، جہاں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے وہ خطاب کرنے والے ہیں۔ ان کی آمد سے گھنٹوں قبل ہزاروں نوجوانوں کی بھیڑ تقریب کے مقام پر پہنچ چکی ہے اور وہ راہل گاندھی کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہے۔ ایک ویڈیو سامنے آئی ہے، جو تقریباً 5 بجے کی ہے، جس میں طلبا اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ایک بڑے سے پنڈال کے اندر دکھائی دے رہی ہے۔ یہ ہزاروں افراد راہل گاندھی کی ایک جھلک دیکھنے جمع نہیں ہوئے ہیں، بلکہ ملک میں تعلیمی نظام کی خراب صورت حال کو بہتر بنانے کی امید لے کر پہنچے ہیں۔
]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%b3%d8%b3%d9%b9%d9%85-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%da%86%d8%a7%db%81%d8%aa%d8%a7-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%d9%be%d9%88%da%86%da%be%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84/feed/0اتراکھنڈ:بہہ گیا 170فٹ لمبا برج، عام زندگی مفلوج،چھتیس گڑھ کے کئی کالج طلبا ندی میں لاپتہ،بہار میں 47 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%a7%da%a9%da%be%d9%86%da%88%d8%a8%db%81%db%81-%da%af%db%8c%d8%a7-170%d9%81%d9%b9-%d9%84%d9%85%d8%a8%d8%a7-%d8%a8%d8%b1%d8%ac%d8%8c-%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af/
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%a7%da%a9%da%be%d9%86%da%88%d8%a8%db%81%db%81-%da%af%db%8c%d8%a7-170%d9%81%d9%b9-%d9%84%d9%85%d8%a8%d8%a7-%d8%a8%d8%b1%d8%ac%d8%8c-%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af/#respondSat, 12 Sep 2026 14:44:31 +0000https://sachkiawaz.com/?p=10946نئی دہلی:اتراکھنڈ میں زبردست بارش ہورہی ہے۔ جس کی وجہ سے پتھوڑا گڑھ کے پل گاڑھ نالے پر بنا 170 فٹ لمبا بیلی برج تیز بہائو میں نذر ہوگیا۔ اس سے چین سرحد سے منسلک ویاس ، دارما اور چندوس دروں کا رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔جس سے عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے، یہ برج 27 اگست ہی بنایا گیا تھا، کیونکہ پرانا پل 18 اگست کو چٹان گرنے سے ٹوٹ گیا تھا۔ ادھر چھتیس گڑھ کے جانجگیر چانپا میں ہسدیو ندی کے بہائو میں چار کالج طلبا بہہ گیے ہیں۔ صرف ایک طالب علم کی لاش ملی ہے۔ ولاس پور کے چوکسے پور کالج کے آٹھ طلبا وطالبات پکنک منانے گائوں پہنچے تھے۔ ندی کے کنارے سیلفی کے دوران ایک طالب علم کا پیر پھسلا جس کو بچانے کے لئے تین طلبا پانی میں کود گئے اور بہہ گئے۔
ادھر بہار میں سیلاب سے پندرہ اضلاع کے 47 لاکھ سے زیادہ افرا د متاثر ہیں۔ وہ رحت کیمپوں میں ہیں، گنگا سمیت کئی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ یوپی کے چھبیس اضلاع بھی سیلاب کے نرغے میں ہیں۔ یہاں چار لاکھ کی آبادی متاثر ہے۔
21 ہزار سے زیادہ افراد محفوظ مقام پر پہنچائے گئے ہیں۔ کانپور انائو میں گنگا خطرےکے نشان تک پہنچ گئی ہے آس پاس کے علاقوں میں دس فٹ پانی بھرا ہوا ہے۔ ادھر راجستھان میں مانسون سرگرم ہوگیا ہے۔
ایم پی کے پندرہ ضلعوں میں بھاری بارش کا الرٹ ہے۔ جبکہ راجستھان میں 29 اضلاع میں بارش کا امکان ہے۔ راجستھان کے الور ، سوائی مادھو پور ، دوسہ میں تیز بارش سے سڑکوں پر پانی بھر گیا ہے۔ آر ایف بی کے جوان پانی نکالنے میں لگے ہوئے ہیں۔دموہ میں کئی علاقے ڈوب گئے ہیں۔
]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%a7%da%a9%da%be%d9%86%da%88%d8%a8%db%81%db%81-%da%af%db%8c%d8%a7-170%d9%81%d9%b9-%d9%84%d9%85%d8%a8%d8%a7-%d8%a8%d8%b1%d8%ac%d8%8c-%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af/feed/0برکس کے مشترکہ بیان میں پہلگام حملے کی مذمت،ہندوستان کی بڑی سفارتی کامیابی،دہشت گردی پر سخت پیغام
https://sachkiawaz.com/%d8%a8%d8%b1%da%a9%d8%b3-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%81%d9%84%da%af%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c-%d9%85/
https://sachkiawaz.com/%d8%a8%d8%b1%da%a9%d8%b3-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%81%d9%84%da%af%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c-%d9%85/#respondSat, 12 Sep 2026 14:40:49 +0000https://sachkiawaz.com/?p=10943نئی دہلی :برکس کے مشترکہ اجلاس میں ہندوستان کو بڑی سفارتی کامیابی ملی ہے۔ روس ، چین سمیت برکس کے ملکوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ پاکستان کی طرف تھا۔
