دلی این سی آر
650 کروڑ روپے کے دوائی گھوٹالے کے خلاف ’آپ ‘کا احتجاج
نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریکھا گپتا حکومت کے 650 کروڑ روپے کے مبینہ دوائی گھوٹالے کے خلاف پیر کے روز عام آدمی پارٹی نے ایل این جے پی اسپتال کے باہر خاموش علامتی احتجاج کیا۔ آپ کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج میں کارکنوں نے ایک طویل انسانی زنجیر بنائی۔ تمام کارکنوں کے ہاتھوں میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) ڈاکٹر وتسلا اگروال کی تصاویر والے پلے کارڈ تھے۔ ان کے ذریعے آپ نے بی جے پی سے سوال کیا کہ یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟ اس موقع پر پارٹی نے ڈاکٹر وتسلا اگروال اور وزیر اعلیٰ کے درمیان تعلقات کی جانچ کرانے اور وزیر اعلیٰ و وزیر صحت سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔احتجاج کے دوران سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی خود کہہ رہی ہے کہ ڈاکٹر وتسلا اگروال نے ڈی جی ایچ ایس کے عہدے پر رہتے ہوئے 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا، لیکن سوال یہ ہے کہ انہیں ڈی جی ایچ ایس کس نے مقرر کیا؟ ریکھا گپتا حکومت نے تمام ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر اور سینئر افسران کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں اس عہدے پر تعینات کیا۔ ان کے خلاف ویجیلنس کی جانچ جاری ہونے کے باوجود انہیں ڈی جی ایچ ایس بنایا گیا۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ریکھا گپتا حکومت نے قواعد تبدیل کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اب کوئی بھی سرکاری اسپتال براہِ راست خریداری نہیں کرے گا بلکہ تمام خریداری ڈاکٹر وتسلا اگروال کی سی پی اے کے ذریعے ہوگی۔ یہ فیصلہ بھی ریکھا گپتا حکومت نے ہی کیا تھا۔ اس لیے اب حکومت کو عوام کو یہ بتانا چاہیے کہ ڈاکٹر وتسلا اگروال کے ساتھ اس کا آخر کیا تعلق ہے کہ ان پر اس قدر مہربانی کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں 650 کروڑ روپے کا یہ بڑا صحت گھوٹالا سامنے آیا، لیکن اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے جان بوجھ کر اس کے اصل ماسٹر مائنڈ کو ایک ماہ تک گرفتار نہیں کیا اور اسے آسانی سے جرمنی فرار ہونے دیا۔ ہم مسلسل اس کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے رہے اور کئی پریس کانفرنسوں میں راجیو رنگیلا کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، مگر اس کے باوجود اسے گرفتار نہیں کیا گیا۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ہم صرف ریکھا گپتا اور ڈاکٹر وتسلا اگروال کی تصویریں لے کر آئے ہیں اور عوام سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت خود دعویٰ کر رہی ہے کہ 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا ڈاکٹر وتسلا نے کیا، لیکن انہیں ڈی جی ایچ ایس ریکھا گپتا نے بنایا تھا۔ وہ سب سے سینئر افسر نہیں تھیں، اس کے باوجود تمام سینئر افسران کو نظرانداز کرکے انہیں اس اہم عہدے پر تعینات کیا گیا۔ ان کے خلاف ویجیلنس کی جانچ بھی جاری تھی، اس کے باوجود انہیں ڈی جی ایچ ایس بنایا گیا۔ ریکھا گپتا حکومت نے تمام اسپتالوں سے خریداری کے اختیارات واپس لے کر ایک ہی افسر کے ہاتھ میں دے دیے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ پورا منصوبہ ریکھا گپتا حکومت نے تیار کیا، خود ڈاکٹر وتسلا اگروال کو اس عہدے پر بٹھایا اور اب کہہ رہی ہے کہ انہوں نے 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کر دیا۔ اے سی بی کی ایف آئی آر کے مطابق اس معاملے کا اصل ماسٹر مائنڈ راجیو رنگیلا جرمنی فرار ہو گیا۔ کیا اے سی بی اور دہلی حکومت سو رہی تھیں؟ میں نے تو دس دن پہلے ہی پریس کانفرنس میں سوال اٹھایا تھا کہ ایف آئی آر میں تقریباً 30 مرتبہ جس راجیو رنگیلا کا نام درج ہے، اسے گرفتار کیوں نہیں کیا جا رہا؟ اب حکومت خاموش ہے کیونکہ 650 کروڑ روپے کی لوٹ مار کے بعد اصل ملزم کو ملک سے فرار ہونے دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہماری مانگ ہے کہ راجیو رنگیلا کو جرمنی سے گرفتار کرکے واپس لایا جائے تاکہ وہ بتا سکے کہ 650 کروڑ روپے کی بندربانٹ میں کن کن سیاست دانوں کو حصہ دیا گیا۔ہرش ملہوترا کہتے ہیں کہ جانچ ابھی مکمل نہیں ہوئی، لیکن اگر جانچ مکمل نہیں ہوئی تھی تو اصل ملزم کو جرمنی کیوں بھاگنے دیا گیا؟ اب یہ جانچ کبھی مکمل نہیں ہوگی، کیونکہ جس شخص سے تفتیش ہونی تھی، اسے ہی حکومت کی اے سی بی نے ملک سے فرار ہونے دیا۔ادھر براڑی سے رکن اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ اے سی بی خود اعتراف کر چکی ہے کہ 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا ہوا ہے۔
دلی این سی آر
ای-20 پٹرول سے صنعت کاروںکو فائدہ پہنچا رہی ہے سرکار:بھاردواج
(پی این این)
نئی دہلی، 26 جولائی: عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے خالص پٹرول کی قیمت پر فروخت کیے جا رہے ای-20 پٹرول کو لے کر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای-20 سے ملک کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔
اس کا فائدہ صرف صنعت کاروں اور حکومت کو ہو رہا ہے۔ ای-20 سے مائلیج کم ہو رہی ہے، گاڑیاں خراب ہو رہی ہیں اور لوگوں کو قیمت بھی خالص پٹرول کی ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ دوسری طرف صنعت کار ایتھنول تیار کر رہے ہیں اور حکومت زبردستی پورے ملک میں اسے مہنگے داموں فروخت کر رہی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دیسی گھی کی قیمت پر ڈالڈا دے کر کہا جائے کہ آپ کو ڈالڈا ہی کھانا پڑے گا۔ اتوار کو آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے ایکس پر کہا کہ ای-20 یعنی وہ پٹرول جس میں 20 فیصد ایتھنول ملایا جاتا ہے، آخر اس سے کس کو فائدہ ہو رہا ہے؟ کیا اس سے عوام کو کوئی فائدہ ہے؟ کوئی شخص یا وزیر یہ بتائے کہ اس میں عوام کا کیا فائدہ ہے؟ کیا اس سے گاڑیوں کی مائلیج بڑھ رہی ہے؟ جواب ہے، نہیں؛ بلکہ مائلیج کم ہو رہی ہے۔ کیا گاڑی کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے؟ نہیں، الٹا گاڑی کو نقصان ہی ہو رہا ہے۔ کیا ای-20 پٹرول سستا مل رہا ہے؟ یہ بھی نہیں ہو رہا ہے، بلکہ اسے خالص پٹرول کی قیمت پر ہی فروخت کیا جا رہا ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اس سے عوام کو تو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ اس کا براہِ راست فائدہ ان بڑے لوگوں اور سیاست دانوں سے وابستہ صنعت کاروں کو ہو رہا ہے جو ایتھنول تیار کر رہے ہیں، کیونکہ ان کا ایتھنول گھر بیٹھے کافی مہنگے داموں اور زبردستی فروخت ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا بڑا فائدہ پٹرول کمپنیوں کو ہو رہا ہے، جو عوام کو خالص پٹرول کی قیمت پر 20 فیصد ملاوٹ والا پٹرول فروخت کر رہی ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے اس کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے 24 قیراط سونے کی قیمت پر 18 قیراط سونا فروخت کیا جا رہا ہو، یا دیسی گھی کی قیمت پر ڈالڈا دے کر یہ کہا جائے کہ آپ کو ڈالڈا ہی کھانا پڑے گا اور قیمت دیسی گھی کی ادا کرنی پڑے گی۔
عوام اس موضوع پر غور کریں اور اپنے آس پاس کے لوگوں سے اس بارے میں پوچھیں۔
دلی این سی آر
این ڈی ایم سی نے جنتر منتر پر کچرا صاف کرناکیاشروع
نئی دہلی :جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے ساتھ ختم ہو گیا ہے۔ مظاہرین اب اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں اور احتجاجی مقام پر کاکروچ پارٹی کا اسٹیج بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ این ڈی ایم سی اب جنتر منتر اور آس پاس کے علاقے کی صفائی میں مصروف ہے۔ یہ دہلی کے صاف ستھرے علاقوں میں سے ایک ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ جنتر منتر اور اس سے جڑی سڑکوں سے تقریباً 60 میٹرک ٹن کچرا ہٹایا جائے گا۔ احتجاج ختم ہونے کے بعد صفائی کے کارکنان، گاڑیاں اور دیگر صفائی کا سامان رات بھر تعینات کر دیا گیا۔ این ڈی ایم سی حکام کا کہنا ہے کہ کارپوریشن کے ملازمین زمین پر صفائی کی کوششوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ٹالسٹائی مارگ، جنتر منتر، پارلیمنٹ مارگ، جئے سنگھ مارگ، اور کناٹ پلیس میں صفائی کی ٹیمیں تعینات ہیں۔این ڈی ایم سی کے مطابق، 75 صفائی کارکنوں کو رات بھر تعینات کیا گیا، جبکہ اتوار کی صبح مزید 35 کو بلایا گیا۔ ہفتہ کی رات تک کل 40 میٹرک ٹن کچرا جمع کیا جا چکا تھا، صبح سے مزید 12 میٹرک ٹن کچرا جمع کیا گیا۔کارپوریشن نے اس علاقے میں آٹھ آٹو ٹپر، دو بڑے ٹرک، ایک کھدائی کرنے والا، اور تین پریشر جیٹنگ مشینیں تعینات کی ہیں۔ پریشر جیٹنگ مشینیں جنتر منتر کے اطراف کی سڑکوں سے ملبہ صاف کر رہی ہیں، جبکہ مکینیکل روڈ سویپر اور صفائی کے کارکنوں کی ٹیمیں مختلف علاقوں میں صفائی کے کاموں میں مصروف ہیں۔صفائی کے ساتھ ساتھ مرمت کا کام بھی کیا جا رہا ہے۔ ٹیمیں مظاہروں کے دوران خراب ہونے والے کرب اسٹونز اور فٹ پاتھوں کی مرمت بھی کر رہی ہیں۔ وہ پینٹ کے ساتھ دیواروں پر لکھے نعروں کو بھی ہٹا رہے ہیں اور عوامی مقامات کی صفائی کر رہے ہیں۔مظاہرین کی ایک بڑی تعداد جنتر منتر اور اس کے آس پاس جمع ہو گئی، جس سے علاقے میں بڑی مقدار میں کچرا پڑا ہے، جسے تیزی سے ہٹایا جا رہا ہے۔این ڈی ایم سی نے جمعہ کو احتجاجی مقام سے 27 میٹرک ٹن کچرا ہٹایا، جو ایک دن پہلے 15 میٹرک ٹن تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ احتجاج ختم ہونے کے بعد کچرا ہٹانے کے لیے وقت ضائع کیے بغیر علاقے کو صاف کرنے کی ضرورت تھی۔
دلی این سی آر
دہلی حکومت نےکیالتا گپتاکو خواتین کمیشن کی چیئرپرسن مقرر
دہلی حکومت نےکیالتا گپتاکو خواتین کمیشن کی چیئرپرسن مقرر
دہلی حکومت نے خواتین کمیشن کی چیئرپرسن کا تقرر کیا ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے لتا گپتا کو دہلی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن مقرر کیا ہے۔ انہوں نے پانچ خواتین کو بھی کمیشن کے رکن کے طور پر نامزد کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی طرف سے مقرر کردہ خواتین میں شیام بالا، مالتی ورما، لتا سودھی، سانریکا شرما اور رینو بھلا شامل ہیں۔دہلی کمیشن برائے خواتین کی تشکیل اور ممبران کے ساتھ چیئرپرسن کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے، دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی کمیشن برائے خواتین خواتین کی حفاظت، وقار اور حقوق کے تحفظ اور بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کمیشن کے چھ ارکان کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے، ریکھا گپتا نے کہا کہ ان تقرریوں سے کمیشن کے کام کاج کو نئی تحریک ملے گی اور خواتین کی انصاف، تحفظ اور مدد تک رسائی میں آسانی ہوگی۔2024 میں، عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی اس وقت کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے کمیشن کی چیئرپرسن کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور راجیہ سبھا کی رکن بن گئیں۔ اس وقت عام آدمی پارٹی اقتدار میں تھی اور سواتی مالیوال نے بغاوت کر کے راجیہ سبھا کی سیٹ کا انتخاب کیا۔ اس وقت سے یہ عہدہ خالی تھا۔ سواتی مالیوال کی رخصتی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ خواتین کمیشن کی مستقل چیئرپرسن کی تقرری کی گئی ہے۔ اب لتا گپتا کے نام کا اعلان کیا گیا ہے، وہ دہلی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن بن رہی ہیں۔جنوری 2024 میں سواتی مالیوال کے کمیشن کی چیئرپرسن کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد، کوئی مستقل چیئرپرسن مقرر نہیں کیا گیا۔ اب دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے لتا گپتا کو چیئرپرسن مقرر کیا ہے۔ اس سے قبل خواتین کمیشن کا انتظامی کام خواتین اور بچوں کے حقوق کی وزارت کی سکریٹری رشمی سنگھ سنبھالتی تھیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
