Connect with us

uttar pradesh

جمعیۃ علماءضلع مظفرنگر کی خصوصی میٹنگ منعقد۔

Published

on

مظفرنگر:جمعیۃ علماء ضلع مظفرنگر کی تمام یونٹوں کے ذمہ داران کی ایک اہم میٹنگ امبا وہار واقع مدینہ گارڈن میں ضلع صدر مولانا مکرم علی قاسمی کی صدارت اور مولانا عبد الخالق قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں آنے والی عید الاضحیٰ کے پیش نظر مختلف سماجی، مذہبی، عوامی بیداری اور تنظیمی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور تمام یونٹوں کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ضلع صدر مولانا مکرم علی قاسمی نے کہا کہ عید الاضحیٰ قربانی، بھائی چارہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا عظیم تہوار ہے۔ اس مبارک موقع پر تمام لوگوں کو شریعت اور ملک کے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قربانی کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔ انہوں نے خاص طور پر تاکید کی کہ قربانی کے وقت کسی بھی قسم کی تصویر یا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ نہ کی جائے، کیونکہ اس سے معاشرے میں غلط پیغام جاتا ہے اور بعض شرپسند عناصر ماحول خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی مذہبی ذمہ داریوں کو پوری سنجیدگی اور احترام کے ساتھ ادا کریں اور اپنے پڑوسیوں و دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے جذبات کا بھی مکمل خیال رکھیں۔ انہوں نے تمام یونٹوں کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں عوام کو بیدار کریں اور عید الاضحیٰ کو امن، بھائی چارے اور قانون کی پابندی کے ساتھ منانے کا پیغام دیں۔
مولانا مکرم علی قاسمی نے تنظیم کو مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی فکر و سوچ ہمیشہ ملک میں بھائی چارہ، انصاف اور دستور کے تحفظ کی رہی ہے۔ اس لیے ہر قصبہ، گاؤں اور وارڈ سطح تک تنظیم کو وسعت دی جائے اور نئی یونٹیں قائم کرکے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں اور ذمہ دار افراد کو تنظیم سے جوڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط تنظیم ہی سماج کے مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھانے اور عوام کی خدمت انجام دینے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔
میٹنگ میں آئندہ مردم شماری کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ ذمہ داران نے عوام سے اپیل کی کہ مردم شماری کے دوران صحیح اور مکمل معلومات فراہم کریں، کیونکہ مردم شماری ملک کی ترقی، وسائل اور سرکاری منصوبہ بندی سے جڑا ایک اہم معاملہ ہے۔ یونٹوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ عوام میں بیداری پیدا کریں اور مردم شماری کے عمل میں تعاون کا ماحول تیار کریں۔
اجلاس میں ذمہ داران نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی صاحب کی جانب سے گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبہ کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ ہند کو اس سلسلہ میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں باہمی ہم آہنگی اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ممنوعہ جانوروں کی قربانی سے مکمل اجتناب کیا جائے اور ہر حال میں قانون کی پابندی کی جائے۔
اجلاس میں سماجی اصلاحی پروگراموں کو مزید فعال بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ نشہ کے خلاف مہم، تعلیمی بیداری، سماجی برائیوں کے خاتمہ، باہمی بھائی چارے کے فروغ اور نوجوانوں کو مثبت سمت دینے کے لیے جمعیۃ علماء ہند کی یونٹیں گاؤں گاؤں اور محلوں تک پروگرام منعقد کریں گی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عید الاضحیٰ کے دوران صفائی ستھرائی اور ماحولیات کا خصوصی خیال رکھا جائے گا اور قربانی کی آلائشوں کو مقررہ مقامات پر ہی ڈالا جائے گا تاکہ کسی قسم کی پریشانی پیدا نہ ہو۔
اجلاس میں موجود ذمہ داران نے تنظیم کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کا عہد کیا اور عید الاضحیٰ کو امن، بھائی چارے، سماجی ذمہ داری اور مذہبی اقدار کے ساتھ منانے کا پیغام دیا۔
اجلاس میں مولانا احمد، مفتی تنمیق، حاجی عزیز الرحمن، محمد آصف قریشی بڈھانوی، مفتی نشاط، حاجی شرافت علی، مولانا خالد، مفتی آزاد، مولانا سنور قاسمی، مولانا مونس، مولانا عبد القیوم قاسمی، مفتی نوید، قاری مظفر اللہ، مولانا شاہنواز، مولانا شاہ عالم، مولانا اسرائیل، مولانا صادق، حافظ تحسین، مولانا سہیل اختر، مولانا عبداللہ وغیرہ موجود رہے۔

