Connect with us

uttar pradesh

پریشانی کاسبب بنی بارش ،ٹیچرز کالونی کے گھروں میں بھرا کئی فٹ پانی

Published

on

دیوبند:آج صبح ہونے والی زبردست موسلادھار بارش دیوبند اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے لئے بے انتہاء پریشانیوں کا سبب ثابت ہوئی ہے ۔دیوبند میں چاروں طرف پانی بھراہوا ہے اور فلائی اوور سے گندا پانی ٹپک رہا ہے جبکہ شہر کی ٹیچرز کالونی کے گھروں میں کئی کئی فٹ پانی بھرگیا ۔
تفصیل کے مطابق پیر کے روز صبح سویرا سے ہونے والی موسلادھار بارش نے دیوبند اور آس پاس کے دیہی علاقوں میں پانی نکاسی کے نظام کی پول کھول دی ہے ۔کئی گھنٹوں تک مسلسل ہونے والی بارش کی وجہ سے دیوبند کے متعدد علاقوں میں خاص کر نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے وہیں ہائی وے پر واقع ٹیچرز کالونی کے گھروں میں دو سے تین فٹ تک پانی بھر گیا ہے ۔
گھر وں میں بارش کا گنداپانی بھرجانے کی وجہ سے گھر کے قیمتی سامان بھی خراب ہوگئے ہیں ۔محکمہ موسمیات نے آئندہ 24گھنٹوں میں بہت زیادہ بارش ہونی کی پیشین گوئی کی ہے اگر بارش کا یہ سلسلہ جاری رہا تو پانی بھرجانے کی صورت حال مزید ابتر ہوجائے گی خاص طور پر نشیبی علاقوں کے رہائش پذیر افراد کو اپنے گھروں کے سامان کو محفوظ رکھنے کا مسئلہ پیدا ہوجائے گا ۔
دیوبند ہائی وے پر واقع فلائی اوور کے نیچے بھی بارش کا پانی پریشانی کاسبب بنا ہوا ہے ۔فلائی اوور سے ٹپکنے والے گندے پانی کی وجہ سے سڑک سے گزرنے والے لوگوں کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔کانوڑیاترا کے دوران بڑی تعداد میں ادھر سے گزرنے والے لوگوں کو گندے پانی کے فلائی اوور سے ٹپکنے اور سڑکوں پر پانی کے جمع ہوجانے سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔بارش نے ایک مرتبہ پھر دیوبند میں پانی نکاسی کے نظام پر سوال کھڑے کردیئے ہیں ۔عوام نے میونسپل بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کے جن علاقوں میں بارش کا پانی بھر گیا ہے اس کے نکاسی کے لئے فوری انتظامات کئے جائیں گے ۔

uttar pradesh

سبکدوش ہیڈ کلرک محمد اکبر نظر فاؤنڈیشن کے ذریعہ اعزاز سے سرفراز

Published

on

دیوبند:نگر پالیکا پریشد دیوبند کے ہیڈ کلرک کے عہدے سے سبکدوش ہونے والے محمد اکبر کو ان کی تقریباً 37 سالہ مخلصانہ خدمات کے اعتراف میں نظر فاؤنڈیشن کی جانب سے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر فاؤنڈیشن کے صدر نجم عثمانی نے انہیں شال اوڑھاکر اور سپاس نامہ پیش کرکے عزت افزائی کی۔
تقریب میں سب سے پہلے نجم عثمانی نے محمد اکبر کے اعزاز میں جاری کیا گیا سپاس نامہ پڑھ کر سنایا۔ سپاس نامہ میں ان کی ایمانداری، فرض شناسی، محنت، سادگی، خوش اخلاقی اور عوامی خدمت کے جذبے کو سراہا گیا اور بتایا گیا کہ محمد اکبر نے 17 نومبر 1988 سے 31 جولائی 2026 تک نگر پالکا پریشد دیوبند میں مختلف اہم شعبوں میں پوری دیانت داری، محنت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیں۔اس موقع پر نجم عثمانی نے کہاکہ ایمانداری اور فرض شناسی کے ساتھ گزارا گیا خدمت کا دور انسان کی سب سے بڑی پہچان بن جاتا ہے۔ محمد اکبر نے 37 سالہ اپنی ملازمت کے دوران نہ صرف محکمہ کا وقار بڑھایا بلکہ اپنے حسنِ سلوک اور بہترین طرزِ عمل سے ساتھی ملازمین اور شہریوں کے دلوں میں بھی ایک خاص مقام بنایا ہے۔
ضرار بیگ نے کہا کہ سرکاری ملازمت سے سبکدوشی صرف عہدے سے رخصتی کا نام ہے، جبکہ انسان کی اچھی خدمات اور اس کا نیک برتاؤ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ محمد اکبر کی خدمات کا دور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال اور مشعلِ راہ رہے۔سرکاری ملازمت سے سبکدوشی صرف عہدے سے رخصتی کا نام ہے، جبکہ انسان کی اچھی خدمات اور اس کا نیک برتاؤ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔
محمد اکبر کی خدمات کا دور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال اور مشعلِ راہ رہے گا۔تقریب میں شاہنواز عثمانی، ضرار بیگ، سمیر چودھری، مرتضیٰ قریشی، محمد کوکب، محمد عیسیٰ، ریحان قریشی، شاکر سلمانی، عبداللہ شہزاد، نبیل نوشاد سمیت دیگر معززین موجود رہے۔آخر میں محمد اکبر نے نظر فاؤنڈیشن کی جانب سے کی گئی عزت افزائی پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز ان کے لیے انتہائی جذباتی اور یادگار لمحہ ہے اور دورانِ ملازمت ملنے والے تعاون اور عزت کو وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