برکس کے درمیان مشترکہ بیان جاری کرنے کا اتفاق ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی ایشیا میں جنگ چل رہی ہے۔ اور ایران سعودی عرب ، یو اے ای کے الگ الگ نظریات ہیں۔ ہندوستان نے گفتگوکے ذریعہ اعتراض کو دور کرنے اور ارکان ممالک کے درمیان عام اتفاق بنانے میں اہم رول نبھایا ہے۔
واضح رہے کہ نئی دہلی میں منعقدہ دو روزہ برکس سربراہی اجلاس میں ہندوستان کو بڑی سفارتی کامیابی ملی ہے۔ بھارت منڈپم میں برکس کے رکن ممالک نے ’برکس نئی دہلی اعلامیہ 2026‘ کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
تقریباً 45 صفحات پر مشتمل اس اعلامیے میں دہشت گردی کے حوالے سے جس زبان کا استعمال کیا گیا ہے، اسے ہندوستان کی طویل عرصے سے جاری تشویش کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اعلامیے میں پاکستان کا براہ راست نام نہیں لیا گیا، لیکن دہشت گردی کے خلاف اپنائے گئے سخت موقف میں ہندوستان کی اہم تشویش واضح طور پر نظر آتی ہے۔اعلامیے میں 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔
برکس ممالک نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردی کسی بھی مقصد، کسی بھی مقام یا کسی بھی شخص کی جانب سے کی جائے، اسے کسی بھی صورت میں درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ رکن ممالک نے دہشت گردی کے لیے کسی بھی قسم کا جواز قبول نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔اعلامیے میں صرف دہشت گردانہ حملوں کی مذمت تک بات محدود نہیں رہی، بلکہ سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ہندوستان طویل عرصے سے بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔برکس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے اور اسے مجرمانہ اور کسی بھی صورت میں ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے، خواہ اس کے پیچھے کوئی بھی مقصد ہو، وہ کہیں بھی اور کسی کے ذریعے بھی کی گئی ہو۔اعلامیے میں 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی بھی شدید مذمت کی گئی، جس میں 26 افراد کی جان گئی تھی اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس میں دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت، دہشت گردی کی مالی معاونت اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا بھی شامل ہے۔اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ برکس ممالک نے کہا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد اور ان کے حامیوں کو قومی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جوابدہ بنایا جانا چاہیے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کے خلاف اجتماعی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے تمام عناصر، ان کے مالی معاونین اور انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%a8%d8%b1%da%a9%d8%b3-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%81%d9%84%da%af%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c-%d9%85/feed/0امریکہ کے بعدبرطانیہ میں بھی بھاگوت کی پرزور مخالفت
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%a8%da%be%d8%a7%da%af%d9%88%d8%aa-%da%a9%db%8c/
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%a8%da%be%d8%a7%da%af%d9%88%d8%aa-%da%a9%db%8c/#respondSat, 05 Sep 2026 14:28:57 +0000https://sachkiawaz.com/?p=10722لندن:امریکہ کے بعد برطانیہ کی راجدھانی لندن کے میئر صادق خان کو سول سوسائٹی کے 20 تنظیموں نے مکتوب بھیج کر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے پروگرام کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔
مکتوب میں آر ایس ایس کو ایک تانا شاہ اور ملٹری فکر والی تنظیم بتایا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ایک خط برطانیہ کے وزارت خارجہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ میں کئی ہندو تنظیموں نے آر ایس ایس سربراہ کے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن ‘پروگرام کی مخالفت کی تھی ، مظاہرہ کیا تھا۔
موہن بھاگوت کا یہ پروگرام نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہوا تھا۔ لندن کی سوسائٹی کے تنظیموں نے مکتوب میں میئر کو گریٹر لندن اتھارٹی سے اپیل کرنے کو کہا کہ وہ موہن بھاگوت کو برطانیہ دورے کے درمیان آر ایس ایس کے ذریعہ منعقد پروگراموں کا بائیکاٹ کرے۔ موہن بھاگوت ہفتہ کے اختتام میں برطانیہ میں ہندنژاد طبقات کے لئے منعقد ایک پروگرام کو خطاب کریں گے۔
