دلی این سی آر
ملک کو اب تعلیمی انقلاب کی سخت ضرورت: منیش سسودیا
نئی دہلی، 19 جولائی: دہلی میں تعلیمی انقلاب کے معمار اور سابق وزیرِ تعلیم منیش سسودیا اتوار کو سونم وانگچک کی حمایت میں جنتر منتر پہنچے، جہاں انہوں نے تعلیمی نظام میں انقلابی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں کے حوصلے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک کو ایک حقیقی تعلیمی انقلاب کی اشد ضرورت ہے، اور اس انقلاب کا پہلا مرحلہ ملک کو پیپر مافیا سے نجات دلانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج صرف امتحانی پرچے ہی فروخت نہیں ہو رہے بلکہ ہمارے بچوں کا مستقبل بھی بازار میں نیلام کیا جا رہا ہے۔ یہ جدوجہد اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ ملک میں آگے وہ طالب علم بڑھے گا جو محنت کرتا ہے یا وہ شخص جو دولت اور رسوخ کے بل پر امتحانی پرچہ خرید لیتا ہے۔منیش سسودیا نے کہا کہ سونم وانگچک نے تعلیمی انقلاب کے لیے اپنی جان اور صحت کو داؤ پر لگا دیا ہے، مگر وزیرِ اعظم نے اپنے لوگوں کو بھیج کر “سفید چادر والا جادو” دکھایا اور سونم وانگچک کو وہاں سے ہٹا دیا۔ کاش! یہی جادو وزیرِ تعلیم کی کرسی پر دکھایا جاتا تو دھرمیندر پردھان اپنی کرسی سے غائب ہو جاتے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ یہ کسی سیاسی جماعت کی لڑائی نہیں بلکہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔ پیر کے روز ملک بھر کے نوجوان جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے، اس لیے تمام جماعتوں کے حامی اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ضرور جنتر منتر پہنچیں۔منیش سسودیا نے کہا کہ وہ آج جنتر منتر اس لیے آئے ہیں تاکہ تعلیمی انقلاب کے سپاہیوں کو سلام پیش کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی طرح کے انقلابات آ چکے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ ایک تعلیمی انقلاب بھی برپا ہو۔ انہیں فخر ہے کہ آج نوجوان اور طلبہ اس انقلاب کی قیادت کر رہے ہیں۔ اگر تین ماہ پہلے کوئی کہتا کہ تعلیمی اصلاحات اور امتحانی گھوٹالوں کے خلاف انقلاب آئے گا تو شاید لوگ مذاق اڑاتے، مگر آج نئی نسل نے ثابت کر دیا ہے کہ تعلیمی انقلاب بھی ممکن ہے۔ ملک کو واقعی ایک تعلیمی انقلاب کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی انقلاب کی سب سے پہلی ضرورت ملک کو پیپر مافیا سے آزادی دلانا ہے۔ اسی مقصد کے لیے بڑی تعداد میں نوجوان جنتر منتر پر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ دھرنا “کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)” کے بینر تلے جاری ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے لوگ یہاں آ رہے ہیں، لیکن درحقیقت یہ تحریک ملک کو پیپر مافیا سے نجات دلانے کی ایک تعلیمی تحریک ہے۔ اس تحریک کا بوجھ ابھیجیت دیپکے، آشوتوش رانکا، سوربھ داس، ہماری بیٹیوں اور سونم وانگچک نے اپنے کندھوں پر اٹھایا ہے، جنہوں نے اپنی جان تک داؤ پر لگا دی۔ منیش سسودیا نے کہا کہ وہ ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پر ویڈیوز دیکھ رہے تھے اور حیران تھے کہ وزیرِ اعظم مسلسل بیس دن تک سونم وانگچک کو نظر انداز کرتے رہے۔ جب انہیں محسوس ہوا کہ نوجوانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے تو انہوں نے “سفید چادر والا جادو” دکھایا۔ بچپن میں جیسے جادوگر سفید چادر لہرا کر کسی شخص کو غائب کر دیتا تھا، ویسے ہی سفید چادر اوڑھے افراد کو بھیج کر سونم وانگچک کو اسٹیج سے ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سوچ رہے تھے کہ اگر وزیرِ اعظم یہی جادو وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کی کرسی کے سامنے دکھا دیتے تو وہ بھی اپنی کرسی سے غائب ہو جاتے۔ اگر واقعی وزیرِ اعظم کو یہ جادو آتا ہے تو وہ دھرمیندر پردھان کی کرسی کے سامنے جا کر ایک بار ضرور دکھائیں۔ سونم وانگچک کو جنتر منتر سے ہٹا دینے سے یہ تحریک ختم نہیں ہوگی بلکہ ہفتہ کی صبح کے بعد سے یہ تحریک مزید مضبوط اور وسیع ہو گئی ہے۔ منیش سسودیا نے کہا کہ ہمارے ملک میں یہ نظام ہے کہ طالب علم نے صحیح تعلیم حاصل کی یا نہیں، اس کے لیے امتحان لیا جاتا ہے، جبکہ امتحان شفاف طریقے سے منعقد ہوا یا نہیں، یہ حکومت کا امتحان ہوتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم امتحان میں ناکام ہو جائے تو اسے اگلی جماعت میں جانے سے روک دیا جاتا ہے، لیکن وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان خود امتحانات کے انعقاد میں ناکام ہو چکے ہیں، اس لیے عوام چاہتے ہیں کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ اگر ایک طالب علم امتحان میں ناکام ہونے پر کلاس چھوڑ دیتا ہے تو پورے ملک کے امتحانات میں ناکام ہونے والے وزیرِ تعلیم کو بھی اپنی کرسی چھوڑ دینی چاہیے۔ موجودہ نظام میں طالب علم کی ناکامی پر اس کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، مگر وزیرِ تعلیم کی ناکامی پر ان کی کرسی محفوظ رہتی ہے، جو بچوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد طویل ہوگی کیونکہ تعلیمی اصلاحات کوئی معمولی معاملہ نہیں۔ فی الحال نوجوان امتحانات اور پیپر لیک کے خلاف لڑ رہے ہیں، لیکن تعلیم کے شعبے میں کئی اور بنیادی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اور سیاست کو تعلیم کے لیے وقف کر رکھا ہے اور ان کا واحد نظریہ یہ ہے کہ ملک کے ہر بچے کو بہترین تعلیم ملنی چاہیے۔ گزشتہ بیس دن سے وہ دیکھ رہے تھے کہ وزیرِ اعظم سونم وانگچک اور دیگر نوجوانوں کو مسلسل نظر انداز کر رہے تھے، لیکن جب تحریک زور پکڑ گئی تو انہیں نظر بند کرا دیا گیا۔ منیش سسودیا نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی یہ نظر بندی کی سیاست کامیاب نہیں ہوگی۔ پیر کے روز ملک کے نوجوان اور عوام جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے۔ یہ کسی سیاسی جماعت یا اس کے رہنما کو آگے بڑھانے کی تحریک نہیں بلکہ ہر بچے کو دیانت دارانہ تعلیم، شفاف امتحانات اور منصفانہ روزگار دلانے کی تحریک ہے۔ انہوں نے سی جے پی کے اسٹیج سے تمام سیاسی جماعتوں، حتیٰ کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے بھی اپیل کی کہ اگر وہ اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں تو جنتر منتر آئیں اور پارلیمنٹ کی طرف مارچ میں شریک ہوں۔