Connect with us

Bihar

گیا جی:11سالہ اُجّول کی موت سے ایمرجنسی خدمات کی حقیقت بے نقاب

Published

on

(پی این این)
گیاجی: گیا ضلع کے شیرگھاٹی سب ڈویژن علاقے میں ایمرجنسی صحت خدمات کی بدحالی ایک معصوم بچے کی موت کے بعد سخت سوالوں کے گھیرے میں آ گئی ہے۔
سڑک حادثے میں شدید طور پر زخمی 11 سالہ طالبِ علم اُجّول کمار کو اسپتال پہنچانے کے لیے بھیجی گئی ایمبولینس راستے میں ہی خراب ہو گئی، جس کے سبب علاج میں تاخیر ہوئی اور بالآخر بچے کی جان نہ بچ سکی۔مرحوم اُجّول کمار پلامو ضلع کے نوڈیہا تھانہ علاقے کے تریدیہ گاؤں کے رہنے والے دامودر مہتا کا بیٹا تھا۔ وہ امام گنج تھانہ علاقے کے پاکرڈیہ گاؤں میں اپنی خالہ کے یہاں رہ کر تعلیم حاصل کر رہا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ بدھ کے روز وہ کرکٹ کھیل کر گھر واپس لوٹ رہا تھا کہ اسی دوران مٹی سے لدا ایک ٹریکٹر اس کی بائیک سے ٹکرا گیا۔ حادثے میں وہ بری طرح زخمی ہو گیا۔واقعے کے فوراً بعد مقامی لوگوں نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُسے ایمبولینس کے ذریعے شیرگھاٹی سب ڈویژنل اسپتال روانہ کیا، لیکن بانکے بازار کے قریب پہنچتے ہی ایمبولینس اچانک خراب ہو گئی۔ گاڑی بند پڑ جانے کی وجہ سے اسپتال پہنچنے میں کافی تاخیر ہو گئی اور زخمی بچے کی حالت مسلسل بگڑتی چلی گئی۔ بعد ازاں جب اُسے اسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا۔
اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ ایمبولینس کی فنی خرابی ہی ان کے بیٹے کی موت کا سبب بنی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر گاڑی وقت پر اسپتال پہنچ جاتی تو علاج فوراً شروع ہو سکتا تھا اور شاید اُجّول کی جان بچائی جا سکتی تھی۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت ایمرجنسی صحت خدمات پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے، لیکن زمینی سطح پر ایمبولینسوں کی حالت نہایت تشویش ناک ہے۔ اس حادثے نے محکمۂ صحت کی تیاریوں، ایمبولینسوں کی باقاعدہ دیکھ بھال اور ایمرجنسی خدمات کے معیار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔اہلِ خانہ اور مقامی باشندوں نے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی اور ایمبولینس نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ کسی دوسرے خاندان کو ایسی دردناک سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

بانکی پور میں تیجسوی یادو کا شاندار روڈ شو،برسوں تک اس سیٹ پر ایک ہی خاندان کا رہاہے قبضہ، بی جے پی نے علاقہ کی ترقی کے لیے نہیں کیا کوئی قابلِ بھروسہ کام:تیجسوی یادو

