آپ کی آواز

ہمارا کام بھی ہے آشیاں بنانے کا

کہتاہوں سچ کہ......ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی

ہندوستان کی تاریخ میں مغلوں کی یادگاریں ایسی ہیں جن سے ایک سال میں سرکار کو کروڑوں روپے کی آمدنی ہو رہی ہے لیکن فرقہ پرستوں کو مسلم دشمنی میں یہ بھی برداشت نہیں۔ آج مرکز میں جن لوگوں اور سیاسی پارٹی کی حکومت ہے، ان کے خون میں مسلمانوں سے دشمنی بھری ہوئی ہے اور ہر وہ کام جس سے مسلمانوں میں افراتفری پھیلے ان کا مقصد سا ہو گیا ہے۔

دنیا کے عظیم ترین ملک ہندوستان کو جس تباہی کے دہانے پر یہ فرقہ پرست لے جا رہے ہیں، اس سے یہ ملک کہاں جائے گا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔برسوں کی ثقافتی اور گنگا جمنی تہذیب کو پامال کرنے کی سازشوں سے ہر سنجیدہ انسان پریشان ہے اور یہ سوچ رہا ہے کہ اس ملک کا کیا ہوگا۔ مغلوں کی یاگاریں چاہے دہلی میں ہوں یا کسی اور شہر میں، اربوں روپے سالانہ ملک کے خزانے میں آتا ہے اور دنیا بھر کے لوگ ان تاریخی عمارتوں کو دیکھنے آتے ہیں۔ دہلی کے لال قلعے پر ہندستان کے وزیر اعظم پندرہ اگست کے موقع پر جھنڈا پھیراتے ہیں اور ان کی تقریر بھی ہوتی ہے۔ یہ لال قلعہ وہ یادگار ہے، جسے مغلوں نے ہندوستان کے دل کی طرح محفوظ رکھا اور آج یہ بھی ان فرقہ پرستوں کو کھٹک رہا ہے۔ آگرہ کا تاج محل محبت کی ایسی یادگار ہے جو دنیا کے ساتویں عجوبے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ پوری دنیا سے لاکھوں لوگ اس کو دیکھنے آتے ہیں اور ہندوستان اور مغلوں کی سوچ کو سلام کرتے ہیں۔ اگر آگرہ کا تاج محل محبت کی یادگار ہے تو دہلی میں ایک اور تاج محل جیسی عمارت ہے جسے میں ہندوستانی مسلمانوں کی عظمت کا تاج محل کہتا ہوں جس کا آج میں ذکر کروں گا۔ ان عظمتوں کے ترجمان کا نام ہے ’’انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر‘‘ جس کا الیکشن ہوا اور فتح حاصل کرکے صدر منتخب ہونے والی شخصیت کو جتنی مبارکباد پیش کی جائے کم ہے۔

ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ شاہد ہے کہ جب جب اس میں مخلص لوگ آئے اور قوم کے لیے کچھ کرنے کی کوشش کی گئی ان کے خلاف خود مسلمان ہی اٹھ کھڑے ہو گئے اور حد درجہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ ہر اس شخص کی عیب جوئی کرنے کا کام جنگی پیمانے پر کرنے کی کوششیں تیز ہو گئیں جو دل سے ملت کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے۔ اس مرتبہ اس الیکشن میں سراج الدین قریشی کے مقابلے میں جو شخص تھے ان کے حوالے سے عام رائے یہ ہے کہ انہوں نے کبھی قوم وملت کے لیے کچھ نہیں سوچا۔ چاہے وہ وزیر رہے ہوں یا اور کسی اہم مقام پر فائز ہوں۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بات ہو یا مسلم پرسنل لاء ہو، تین طلاق کی بات ہو یا قوم و ملت کا کوئی اور معاملہ، مسلمانوں کو انہوں نے مایوس کیا ہے، جس کی وجہ سے آ ج ہندوستان کا مسلمان اُن سے ناراض ہے۔ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے تقریباً چار ہزار ممبران میں زیادہ تر مسلمان ہیں اور ان کی زیادہ تر رائے یہی ہے کہ اس ادارے کو تباہی سے بچایا جائے۔ گزشتہ سالوں کے مقابلے اس سال کے الیکشن میں وقت بہت زیادہ دیا گیا اور خوشی کی بات یہ ہے کہ وقت پر یہ الیکشن پورا ہوا اور نتیجے بھی وقت پر ہی آئے۔ جو لوگ اس تازہ الیکشن میں جیت کر آئے ان کو مبارکباد دینا میرا اخلاقی فرض ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ سب مل کر اب سینٹر کے لیے کیا بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ڈیڑھ مہینے کے دوران الیکشن کی میٹنگوں میں دونوں ہی گروپوں نے خوب تیاری کے ساتھ عوام کے سامنے اپنی باتیں رکھیں جو ان کا حق تھا۔ کچھ مٹنگیں ایسی بھی ہوئیں جن ممبران کے اتحاد پر رشک آرہا تھا لیکن یہ رشک چند میٹنگوں کے بعد مایوسی میں بدل گیا۔ مجھے افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑھ رہا ہے ایک گروپ نے اپنی میٹنگوں میں ایسی ایسی زبان کا استعمال کیا جو کسی مہذب انسان سے امید نہیں کی جا سکتی۔ ذاتیات پر حملوں میں ایسے ایسے الزامات لگائے گئے، جس کو سن کر ماتم کرنے کو جی چاہ رہا تھا۔ دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ تمام ہی ممبران اپنے کو پڑھا لکھا کہتے اور جب بد زبانی پر اتر آئیں تو یہ پہچاننا مشکل ہو جائے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے کو مہذب معاشرے کا فرد کہتے ہیں۔ ووٹ ڈالنے والے دن بھی کچھ لوگوں نے وہ بد زبانی اختیار کی جس پر باہر کے لوگ بھی شرمندہ ہو رہے تھے۔ دنیا بھر سے ہزاروں ممبران اس الیکشن میں ووٹ ڈالنے آئے تھے اور وہاں کا ماحول دیکھ کر افسوس کر رہے تھے کہ کیا یہ وہی پڑھے لکھے لوگ ہیں جو دنیا کو مہذب رہنے کا سبق دیتے ہیں۔

اب جب الیکشن بھی ہو چکا ہے اور تمام عہدے داروں کا انتخاب بھی عمل میں آ چکا ہے تو کیا یہ امید نہیں کی جانی چائیے کہ یہ تمام لوگ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کی بقاء اور اس کی ترقی کے لیے وہ کام انجام دیں جس سے پوری دنیا میں اس کی قدر و منزلت میں اضافہ ہو۔ سینٹر کا ایک معمولی سا ممبر ہونے کے ناطے میں پہلے دن سے یہ گزارش کرتا رہا ہوں کہ خدا کے لیے اس ادارے کو وقف بورڈ بننے سے بچا لیا جائے کیونکہ وقف بورڈ کی کروڑوں روپے کی زمینوں پر زیادہ تر مسلمانون کا قبضہ ہے۔

آج مرکزی حکومت منتظر ہے کہ اس کو کوئی موقع ملے اور وہ اس ادارے پر قبضہ کرلے۔ اب ان نئے عہدے داروں کو ایک خاندان کی طرح اس سینٹر کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مثبت سوچ کے ساتھ ملت کی عظمتوں کے اس تاج محل کی حفاظت کی جائے اور ایسے کام کیئے جائیں جس کو ملت یاد رکھے، اپنے ذاتی مفادات اور دشمنی کو ختم کرکے اس کے وقار میں اضافہ کی کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے:

انہیں ہے شوق اگر بجلیاں گرانے کا
ہمارا کام بھی ہے آشیاں بنانے کا
سنا ہے لوگ ہیں ماہر ہوا چلانے میں
ہنر نہ چھوڑیں گے ہم بھی دیے جلانے کا

(Writer: Dr. Majid Deobandi………………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close