آخر میں منیش سسودیا نے کہا کہ یہ صرف سی جے پی، عام آدمی پارٹی، کانگریس یا سماجوادی پارٹی کی لڑائی نہیں بلکہ بی جے پی کے کارکنوں کے بچوں کی بھی لڑائی ہے، کیونکہ وہ بھی اسی ملک کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کارکنوں سے بھی اپیل کی کہ پیر کی صبح سیاست کو ایک طرف رکھ کر اپنے بچوں کا چہرہ دیکھیں اور عہد کریں کہ آج وہ کسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے جنتر منتر جائیں گے، پارلیمنٹ کا گھیراؤ کریں گے اور مطالبہ کریں گے کہ ملک کے وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ 20 جولائی (پیر) کو تمام عوام کے ساتھ اس مارچ میں شریک ہوں گے۔
دلی این سی آر
چنار بک فیسٹیول میں قومی تعلیمی پالیسی پر مذاکرہ اور مشاعرے کا انعقاد
(پی این این)
سری نگر: چنار بک فیسٹیول 2026 کے تیسرے دن بھی مختلف علمی اور ادبی سرگرمیاں انجام دی گئیں جن میں ’قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت سہ لسانی فارمولہ او رکثیر لسانی تعلیم‘ کے عنوان سے آتھر کارنر میں ایک اہم مذاکرے کا انعقاد کیا گیا ۔ اس مذاکرے میں پروفیسر افشار عالم (سابق وائس چانسلر، جامعہ ہمدرد، نئی دہلی)، پروفیسر نصیر اقبال (رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر) نے بطور پینلسٹ اور پروفیسر اعجاز محمد شیخ (ماہر لسانیات و سابق صدر شعبۂ لسانیات، کشمیر یونیورسٹی) نے موڈریٹر کے طور پر شرکت کی۔
موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے پر وفیسر افشار عالم نے ہندوستان میں نافذ کی جانے والی پرانی قومی تعلیمی پالیسیوں اور نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے درمیان مطابقت اور تبدیلیوں کو واضح کیا۔ انھوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ سے طالب علموں کے لیے زبانوں کے انتخاب کا پیٹرن تبدیل ہوگیا ہے۔ اس پالیسی میں مادری زبان کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لسانیات اور انڈین نالج سسٹم پر بھی خاصی توجہ دی گئی ہے۔ انھوں نے نئی تعلیمی پالیسی اور انڈین نالج سسٹم کے درمیان ربط پر بھی اظہار خیال کیا۔انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں حکومتی سطح پر مختلف غیرملکی یونیورسٹیوں کو جگہ دی جارہی ہے تاکہ دیگر زبانوں سے ہندوستانی زبانوں کا رشتہ مضبوط ہوسکے اور انگریزی کے ساتھ علاقائی زبانیں بھی ترقی کرسکیں۔ NEP 2020نے مادری زبان میں لکھنے پڑھنے کی جھجک کو دور کیا ہے۔ البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر زبان کے اساتذہ کی مناسب ٹریننگ دی جائے تاکہ اس پالیسی کا نفاذ بہتر طور پر ہوسکے۔
آج کے دوسرے مہمان مقرر پروفیسر نصیر اقبال نے کشمیر یونیورسٹی میں نئی تعلیمی پالیسی کے اطلاق کے حوالے سے کئی کارآمد نکات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی نافذکرنے والے اداروں میں کشمیر یونیورسٹی کو اولیت حاصل ہے۔ اس یونیورسٹی میں نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق ایک سال کا پی جی کورس بھی شروع کیا جارہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کی وجہ سے مقامی زبانوں پر توجہ دی جانے لگی ہے اور یونیورسٹی بھی اس کے لیے بھرپور کوشش کررہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ میں چیلنجز ضرور ہیں لیکن اگر منظم طریقے سے کوشش کی جائے تو یہ ایک بہتر تبدیلی ثابت ہوگی۔
