Connect with us

uttar pradesh

رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند شاخ مغربی یو پی زون نمبر -3 کے چوتھے عمومی و انعامی اجلاس کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
جلال آباد :رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند شاخ مغربی یوپی زون نمبر ٣ کے چوتھے عمومی و انعامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زون کے صدر مولانا محمد عاقل نے اپنے‌ صدارتی خطاب میں ذمہ داران مدارس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کا قیام محض ایک رسمی اتحاد کے لئے نہیں ہوا بلکہ اس کا حقیقی مقصد یہ ہیکہ ہم اپنے تعلیمی و انتظامی ڈھانچے کو وقت کے تقاضوں کے مطابق اتنا مضبوط اور مربوط بنائیں کہ کوئی بھی طوفان ہماری بنیادوں کو متزلزل نہ کرسکے اس مقصد کے حصول کے لئے حضرت صدرنے چار بنیادی نکات پر مشتمل لائحہ عمل بھی علماء کرام کے سامنے پیش کیا ١ استعداد کی پختگی اور رسوخ فی العلم ٢ جدید چیلنجز ، الحاد اور فکری گمراہی کا علمی تدارک ٣ انتظامی پختگی ، قانونی بیداری اور مالیاتی شفافیت ٤ زون کے مدارس کے مابین باہمی یکجہتی اور تعاونی نظام حضرت نے یہ چہار نکاتی لائحہ عمل پیش کرنے کے بعد ذمہ داران مدارس کی اس جانب بھی توجہ مبذول کرائی کہ آپ حضرات رابطہ مدارس کے سالانہ مشترکہ امتحان میں اپنے مدارس کے تمام طلبہ کی شرکت کو بھی یقینی بنائیں تاکہ کوئی بھی مستحق طالب علم اس نظام سے محروم نہ رہے ۔
مولانا نور الحسن کاندھلوی نے خطاب میں فرمایا کہ مدارس کو سود اور مشکوک و مشتبہ تعاون سے محفوظ رکھیں آج کل ہم چندہ کے لئے جاتے ہیں بہت سے لوگ سود کی رقم دیدیتے ہیں اور ہم لوگ اس کو لے لیتے ہیں اس طرح کی رقم سے مدارس کو محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔
مفتی محمد عبداللہ قاسمی جنرل سکریٹری رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند شاخ مغربی یوپی زون نمبر ٣ نے سکریٹری رپورٹ پیش کی اور عاملہ کے ذریعے جو فیصلے لئے گئے ان کو ذمہ داران مدارس کے سامنے رکھا ۔
اجلاس میں سالانہ مشترکہ امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبہ کو بھی گراں قدر انعامات سے نوازا گیا نظامت کے فرائض مفتی محمد طیب صاحب قاسمی نے انجام دئے اخیر میں دعاء سے قبل حضرت صدر محترم نے مہمانان کرام و حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور اس طرح یہ اجلاس مہمان خصوصی حضرت مفتی راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔

 