ان تنظیموں نے میئر صادق خان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے پروگرام کیلئے جگہ کی اجازت نہ دیں۔ آرا یس ایس کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر چلائے جارہے انٹرنیشنل آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت بھاگوت کا دورہ امریکہ اور کینڈا میں ہوچکا ہے۔ دا انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے آر ایس ایس کو ایک تاناہی اور ملٹری فکر والی تنظیم قرار دیا ہے۔ جس سے یوروپین فاسی واد سے تحریک ملی تھی۔ اور تنظیم نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کے الگ الگ ثقافت والے سماج کی تحفظ کےلئے بھی نظم کیا جائے۔ اس مکتوب میں ہندوزفار ہیومن رائٹرس ، یوکے انڈین مسلم کونسل ، انڈیا لیبر سالیڈیٹری اور ساوتھ ایشیا سالیڈیٹری جیسی تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ مکتوب میں خاص طبقات کی سیکورٹی کے لئے میٹروپولٹن پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%a8%da%be%d8%a7%da%af%d9%88%d8%aa-%da%a9%db%8c/feed/0ٹی ایم سی کے 22 باغیوں کی رکنیت پر لٹکی تلوار
https://sachkiawaz.com/%d9%b9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-22-%d8%a8%d8%a7%d8%ba%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b1%da%a9%d9%86%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d9%84%d9%b9%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%84%d9%88/
https://sachkiawaz.com/%d9%b9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-22-%d8%a8%d8%a7%d8%ba%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b1%da%a9%d9%86%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d9%84%d9%b9%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%84%d9%88/#respondThu, 03 Sep 2026 14:30:23 +0000https://sachkiawaz.com/?p=10665نئی دہلی:ترنمول کانگریس کے 22 باغی ممبران پارلیمنٹ جو این سی پی میں چلے گئے ہیں، ان کی رکنیت پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ 22 ستمبر تک جواب دیں کہ کیسے وہ این سی پی آئی میں گئے۔ غورطلب ہے کہ ٹی ایم سی کے لیڈر ابھشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایک گمنام جماعت این سی پی آئی میں چلے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون 2026 کو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھشیک بنرجی نے اوم برلا سے ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آئین کی دسویں شیڈیول کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے ان 20 این سی پی آئی ممبران پارلیمنٹ کو ٹی ایم سی اس عرضی کا جواب دینے کے لئے 22 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد 14 جون ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمنٹ نے بغاوت کردی تھی اور نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی ) کا دامن تھام لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے این ڈی اے کو حمایت دینے کا اعلان کردیا تھا، مگر اب ان کی رکنیت پر آئینی سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔بہرحال باغیوں میں حجان کی کیفیت ہے جبکہ ممتا بنرجی خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ یوسف پٹھان سمیت چار ممبران پارلیمنٹ ممتا بنرجی کے رابطہ میں ہیں۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d9%b9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-22-%d8%a8%d8%a7%d8%ba%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b1%da%a9%d9%86%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d9%84%d9%b9%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%84%d9%88/feed/0بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں
https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%8c-%d8%b3%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88/
https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%8c-%d8%b3%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88/#respondThu, 03 Sep 2026 14:28:56 +0000https://sachkiawaz.com/?p=10662نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔
