Khabar Mantra
تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

کسان تحریک: مولانا عابد قاسمی کی ٹکیت سے خصوصی ملاقات، ہر ممکن مدد کی یقین دہانی

ہمارا ملک ترقی کی طرف نہیں بلکہ غلامی کی طرف بڑھ رہا ہے: مولانا عابد قاسمی

نئی دہلی (امیر امروہوی)
دہلی کے بارڈروں پر کسان اس زبردست ٹھنڈ اور بارش میں پورے ملک کے کسانوں کی بقا کے لئے احتجاج کر رہے ہیں۔جب سے کسانوں کے خلاف تین قانون مرکزی حکومت نے نافذ کئے ہیں تبھی سے کسان ملک کی تمام ریاستوں میں احتجاج کر رہے ہیں دہلی کے سنگھو بارڈر پر کسانوں کے احتجاج کو آج 43/دن ہو چکے ہیں۔

مرکزی حکومت اور کسانوں کے درمیان کئی بار بات چیت ہو چکی ہے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل پایا ہے ہر بار کسانوں کو ایک نئی تاریخ ملتی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت اس کے حل کے لئے سنجیدہ نہیں ہے، کل بتاریخ 8/جنوری کو بھی اس سلسلے میں کسانوں اور حکومت کے مابین بات ہونی ہے۔ دیکھتے ہیں کل کیا ہوگا یا ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کسانوں کو تاریخ ملتی ہے لیکن مظاہرین اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ جب تک مرکزی حکومت ان تینوں کالے قانون کا واپس نہیں لیتی ہے وہ اپنا احتجاج بند نہیں کریں گے۔ آج جمعۃ علما ہند صوبہ دہلی کے صدر مولانا عابد قاسمی نے غازی پور بارڈر کا دورہ کرکے کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش سنگھ ٹکیت سے خصوصی ملاقات کی اور اس تحریک کو مزید تیز کرنے کے لئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

واضح رہے مولانا عابد قاسمی نے 15 روز قبل جمعۃ کے برانچ دفتر شاستری پارک میں پریس کانفرنس کرکے کسان تحریک کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا اور کہا تھاکہ یہ تحریک کسی مخصوص طبقہ کی نہیں بلکہ ہندوستان میں بسنے والے ہر کسان کی ہے۔ مولانا عابدقاسمی نے راکیش ٹکیت اور دیگر کسانوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی یہ بھول ہے کہ گفتگو کے لئے تاریخ پر تاریخ دے کر ان کے جذبات کو ٹھنڈا کردے گی۔ اب یہ مہم ٹھنڈی نہیں بلکہ اور تیز ہوگی جس کے لئے میں بھی جی جان سے تیار ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ان کی مدد کرنا اس لئے بھی ہم پر ضروری ہو جاتا ہے کہ اول تو یہ مہمان ہیں اور دوم مظلوم اور جمعۃ علما ہند ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔

جمعۃ علما اشیائے خوردنی سے لے کر میڈیکل تک کا انتظام کر رکھا ہے اوربھی جس چیز کی ضرورت پڑے گی اسے فراہم کرائے گی۔ انہوں نے کہاکہ کتنی عجیب بات ہے جو قانون حکومت لے کر آئی ہے اسے حکومت میں بیٹھے چند لوگوں کے ہی سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور جو ہزاروں کی تعداد میں کسان بیٹھے ہیں وہ سب کے سب بے وقوف ہیں لیکن یہ کسان ہیں اچھے اچھوں کی عقل ٹھکانے لگانے کا ہنر رکھتے ہیں اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وقت کو ضائع کئے بغیر تینوں قانون کو واپس لے اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے لائحہ عمل تیار کرے۔

مولانا قاسمی نے صاف طور پر کہا کہ تاریخ اٹھاکر دیکھ لیجئے آج اقتدار پر جو قابض ہیں ان کا اس ملک کے لئے کچھ بھی تعاون نہیں ہے۔ حکومت جس سمت جا رہی ہے وہ کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔ ہمارا ملک ترقی کی طرف نہیں بلکہ غلامی کی طرف بڑھ رہا ہے جس کو روکنے کے لئے ہر ہندوستانی کا فریضہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب تک جتنے کسان موت کی آغوش میں گئے ہیں ہم انہیں خراج پیش کرتے ہیں اور کہنا چاہتے ہیں کہ ان کسانوں کی قربانی ضائع نہیں جائے گی بلکہ اپنا حق حاصل کرکے رہے گی۔ انہوں نے میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ حکومت بات کے لئے چاہے جتنی بار دعوت دے جانا چاہئے۔مہینے، دو مہینے سال دوسال بھی لگ جائیں تو کسان پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے کیوںکہ کسان یوں ہی آکر نہیں بیٹھ گیا ہے بلکہ پوری تیاری کے ساتھ آیا ہے اور اسے کچھ بھی جلدی نہیں ہے اس لئے حکومت اپنی انا کی چادر اتار کر کسان مخالف قانونوں کی واپسی کا راستہ ہموار کرے اسی میں سب کی بھلائی ہے۔

 

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close