Continue Reading

uttar pradesh

ایم ایل اے اومکار، ڈی ایم و ایس پی اور ضلع صدر بھوپیندر نے کانوڑیوں پر کی پھولوں کی بارش

Published

on

بجنور:ماہِ شراون کی کانوڑ یاترا کے پیش نظر پیر کے دن بجنور میں عقیدت و بھکتی کا نظارہ دیکھنے کو ملا۔ ایم ایل اے نہٹور اوم کمار، ضلع مجسٹریٹ جسجیت کور، پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھیشیک جھا، بی جے پی ضلع صدر بھوپیندر سنگھ اور لینا سنگل نے مل کر کانوڑ یاتریوں کا شاندار استقبال کیا۔تھانہ منڈاولی علاقہ کے چڑیا پور بارڈر پر بی جے پی ایم ایل اے اوم کمار، ڈی ایم بجنور جسجیت کور اور ایس پی بجنور ابھیشیک جھا پہنچے اور کانوڑیوں پر پھولوں کی بارش کی اور پھل تقسیم کیے۔
اس کے بعد تمام افسران موٹا مہادیو مندر پہنچے۔ وہاں یاتریوں کو پرساد تقسیم کیا اور ان کی یاترا اور سہولیات کے متعلق معلومات لیں۔ ساتھ ہی سیکیورٹی اور ٹریفک کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
افسران نے تمام یاتریوں کو بخیریت اور مبارک یاترا کی نیک خواہشات پیش کیں۔ اس موقع پر انتظامیہ اور دیگر افسران بھی موجود رہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

نوجوانوں کی تشویش کو سمجھ چکے ہیں راہل گاندھی،پریاگ راج میں طلبہ کی گونج پروگرام میں شامل طلبہ کا ردعمل

Published

on

(پی این این)
پریاگ راج: پریاگ راج میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام میں شرکت کرنے والے طلباء نے ردعمل کا اظہار کیا۔ کچھ نے نوجوانوں کے مسائل پر ان کی توجہ کی تعریف کی جبکہ دوسروں نے سوال کیا کہ کیا ان کے وعدے حقیقت میں پورے ہوں گے۔
کے پی گراؤنڈ میں ہونے والے اس پروگرام میں ہزاروں طلباء نے شرکت کی، جہاں گاندھی نے ہندوستان کے نوجوانوں سے متعلق مسائل پر بات کی، بشمول روزگار، مسابقتی امتحانات، اور معاشی طور پر کمزور پس منظر کے طلباء کو درپیش چیلنجز وغیرہ۔ہمانشو ترپاٹھی الہ آباد یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویٹ ہیں اور قومی اہلیت کے امتحان کی تیاری کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ گاندھی نے طلباء کے مسائل کو زور سے اٹھایا، لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں تھی کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو وہ انہیں حل کریں گے۔
رشمی یادو مسابقتی امتحانات کی تیاری کر رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ وہ طلباء کے مستقبل کے لیے گاندھی جی کے وژن کو سمجھنے کے لیے اس تقریب میں شریک ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاستدان اسٹیج سے بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں لیکن اقتدار میں آتے ہی ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ایک اور طالب علم راکیش موریہ نے کہا کہ راہل گاندھی نے اپنے الفاظ سے طلبہ کے دل جیت لیے۔ انہوں نے کہا کہ غریب گھرانوں کے بچوں کو اپنی تعلیم مکمل کرنے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن وہ نوکری کی آسامیاں آنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کے ایک طالب علم ششی پرکاش نے کہا کہ کانگریس لیڈر آج کے نوجوانوں کی تشویش کو سمجھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ طلبا کے درپیش مسائل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ جنتر منتر واقعہ کے بعد راہل گاندھی سے لوگوں کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔
تقریب کے دوران گاندھی نے اسٹیج پر کئی طلباء سے بات چیت کی۔ انہوں نے مرکزی اسٹیج سے دور بیٹھے طلباء سے بھی بات کی اور ان کے تحفظات کو سمجھنے کی کوشش کی۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نوجوانوں کے مسائل اور مقابلہ جاتی امتحانات کو اتر پردیش میں سیاسی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔
گاندھی نے روزگار کے مواقع، بھرتی کے عمل اور نوجوانوں کے لیے مناسب مواقع کی کمی جیسے مسائل پر سوال اٹھانے کے لیے طلبہ اور نوجوانوں پر مرکوز واقعات کو تیزی سے استعمال کیا ہے۔بارش کے بعد کے پی گراؤنڈ میں کئی مقامات پر پانی جمع ہونے اور کیچڑ کے باوجود طلبہ کی بڑی تعداد نے پروگرام میں شرکت کی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network