دیش
’بات کرنی ہے تو جنتر منتر آئے سرکار‘
نئی دہلی:مرکزی حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ مظاہرین سے بات کرنے کے لئے تیار ہے۔ لیکن سی جے پی لیڈروں نے مرکزی وزیر نڈا سے ملنے سے انکار کردیا ہے۔ ان کا صاف کہنا ہے کہ ہم حکومت سے نہیں ملنے جائیں گے اور ان کو بات کرنی ہے تو وہ خود جنتر منتر آئے ۔ غورطلب ہے کہ 20 جولائی کے ہنگامہ کے دوران سی جے پی کے دو لیڈر نڈا سے ملے تھے۔ جہاں چار گھنٹے تک انھیں روکے رکھا تھا اور کوئی یقین دہانی نہیں کرائی تھی۔ لہذا اب سی جے پی جنتر منتر پر سے ہی اپنی قیادت کرتی رہے گی۔ حکومت اگر مسئلے کا حل چاہتی ہے تو وہ جنتر منتر آکر لیڈروں سے گفتگو کرے۔ اس دوران سی جے پی کے لیڈروں نے کہا ہے کہ ہمارے تحریک جاری رہے گی۔ جب تک وزیر تعلیم پردھان مستعفی نہیں ہوجاتے ۔ خاص بات تو یہ ہے کہ جنتر منتر کی آگ اب پورے ملک میں پھیل چکی ہے اور طلبا جگہ جگہ سڑکوں پر ہیں۔ واضح رہے کہ جنتر منتر پر سی جے پی کے ہڑتال کا 34واں دن ہے۔ جس میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہورہے ہیں۔
دیش
پارلیمنٹ کے باہر این ڈی اے اور انڈیا بلاک آمنے سامنے
نئی دہلی :پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے چوتھے دن این ڈی اے اور اپوزیشن کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جھڑپ ہوئی۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سمیت اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ بھی احتجاج میں اپوزیشن کے ساتھ شامل ہوئے، دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائے۔ 21 جولائی کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر راہل کے احتجاج پر این ڈی اے کے اراکین پارلیمنٹ احتجاج کر رہے ہیں۔دریں اثنا، انڈیا بلاک نیٹ پیپر لیک ہونے پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہا ہے۔ احتجاج کے دوران پرینکا گاندھی این ڈی اے کے ممبران پارلیمنٹ کے بہت قریب چلی گئیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے روکنے کے لیے مداخلت کی۔ پارلیمنٹ کے اندر بھی ہنگامہ آرائی جاری رہی۔
جس کی وجہ سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ لوک سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے دوبارہ شروع ہوئی تو زبردست ہنگامہ ہوا۔ ایوان کی کارروائی جمعہ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔اس دوران ہنگامہ آرائی کے باعث راجیہ سبھا کی کارروائی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ جب ایوان دوبارہ جمع ہوا تو ارکان پارلیمنٹ نے ایک اور ہنگامہ کھڑا کردیا۔ نتیجتاً راجیہ سبھا کی کارروائی بھی 24 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔وزیر اعظم مودی کے بیان پر کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی نے آج ٹویٹ میں جو لکھا ہے، وہ کچھ ایسا ہے جیسے کوئی بچہ اپنے والد سے کہے کہ وہ ڈیزائنر بننا چاہتا ہے، لیکن والد کہے کہ فکر مت کرو، میں نے سیٹنگ کر کے تمہارا ایڈمیشن انجینئرنگ کالج میں کرا دیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی سے طلبہ کا مطالبہ ہے کہ دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں اور انہیں پیٹنے والوں کے خلاف ایکشن ہو۔‘‘
دیش
پھیلتی جارہی ہے نیٹکی آگ، ملک بھر میں مظاہرہ،پھیلتی جارہی ہے نیٹکی آگ، ملک بھر میں مظاہرہ،ممبئی، پٹنہ ، گروگرام میں پولیس سے تصادم،بہار کے کٹیہار میں طلبا پر لاٹھی چارج ،کئی زخمی
نئی دہلی:دہلی کی جنتر منتر سے اٹھی آواز اب طلبا کوسڑک پر لاچکی ہے۔ نیٹ کی آگ پورے ملک میں پھیلتی جارہی ہے۔ ہر ریاست میں تعلیمی نظام کی بدحالی کولیکر طلبا سڑکوں پر ہیں،آج ملک کے کئی حصوں میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف زبردست مظاہرہ ہوا۔ جس میں ہریانہ کے گروگرام،بہار کی راجدھانی پٹنہ میں پولیس اور طلبا میں زبردست ٹکرائو ہوا۔ بہار کے کٹیہارکے ڈی ایم آفس کے سامنے طلبا پر پولیس لاٹھی چارج سے معاملہ خراب ہوگیا، دونوں طرف سے ایک دوسرے پر پتھرائو ہوا۔ کئی طلبا زخمی ہیں جنھیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
تمل ناڈو، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ ، راجستھان میں بھی نیٹ کے خلاف طلبا کا مظاہرہ ہوا۔ طلبا کے مظاہرے میں بہار سرفہرست ہے۔ جہاں کئی شہروں میں مظاہرہ کیا گیا۔ بیگو سرائے میں مظاہرین نے کلکٹریٹ کا گھیرائو کیا اور گیٹ پر چڑھ گئے۔ پٹنہ کالج کے پاس طلبا پھر سڑکوں پر اترے ، اشوک راج پتھ جام کردیا گیا۔ پولیس نے سب کو حراست میں لیا ،طلبا کا کہنا تھا کہ جب تک وزیر تعلیم پردھان استعفیٰ نہیں دیں گے ہم سڑکوں پر رہیں گے۔ راجستھان کے بانسواڑہ میں پیپر لیک کے خلاف زبردست مظاہرہ ہوا ۔