uttar pradesh

رکن اسمبلی محبوب علی گھر میں نظربند،پولیس نے رامپور جانے سے روکا

Published

on

(پی این این)
امروہہ:سماج وادی پارٹی ہائی کمان کی ہدایت پر رامپور کی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے سرکاری فرمان کے خلاف رامپور ڈی ایم سے ملنے والے وفد میں شامل محبوب علی جمعرات کی صبح جب رامپور کے لئے نکلے تو پولس انتظامیہ نے شہر کے گاندھی مورتی چوراہا پر انکے قافلہ کو روک لیا جسکے بعد موجود بڑی تعداد میں پارٹی لیڈران اور کارکنان نے یو پی سرکار اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا محبوب علی اور دیگر پارٹی لیڈران کی انتظامیہ سے اس بات پر شدید بحس بھی ہوئی جبکہ محبوب علی نے انتظامیہ کو دو ٹوک کہا یا تو رامپور جاؤنگا یا مجھے گرفتار کیا جائے بعد میں کافی دیر کی کش مکش کے بعد انتظامیہ نے محبوب علی سے مطالباتی مکتوب یہیں پیش کر دینے کا مطالبہ کیا مکتوب موصول کرنے کے بعد بھی انتظامیہ کے ذریعہ محبوب علی کو گھر میں نظربند کیا گیا دیر دوپہر تک بھاری پولس فورس محبوب علی کی رہائش گاہ پر موجود رہی۔
رکن اسمبلی امروہہ، صدر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) اتر پردیش اور سابق کابینہ وزیر حاجی محبوب علی نے رامپور کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کیے جانے کی مجوزہ کارروائی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں سے متعلق معاملات کو انتظامی سختی کے بجائے آئینی، قانونی اور انصاف پر مبنی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل اور تعلیمی نظام کو نقصان نہ پہنچے۔ جمعرات کو صبح 11 بجے حاجی محبوب علی اپنے کیمپ دفتر سے ضلع مجسٹریٹ رامپور اور وائس چانسلر (آر ڈی اے) کو میمورنڈم پیش کرنے کے لیے روانہ ہوئے تھے، جس میں جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کی مجوزہ کارروائی پر فوری روک لگانے اور معاملے کا غیر جانبدارانہ حل نکالنے کا مطالبہ شامل تھا۔ تاہم پولیس و انتظامیہ نے انہیں راستے میں ہی روک دیا۔ اس کے بعد انہوں نے احتجاجی مقام پر دھرنا دیا اور وہیں موجود سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) امروہہ کو اپنا یادداشت نامہ پیش کیا۔
اس موقع پر حاجی محبوب علی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے انہیں راستے میں روکنا جمہوری حقوق کی خلاف ورزی اور عوامی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل سے وابستہ ایک اہم مرکز ہے، اس لیے ایسے کسی بھی فیصلے سے قبل مکمل شفافیت، قانونی عمل اور تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی نوعیت کا قانونی یا انتظامی تنازع موجود ہے تو اس کا حل عدالت اور قانون کے مطابق نکالا جائے، نہ کہ ایسی کارروائیوں سے جس سے تعلیم، امتحانات اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس معاملے میں انصاف پسندانہ اور متوازن فیصلہ کرے۔
سابق رکن قانون ساز کونسل اتر پردیش اور سماج وادی پارٹی کے نوجوان رہنما پرویز علی نے کہا کہ سماج وادی پارٹی ہمیشہ تعلیم، آئین اور جمہوری اقدار کی محافظ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کے خلاف سخت کارروائی سے پہلے قانونی تقاضوں کی تکمیل، شفاف جانچ اور تمام فریقین کو سنا جانا ضروری ہے۔ پرویز علی نے کہا کہ حکومت کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جن سے طلبہ، اساتذہ اور ملازمین کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیم کے مراکز کو محفوظ رکھنا اور نوجوان نسل کے مفاد کا تحفظ کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ میمورنڈم میں درج ذیل نکات پیش کیے گئے:
جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کی مجوزہ کارروائی پر فوری روک لگائی جائے۔ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ کرائی جائے اور تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے۔ طلبہ کی تعلیم، امتحانات اور یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیوں پر کسی بھی قسم کا منفی اثر نہ پڑنے دیا جائے۔ اگر کوئی قانونی یا انتظامی تنازع موجود ہے تو اس کا حل صرف عدالتی اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق کیا جائے تعلیمی اداروں سے متعلق معاملات میں ایسا متوازن نقطۂ نظر اختیار کیا جائے جس سے قانون کی پاسداری بھی برقرار رہے اور طلبہ، اساتذہ و ملازمین کے مفادات بھی محفوظ رہیں۔
امید ظاہر کی گئی ہے کہ ضلع انتظامیہ اس حساس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے انصاف اور قانون کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ اس موقع پر سابق رکن قانون ساز کونسل پرویز علی، محمد علی عرف بھورے علی، وہاب سیفی، مختار نقوی، زاہد حسین، حاجی جمشید، ساجد علی، ذاکر علی، بوبی بھگت سنگھ، ششی کانت گوئل، کامیش پردھان، مہیش یادو، حاجی اسلم سلمانی، ریاض الحق پردھان، ڈاکٹر آشکار، محمد میاں پردھان، عارف ایڈووکیٹ، جاوید علی، ناصر علی، مدثر خاں، توصیف چڈھا، امیر آفتاب سمیت سیکڑوں سماج وادی کارکنان موجود رہے۔

 

 

