Connect with us

دلی این سی آر

ڈی ایم آر سی کی ایک اور کامیابی، فیز ۔4 کی گولڈن لائن پر ایک اور سرنگ کا کام مکمل

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (DMRC) نے آج اپنے چوتھے مرحلے کی تعمیر میں ایک اہم سنگ میل حاصل کیا ہے۔ تغلق آباد اور تغلق آباد ریلوے کالونی کے درمیان فیز 4 کے تغلق آباد-ایروسٹی کوریڈور پر زیر زمین ٹنل کا کام مکمل ہو گیا ہے۔ دہلی میٹرو کی تغلق آباد ریلوے کالونی سائٹ پر ٹنل بورنگ مشین (ٹی بی ایم) کی یہ کامیابی ریلوے بورڈ کے ممبر (انفراسٹرکچر) نوین گلاٹی اور ڈی ایم آر سی کے سینئر افسران کی موجودگی میں مکمل ہوئی ہے۔آج صبح تغلق آباد ریلوے کالونی اسٹیشن پر ایک TBM (ٹنل بورنگ مشین) نے 0.792 کلومیٹر لمبی ٹنل کو بور کرنے کے بعد اپنا کام مکمل کیا۔ یہ سرنگ 91 میٹر طویل ٹی بی ایم کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہے۔ ایروسٹی-تغلق آباد کوریڈور کے اس حصے میں اوپر اور نیچے جانے کے لیے دو متوازی سرکلر سرنگیں بنائی جا رہی ہیں۔ اس پروجیکٹ کو نافذ کرنے والا سول ٹھیکیدار M/s Afcons انفراسٹرکچر لمیٹڈ ہے۔
ڈی ایم آر سی نے کہا کہ یہ نئی سرنگ تقریباً 18 میٹر کی اوسط گہرائی میں بنائی گئی ہے۔ اس سرنگ میں تقریباً 559 حلقے لگائے گئے ہیں جن کا اندرونی قطر 5.8 میٹر ہے۔ سرنگ کو ای پی بی ایم (ارتھ پریشر بیلنسنگ میتھڈ) کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے جس میں پری کاسٹ کنکریٹ کی سرنگوں کی پرت ہے۔ یہ ٹنل رِنگز منڈکا میں قائم ایک مکمل میکانائزڈ کاسٹنگ یارڈ میں ڈالے گئے تھے۔ کنکریٹ کے ٹکڑوں کو فوری طاقت دینے کے لیے بھاپ سے ٹھیک کیا گیا۔دہلی میٹرو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پہلے سے تعمیر شدہ عمارتوں کے نیچے سرنگ کی تعمیر کے دوران تمام ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کی گئی تھیں۔ اردگرد کی عمارتوں پر نصب انتہائی حساس آلات سے زمینی نقل و حرکت پر نظر رکھی گئی جس سے یہ یقینی بنایا گیا کہ کہیں بھی کوئی تصفیہ نہ ہو۔
دہلی میٹرو کے فیز 4 میں اب تک منظور شدہ کام کے تحت 40.109 کلومیٹر زیر زمین لائنیں بنائی جا رہی ہیں۔ ایروسٹی-تغلق آباد کوریڈور میں کل 19.343 کلومیٹر زیر زمین حصے شامل ہیں۔ ٹی بی ایم (ٹنل بورنگ مشین) ایک مشین ہے جو مختلف قسم کی مٹی اور چٹانوں میں سرکلر سرنگیں کھودنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ انہیں سخت پتھروں سے لے کر ریت تک کسی بھی چیز کو بور کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جا سکتا ہے۔ TBMs نے دنیا بھر میں سرنگوں کے کام میں انقلاب برپا کر دیا ہے، جس سے عمارتوں اور دیگر سطحی ڈھانچے کو پریشان کیے بغیر سرنگیں بنانا ممکن ہو گیا ہے۔ٹی بی ایم خاص طور پر گنجان آباد شہری علاقوں میں زیر زمین سرنگ کے کام کے لیے مفید ہیں۔ ڈی ایم آر سی فیز 1 سے اپنے سرنگ کے کام کے لیے ٹی بی ایم کا استعمال کر رہا ہے۔ فیز 3 میں، جب تقریباً 50 کلومیٹر زیر زمین حصے بنائے گئے تھے، تقریباً 30 ٹی بی ایم قومی دارالحکومت میں تعینات کیے گئے تھے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