uttar pradesh

اردو ادب سوسائٹی نے مختلف اشخاص کو پیش کی مبارک باد

Published

on

امروہہ:اپنی سماجی اور ادبی سرگرمیوں کے ایک حصے کے طور پر، اردو ادب سوسائٹی کے ایک وفد نے شہر کی ممتاز شخصیات اور ہونہار نوجوانوں سے ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
سوسائٹی کے ارکان نے سب سے پہلے سابق میونسپل صدر ڈاکٹر افسر پرویز کی رہائش گاہ پر ان کی خیریت دریافت کی۔ قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر افسر پرویز کا حال ہی میں دل کا آپریشن ہوا ہے۔ اراکین نے ان کی جلد صحت یابی اور درازی عمر کے لیے دعا کی۔
اس کے بعد، سوسائٹی نے تعلیم کے میدان میں شہر کا نام روشن کرنے والی طوبہ جاوید کے گھر کا دورہ کیا اور انہیں NEET کے امتحان میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔ سوسائٹی کے اراکین نے طوبہ اور اس کے والد فیصل جاوید کو مبارکباد دی اور ان کے روشن مستقبل کی خواہش کی۔
اس سلسلے میں سوسائٹی نے ڈاکٹر سراج ہاشمی کو قانون کی ڈگری حاصل کرنے پر خصوصی طور پر مبارکباد پیش کی اور ان کی نئی تعلیمی کامیابی کو سراہا۔
اس موقع پر سوسائٹی کے صدر کوثر علی عباسی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔اگرچہ بیماروں اور بوڑھوں کی خیریت دریافت کرنا ہماری روایت کا حصہ ہے، لیکن یہ ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم ہونہار نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ جب ہماری نئی نسل تعلیم اور مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کرتی ہے تو اس سے پورے معاشرے کا نام روشن ہوتا ہے۔ اردو ادب سوسائٹی ہمیشہ ایسے باصلاحیت نوجوانوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
اس موقع پر حاجی نسیم احمد خان، خالد صدیقی، قیصر علی عباسی، حمزہ عباسی اور سوسائٹی کے دیگر عہدیداران اور معززین موجود تھے۔