Continue Reading

uttar pradesh

متاثرین کو فوری طور پر فراہم کیا جائے مناسب معاوضہ اور پکی چھت

Published

on

دیوبند:بڈھانہ کوتوالی علاقے کے گاؤں حبیب پور میں شدید بارش کے باعث ایک خستہ حال مکان گرنے سے دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا۔ اس حادثے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ملبے تلے دب کر ہلاک ہو گئے۔ اس دردناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں کہرام مچ گیا اور ماحول انتہائی غمگین ہے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر ایک وفد نے متاثرہ گاؤں کا دورہ کیا اور پسماندگان سے ملاقات کر کے تعزیت کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق، حبیب پور گاؤں میں مسلسل ہونے والی بارش کی وجہ سے اسلام الدین نامی شخص کا مکان اچانک زمین دوز ہو گیا۔ جاں بحق ہونے والے بچوں میں رخسار (عمر 11 سال)، شفاء (عمر 6 سال)، عبد الاحد (عمر 4 سال) اور محض 10 ماہ کا معصوم ذیشان شامل ہیں۔
جمعیۃ علماء کا ایک وفد حبیب پور پہنچا۔ وفد کی قیادت جمعیۃ علماء کے صوبائی نائب صدر مفتی بن یامین قاسمی نے کی۔ انہوں نے متاثرہ خاندان سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی المناک اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جمعیۃ علماء اس دکھ کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ہمارا وفد یہاں صرف تعزیت کے لیے نہیں، بلکہ انسانی ہمدردی کے ناطے اس غمزدہ خاندان کا سہارا بننے آیا ہے۔ ہم پسماندگان کو یقین دلاتے ہیں کہ جمعیۃ علماء اس کڑے وقت میں ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔مولانا موسیٰ قاسمی سکریٹری، جمعیۃ علماء مغربی اتر پردیش نے کہا کہ بارش کی وجہ سے غریب کا مکان گرنا اور ایک ہنستا کھیلتا خاندان ملبے تلے دب کر ختم ہو جانا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کاغذی کارروائیوں سے اوپر اٹھ کر متاثرہ خاندان کی فوری اور ٹھوس مالی امداد کرے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرین کو فوری طور پر مناسب معاوضہ اور پکی چھت فراہم کی جائے تاکہ بچ جانے والے افراد اپنی زندگی کو دوبارہ پٹری پر لا سکیں۔ جمعیۃ علماء اس مطالبے کو انتظامیہ کے سامنے مضبوطی سے اٹھائے گی۔مفتی عبدالقادر (نائب صدرجمعیۃ علماء ضلع مظفر نگر) ،مفتی اقبال قاسمی متاثرہ خاندان سے ملاقات کرنے والے وفد میں،مولانا احسان قاسمی، قاری محمد عمر، قاری عبدالرحمان، مولانا نظر، قاری شعیب موجودرہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

پولیس نے دہلی جانے والے کانگریس لیڈران کو گھروں میں کیا نظر بند

Published

on

دیوبند:راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی حمایت میں دہلی جانے والے کانگریس لیڈران کے خلاف پولیس کی کارروائی ضلع سہارنپور کانگریس کے ضلع صدر سندیپ رانا کو پولیس نے راستہ میں روک کرحراست میں لیا ۔
تفصیل کے مطابق دہلی کے جنتر منتر پر کانگریس لیڈران راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی ودیگر سینئر کانگریسی لیڈران کے دھرنے کی حمایت میں جانے کی تیاری کرنے والے سہارنپور کے کانگریس پارٹی کے لیڈران کو پولیس نے ان کے گھروں میں نظر بند کردیا ۔جبکہ ضلع کانگریس صدر سندیپ سنگھ رانا کو دہلی جاتے ہوئے ٹول پلازہ پر پولیس نے حراست میں لے لیا ۔
پولیس نے اس سلسلہ میں مزید کارروائی کرتے ہوئے سابق اسمبلی رکن مسعود اختر ،ضلع صدر چودھری مظفر علی ،منیش تیاگی اورایم پی کے نمائندہ ڈاکٹر مجید کو ان کے گھروں پر نظر بند کردیا گیا ۔اس کے علاوہ ضلع نائب صدر اور انچارج نتن شرما ،کانگریس اقلیتی سیل کے سونو پٹھان ،سابق شہر صدر ورون شرما ،ہری او م مشرا ،اور سردار چندر جیت سنگھ سمیت دیگر کئی کانگریس لیڈران کو بھی پولیس نے گھر وں سے باہر نکلنے نہیں دیا ۔کانگریس کے ضلع ترجمان گنیش دت شرما نے پولیس کارروائی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پر امن طریقہ سے احتجاج کرنا سب کا حمہوری حق ہے ۔
انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس لیڈران کو دہلی جانے سے روکنے کے لئے پولیس کی جانب سے اپنا یا جانے والا طریقہ جمہوری حقوق کے خلاف ہے بلکہ یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے ۔وہیں دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ قانونی نظم ونسق کو قائم رکھنے اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار حالات سے بچنے کے لئے احتیاط کے طور پر یہ کارروائی کی گئی ۔لیکن پولیس کی اس کارروائی کے بعدپورے ضلع میں سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے ۔
پولیس وانتظامیہ کے ان اقدامات سے کانگریس کا رکنان میں انتظامیہ کے تئیں سخت ناراضگی ہے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network