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے بانکی پور ضمنی انتخاب میں مہاگٹھ بندھن (آر جے ڈی) کی امیدوار ریکھا کماری گپتا کی حمایت میں پوری طاقت جھونک دی۔ تیجسوی یادو نے پیر کے روز میٹھاپور واقع مرکزی انتخابی دفتر سے بانکی پور اسمبلی حلقہ کی پارٹی امیدوار ریکھا کماری گپتا کے حق میں روڈ شو کا آغاز کیا۔اس موقع پر تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا کہ اس بار آر جے ڈی امیدوار کی کامیابی یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن سوراج پارٹی کے امیدوار پرشانت کشور کا بانکی پور میں کوئی چرچا نہیں ہے۔
روڈ شو پر روانہ ہونے سے قبل تیجسوی یادو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانکی پور میں آر جے ڈی کا براہِ راست مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسوں تک اس نشست پر ایک ہی خاندان کا قبضہ رہا، لیکن علاقے کی ترقی کے لیے کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کیا گیا۔ عوام نے اس بار آر جے ڈی امیدوار کو کامیاب بنانے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے نتن نوین کی نشست سے نیرج کمار سنہا کو اپنا امیدوار بنایا ہے، جبکہ آر جے ڈی نے ریکھا کماری گپتا کو مسلسل دوسری بار میدان میں اتارا ہے۔ 2025 کے اسمبلی انتخابات میں بھی ریکھا گپتا نے نتن نوین کے خلاف انتخاب لڑا تھا اور 45 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔
تیجسوی یادو کا روڈ شو چاندپور بیلا، سپارا، وِگرہ پور پوسٹل پارک، چڑیاٹاڑ پل، گوریا ٹولی، لال جی ٹولہ سے ہوتا ہوا سبزی باغ تک جائے گا۔ روڈ شو کے دوران تیجسوی یادو کا قافلہ کافی طویل تھا، جبکہ بڑی تعداد میں آر جے ڈی کے کارکنان اور حامی اس میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر کارکنان نے آر جے ڈی امیدوار ریکھا کماری گپتا کی کامیابی کا دعویٰ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ تیجسوی یادو اتوار کے روز اپنے غیر ملکی دورے سے واپس پٹنہ پہنچے تھے۔ واپسی کے فوراً بعد انہوں نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے معاملے پر نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
بانکی پور ضمنی انتخاب میں مقابلہ سہ رخی ہو گیا ہے۔ نتن نوین کے راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہونے کے بعد یہ نشست خالی ہوئی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس حلقے سے بوتھ سطح کے کارکن نیرج سنہا کو امیدوار بنایا ہے، جبکہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی جانب سے ریکھا کماری گپتا انتخابی میدان میں ہیں۔ دوسری طرف جن سوراج کے کنوینر پرشانت کشور کی انتخابی میدان میں آمد کے بعد یہ مقابلہ مزید دلچسپ اور سنسنی خیز ہو گیا ہے۔

 

Continue Reading

Bihar

ضلع اسکول میں الیکٹورل لٹریسی کلب کا قیام

Published

on

چھپرہ :پیر کو شہر کے ماڈل اسکول ضلع اسکول میں انتخابی خواندگی کلب ای ایل سی تشکیل دیا گیا۔الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایت کی روشنی میں ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کم ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ویبھو سریواستو نے ضلع کے تمام کالجوں،اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں ای ایل سی بنانے کا حکم جاری کیا ہے۔
ڈپٹی الیکشن آفیسر جاوید اقبال کی رہنمائی اور ڈی ای او نشانت کرن کی قیادت میں تعلیمی اداروں میں ای ایل سی کے قیام اور فعال کرنے کا پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ماسٹر ٹرینر ندیم احمد نے ای ایل سی کا تعارف کرایا اور کوئز کے ذریعے ہندوستانی آئین،جمہوری اقدار اور انتخابی عمل کے بارے میں آگاہی سیشن کا انعقاد کیا۔انہوں نے ای ایل سی،اس کی تشکیل،کارکردگی اور ذمہ داریوں کا تعارف کرایا۔انہوں نے انتخابی عمل،ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کے عمل کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔
ایس وی ای ای پی  ماہر استاد سنتوش کمار بنٹی نے ووٹر لسٹ تیاری اور اپ ڈیٹ کرنے کی بنیادی باتوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے ووٹر رجسٹریشن کے عمل اور ووٹر سروس بیداری میں ای ایل سی کے کردار پر روشنی ڈالی،کوئز، مباحثے، موک پولز،مضمون نویسی کے مقابلوں اور دیگر سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے ای وی ایم اور وی وی پیٹ کو بھی متعارف کرایا۔اس موقع پر پرنسپل منیش کمار تیواری کی قیادت میں طلبہ کی شرکت کے ساتھ الیکٹورل لٹریسی کلب کا انتخاب ہوا۔اسکول ٹیچر نتیش بھاردواج کو متفقہ طور پر نوڈل آفیسر اور ٹیچر نیلو کماری کو اسوسی ایٹ نوڈل آفیسر کے طور پر مقرر کیا گیا۔طلباء نے متفقہ طور پر بوائز اور گرلز دونوں کے لیے اسکول ایمبیسیڈر کا انتخاب کیا۔
کوئز میں ان کی بہترین کارکردگی اور دیگر سرگرمیوں میں فعال شرکت کی بنیاد پر ادیتی کماری پانڈے اور شویتا کماری کو طالبات کے لیے اور نربھیے کمار اور ہری اوم کمار کو طالب علموں کے لیے منتخب کیا گیا۔
کلاس 9، 10 اور 11 کے تمام طلباء نے رکنیت قبول کی۔اس موقع پر ماسٹر ٹرینر ونے کمار سنگھ،اسکول کے اساتذہ وشال کمار سوربھ،سندھیا کماری،چندر کمار سنگھ،کمار راجیو،ڈاکٹر محمد ولی اللہ،سدھاکر کشیپ،ویبھا کماری،شیلیندر کمار ساہ،ابھیناش کمار،پونم کماری،امریتا گپتا،نیتو کماری،مکیش کمار،سریا کمار سنگھ،یشو کمار،کماری شالینی تیواری،اپرنا کماری،کماری سیما گری،سپریا رانی،انوپ کمار شرما،وکاس پانڈے،نیتو رائے وغیرہ موجود تھے۔