مذاکرے کے اختتام سے قبل قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کنکلوڈنگ ریمارک دیتے ہوئے کہا کہ ہر ادارے کی سرگرمیاں ایک خاص تقاضے کے مطابق سامنے آتی ہیں۔ قومی اردو کونسل نے تعلیم کے میدان میں نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے تقاضوں کے تحت کئی اہم خدمات انجام دی ہیں اور اس بات پر خاص توجہ دی ہے کہ اردو کا رشتہ ہندوستان کی دیگر زبانوں سے مضبوط کیا جاسکے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی تمام زبانیں ہماری اپنی زبانیں ہیں اور اردو کے تئیں انھیں کشمیر سے بہت امیدیں ہیں۔اردو زبان پر کیسی ہی دشواری کیوں نہ آجائے لیکن کشمیر اسے بچا لے گا۔ انھوں نے اس ا ہم مذاکرے میں شریک ہونے والے تمام مہمانوں کا شال پوشی کے ذریعے استقبال کیا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اس مذاکرے کو پروفیسر اعجاز محمد شیخ نے موڈریٹ کرتے ہوئے اس کا تعارف بھی پیش کیا اور کئی اہم سوالات قائم کیے جن کی روشنی میں مہمان مقررین سے قومی تعلیمی پالیسی کے تحت سہ لسانی فارمولہ اور کثیر لسانی تعلیم کے متعلق معلومات حاصل کرنے میں آسانی ہوئی۔ انھوں نے اس پالیسی کے اطلاق اور نفاذ کے متعلق بھی استفسار کیا جن کے تحت اہم تجاویز منظرعام پر آئیں۔
اس مذاکرے میں یونیورسٹی اور کالجز کے طلبا اور طالبات کے علاوہ بڑی تعداد میں دانشو ر اور قلمکار موجود رہے جنھوں نے انٹریکٹو سیشن میں موضوع سے متعلق کئی اہم سوالات بھی کیے جن کا مہمان مقررین نے تسلی بخش جواب دیا۔
مذاکرے کے بعد شام چار بجے کلچرل اسٹیج پر ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تشریف لانے والے معروف و معزز شعرائے کرام نے اپنے خوبصورت کلام سے نوازا۔ اس موقعے پر سامعین کا جم غفیر موجودرہا۔ مشاعرے میں شریک ہونے والے شعرا میں جناب رفیق راز، جناب پاپولر میرٹھی، محترمہ رخسانہ جبیں، پروفیسر شفق سوپوری، جناب نعمان شوق، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر ستیش ومل کے نام قابل ذکر ہیں۔ مشاعرے کی نظامت ڈاکٹر شفیع ایوب نے کی۔ شعرائے کرام نے مختلف موضوعات و مسائل سے متعلق غزلیں پیش کیں، بطور نمونہ یہاں ان کا ایک ایک شعرپیش کیا جارہا ہے:
گلے پہ خاک تمھارے سر اور تال پہ خاک
غزل پہ خاک مضامین پائمال پہ خاک
(رفیق راز)
کتنی کنجوسی پہ آمادہ ہے سسرال مری
راز کی بات بتاتے ہوئے ڈر لگتا ہے
ایسے کمرے میں سلا دیتے ہیں سالے میرے
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
(پاپولر میرٹھی)
کٹا تو سکتے ہیں اس کو جھکا نہیں سکتے
تمام جسم میں سر کے سوا کچھ اور نہیں
(رخسانہ جبیں)
سنو یہ نالے سنو دشت آشنائی کے
اتر رہے ہیں کہیں قافلے جدائی کے
(شفق سوپوری)
ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی
یاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم
(نعمان شوق)
جانے ہم کس خیال میں گم تھے
آنکھ اٹھی تو سامنے تم تھے
(احمد محفوظ)
پیش منظر سے جدا شور تماشا سے الگ
سر بکف بیٹھے رہے ہم تیری دنیا سے الگ
(ستیش ومل)
دلی این سی آر
پی ایم شری کیندریہ ودیالیہ اینڈریوز گنج عالمی تعلیمی قیادت کابناگواہ