مظاہرین پہلے کشل باغ میں جمع ہوئے اور وہاں سے کلیکٹریٹ تک جلوس نکالا جہاں مظاہرین اور پولیس میں ٹکرائو ہوگیا۔ پولیس نے ہلکا لاٹھی چارج کیا اور معاملے کو کنٹرول کیا۔ چھتیس گڑھ کے رائے پور میں راجیو بھون کا گھیرائو کیا گیا ، کانگریس کے بارہ لیڈر گرفتار کرلیے گئے ، ان پر الزام ہے کہ انھوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھرائو کیا۔ ادھر ہریانہ کے گروگرام میں میمورنڈم دینے جانے والے کانگریس لیڈروں اور طلبا کو گیٹ پر ہی روک لیا گیا ، جس سے ٹکرائو پیدا ہوا۔
دریں اثنا کروکشیتر یونیورسٹی کے طلبا کلاس چھوڑ کر سڑکوں پر آگئے ہیں اور مظاہرہ کررہے ہیں۔ جھارکھنڈ کے رانچی میں بی جے پی آفس کا گھیراو کرتے ہوئے ٹکرائو ہوگیا ، ایک دوسرے پر پتھر اور ٹماٹر پھینکے گئے۔
بہرحال طلبا کے اس مظاہرہ میں کانگریس کی سرپرستی شامل رہی ۔مگر اب پورے ملک میں نیٹ کے خلاف طلبا سڑکوں پر ہیں اور یہ آگ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ طلبا کا مطالبہ ہے کہ جنتر منتر پر پولیس کی جوبربریت ہوئی ہے اس پر کاروائی کی جائے اور مظاہرہ کو ختم کرنے کے لئے تعلیمی نظام میں سدھار لانے کی کوشش کی جائے ، ساتھ ہی ساتھ وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے لئے بھی طلبا بضد ہیں۔
دیش
چیف جسٹس کو گالی دینے والے پر نہیں ہوگی کارروائی
نئی دہلیسپریم کورٹ میں جمعہ کے دن ایک غیر معمولی واقعہ دیکھنے کو ملا، جب ایک عرضی دہندہ وکیل نے ہوا میں فائلیں چھالیں اور سی جے آئی سوریہ کانت کو گولی دی، یہ پورا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔ جس پر شدید ردعمل کا اظہار ہورہا ہے اور وکیل پر کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ نے ملزم کے خلاف کوئی ایکشن لینے سے انکار کردیا ہے۔
دراصل جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایک درخواست گزار نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اس نے عدالت میں نازیبا الفاظ کہے اور کورٹ روم میں کیس کی فائل پھینک دی۔ اس وقت سی جے آئی سوریہ کانت کورٹ روم میں موجود نہیں تھے۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضی گزار بغیر کسی وکیل کے خود ہی اپنا کیس لڑ رہا تھا۔
سپریم کورٹ نے کورٹ روم میں ہنگامہ آرائی کرنے، کیس سے متعلق دستاویزات ہوا میں اچھالنے اور ہندوستان کے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے عرضی گزار پربل پرتاپ کے خلاف فی الحال کوئی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے درخواست گزار کے رویے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی درخواست بھی خارج کر دی۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے پر مشتمل بنچ کے سامنے عرضی گزار نے ایسی حرکت کی تھی، جس کے بعد سیکورٹی اہلکار اسے حراست میں لے کر کورٹ روم سے باہر چلے گئے۔
سپریم کورٹ کا ماننا ہے کہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بھی ایسے واقعات کو انجام دیا جاتا ہے۔ ایسے میں کوئی قانونی قدم اٹھانے سے متعلقہ شخص اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ رجسٹرار کی جانب سے جب چیف جسٹس کو اس واقعے کے بارے میں مطلع کیا گیا تو انہوں نے بھی اس معاملے میں آگے کوئی قدم نہ اٹھانے کی ہدایت دی۔
دراصل جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایک درخواست گزار نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اس نے عدالت میں نازیبا الفاظ کہے اور کورٹ روم میں کیس کی فائل پھینک دی۔ اس وقت سی جے آئی سوریہ کانت کورٹ روم میں موجود نہیں تھے۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضی گزار بغیر کسی وکیل کے خود ہی اپنا کیس لڑ رہا تھا۔
سماعت کے دوران اس نے خود کو ’خود مختار‘ بتایا اور کیس کی فائل کے کاغذات ہوا میں اچھال دیے۔ عرضی گزار کے اس رویے سے کورٹ روم میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی اور سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر اسے کورٹ روم سے باہر نکال دیا۔ جیسے ہی سماعت شروع ہوئی عرضی گزار نے کہا کہ ’’یور آنر، میں آپ کو لکھنؤ کے اے سی پی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتا ہوں۔‘‘ جسٹس کے وی وشوناتھن نے حیرت کا اظہار کیا اور پوچھا کہ ’’کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟‘‘ عرضی گزار نے جواب دیا ’’میری طرف سے بس اتنا ہی، سب کچھ ریکارڈ پر ہے۔‘‘ پھر اس نے کیس کی فائل ہوا میں پھینک دی اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے لگا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے اسے کورٹ روم سے باہر لے گئے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