]]>
https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%8c-%d8%b3%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88/feed/0بہار کے 13اضلاع زیر آب،یوپی میں سیلاب کی صورتحال سنگین،کئی ہلاک
https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-13%d8%a7%d8%b6%d9%84%d8%a7%d8%b9-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a2%d8%a8%d8%8c%db%8c%d9%88%d9%be%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c/
https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-13%d8%a7%d8%b6%d9%84%d8%a7%d8%b9-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a2%d8%a8%d8%8c%db%8c%d9%88%d9%be%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c/#respondThu, 03 Sep 2026 14:27:14 +0000https://sachkiawaz.com/?p=10659لکھنؤ: یوپی میں سیلاب کی صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔ 7سے زائد افراد کے مرنے کی خبریں ہیں، وزیر اعظم کے حلقہ انتخاب کاشی میں 407 افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔ اب تک 20ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جاچکا ہے۔
یوپی کے 23 اضلاع میں سیلابی کیفیت ہے۔ دریں اثنا بہار کے 13 اضلاع سیلابی کیفیت سے دوچار ہیں۔ وہاں مسلسل بارش ہورہی ہے۔ پٹنہ میں گنگا خطرے کے نشان سے 2 فٹ اوپر بہہ رہی ہے۔ 8ندیوں کی طغیانی میں اضافہ ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ لینڈ سلائڈنگ سے ہماچل پردیش میں 175 سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔ مدھیہ پردیش کے آدھے حصے میں زبردست بارش کے تحت الرٹ جاری ہے۔ چھتر پور ساگر ، رائے سین، نرسنگ پل، سیونی اور بیتول میں عوام کو الرٹ رہنے کیلئے کہا گیا ہے۔
افسران نے این ڈی آر ایف کی کشتی کے ذریعے نمو گھاٹ سے سفر کرتے ہوئے سالارپور، سرائیا، کونیا، پل کوہنا، ڈھیلوریا اور سرائے موہانا سمیت مختلف علاقوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کر کے انہیں ہر ممکن انتظامی مدد کی یقین دہانی کرائی۔
ضلع مجسٹریٹ نے حکام کو ہائی الرٹ رہنے اور متاثرہ علاقوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت دی۔ انہوں نے ضرورت پڑنے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے پیشگی انتظامات، کشتیوں اور دیگر امدادی وسائل کی دستیابی یقینی بنانے کو کہا۔ پولیس اور این ڈی آر ایف اہلکاروں کو بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری کارروائی اور مسلسل نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔سیلاب متاثرین کے لیے قائم ریلیف کیمپوں میں خوراک، پینے کا پانی، بجلی، روشنی، صفائی، طبی سہولیات اور سکیورٹی کا جائزہ بھی لیا گیا۔ بچوں، خواتین اور بزرگوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ طبی ٹیموں کو باقاعدگی سے صحت کا معائنہ کرنے اور ضروری ادویات دستیاب رکھنے کو کہا گیا ہے۔دوسری جانب ریاست کے مجموعی سیلابی منظرنامے کے مطابق اب تک 35 اضلاع متاثر ہوئے ہیں، جبکہ فی الحال 23 اضلاع میں سیلاب کا اثر برقرار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16,784 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں 3,042 افراد کو بدھ کے روز نکالا گیا۔ریلیف اور ریسکیو آپریشن کے لیے ریاست میں 1,499 کشتیاں اور موٹر بوٹس جبکہ 1,067 طبی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ حکومت نے 1,311 سیلاب ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں، جن میں سے 201 اس وقت فعال ہیں۔ سیلاب سے مکانات کو پہنچنے والے نقصان کے 442 معاملات میں بھی امداد فراہم کی گئی ہے، جبکہ 36,287 مویشی متاثر ہوئے ہیں۔غازی پور میں بھی گنگا کا پانی خطرے کے نشان سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہاں پوستا گھاٹ پر لوگوں کو تیز بہاؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے لگایا گیا فلوٹنگ بیریئر مبینہ طور پر گزشتہ تقریباً ایک ہفتے سے ایک سرے سے کھلا ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق تیز دھار میں بیریئر کا ایک حصہ جھول رہا ہے، جس سے حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھ رہے ہیں۔انتظامیہ نے گنگا کے اہم گھاٹوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں، تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بڑھتے پانی کے دوران حفاظتی آلات کا درست حالت میں ہونا بھی ضروری ہے۔ ان کی مطالبہ ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر فلوٹنگ بیریئر کو محفوظ کرے اور تمام گھاٹوں پر موجود حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-13%d8%a7%d8%b6%d9%84%d8%a7%d8%b9-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a2%d8%a8%d8%8c%db%8c%d9%88%d9%be%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c/feed/0خواتین پرہوتا ہے سہ طرفہ تشدد،پونے میں راہل گاندھی کا اظہار خیال