نئی دہلی: پی ایم شری کیندریہ ودیالیہ اینڈریوز گنج کو اس وقت ایک ممتاز بین الاقوامی تعلیمی پلیٹ فارم بننے کا اعزاز حاصل ہوا، جب نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن (NIEPA)، نئی دہلی کے زیرِ اہتمام انٹرنیشنل پروگرام آن لیڈرشپ فار اسکول ہیڈز (IPLSH) کے تحت مختلف ممالک سے آئے اسکول سربراہان اور ماہرینِ تعلیم کے ایک باوقار بین الاقوامی وفد نے اسکول کا دورہ کیا۔
اس موقع پر وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں اسکول کی تعلیمی کامیابیوں، اختراعی اقدامات اور پی ایم شری اسکیم کے مؤثر نفاذ سے آگاہ کیا گیا۔وفد کا استقبال نائب پرنسپل محترمہ ریتو شرما نے کیا۔ انہوں نے اسکول کی کامیابیوں، وژن اور کیندریہ ودیالیہ سنگٹھن (KVS) کی رہنمائی میں پی ایم شری اسکیم کے مؤثر نفاذ کے بارے میں تفصیلی معلومات پیش کیں۔ انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی (NEP) 2020 کے مطابق طلبہ پر مبنی، مہارت پر مبنی اور تجرباتی تدریسی طریقوں کے ذریعے طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے اسکول کے عزم کو اجاگر کیا۔پروگرام کے دوران پی ایم شری پہل پر ایک پریزنٹیشن پیش کی گئی، جبکہ ڈاکٹر سیدہ ایمن ہاشمی نے فنون سے مربوط تدریسی سرگرمی “کاوڑ واچن” کا عملی مظاہرہ کیا۔ تبادلۂ خیال کے سیشن میں وفد نے تعلیمی قیادت، جدید تدریسی و تعلیمی طریقوں، نظامِ جانچ میں اصلاحات، جامع تعلیم اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 سے متعلق مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا۔ وفد نے اسکول کی بہترین تعلیمی سرگرمیوں میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی، جبکہ ان کے سوالات کے تفصیلی جوابات دونوں نائب پرنسپلز نے دیے۔
وفد نے طلبہ کے اعتماد، تجسس اور مؤثر اظہارِ خیال کی بھی بھرپور ستائش کی۔بعد ازاں وفد نے تجرباتی تعلیم کی نمائش، رہنمائی و مشاورت مرکز، جمنازیم اور سوئمنگ پول کا معائنہ کیا۔ انہوں نے بالخصوص تشکر کا درخت (Gratitude Tree)، تشکر صندوق (Gratitude Box) اور تجاویز کی صندوق (Suggestion Box) کو طلبہ کی ذہنی صحت اور مثبت تعلیمی ماحول کے فروغ کے لیے ایک منفرد اور قابلِ تقلید اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی۔
وفد نے اسکول کے اختراعی اقدامات، حوصلہ افزا تعلیمی ماحول اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ طلبہ کی تیاری کے عزم کو سراہا۔پروگرام کا اختتام نائب پرنسپل (دوسری شفٹ) ارون کمار سنگھ کے اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔ اس کے بعد طلبہ کے تیار کردہ یادگاری تحائف وفد کو پیش کیے گئے، اجتماعی تصویر لی گئی اور پُرخلوص الوداع کے ساتھ اس بامقصد تعلیمی تبادلۂ خیال کا کامیاب اختتام ہوا۔
دلی این سی آر
ممنوعہ علاقے میں بنی ہیں 5000 غیر قانونی عمارتیں: میونسپل کارپوریشن
گروگرام:گروگرام میں آرڈیننس ڈپو کے ممنوعہ علاقے میں گزشتہ پانچ سالوں میں تقریباً 5000 غیر قانونی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ یہ چونکا دینے والا انکشاف گروگرام میونسپل کارپوریشن کی داخلی رپورٹ میں ہوا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر آرڈیننس ڈپو کے 900 میٹر کے دائرے میں کسی بھی نئی تعمیر یا تجارتی سرگرمی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے باوجود تعمیرات بلا روک ٹوک جاری ہیں۔