نوئیڈا میں بورڈ امتحانات کیلئےسخت حفاظتی انتظامات،سی سی ٹی وی کیمرے سے ہوگی مراکز کی نگرانی

Published

on

(پی این این)
نوئیڈا:گوتم بدھ نگر ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم کے مطابق، تمام امتحانی مراکز کا معائنہ کرنے کی ہدایات پہلے ہی جاری کر دی گئی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امتحانات کے دوران کوئی کوتاہی نہ ہو۔نوئیڈا میں بورڈ کے امتحانات کے لیے سخت حفاظتی انتظامات، 24 گھنٹے کیمرے کی نگرانی؛ منصوبہ کے بارے میں جانیں گوتم بدھ نگر انتظامیہ نے اتر پردیش بورڈ کے امتحانات کے لیے 60 امتحانی مراکز پر تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ یہ امتحانات 18 فروری سے 12 مارچ تک چلیں گے۔
حکام نے ایک جائزہ میٹنگ کے بعد یہ جانکاری دی۔ میٹنگ میں سینٹر کے سپرنٹنڈنٹس اور مجسٹریٹس کے علاوہ پولیس افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امتحان مکمل طور پر منصفانہ، شفاف، پرامن اور کسی قسم کی دھوکہ دہی سے پاک ہونا چاہیے۔گوتم بدھ نگر ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم کے مطابق، تمام امتحانی مراکز کا معائنہ کرنے کی ہدایات پہلے ہی جاری کر دی گئی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امتحان کے دوران کوئی کوتاہی نہ ہو۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اس سال نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنایا جائے گا، اور امتحانی مراکز کے مضبوط کمروں کی سی سی ٹی وی کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کی جائے گی۔
میدھا روپم نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر سنٹر پر نصب کیمروں کو امتحانی مدت کے دوران پوری طرح سے چلایا جائے۔گوتم بدھ نگر انتظامیہ نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ امتحانی مراکز میں طلباء کو صفائی، اچھی روشنی، پینے کا صاف پانی، صاف واش روم اور ابتدائی طبی امداد کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ پولیس حکام نے میٹنگ کے دوران یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو روکنے کے لیے ٹرانسپورٹ پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے سوالیہ پرچے پولیس کی نگرانی میں امتحانی مراکز تک پہنچائے جائیں گے۔
ڈسٹرکٹ اسکول انسپکٹر (ڈی آئی او ایس) راجیش کمار سنگھ نے کہا کہ ضلع میں 10ویں اور 12ویں کلاس کے 42,917 طلباء امتحان میں شامل ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام 60 مراکز پر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور امتحانات کے لیے اچھے انتظامات کیے گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ امتحان کے پورے عرصے میں سول اور پولیس انتظامیہ کے درمیان قریبی تال میل برقرار رکھے گی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

جامعہ گرلس ہاسٹل میں ’مینا بازار‘کا اہتمام‘

Published

on

روایتی دست کاری اور مقامی پکوانوں کے اسٹال سے ثقافتی میلے کی رونق میں اضافہ
(پی این این)
نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تین گرلس ہاسٹلوں،بیگم حضرت محل(بی ایچ ایم) ہاسٹل، جموں اینڈ کشمیر ہاسٹل اور ہال آف گرلس ریزیڈینس(ایچ او جی آر)نے بیگم حضرت محل ہاسٹل کے احاطے میں مشترکہ طورپر تفریح سے پر ثقافتی میلہ ’مینا بازار‘کا انعقاد کیا۔
ثقافتی میلہ کا افتتاح پروفیسر مظہر آصف کی بیگم شبایا آصف، عالی وقار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اہلیہ اور پروگرام کی مہمان خصوصی ڈاکٹر زیبا ناز، پروفیسر احتشام الحق،کنٹرولر امتحانات کی اہلیہ محترمہ حمیرہ احتشام نے کیا۔
پروگرام میں ہاسٹل کے مکینوں اور یونیورسٹی کے طلبہ خاص طورسے طالبات کی خصوصی دلچسپی نظر آئی کیوں کہ یہ اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام تھا جسے تین ہاسٹلوں کی طالبات تیار کیا تھا اور اس کا انتظام و انصرام خود انہو ں نے ہی کیا تھا۔ صلاحیتوں او رہنر کے مظاہرے کے علاوہ پروگرام نے طالبات کے لیے انٹرپرینورشپ اور مارکیٹنگ کے راست تجربات کا موقع بھی فراہم کیا۔ہاسٹل کے مکینوں نے ملک کے مختلف حصوں سے روایتی دست کاری پر مبنی مصنوعات کے اسٹال سجائے تھے جن سے جامعہ کے تنوع جس کے لیے وہ مشہور ہے اس کی ایک جھلک نظر آئی۔ فروخت کے لیے رکھے گئے طالبات کے تیار کردہ ماکولات و مشروبات کے اسٹال پرزائرین کا ہجوم تھا جو مختلف ریاستوں کے لذیذ پکوانوں سے لطف اندوز ہوا۔
ڈین،اسٹوڈینٹس ویلفیئر، یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے صدور، مراکزکے ڈائریکٹر،فیکلٹی اراکین ’مینا بازار‘ آئے اور نمائش سے لطف اندوز ہوئے،پکوانوں کا مزہ لیا اور طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔ واضح ہو کہ پروفیسر شیما علیم،پرووسٹ،بی ایچ ایم،پروفیسر نکہت منظور،پرووسٹ جموں اینڈ کشمیر گرلس،ہاسٹل اور پروفیسر رعنا نور،پرووسٹ،ایچ او جی آر (اولڈ) جامعہ ملیہ اسلامیہ نے یہ خو ب صورت پروگرام ترتیب دیا تھا۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