https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%b1%db%81%d9%88%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92-%d8%b3%db%81-%d8%b7%d8%b1%d9%81%db%81-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af%d8%8c%d9%be%d9%88%d9%86%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/
https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%b1%db%81%d9%88%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92-%d8%b3%db%81-%d8%b7%d8%b1%d9%81%db%81-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af%d8%8c%d9%be%d9%88%d9%86%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/#respondSat, 22 Aug 2026 15:11:52 +0000https://sachkiawaz.com/?p=9914پونے:راہل گاندھی آج ’چھاتروں کی گونج‘پروگرام کے تحت پونے پہنچے جہاں ان کا زبردست استقبال کیا گیا، پروگرام میں لڑکیوں کی کثیر تعداد میں موجود تھی۔ اس موقع پر انھوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی لڑکیوں کو آزاد ہونا ضروری ہے۔
والد ، شوہر، بیٹے سے آپ کا رشتہ ہے لیکن آپ کی شناخت نہیں ہے۔ انھوں نے منواسمرتی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ منوسمرتی کہتی ہے کہ لڑکی والد ، شوہر اور بچوں کی جائیداد ہے۔ اس شرمناک سوچ سے خواتین کو آزاد ہونا چاہئے وہ کسی پر منحصر نہیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف تین طرح سے تشدد ہوتا ہے۔ اول تو پیدا ہوتے ہوئے قتل، دوئم جسمانی تشدد، سوئم اقتصادی بندشیں۔
غورطلب ہے کہ ’چھاتروں کی گونج‘پروگرام کے تحت صرف لڑکیوں کو مدعو کیا گیا تھا اس دوران لڑکیوں نے راہل کی آمد پر پرجوش نعرے لگائے۔ پورا منڈپ راہل راہل کے نعرے سے گونجنے لگا۔ بھوجپوری گلوکارہ نیہا راٹھور بھی اس پروگرام میں پہنچی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ میں سرکار سے سوال پوچھتی ہوں ، بدلے میں ڈھیر سارے سوال اور ایف آئی آر جھیلنی پڑتی ہے۔ میں لوک گائیکا ہوں لیکن اس کے بجائے میرے گھر پولیس پہنچتی ہے۔ ہمیں پانچ سال سے گالیاں مل رہی ہیں۔ راہل گاندھی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں مجھے بھی گالیاں مل رہی ہیں۔ اس موقع پر راہل گاندھی نے لڑکیوں کے مسائل سنے انھوں نے کہا کہ آج کاالمیہ یہ ہے کہ 60فیصد لڑکیوں اکیلے گھروں سے نہیں نکل سکتیں۔ لڑکیوں کی تعلیم آج ملک کی ترقی کیلئے بے حد ضروری ہے۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%b1%db%81%d9%88%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92-%d8%b3%db%81-%d8%b7%d8%b1%d9%81%db%81-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af%d8%8c%d9%be%d9%88%d9%86%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/0وارانسی میں تمام گھاٹ زیر آب،چھتوں پر ہورہی ہے پوجا
https://sachkiawaz.com/%d9%88%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%da%af%da%be%d8%a7%d9%b9-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a2%d8%a8%d8%8c%da%86%da%be%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%be%d8%b1-%db%81/
https://sachkiawaz.com/%d9%88%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%da%af%da%be%d8%a7%d9%b9-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a2%d8%a8%d8%8c%da%86%da%be%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%be%d8%b1-%db%81/#respondSat, 22 Aug 2026 14:16:57 +0000https://sachkiawaz.com/?p=9911نئی دہلیاترپردیش میں مسلسل بارش سے گنگا سمیت 6ندیوں کا سطح آب خطرے سے اوپر ہے۔ 13اضلاع میں سیلابی صورتحال ہے۔ وزیر اعظم مودی کا حلقہ انتخاب وارانسی کی بری حالت ہے۔ وہاں کے تمام 84 گھاٹ ڈوب گئے ہیں۔ مان کونیکا گھاٹ کے چھت پر انتم سنسکار وپوجا پاٹھ ہورہا ہے۔ دشا میگھ گھاٹ کے چھت پر بھی پوجا پاٹھ جاری ہے۔ ادھر راجستھان میں گرمی بڑھتی جارہی ہے۔ درجہ حرارت 40 پار کرچکا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مدھیہ پردیش کے 22اور یوپی کے 28 اضلاع میں بارش کے سبب الرٹ جاری ہے۔