Continue Reading

uttar pradesh

منوج سنگھل قدیم ٹھاکر دوارہ مندر سمیتی کے صدر منتخب

Published

on

دیوبند:دیوبندکے مشہور ومعروف سماجی خدمتگار منوج سنگھل کو قدیم شری ٹھاکر دوارہ مندر سمیتی کا صدر منتخب کیا گیا ہے ۔ان کے ساتھ ساتھ آشوتوش گپتا کو جنرل سکریٹری ،اجے کمار بٹو کو خازن اور راکیش اگروال کو نائب صدر مقرر کیا گیا ہے ۔ان سبھی عہدیداران کا انتخاب اتفاق رائے سے کیا گیا ہے ۔
تفصیل کے مطابق جمعہ کے روز مندر کے احاطہ میں برہم سنگھ پنڈیر ایڈوکیٹ کی صدارت میں سمیتی کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی ۔ سالہاسال سے چلے آرہے عہدیداران کے استعفیٰ کے بعد نئی مجلس عاملہ تشکیل دی گئی ۔میٹنگ کے دوران شری کرشن شوبھا یاترا کی تیاریوں اور مندر کی دوسری سرگرمیوں سے متعلق بھی تبادلۂ خیال کیا گیا ۔
واضح ہوکہ منوج سنگھل دیوبند کے مشہور ومعروف فینسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں وہ پہلے سے ہی نگر ادیوگ ویاپار منڈل پریس ایسوسی ایشن دیوبند اور اگر وال سماج کے صدر ہیں ۔اس کے علاوہ منوج سنگھل قدیم شیو ششو مندر کے صدر اور دیوبند میونسپل بورڈ کے سینئر رکن بھی ہیں ۔اس کے علاوہ مختلف سماجی اور مذہبی تنظیموں میں بھی وہ سرگرم رول ادا کررہے ہیں ۔نومنتخب صد رمنوج سنگھل نے کہا کہ نئی مجلس عاملہ کی تشکیل کامقصد مندر کی زیادہ سے زیادہ خدمات انجام دینا اورسمیتی کی سرگرمیوں کوآگے بڑھانا ہے ۔انہوںنے بتایا کہ سمیتی کی جانب سے چلائے جانے والے آنکھوں کے اسپتال میںبہت جلد جدید قسم کی مشینیں لگائی جائیں گی ۔تاکہ آنکھوںکے مریضوںکو بہتر علاج مہیاکرائے جاسکے ۔
میٹنگ میںونود پرکاش گپتا ،اشوک گپتا ،شروند سنگھل ،رادھے شیام گر گ ،مکیش گرگ ،رشی پال کشیپ ،پون دھیمان سشیل منگل ،پون ہری ،راجیو گپتا ،اجے گپتا ،ورون گرگ اور ابھینائو گوئیل سمیت بڑی تعداد میںسمیتی کے ارکان موجود رہے ۔

Continue Reading

uttar pradesh

قرآن نے انسانیت کو دی سب سے بڑی بریکنگ نیوز : خطیب محمد اقبال

Published

on

آگرہ: مسجد نہر والی، سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبۂ جمعہ میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم نے پوری انسانیت کو سب سے بڑی بریکنگ نیوز قیامت کی خبر کی صورت میں دی ہے، تاکہ انسان اس عظیم دن کی تیاری کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کے لیے اس سے بڑی اور اہم خبر کوئی نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے بتایا کہ قرآنِ کریم میں قیامت کا لفظ تقریباً 70 مرتبہ آیا ہے، جبکہ مختلف دیگر ناموں جیسے الساعۃ، یوم الدین، یوم الفصل، یوم البعث، یوم الخروج، یوم الجمع، یوم الحساب، الطامۃ الکبریٰ، الواقعۃ، الحاقۃ اور القارعۃ کے ساتھ مجموعی طور پر تقریباً 250 مرتبہ اس دن کا ذکر کیا گیا ہے، جو اس کی غیر معمولی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
محمد اقبال نے کہا کہ قرآنِ مجید نے قیامت کے مناظر اس انداز میں بیان کیے ہیں کہ گویا انسان اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا ہو۔ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہوں گے، کوئی گھر میں، کوئی بازار میں اور کوئی مجلس میں، مگر اچانک اللہ تعالیٰ کے حکم سے دنیا کا نظام ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور ایک دن ضرور فنا ہو جائے گی۔ قیامت کی جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں، وہ دراصل انسانیت کے لیے الارم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت بھی قیامت کے قریب ہونے کی ایک بڑی علامت تھی، جسے تقریباً پندرہ سو سال گزر چکے ہیں، تاہم قیامت کا حقیقی وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور وہی اس کا علم رکھتا ہے۔
خطیب نے کہا کہ قیامت پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے، اسی لیے قرآنِ کریم بار بار آخرت کی یاد دلاتا ہے تاکہ انسان دنیا کی غفلت میں مبتلا نہ ہو۔ دنیا کی یہی زندگی آخرت کی دائمی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرے گی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ قرآنِ کریم کی اس عظیم خبر پر سنجیدگی سے غور کریں، اپنی زندگیوں کا محاسبہ کریں اور آخرت کی تیاری میں لگ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اب وحی نازل نہیں ہوگی اور نہ ہی حضرت جبرئیلؑ خبر لے کر آئیں گے، قرآنِ کریم ہمارے درمیان موجود ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے سمجھیں، اس پر غور کریں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network