پریم چنداور کبیرکاادبی سرمایہ ہندوستانی تہذیب کابیش قیمت ورثہ: پروفیسر مظہر آصف

Published

on

جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈلٹریری سنٹر،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر صغیر افراہیم کاپریم چندیادگاری خطبہ
(پی این این)
نئی دہلی :پریم چند اور کبیرکاادبی سرمایہ ہندوستانی ادب کابیش قیمت ورثہ ہے۔یہ دونوں مایہ نازادیب ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کے علمبردار ہیں۔ان کے ادب سے میری گہری دلچسپی اور خاص شغف ہے۔ان خیالات کااظہارجامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈ لٹریری سنٹر کے زیراہتمام منعقدہ نویں پریم چند یادگاری خطبے کے موقع پراپنے صدارتی خطبے میں کیا۔انھوں نے فرمایاکہ جامعہ کے اس ادبی مرکز جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈ لٹریری سنٹر کومزید فعال ہونے کی ضرورت ہے۔ یہاں تواتر کے ساتھ ادبی پروگرام کاانعقاد ہوناچاہیے۔پروفیسر مظہر آصف نے پریم چندکی ادبی خدمات پر بھرپور روشنی ڈالی اور موجود ہ عہد میں اس کی اہمیت پر اساتذہ طلبہ اور ریسرچ اسکالر ز کی توجہ مبذول کرائی۔
پریم چندیادگاری خطبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے استاد سابق صدر شعبۂ اردو،ماہر پریم چندپروفیسر صغیرافراہیم نے پیش کیا۔اپنے خطبے میں پروفیسر صغیر افراہیم نے پریم چند کے فن کی امتیازی خصوصیات کو بیان کیا۔انھوں نے پریم چند کے فکشن کے موضوعات،اسلوب اورتکنیک پر روشنی ڈالی۔پروفیسر صغیر افراہیم نے پریم چند کے بیشتر ناولوں اور متعدد افسانوں کاتجزیہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ پریم چند نے ہمارے فکشن کو نئے موضوعات،نئے اسالیب اور نئی فکری سمت عطا کی ہے۔ان کے ناولوں اور افسانوں کے متون پر نئے فن پارے تخلیق کیے گئے ہیں۔پریم چند نے اپنے بیانیہ کو پر اثر بنایااور دلکش مکالموں کے ذریعہ کرداروں کی ذہنی کشمکش کو پیش کیا۔انھوں نے یہ بھی فرمایاکہ پریم چند کی تمام افسانوی اور غیر افسانوی تحریریں اس کی گواہ ہیں کہ وہ تہذیب وتمدن کے ساتھ ساتھ جدید علوم وفنون خصوصاًفکشن کی ہیئت، ساخت اور فنی نکات متعارف کرانے کے خواہاں تھے۔
اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر اقتدار محمدخاں ڈین فیکلٹی آف ہیومنیٹیزاینڈلنگویجزجامعہ ملیہ اسلامیہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پریم چند کے گہر ے رشتے کاذکر کیاکہ جامعہ کی خدمات کو پریم چند نے بے حد محبت سے سراہاتھااور اس ادار ے کو ہندوستان کاعظیم سیکولر ادارہ قرار دیاتھا۔انھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پریم چند کا افسانہ ’’کفن‘‘ پہلی بار رسالہ جامعہ میں شائع ہوا تھا۔اس جلسے کے مہمانان اعزازی پروفیسر کوثر مظہر ی صدر شعبۂ اردواور پروفیسر نیرج کمار صدرشعبۂ ہندی جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی خطاب کیا۔ان دونوں مہمانان نے پریم چند کے فن کی خوبیوں اور ان کی ادبی خدمات کامفصل ذکر کیا۔پروفیسر کوثر مظہری نے اس خواہش کااظہار کیاکہ جامعہ کے اس مرکز میں پریم چند کے تعلق سے مختلف زبانوں کی تمام کتابوں کو جمع کیاجاناچاہیے تاکہ پریم چند کے محققین اور شیدائی یہاں رجوع کر سکیں۔