شہر کے کچھ بااثر افراد اور حکمراں جماعت سے وابستہ رہنما قواعد کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اس محدود علاقے میں غیر قانونی کالونیاں قائم کر کے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں اور کروڑوں روپے کی زمین فروخت کر رہے ہیں۔ میونسپل حکام کی لاپرواہی اس وقت ہے کہ آرڈیننس ڈپو کے محدود علاقے میں 190 سے زائد مقامات پر اس وقت غیر قانونی تعمیرات عروج پر ہیں۔
سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں میونسپل کارپوریشن کے انفورسمنٹ ونگ نے اس ممنوعہ علاقے میں انہدام کی کوئی بڑی کارروائی نہیں کی۔ بعض عمارتوں کو محض رسمی طور پر سیل کر دیا گیا تھا لیکن لینڈ مافیا نے بغیر کسی خوف کے سیل توڑ کر وہاں دوبارہ تعمیرات شروع کر دی ہیں۔
میونسپل کارپوریشن کے ریکارڈ میں جن عمارتوں کو غیر قانونی قرار دے کر سیل کیا گیا تھا ان کی حقیقت چونکا دینے والی ہے۔ مافیا نے اہلکاروں کی ملی بھگت سے راتوں رات سرکاری مہریں توڑ دیں اور اندرونی حصوں پر تعمیراتی کام مکمل کر لیا۔ ان عمارتوں میں نہ صرف رہائشی فلیٹس بنائے جا رہے ہیں بلکہ کمرشل دکانیں بھی بلاامتیاز کھولی جا رہی ہیں۔ مہر توڑنا خلاف ضابطہ ہے، ابھی تک کسی ملزم کے خلاف پولیس مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
آرڈیننس ڈپو کی سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کی عدلیہ نے واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ 900 میٹر کے اندر ایک اینٹ بھی نہ رکھی جائے۔ اگر کوئی تعمیر ہوتی ہے تو اسے فوری طور پر گرایا جائے۔ میونسپل کارپوریشن کی داخلی رپورٹ نے ثابت کیا ہے کہ افسران محض کاغذ پر ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل کر رہے ہیں۔ پانچ سالوں سے آنکھیں بند کرنے والے اہلکاروں کی اس غفلت کے باعث اب اس متنازعہ علاقے میں ہزاروں افراد نے اپنے گھر بنا لیے ہیں، جو کہ انتظامیہ کے لیے مستقبل میں ایکشن لینا بڑا دردِ سر بنا ہوا ہے۔
میونسپل کارپوریشن کی اندرونی رپورٹ کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ غیر قانونی تعمیرات شیتلا کالونی اور دھرم کالونی میں ہو رہی ہیں جو کہ ممنوعہ علاقے میں آتی ہیں۔ مزید برآں، لینڈ مافیا کارٹر پوری روڈ پر تیزی سے نئی کالونیاں بنا رہے ہیں۔ الزام ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کو فروغ دینے کی اس اسکیم میں حکمران سیاستدان اور اعلیٰ عہدیدار ملوث ہیں۔
میونسپل کارپوریشن کا متعلقہ ونگ پورے علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کو روکنے اور ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل کو یقینی بنانے کا براہ راست ذمہ دار ہے۔ اس وقت جے ای موہت رانا علاقے کے ذمہ دار افسر کے طور پر تعینات ہیں جن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ مقامی آر ڈبلیو اے اور سماجی کارکنوں کا الزام ہے کہ ان کی ملی بھگت سے تعمیراتی کام جاری ہے۔گروگرام کے ایڈیشنل میونسپل کمشنر جیبیر یادو نے کہا، “اگر مہر توڑنے کے باوجود آرڈیننس ڈپو میں غیر قانونی تعمیرات جاری رہتی ہیں، تو ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی جائے گی۔ ممنوعہ علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کی مہم شروع کی جائے گی۔”
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