چھتیس گڑھ اور اڑیسہ میں تیز بارش کا امکان ہے۔مدھیہ پردیش کے ستنا میں صبری واٹر فال خطرناک روپ لے چکا ہے۔ لکھنؤ کے حسین گنج میں زبردست بارش کے سبب کئی دکانوں اور گھروں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔میرٹھ میں بارش کی وجہ سے ایل ایل آر اے میڈیکل کالج میں آبی جمائو ہوگیا ہے۔
]]>https://sachkiawaz.com/%d9%88%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%da%af%da%be%d8%a7%d9%b9-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a2%d8%a8%d8%8c%da%86%da%be%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%be%d8%b1-%db%81/feed/0اتراکھنڈ میں کتوں کی دہشت سے 10اسکول بند،600سے زائد بچوں کی ہورہی ہے آن لائن پڑھائی،ڈنڈے لیکر گھر سے نکلتے ہیں لوگ
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%a7%da%a9%da%be%d9%86%da%88-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%d8%b3%db%92-10%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d8%a8%d9%86%d8%af/
https://sachkiawaz.com/%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%a7%da%a9%da%be%d9%86%da%88-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%d8%b3%db%92-10%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d8%a8%d9%86%d8%af/#respondThu, 20 Aug 2026 14:09:10 +0000https://sachkiawaz.com/?p=9852دہرادون:اتراکھنڈ کے چمولی ضلع کے نارائن باگڈ علاقے میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرہ کے پیش نظر طلباء کی حفاظت کو لے کر ایک بڑا فیصلہ لیا گیا ہے۔ علاقے میں کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر نارائن باگڈ کے 10 اسکولوں کو چار دنوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ چمولی کے چیف ایجوکیشن آفیسر آکاش سرسوت نے اس سلسلے میں حکم جاری کیا۔ حکم نامے کے مطابق نارائن باگڈ علاقے کے 10 اسکولوں میں 20 اگست 2026 سے 23 اگست 2026 تک تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ طلبہ کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ آوارہ اور متشدد کتوں کی بڑھتی ہوئی لعنت کے باعث بچوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی تھی۔ اس کی روشنی میں چار روز تک باقاعدہ کلاسز نہیں ہوں گی۔ حکم کے مطابق نارائن باگڈ علاقے کے 10 اسکول 20 اگست سے 23 اگست تک بند رہیں گے، یعنی بچوں کو چار دن تک اسکول جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔کتوں کی دہشت کا عالم یہ ہے کہ لوگ کہیں جانے سے پہلے لاٹھی ڈنڈے لے کرگھروں سے باہر نکلتے ہیں۔
نارائن باگڈ علاقہ میں کتوں کی لعنت کو دیکھتے ہوئے علاقہ پنچایت کے سربراہ نے اس سلسلے میں ایک خط بھیجا تھا۔ ضلع مجسٹریٹ چمولی کی ہدایات کے بعد چیف ایجوکیشن آفیسر نے اسکولوں کو بند کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد اسکول جانے والے طلباء کو آوارہ اور پرتشدد کتوں کے ممکنہ خطرات سے بچانا ہے۔ چار روزہ بندش کے دوران بچوں کی تعلیم آن لائن جاری رہے گی۔
یہ حکم نارائن باگڈ علاقے کے 10 اسکولوں پر لاگو ہوتا ہے۔ یہ سکول 20 اگست سے 23 اگست تک بند رہیں گے۔ اس مدت کے دوران طلباء کو اسکول نہیں بلایا جائے گا۔ آن لائن لرننگ کے ذریعے ان کی تعلیم جاری رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اسکول بند ہونے کے باوجود طلباء کی تعلیم مکمل طور پر متاثر نہیں ہوگی۔
نارائن باگڈ علاقے میں کتوں کی لعنت کی وجہ سے اسکولوں کو بند کرنے کے اس فیصلے کا براہ راست تعلق طلباء کی حفاظت سے ہے۔ انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے جاری کردہ حکم نامے کے بعد اب 10 اسکولوں میں طلباء چار دن تک آن لائن تعلیم حاصل کریں گے۔
فی الحال، 20 اگست سے 23 اگست، 2026 تک اسکول میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ چیف ایجوکیشن آفیسر، چمولی، آکاش سرسوت نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس مدت کے دوران کلاسیں آن لائن کی جائیں گی۔
یہ فیصلہ ضلع مجسٹریٹ چمولی کی ہدایات اور علاقہ پنچایت کے سربراہ نارائن باگڈ کے ایک خط کے جواب میں کیا گیا ہے۔ نارائن باگڈ کے علاقے میں آوارہ اور پرتشدد کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرہ کو دیکھتے ہوئے طلباء کی حفاظت کو ترجیح دی گئی ہے۔