اس موقع پر جامعہ پریم چندآرکائیوز اینڈلٹریری سنٹر کے ڈائرکٹرپروفیسر شہزاد انجم نے فرمایاکہ پریم چند کاجامعہ سے گہرارشتہ رہاہے۔ جامعہ کے بزرگوں نے اس ادار ے کانام پریم چند کے نام پر رکھا۔پریم چند کی تخلیقات رسالہ’’ جامعہ‘‘ میں چھپیں اور ان کے کئی ناول مکتبہ جامعہ سے شائع ہوئے۔پریم چند نے 8مارچ 1936عیسوی کو جامعہ میں’’ہندوستانی سبھا‘‘کاقیام کیا۔اس موقعے پر انہوںنے ہندی او ر اردو کے ادیبوں کو جمع کیااور ان سے یہ فرمایاکہ ہندی اور اردو کے ادیبوں کو ایک ساتھ جمع ہوناچاہیے۔ایک دوسرے کی تخلیقات اور تحریروں کو پڑھنااو ر سنناچاہیے۔اس سے آپسی رنجشیں اور کدورتیں دور ہوں گی اور ملک میںخوشگوار محبت کی فضاقائم ہوگی۔پروفیسر شہزاد انجم نے مزید فرمایاکہ اس سینٹر کی خدمات بیش بہاہیں۔اسے مزید فعال کیاجائے گااور اسے ادیبوں کاایک بڑامرکز بنایاجائے گا،جہاں تمام زبانوں کے ادیبوں،اساتذہ،ریسرچ اسکالرز اور طلبہ اور طالبات کو اظہار خیال کاموقع ملے گااور پریم چند کے خوابوں کی تعبیر کی جائے گی۔جلسے کاآغاز جامعہ کی روایت کے مطابق تلاوت کلام پاک سے ہواجسے ڈاکٹرمحمد شاہ نواز فیاض نے پیش کیا۔منشی پریم چند اورخطیب پروفیسر صغیر افراہیم کاتعارف محترمہ شردھاشنکر صاحبہ نے پیش کیاجبکہ جلسے کے آخر میں محترمہ اسگندھارائے نے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف،جامعہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم،ڈین پروفیسر اقتدار محمد خاں،مہمانان اعزازی پروفیسر کوثر مظہری،پروفیسر نیرج کمار،جامعہ کے تمام اراکین،لائبریرین، اساتذہ،ریسرچ اسکالرز،طلبہ و طالبات اور سینٹر کے تمام ملازمین کاشکریہ اداکیا،جن کے بھر پور تعاون سے یہ جلسہ کامیاب ہوا۔اس جلسے میں خصوصی طور پر پروفیسر مشتاق احمد گنائی،ڈاکٹرمحی الدین زور (کشمیر)،پروفیسر شہپر رسول،ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی،پروفیسر سرور الہدی،پروفیسر ممتاز احمد،ڈاکٹرمشتاق احمد تجاوری،ڈپٹی لائبریرین سفیان احمد،ڈاکٹرخالد مبشر،ڈاکٹر محمد عامر،ڈاکٹر مشیر احمد،ڈاکٹر سید تنویر حسین،ڈاکٹرمحمدمقیم،ڈاکٹر جاوید حسن،ڈاکٹر راہین شمع،ڈاکٹرمحمدآدم،ڈاکٹر ثاقب عمران،ڈاکٹر شاداب تبسم،ڈاکٹر نوشاد منظر،ڈاکٹر مخمور صدری،ڈاکٹر ثاقب فریدی،ڈاکٹر راحت افزا،ڈاکٹر خان محمد رضوان اور بڑی تعداد میںہندی،اردواور دیگر زبانوں کے ریسرچ اسکالرزاور طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network