Continue Reading

Bihar

ایم ایچ ایم کٹ کی تقسیم اور لیڈر شپ اورینٹیشن پروگرام کا انعقاد

Published

on

ارریہ: وومن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے تحت کام کرنے والے ضلعی حب برائے خواتین کو بااختیار بنانے ڈی ایچ ای ڈبلیو  نے ساکھی ورتا پروگرام اور ماہواری حفظان صحت کے انتظام ایم ایچ ایم  کٹ کی تقسیم اور لیڈرشپ اورینٹیشن پروگرام کا انعقاد کیا جس میں مہادلت کمیونٹی میں کام کرنے والے نوعمر گروپوں کے فعال ممبران اور پنچاوری ضلع پنچاوری کی نوعمر لڑکیوں کے ساتھ۔ اس پروگرام میں پنچایت چوری، پاکری اور دھرم گنج کی 50 سے زیادہ نوعمر لڑکیوں نے حصہ لیا۔ اس پروگرام کو ڈسٹرکٹ ہب فار ویمن ایمپاورمنٹ ڈی ایچ ای ڈبلیو  کے عملے، خواتین سپروائزر، وکاس مترا، سیویکا، پنچایت کے نمائندے کی موجودگی سے خوش آمدید کہا گیا۔
اس پروگرام کا مقصد نوعمر لڑکیوں میں ماہواری کی حفظان صحت کے بارے میں بیداری بڑھانا، محفوظ اور حفظان صحت سے متعلق رویے کو فروغ دینا اور انہیں اپنی کمیونٹیز میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔ اس موقع پر نوعمر لڑکیوں کو ماہواری سے متعلق سائنسی حقائق، ذاتی حفظان صحت، غذائیت، خرافات اور غلط فہمیوں سے بچنے اور سینیٹری مواد کے محفوظ استعمال اور ٹھکانے کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔
پروگرام کے اختتام پر تمام اہل نوعمر لڑکیوں میں ایم ایچ ایم  کٹس تقسیم کی گئیں۔ وہاں موجود عہدیداروں نے نوعمر لڑکیوں پر زور دیا کہ وہ حفظان صحت کے معمولات پر عمل کریں، اپنی تعلیم جاری رکھیں اور اپنی برادریوں میں دیگر نوعمر لڑکیوں کو تعلیم دیں۔ پروگرام میں وومن ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی طرف سے چلائی جانے والی تمام اسکیموں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ بچوں کی شادی، ہنر کی تربیت، صنفی بنیاد پر تشدد، سائبر سیکیورٹی اور مزید کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network